اے اللہ! اس ’اردو محفل فورم‘ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرما۔“


  • Total voters
    25
یہ نایاب مضمون اس سوال کے جواب میں دیا گیا ہے جو مجھے بے حد پسند آیا ہے۔
خونی رشتے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
کون سے کہلاتے ہیں ۔ ؟
1 ۔ نسبی طور پر براہ راست ان میں " دادا دادی نانا نانی ماں باپ اور بھائی بہن " شامل ہوتے ہیں ۔
خاندانی خونی رشتے ۔ ان میں "بھتیجے بھتیجیاں بھانجے بھانجیاں " تایا چچا ماموں خالہ پھوپھی اور انکی آل اولاد شامل ہوتی ہے ۔
اگر خون کے رشتوں کو ذرا تفصیل سے دیکھا جائے تو ۔۔۔ ۔۔ دادا پردادا نگر دادا ۔ نانا پرنانا نگر نانا یہ شجرہ آگے کی جانب پھیلتا جاتا ہے ۔ اور جناب نوح علیہ السلام جنہیں آدم ثانی کے لقب سے جانا جاتا ہے ۔ تک پہنچ جاتا ہے ۔ اور یہاں سے گھومتے جناب آدم علیہ السلام اور جناب اماں حوا علیہ السلام تک پہنچ نسل انسانی کی ابتدا کی علامت بنتا ہے ۔
کہتے ہیں کہ حضرت حوّا سے جڑواں بچے (ایک لڑکی اور لڑکا) پیدا ہوتے تھے، آپ جناب آدم علیہ السلام ایک بار پیدا ہونے والے لڑکے اور لڑکی کا نکاح دوسرے حمل سے پیدا ہونے والے لڑکی اور لڑکے سے کردیتے تھے۔اور نسل انسانی کا سلسلہ جاری رہنے لگا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
سو " ابن آدم یا بنت حوا " سب ہی خونی رشتوں میں شامل ہیں ۔
اب سوال کی صورت کچھ بدل گئی ۔
سوال یہ ہوا کہ " اس دنیا میں وہ کون سا رشتہ ہے جو کہ کسی بھی لالچ سے دور رہتے انسان کا خیر خواہ اور ہمدرد ہوسکتا ہے ۔" "
یہ خونی رشتے اکثر اوقات ہمارے سامنے ہمارے خاندانی رشتوں کی صورت آتے ہیں ۔ اور یہ اپنی توجہ محبت و خلوص سے ہمیں اپنی خیرخواہی اور ہمدردی کا یقین دلاتے ہیں ۔ اور یہ حقیقت بھی اپنی جگہ کہ یہ سب رشتے کہیں نہ کہیں کسی مفاد سے پیوست ہوتے ہیں ۔ " ماں "کے علاوہ کوئی رشتہ بھی لالچ و مفاد سے پاک نہیں ہوتا ۔
دوسرا رشتہ جسے " دوست " کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ اور جو قسمت سے نصیب والوں کو میسر ہوتا ہے ۔ اور رشتہ " دوستی " کا وقت پڑنے پر اپنی خیر خواہی اور ہمدردی کا بے لوث بے لاگ اظہار کر دیتا ہے ۔ یہ " دوست " براہ راست خونی رشتوں سے بھی مربوط ہوسکتا ہے ۔ اور خاندانی خونی رشتوں سے بھی ۔ اور عام طور پر "اجنبی غیر " کہلانے والا کسی بھی خاندانی خونی رشتے سے بہت دور ۔
اور اگر ہم اس سوال کو جسم انسانی کی قید سے آزاد کر دیں تو اک ہی رشتہ بچتا ہے ۔ جو کہ " خالق و مخلوق " کا رشتہ ہے ۔ اور وہ " خلاق العظیم " بے نیاز رہتے اپنی مخلوق کا بنا کسی لالچ و مفاد کے " خیر خواہ اور ہمدرد " ٹھہرتا ہے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
" اختلاف کا حق سب محترم اراکین رکھتے ہیں " کیونکہ مجھے علم کی تلاش ہے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
 
سوال:
اردو محفل
ادب کی حقیقی معنوں میں خدمت کیا ہے؟
جواب:
زبان کو سیکھنا سب سے بڑی خدمت ہے میرے نزدیک۔​
اس کے بعد پہلے سے موجود لٹریچر میں حسب شوق موضوع کا مطالعہ۔ اور صرف مطالعہ نہیں بلکہ اس موضوع پر چھوٹی بڑی، مستند اور غیر مستند لکھی گئی کتابوں پر تحقیق کرنا۔ وغیرہ وغیرہ۔ میں شاعری کو خاص اس دور میں زبان کےچوتھے یا پانچوے درجے کی خدمت گردانتا ہوں۔( شعرا سے معذرت کے ساتھ)​
اسکے ساتھ ساتھ لکھنے والوں کی عزت افزائی، اور انہیں منظر عام پر آنے کا موقع دینا بھی ایک خدمت ہے۔​
اس جدید دور میں جب لوگوں نے سائنس کو ہی ادب بنا لیا ہو اس میں اس اردو محفل کو وجود میں لانا بھی ایک خدمت ہے۔ اشاعت و بلاغت کے لئے، اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے، شعرا اور اردو بولنے والوں کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا بھی ادب کی خدمت ہی تو ہے۔​
میں اور آپ تو مر جانے والے ہیں مگر یہاں ہماری گفتگو جو جمع ہو رہی ہے کیا یہ لٹریچر نہیں ہے؟ میں تو ان گفتگو کی نشستوں اور مباحث اور اردو میں ہونے والے ان لڑائی جھگڑوں کو بھی لٹریچر گردانتا ہوں۔ بات وہی ہے وقت کے ساتھ ادب کی تصویر بھی بدل گئی ہے۔​
 
اسامہ بھائی اگر آپ ساتھ ساتھ ان دھاگہ کے ربط بھی دیتے جائیں تو بہت اچھا ہوگا
کوٹ کے اوپر جس کا مراسلہ ہے اس کے نام کے ساتھ ایک اوپر کی طرف جاتا ہوا تیر ہے اسے کلک کریں گے تو اس دھاگہ پہ پہنچ جائیں گے۔
 
گلستان میں پھول کھلائے جاتے ہیں، کیاریوں میں پھول لگائے جاتے ہیں جبکہ گلدان میں یا بالوں میں پھول سجائے جاتے ہیں۔ اسی طرح مزار پر پھول چڑھائے جاتے ہیں جبکہ راہوں میں پھول بچھائے جاتے ہیں۔ گو کہ اس میں تھوڑی بہت رد و بدل کی گنجائش ہے اور اس سے ہٹ کر مثالیں مل جائیں گی۔ :) :) :)
 
ہم نے محفل میں تا حال اپنے تمام مقتدین کے ناموں کی فہرست مرتب کر کے ان کو یکے بعد دیگرے آفس کے وہائٹ بورڈ پر لکھ کر یہ تصاویر لی ہیں۔ جانے کتنے برسوں بعد ہاتھ سے اردو لکھنے کا اتفاق ہوا ہے اس لیے ہم سبھی کے نام خط قبیح میں لکھ رہے ہیں۔ خط قبیح وہ خط ہے جس کا کوئی اصول نہیں، جس کے کوئی بھی دو یکساں الفاظ ہر دفعہ یکساں نہ لکھے گئے ہوں اور جس میں خطاطی کی دیگر بے شمار قباحتیں موجود ہوں۔ امید ہے کہ سالگرہ کے موقع پر احباب کو یہ ٹوٹا پھوٹا نذرانہ پسند آئے گا۔ :) :) :)


محمد اسامہ سَرسَری

IMG_20130704_181535.jpg


ہم محفل کے خادم ہیں، کون سی وضع کون سے غرور و ناز۔ ہاں اس بات کا اعتراف ہے کہ کہیں پہلے گفتگو نہیں ہوئی اور اس کا سبب اینکہ ہم پچھلے کچھ عرصہ سے بہت مصروف رہے اور اب بھی ہیں بلکہ ایک ہفتے بعد ہماری ریسرچ پریزینٹیشن ہے جس میں ہم اپنی تھیسس ڈیفینڈ کرنے والے ہیں۔ بس اسی وجہ سے محفل کے زیادہ تر زمروں میں غیر فعال رہے۔ محفل میں تو ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں لیکن بارہ دری میں ہوتے ہیں جہاں ہلکے پھلکے پیغامات، دعا سلام اور خیر خیریت سے بات آگے نہیں بڑھتی اور کام کرتے ہوئے بھی بات چیت کرنا ممکن ہوتا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں سے ہم نے ان لوگوں سے بھی زیادہ بات چیت نہیں کی جن سے ماضی میں خاصی گفتگو رہتی تھی چہ جائیکہ نئے چہرے۔ جبکہ سنجیدہ دھاگوں میں سوچ کر لکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج بھی فرصت نہیں تھی لیکن یہاں آج قومی چھٹی کا دن تھا اور ہم آفس میں تنہا بیٹھے اکتا گئے تھے تو سوچا کہ عرصہ قبل کے اس ارادے کو عملی جامہ پہنا دیں۔ :) :) :)
در اصل ہمیں محبت تو تمام محفلین سے ہے۔ سبھی ہمیں عزیز ہیں۔ لیکن اس فہرست کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ اس فہرست میں کچھ ایسے بھی نام ہیں جنھوں نے محفل میں صفر پیغامات بھیجے، رکنیت اختیار کی، اسی روز ادھر ادھر چلے پھرے، جہاں سمجھ میں آیا کلک کیا اور چلتے بنے، پھر پلٹ کر محفل کا رخ نہ کیا۔ وہیں اس فہرست میں ایسے بے شمار نام نہیں ہیں جن سے صبح و شام دعا سلام رہتی ہے۔ در اصل ہمارے پاس وقت محدود تھا اور ہم بہت زیادہ ناموں کو لکھ نہیں سکتے تھے۔ اس لیے ہم نے سوچا کہ کچھ ایسا کریں کہ نام بھی پچاس سے سو کے درمیان ہوں اور کسی کو ناراضگی کا موقع بھی نہ ملے کہ ہمیں یاد نہ کیا۔ اس لیے ہم نے ایسی فہرست منتخب کی جس کی ترتیب پر ہمارا اپنا کوئی اختیار نہ تھا۔ یعنی ان لوگوں کی فہرست جو ہماری اقتدا کرتے ہیں (یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہمیں اپنے حلقہ احباب میں شامل کر رکھا ہے نہ کہ ہم نے ان کو۔) لیکن جن کے نام لکھے ہیں ان سے محبت تو بہر صورت ہے گو کہ باقی احباب سے بھی ہماری محبت چنداں کم نہیں۔ :) :) :)
 
Top