شکر باری-علامہ فاضل لکھنوی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دادا مرحوم کا سفرنامہ دیکھ رہا تھا، ان کی ایک نظم پر نظر پڑی جو حج کے موقع پر انہوں نے لکھی تھی، تو سوچا یہاں بھی بھیج دوں.

شکر باری
ہر قدم پر حمد خلاق جہاں کرتا ہوا
رحمت خالق سے منزل کی طرف بڑھتا رہا

بحر و بر کو دیکھتا، دشت و جبل ہوتا ہوا
حسن نیت کے کرشمے رحمت رب علا

کاظمین و کربلا شہر نجف اور سامرہ
حضرت زینب کا روضہ مشہد شہر رضا

جس جگہ جو کچھ طلب میں نے کیا مجھ کو ملا
دامن مقصود میرا موتیوں سے بھر گیا

حج کی خواہش تھی خدا نے اس کو پورا کر دیا
مکہ و بیت خدا دیکھا، کیا شکر خدا

چشمہ رحمت پہ پہنچا آب زمزم پی لیا
سرور عالمؐ کے شہر پاک کی جانب چلا

گنبد خضرا پہ نور طور کو دیکھا کیا
دل میں نور پاک سرور سے اجالا ہو گیا

رتبہ معراج پایا فاضلؔ شیریں نوا
خانہ کعبہ میں آکر شکر کا سجدہ کیا

علامہ سید مرتضی حسین فاضلؔ لکھنوی​
 
شکریہ سخنور صاحب، دادا مرحوم اردو، فارسی اور عربی میں بھی شعر کہتے تھے، لیکن ان کا کلام منتشر ہے، میں یکجا کرنے کی کوشش کررہا ہوں، جب کوئی شعر ملا تو ضرور بھیجوں گا. ان شاء اللہ
 

شاہ حسین

محفلین
بہت شکریہ جناب نقوی صاحب خوشی ہوئی آپ کی اس شراکت کو دیکھ کر بہت اچھا کلام ہے مزید کا انتظار رہے گا ۔
میں بھی کوشش کروں گا کہ اپنے دادا مرحوم کا بھی کلام شریک محفل کرسکوں ۔ :)
 
Top