درج ذیل تجربات سے آپ کے مزاج میں تبدیلی واقعی ہوئی؟

  • ہاں

    Votes: 0 0.0%
  • نہیں

    Votes: 0 0.0%

  • Total voters
    0
اس ٹائم دودھ نہیں آتا صبح تجربہ کروں گی۔پھر بتاؤں گی
لیکن اس ٹائم کچھ اور نہیں کرنا، نہ موبائل استعمال کرنا، نہ کچھ اور۔۔۔۔۔صرف اور صرف دودھ ابالیں اور وہ بھی درمیانی آنچ پر۔۔۔۔ اور ہاں بار بار ڈھکن الٹ کر بھی نہیں دیکھنا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے طفل سادہ
شام کو اک بیج بوئے
اور شب میں بارہا اٹھے
زمیں کو کھود کر دیکھے
کہ پودا اب کہاں تک ہے۔۔۔۔۔
 

فاخر رضا

محفلین
صبر کا مفہوم بنیادی طور پر مثبت ہے، یعنی استقامت. اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی مصیبت کے وقت صبر کا مظاہرہ کرے یعنی ڈٹ کر مقابلہ کرے. یہ برداشت والا منفی مفہوم صبر کا متبادل ہرگز نہیں ہے. یہ جلدبازی کے مقابلے میں بھی استعمال ہوتا ہے جو شاید اس کا جزوی مطلب تو ہو مگر مکمل مطلب نہیں ہے.
دودھ ابالنا اور بار بار اس کا پتیلی سے گرنا. اس موقع پر اپنے آپ کو جلنے سے بچانا زیادہ ضروری ہے.
طبی حوالے سے عرض ہے کہ دودھ ابلنے کی صورت میں سب سے پہلے گرنے والے دودھ کے ساتھ زیادہ تر قیمتی پروٹین ضایع ہوجاتے ہیں. خاص طور پر وہ جو ہمارے قوت مدافعت کے لئے ضروری ہیں
 
صبر کا مفہوم بنیادی طور پر مثبت ہے، یعنی استقامت. اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی مصیبت کے وقت صبر کا مظاہرہ کرے یعنی ڈٹ کر مقابلہ کرے. یہ برداشت والا منفی مفہوم صبر کا متبادل ہرگز نہیں ہے. یہ جلدبازی کے مقابلے میں بھی استعمال ہوتا ہے جو شاید اس کا جزوی مطلب تو ہو مگر مکمل مطلب نہیں ہے.
قبلہ! صبر، تحمل اور برداشت؛ دراصل رد عمل کی مختلف کیفیتیں ہیں۔
برداشت، جب آپ کو بہت سی باتیں سننی پڑ جائيں، یا گالیاں یا ایسی بات جو بہت بری ہو یا غلط یعنی گراں گزرے اس کا رد عمل برداشت ہوگا۔
تحمل، کسی کے رائے کا جواب، کسی کی بات کا جواب، کسی کو کوئی جواب، یہ رد عمل تحمل ہے۔
صبر، کسی بھی ناگہانی صورتحال، نقصان، تکلیف، مصیبت وغیرہم کا رد عمل صبر ہے۔
استقامت، ان سب پر استقلال کے ساتھ عمل پیرا ہو جانا۔۔۔۔
جزاک اللہ۔ اللہ و ورسولہ اعلم۔
 

فاخر رضا

محفلین
آیه 153- یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ اسْتَعِینُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِینَ
اے ایمان والو مدد طلب کرو صبر سے اور نماز سے.
آپ بتائیں کہ
کیا صبر کو ایمان کے ساتھ نہیں جوڑا گیا
کیا اس آیت میں کسی رد عمل کا پہلو نکلتا ہے یا اسے مومن کی ایک علامت اور خصوصیت کے طور پر بیان کیا گیا ہے.
ہمارے ہاں رائج صبر دراصل برصغیر کی ایک غلامانہ تاریخ کا خاصہ رہا ہے.
اس پر میرے پاس اور بھی بہت کچھ ہے مگر شاید اس لڑی میں اسے لکھنے کی ضرورت نہیں. اس کے لیے ایک علیحدہ لڑی میں لکھنا زیادہ مناسب ہو گا
 
آیه 153- یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ اسْتَعِینُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِینَ
اے ایمان والو مدد طلب کرو صبر سے اور نماز سے.
آپ بتائیں کہ
کیا صبر کو ایمان کے ساتھ نہیں جوڑا گیا
کیا اس آیت میں کسی رد عمل کا پہلو نکلتا ہے یا اسے مومن کی ایک علامت اور خصوصیت کے طور پر بیان کیا گیا ہے.
ہمارے ہاں رائج صبر دراصل برصغیر کی ایک غلامانہ تاریخ کا خاصہ رہا ہے.
اس پر میرے پاس اور بھی بہت کچھ ہے مگر شاید اس لڑی میں اسے لکھنے کی ضرورت نہیں. اس کے لیے ایک علیحدہ لڑی میں لکھنا زیادہ مناسب ہو گا
انتہائی معذرت کے ساتھ، میں آپ کا نکتۂ نظر ہی نہیں سمجھ پایا ہوں، تھوڑا موٹے ذہن کے بندے ہیں ناں۔۔۔۔ قبلہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟؟؟ دراصل میری گفتگو پر آپ کا کوئي اعتراض ہے تو وہ واضح فرما دیں، یا آپ فقط صبر و تحمل پر اپنے نکتۂ نظر کو بیان کر رہے ہیں۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔۔۔۔۔
 

فاخر رضا

محفلین
انتہائی معذرت کے ساتھ، میں آپ کا نکتۂ نظر ہی نہیں سمجھ پایا ہوں، تھوڑا موٹے ذہن کے بندے ہیں ناں۔۔۔۔ قبلہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟؟؟ دراصل میری گفتگو پر آپ کا کوئي اعتراض ہے تو وہ واضح فرما دیں، یا آپ فقط صبر و تحمل پر اپنے نکتۂ نظر کو بیان کر رہے ہیں۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔۔۔۔۔
میرے بھائی مجھے آپ کی دودھ ابالنے والی بات سے کوئی اختلاف نہیں بلکہ دراصل یہ بچوں اور بڑوں سب کو کام کا ڈھنگ سکھانے کا ایک نہایت کارآمد طریقہ ہے. آپ پلیز ناراض نہ ہوں اور اوپر لکھی ہوئی بات کو سمجھیں کہ لکھا ہی نہیں.
 
میرے بھائی مجھے آپ کی دودھ ابالنے والی بات سے کوئی اختلاف نہیں بلکہ دراصل یہ بچوں اور بڑوں سب کو کام کا ڈھنگ سکھانے کا ایک نہایت کارآمد طریقہ ہے. آپ پلیز ناراض نہ ہوں اور اوپر لکھی ہوئی بات کو سمجھیں کہ لکھا ہی نہیں.
جی بہت بہتر۔
 

ربیع م

محفلین
آیه 153- یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ اسْتَعِینُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِینَ
اے ایمان والو مدد طلب کرو صبر سے اور نماز سے.
آپ بتائیں کہ
کیا صبر کو ایمان کے ساتھ نہیں جوڑا گیا
کیا اس آیت میں کسی رد عمل کا پہلو نکلتا ہے یا اسے مومن کی ایک علامت اور خصوصیت کے طور پر بیان کیا گیا ہے.
ہمارے ہاں رائج صبر دراصل برصغیر کی ایک غلامانہ تاریخ کا خاصہ رہا ہے.
اس پر میرے پاس اور بھی بہت کچھ ہے مگر شاید اس لڑی میں اسے لکھنے کی ضرورت نہیں. اس کے لیے ایک علیحدہ لڑی میں لکھنا زیادہ مناسب ہو گا

علماء کرام نے صبر کو 3 انواع میں تقسیم کیا ہے ۔
صبر على الطاعہ : وقت مرگ تک اطاعت پر اپنے آپ کو باندھ کر رکھنا ۔
صبر عن المنهي عنه: منع کردہ چیزوں سے اپنے آپ کو روک کر رکھنا ، حرام کردہ چیزوں سے ۔
الصبر على ما يصيبه من المصائب: آنے والے مصائب پر صبر کرنا۔

ان تین چیزوں کا مجموعہ صبر کہلاتا ہے اور ان تینوں پر عمل پیرا شخص ہی حقیقی صابر ہے ۔

اس میں مزید تفصیل بھی ہے ، تو بہرحال برداشت کا لفظ میری ناقص رائے میں اس آخری قسم میں شامل ہے ۔
 
Top