شکیب جلالی

نیلم

محفلین
شکیب جلالی کو ھم سے بچھڑے 46 سال بیت گئے

اصل نام۔ سید حسن رضوی. یکم اکتوبر 1934ء کو اتر پردیش کے ایک قصبے سیدانہ جلال میں پیدا ہوئے
محض 32 سال کی عمر میں سرگودھا اسٹیشن کے پاس ایک ریل کے سامنے کود کر خودکشی کر لی اور اس طرح شعلوں سے لہلہاتے ہوئے ایک شاعر کا خاتمہ ہو گیا۔ موت کے بعد ان کی جیب سے یہ شعر ملا:

تونے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
اب آپ رہِ دل جو کشادہ نہیں رکھتے
ہم بھی سفرِ جاں کا ارادہ نہیں رکھتے

پینا ہو تو اک جرعۂ زہراب بہت ہے
ہم تشنہ دہن تہمتِ بادہ نہیں رکھتے

اشکوں سے چراغإں ہے شبِ زیست، سو وہ بھی
کوتاہیِ مژگاں سے زیادہ نہیں رکھتے

یہ گردِ رہِ شوق ہی جم جائے بدن پر
رسوا ہیں کہ ہم کوئی لبادہ نہیں رکھتے

ہر گام پہ جگنو سا چمکتا ہے جو دل میں
ہم اس کے سوا مشعلِ جادہ نہیں رکھتے

سرخی نہیں پھولوں کی تو زخموں کی شفق ہے
دامانِ طلب ہم کبھی سادہ نہیں رکھتے
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
Shakeeb.jpg
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
خودکشی کے متعلق یہی سنا ہے۔۔
ذرا یہ تو پتا چلے کہ کس غم میں خود کشی کی تھی۔
شاید محمد بلال اعظم بتا سکیں۔

سن لیں پھر
تعلقاتِ عامہ کے محکمے میں بھی انہیں ایک ذمہ دارانہ ملازمت مل گئی۔ لیکن وہ ان سب چیزوں سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کی شاعری ویسے ہی شعلہ فشانی کرتی رہی اور پھر احساسات کی اس تپش کے آگے انہوں نے سپر ڈال دی اور محض 32 سال کی عمر میں سرگودھا اسٹیشن کے پاس ایک ریل کے سامنے کود کر خودکشی کر لی اور اس طرح شعلوں سے لہلہاتے ہوئے ایک شاعر کا خاتمہ ہو گیا۔ موت کے بعد ان کی جیب سے یہ شعر ملا:
تونے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہیں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ
 
سن لیں پھر
تعلقاتِ عامہ کے محکمے میں بھی انہیں ایک ذمہ دارانہ ملازمت مل گئی۔ لیکن وہ ان سب چیزوں سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کی شاعری ویسے ہی شعلہ فشانی کرتی رہی اور پھر احساسات کی اس تپش کے آگے انہوں نے سپر ڈال دی اور محض 32 سال کی عمر میں سرگودھا اسٹیشن کے پاس ایک ریل کے سامنے کود کر خودکشی کر لی اور اس طرح شعلوں سے لہلہاتے ہوئے ایک شاعر کا خاتمہ ہو گیا۔ موت کے بعد ان کی جیب سے یہ شعر ملا:
تونے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہیں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ
مطلب 'ہم عشق میں برباد ہیں"۔۔؟؟؟
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
لیکن اُن کےجیب سے ملنےوالا شعر تویہ ہی کہہ رہاہے:)

ہو سکتا ہے۔
لیکن یہ شعر بے حس زمانے کی عکاسی بھی کر رہا ہے۔
ہو سکتا ہے وہ محبوب کی بجائے زمانے سے مخاطب ہوں۔
یہ فقرہ دیکھیے:
تعلقاتِ عامہ کے محکمے میں بھی انہیں ایک ذمہ دارانہ ملازمت مل گئی۔ لیکن وہ ان سب چیزوں سے مطمئن نہیں تھے۔

بہرحال کوئی اور اس پہ روشنی ڈالے۔
محمداحمد بھائی آپ کچھ بتائیں۔
 
Top