شعر

اُسامہ جمشید بھائی اس شعر پر ایک غزل ٹانک دیجیے۔:)
قبله محمد خليل الرحمن صاحب اتني حوصله افزائي كا شكريه، اصل ميں ايك چيز كنفيوز كر رهے اور وه يه هے كه ۔۔ نه۔۔ ايك حرفي باندھا جاتا هے كيا ميں اگر اس كو دو حرفي تصور كروں تو كام چل جاے گا ، كيا شاعر كيليے اتني گنجائش هوتي هے كه وه ۔۔۔ نه ۔۔۔ جيسے كلمه كو دو حسب ضرورت تو حرفي باندھ سكے ۔ التماس هے كه رهنما ئي فرمائيں۔
 

حمید

محفلین
ہم نا رہے - نہ کی بجائے نا لکھ کر درمیانی راستہ نکال سکتے ہیں- میر اور مصحفی کی مثالیں موجود ہیں-
 
ایک حد تک تھا چاہا انہیں اور پھر
چاہتیں رہ گئیں اور ہم نہ رہے

يا زمانے كي هم كو نظر لگ گئي
يا ديوانوں كے حصّےميں غم نا رهے

محمد خليل الرحمن صاحب كيا درج بالا كاوش قابل قبول هے ، رهنمائي فرمائيں
تا كه مزيد تك بندياں كر سكوں
 

الف عین

لائبریرین
اچھے اشعار ہیں، اصلاح کی ضرورت نہیں، صرف اسی بات پر اعتراض ممکن ہے جس سے بحث کی جا چکی ہے۔
قدما کے یہاں مثالیں ضرور موجود ہیں، لیکن دور حاضر میں ’نا‘ کا ایک اور استعمال جو ہونے لگا ہے، میں وہاں تو اسے جائز سمجھتا ہوں لیکن نہیں کے معنوں میں نہیں۔ سمجھ گئے نا؟
 
اچھے اشعار ہیں، اصلاح کی ضرورت نہیں، صرف اسی بات پر اعتراض ممکن ہے جس سے بحث کی جا چکی ہے۔
قدما کے یہاں مثالیں ضرور موجود ہیں، لیکن دور حاضر میں ’نا‘ کا ایک اور استعمال جو ہونے لگا ہے، میں وہاں تو اسے جائز سمجھتا ہوں لیکن نہیں کے معنوں میں نہیں۔ سمجھ گئے نا؟
استاد گرامی آپکا بہت شکریہ ، اللہ آپکو خوش رکھے ، کبھی کبھی صرف ایک شعر لکھنے میں ایک رات لگ جاتی ہے یا رات کا کچھ حصہ ،ساتھ ہی اندازہ ہوتا ہے کہ شعر فنی اعتبار سے درست نہیں تو مایوسی ہوتی ہے۔
 
Top