صاد اوردوسری نظمیں - اعجاز عبید

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 28, 2007

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    صاد اور دوسری نظمیں



    اعجاز عبید
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ہزاروں سال کی سچا ئیاں جھوٹی نہیں ہیں

    (خدا کے لیے ایک نظم)
    ایک یُگ سے ہوا
    گہرے پانی کی لہروں پر
    مانوس سے دائروں کی زباں میں
    دعا کر رہی ہے
    ***

    کتنی صدیوںسے
    چٹانوں کے خشک قرطاس پر
    آندھیاں کیا ثناتیں رقم کر رہی ہیں
    ***

    پتّیوں کی رگوں میں
    ہرے خون کی شکل میں
    ایک ہی نام .................
    بس ایک نام ہے
    اور دشمن اندھیوں نے اس جگمگاتے ہوئے نام پر
    ایک چادر چڑھا دی ہے۔
    ***

    اندھیرے کی چادر کے اس پار
    ’’ کوئی ہے""
    ’’ کوئی بھی تو نہیں ہے‘‘
    ان صداؤں کو خاموشیوں کے کسی مقبرے میں سلادو
    ***

    اندھیرے کی چادر کے اس پار کوئی
    نوری کرنوں کے دھاگوں میں
    معصوم گڑیاں پردے
    ان کو صدیوں سے انجان سی حرکتیں دے رہا ہے
    انگلیاں .........
    مہرباں
    بوڑھی
    چمکیلی ...................نوری.......رحیم
    ***

    صدا آ رہی ہے
    ’’ اندھیرے کے اس پار کوئی نہیں ہے ‘‘
    صدا ڈوبتی جا رہی ہے
    صدا ڈوبتی جا رہی ہے

    ایپی لاگ Epilogue

    پتّیوں کی رگوں میں
    ایک ہی نام ہے ... جو ہرے خون کی شکل میں بہہ رہا تھا
    دشمن اندھیروں کی موجودگی میں
    خوف کے ساتھ
    حلق کی گہری کہرائیوں میں
    وہی نام اترنے لگا ہے

    ۔0۔0۔0۔0۔0۔00۔0۔
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بارھویں تاریخ کی روشنی کے نام​

    نعت​

    غروب شام سےپہلے کا منظر
    چمکتی آگ پھیلی آسمان میں
    ہراس و خوف جاگا کارواں میں
    اندھیروں نے چمکتی آنکھ کھولی
    سمندر میں جو اتری سرخ ڈولی
    سنہری رنگ کے اڑتے پرندے
    بہت خاموشی سے پر کھولتے تھے
    کہ شاید رات کی نیندیں نہ کھل جائیں
    یہ موتی وقت سے پہلے نہ رُل جائیں
    کئی فوجیں کنارے پر کھڑی تھیں
    ہوا کے اک اشارے پر کھڑی تھیں
    ہوا کے ہونٹوں پر مایوسیاں تھیں
    جو اک مدت سے محتاج بیاں تھیں
    کہ اب آ جائیں گے کالے اندھیرے
    اُڑیں گے ہر طرف ڈر کے پھریرے

    مگر لو......اب غروب شام کے بعد
    ہوا کے ہونٹ پھیلے .......... مسکرائے
    فرشتوں کے کئی پر پھڑ پھڑائے
    ابھی کچھ لمحے پہلے آنکھ میں تھے
    اندھیرے ۔۔اور اندھیرے ۔۔اور اندھیرے
    مگر اب دور اک نوری نشاں تھا
    فرشتوں سے چمکتا آسماں تھا
    ہزاروں چاند تارے سات میں تھے
    کئی سورج اسی بارات میں تھے
    اندھیروں کے محل جو کنگرے تھے
    اچانک وہ زمین پر آ رہے تھے
    اندھیرے گھر میں اب تک تھا اندھیرا
    مگر اس رات اک آئینہ اترا
    سموئے تھا جو خود میں عکسِ نوری
    بکھرتی تھی ہوا میں چاندی چاندی
    فضا میں ٹوٹتی تھی چاندنی چاندنی
    یہ قصّہ بارہویں تاریخ کا تھا

    ۔0۔0۔0۔0۔00۔0۔
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایک تلخ نظم


    مجھے بچپن کی یادیں آ رہی ہیں
    جب بڑوں کے چھوٹے چھوٹے کام کر کے
    ڈھیر سی میٹھی دعائیں لے کے خوش ہوتا تھا
    ’’ تمہارا جسم کڑوے نیم کے پیڑوں سا لمبا ہو‘‘

    مگر اب
    مجھ کو یہ محسوس ہوتا ہے
    کہ میں لمبا سہی
    پر نیم کے ُیڑوں کے اتنا تو نہیں ہوں
    نیم کے پتّوں کی تلخی
    میری ساری زندگی میں گھل گئی ہے

    0۔0۔00۔0۔
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پہلے انسان کا سفر

    وہ پہلا انسان جس کی طاعت سبھی فرشتوں پہ فرض تھی
    وہ پہلا انسان
    جس کی اکلوتی ذات میں کتنی کائناتوں کو دیکھتا تھا خدا
    وہ انسان
    کتنا تنہا
    اکیلے پن کے سمندروں میں وہ ڈوبتا اور ابھرتا
    ہر اک طرف اس کی نظریں اپنے ہی جیسے انساں کو ڈھونڈھتی تھیں
    مگر اسی کو تو پہلے انسان کا لقب تھا !

    پھر ایک دن
    بجائے ذہن اس کی پسلیوں سے عجیب سا اک خیال پیدا ہوا
    وہ پہلا انسان
    اپنی ہی پسلیاں تعجب سے دیکھتا تھا

    یہ ذات سے کائنات کی سمت
    پہلے انسان کا سفر تھا

    ۔0۔0۔0۔0۔0۔0
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تخلیقی عمل پر ایک نظم

    مجھے ابھی ابھی لگا
    کہ جیسے میں
    اک عجیب کرب سے
    بہت دنوں کے بعد یوں ملا ہوں
    جیسے مدتوں سے میرے واسطے
    وہ اجنبی رہا ہو

    مگر وہ کرب
    میری انگلیوں کی پور پور کو
    بہت ہی دھیمے دھیمے چھو رہا ہے
    چومتا ہے
    میری آنکھیں چھو رہا ہے

    یہ کرب آج میرے واسطے
    خوشی کی وجہ بن گیا ہے
    چیخ گیت بن گئی ہے

    ۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اپنی شکست کی یاد میں


    وہ کوئی اور ہو گا
    جو آنکھوں کے بجھتے دیوں کو بچانے کی کوشش میں مصروف ہوگا
    وہ کوئی اور ہو گا
    جو مضبوط ہاتھوں سے آکاش کا بوجھ اٹھاتا رہا ہے
    اٹھاتا رہے گا
    وہ کوئی اور ہو گا
    جو ہر وقت مسکان لب پر سجائے ہوئے سب سے باتیں کرے گا
    وہ کوئی اور ہو گا ................
    مگر یہ ’’ کوئی اور ‘‘
    یوں ہی بے اجازت مرے جسم کے خول میں چھپ گیا ہے
    یہ ’’ کوئی اور ‘‘ کوئی بھی ہو
    میں یہی سوچتا ہوں
    آج اپنی شکست
    سامنے اس کے تسلیم کر لوں

    ۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔
     
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کھوکھلی زندگی جینے کے بعد


    مری زندگی کھوکھلی ہو گئی تھی
    مری زندگی کے خلا کو بھرو
    دھوپ کے پھول پتو !
    چاندنی کے حسیں نرم پھو لو !
    نرم شاخوں پہ لٹکے ہوئے چہچہو !
    سوندھی مٹی کی خوشبو سے مہکی ہواؤ .....!
    بادلو !
    آسمانو .......!!
    چھت کے سوراخ
    سریوں لگی کھڑکیوں سے گزر کر
    میرے گھر کو
    مجھے روح دے دو
    میں بہت دیر سے
    سگر ٹوں کی مہک میں بسی گرم سانسیں
    لپ اسٹک کے ہونٹوں کے بے روح بو سے
    رَم اور جِن میں ڈوبے ہوئے قہقہے
    بھولنا چاہتا ہوں

    مری زندگی کھوکھلی ہو گئی تھی

    ۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0
     
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بچھڑے لمحے کی سرگوشیاں


    دبلے پتلےجسم
    سونے کے ورق
    صبح کی ہلکی سنہرے روشنی
    شہر ................ باتیں
    گاؤں .................. سناٹے
    کیمرے کی آنکھ .....
    ہونٹ
    دور سے خوشبو کا بوسہ
    ایک ہالے میں گھرے
    دبلے پتلے جسم سونے کے ورق

    شفق ملبوس میں لپٹا ہوا سورج
    اور ماتھے پر سنہری جنّتیں
    اور جنّتوں میں ہم
    اپنے دل میں گنگناتی چاہتیں
    چاہتوں کے رنگ سے رنگیں فضا
    اور فضاؤں میں کئی سرگوشیاں
    سرگوشیوں میں پیار
    اور پھر ............
    چاہتوں کو روندتے
    ریل کے انجن کی بھاری گڑ گڑاہٹ
    اور پھر
    لب پر جدائی گیت
    اور
    پھر
    لب پر
    جدائی
    گیت

    ۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔00۔
     
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پاتال میں

    لو..............
    وہ چاند ستارے پھر پاتال میں جا ڈوبے
    پل بھر پہلے
    یہی چاند اس گہرے اندھیارے پاتال سے ابھرا تھا
    اور اس کے پیچھے کتنے تارے تھے
    اور ان کے پیچھے
    فرشتوں کی نوحیں
    ہاتھوں میں نوری علم نے
    پھر بچے تھے ........
    معصوم ........... سنہری بالوں والے
    یہ پورا قافلہ ابھی ابھی پاتال سےابھرا تھا

    اک شیشے کا ٹکڑا
    جو دھرتی پر پڑا ہوا تھا
    چمک گیا
    کرنیں ٹکرائیں تو
    شیشے کے دل میں نورانی .......... کچھ غیر مرئی
    کچھ بہت عجیب سی گونگی روشنی
    گہری.................
    گہری..............
    گہری اتر گئی
    پھر تارے ۔۔۔
    بچّوں کی چمکتی آنکھیں
    چمکیلے فرشتوں کے پر
    ساری روشنیاں
    نورانی راتیں تھیں
    اور شیشہ ۔۔۔۔!!

    لو وہ چاند ستارے پھر پاتال میں جا ڈوبے
    کیا گہری ۔۔ گونگی دلدل ہے
    سب دھنسنے لگے
    دھنستے گئے
    گہرے۔۔۔۔۔۔۔۔
    گہرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گہرے اتر گئے
    اور شیشہ ؟

    ۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0
     
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایک مختصر مرتے لمحے کی نظم

    یہ مردہ لاش جنگل کی
    ہمارے چھوٹے سمٹے شہر کی
    مٹی میں کیسے دفن ہوگئی
    ہمارے شہر میں
    مٹی کہاں ہے ؟؟

    ۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔
     
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یا خدا
    (قدرت اللہ شہابؔ کے لیے )​


    رب المشرقین

    مشرق میں سورج کے ٹکڑے
    مغرب میں اک چاند
    جس کی نیلی چمک کے آگے
    سورج بھی ہے ماند
    آنکھوں میں تصویر چاند کی
    ہونٹوں پر نیزے
    ہاتھ گناہوں کی گٹھڑی کا
    کتنا ملائم ہے
    تسبیحوں کے موتی بکھرے
    تعویذوں کے حرف
    سرخ سلاخیں سینوں پر ہیں
    اور ہونٹوں پر برف

    رب المغربین

    بڑی سی کشتی کے عرشے پر
    جلے ہوئے کچھ ہاتھ
    مغرب کی خوشبو کی لیکن
    یہ کیسی برسات
    جن ناموں سے کانوں میں
    کچھ شہد سا ٹپکا تھا
    بچے کی آنکھوں نے ان کو
    جلتا دیکھا تھا
    رب العالمین

    جل ہی چکیں جو گلیاں آخر
    جلنے والی تھیں
    پھر ہونٹوں پر نیزے تھے
    اور آنکھیں خالی تھیں

    ۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔
     
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دائرہ​


    ٹافیوں کے ڈبے سے
    اک دھواں سا نکلے گا
    اور اگلے ہی لمحے
    کاغذوں پہ رینگے گا
    اپنے ٹوٹے جوتوں سے
    راستوں کو ٹاپے گا
    اور ایک چمنی میں
    گول گول گھومے گا
    دوسرا سرا جس کا بادلوں میں گم ہو گا
    بادلوں پہ اک ارتھی
    اک چتا میں سلگے گی
    اور سحر کی ساوتری
    اس میں کود جائے گی
    اور چتا کے انگارے
    آسمان کے تارے
    بن کےروز چمکیں گے
    آنچلوں کے سائے میں
    پھر بھی جسم چہکیں گے
    اک ستارہ ٹوٹے گا
    اور اگلے ہی لمحے
    ایک چھوٹا سا بچہ
    ٹوٹتے ستارے کو
    پھر سے ایک ٹافی کے
    ڈبے میں چھپالے گا
    ٹافیوں کے ڈبے سے
    اک دھواں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔
     
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایک نظم

    ہم آج بھی چپ کھڑے ہوئے ہیں
    سوچا تھا کہ آج در کھلے گا
    اور کوئی حسین شاہزادی
    ہاتھوں میں سنبھالےسچے موتی
    آتے ہی بکھیر دے گی سارے
    آنکھوں سے جو اپنی ہم چ)نیں گے
    مدت سے خزانہ ہے جو خالی
    بھر جائے گا موتیوں سے .......
    لیکن ..............
    دستک کاجواب کچھ نہیں ہے
    اب تک بھی یہ در کھلا نہیں ہے
    آنکھوں کی خلا چھپائے سب سے
    ہم آج بھی چپ کھڑے ہوئے ہیں
    ۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0
     
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایک نظم

    اک اجلی سی لڑکی جس نے
    بکھیرے رنگ شام
    ہاتھوں پہ مہندی سے لکھا
    اپنا میرا نام

    اک پیاری سی بہن کے دونوں
    سوئٹر بنتے ہاتھ
    اک دن جس کے نین آکاش نے
    رم جھم کی برسات

    ان دونوں نے باندھ رکھے ہیں
    میرے سارے چھور
    ریشم اون سے جوڑ رکھی ہے
    میری سانس کی ڈور
    ۔00۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0
     
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایک نظم ​

    کورا کاغذ سمندر بنے
    اور کئی کشتیاں
    اک کنارے سے اگلے کنارے کی جانب بہیں
    اور ہوا
    باد بانوں کو جھولے جھلاتی چلے
    یہ مگر اک تمنا ہے
    (یا پھر دعا ......؟)
    کون جانے ..........
    روشنائی کی اک بوند
    میرے لیے
    کونسے لمحے امرت بنے گی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔00000
     
  17. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    رات کے بعد


    ابھی رات کی بات ہے
    چاندنی کے کئی ننھے قتلے درختوں کے سائے میں بکھرے پڑے تھے
    پوکلپٹس پہ چاندی کی اک اور تہہ چڑھ گئی تھی
    اور اک دیو داسی
    ایک تارہ لیے
    جے جے دنتی کے بولوں میں کھوئی ہوئی
    کچھ وہ جاگی ہوئی ۔۔۔ کچھ وہ سوئی ہوئی
    چاندنی میں وہ آنچل بھگوئی ہوئی

    اور پھر .............
    ساز ٹوٹ جاتا ہے
    گیت روٹھ جاتا ہے
    پتیاں بکھرتی ہیں
    بستیاں اجڑتی ہیں
    چاند بھیگ جاتا ہے
    خواب چیخ اٹھتا ہے

    صبح مسکراتی ہے
    ۔۔۔۔۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0
     
  18. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایک نظم

    میں تو رستے کا مسافر ہوں
    نہ منزل ہے نہ جادہ کوئی
    میں ابھی ایک گھنے نیم تلے سویا تھا
    اور اب اک میل کے پتھر سے ٹکا بیٹھا ہوں
    اگلے پل چوم رہی ہوں گی کئی موجیں مرے نقش قدم
    ریت میں ثبت نشاں

    میں تو رستے کا مسافر ہوں
    مگر آنکھوں میں
    اک شفق رنگ تمنا کی لویں چلتی ہیں ۔۔۔۔۔۔
    کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جہاں میں جاؤں مرے لیے
    کوئی صبح پھول بکھیر دے
    کوئی دھوپ رنگ میں رنگ دے
    کوئی شام چھیڑ دے شیام راگ
    کوئی رات تھپکیاں دے مجھے
    کوئی بھولی بھالی سی سوہنی
    کہ تمام رنگ تمام نور
    کسی اداس برامدے کے
    اندھیرے ایک ستون سے لگی منتظر ہو مرے لیے
    ۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔
     
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    موسم کا سکوت


    عجیب فصل ۔۔ عجیب موسمِ سکوت ہے یہ
    حرم حرم نہ صدائے اذاں کی گونج ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نے
    حرب حرب میں وہ پوجا کی تھالیوں کے چراغ
    زباں زباں پہ نہ آیت کسی صحیفے کی
    نہ بزم بزم میں رقصاں ہیں مستیوں کےایاغ

    فلک فلک پہ نہیں ضو کسی ستارے کی
    فضا فضا نہ کوئی نغمۂ ربابی ہے
    نہ موج موج کوئی ڈولتی ہوئی کشتی
    نہ سطح آب کوئی خیمۂ حبابی ہے

    سکوتِ دریا نہیں پیش خیمہ طوفاں کا
    کہ سنگ سنگ پہ تحریرِ سبز کاہی ہے
    کراں کراں ہے حروف و صدا کی حد بندی
    ورق ورق پہ نہ اک قطرۂ سیاہی ہے

    افق افق نہ شفق کے حریری آنچل ہیں
    چمن چمن میں نہ وہ جگنوؤں کے مہ پارے
    نہ شاخ شاخ پرندے پروں کو تولے ہوئے
    روش روش نہ کہیں خوشبوؤں کے فوارے

    ہوا میں اڑتی کوئی گرد کارواں ہی نہیں
    نہ رستہ رستہ ہے آہٹ کسی مسافر کی
    نہ دشت دشت گر یباں دریدہ قیس کوئی
    نہ صحرا صحرا کہیں کوئی ناقۂٔ لیلی

    نہ کھڑکیوں میں ہےملبوس رنگ رنگ کوئی
    نہ بام بام کوئی محفل نگاراں ہے
    گلی گلی نہ کہیں کنواریوں کے ڈھولک گیت
    نہ شہر شہر ہجومِ غزال چشماں ہے

    عجیب فصل عجب موسم سکوت ہے یہ
    جہان سارا عجب کرب و اضطراب میں ہے
    دکھائی کچھ نہیں دیتا ہے دھند کے اس پار
    ادھر بھی چار سو ماحول کس عذاب میں ہے

    کوئی تو وقت کو آواز دے ۔ بلائے اسے
    چلائے تیر ۔۔ فضاؤں کو جو جھنجھوڑ سکے
    دبیز پردہ خاموشی چاک کر ڈالے
    اور اس عذاب کے پتھر کو توڑ پھوڑ سکے
    ۔0۔0۔0۔0۔
     
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایک نظم


    آج کی سہ پہر خوب بارش ہوئی
    پہلی بارش کی بوندوں نے
    کیا جانے کیا
    سنسناتی سلگتی زمیں سے کہا

    سبز آشفتگی نے خداوندِ عالم کے
    شکرانے کے طور پر
    خوب نفلیں پڑھیں

    آج کی سہ پہر خوب بارش ہوئی
    ۔۔۔۔۔0۔0۔0۔0۔0۔0۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     

اس صفحے کی تشہیر