شاعری سیکھیں (اٹھارھویں قسط) ۔ رباعی اور مثنوی کے اوزان

محمد اسامہ سَرسَری نے 'بزم سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 3, 2014

  1. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    تمام قسطیں یہاں ملاحظہ فرمائیں۔

    اٹھارھویں قسط:
    محترم قارئین کرام! اس قسط میں ہم رباعی اور مثنوی کے اوزان کا مطالعہ کریں گے۔

    رباعی کے اوزان
    رباعی کے چوبیس اوزان مشہور ہیں، جنھیں ہم ایک رباعی میں شامل کرسکتے ہیں، ایک رباعی میں چار مصرعے ہوتے ہیں، اس لحاظ سے چوبیس میں سے کوئی سے بھی چار ہم ایک رباعی میں شامل کرسکتے ہیں، مگر ان چوبیس اوزان کو یاد رکھنا مشکل ہوتا ہے،علم عروض کے ماہر محترم جناب مزمل شیخ بسمل صاحب نے ان چوبیس اوزان کو بہت آسان کرکے سمجھایا ہے۔

    اس کی تفصیل یہ ہے کہ رباعی کے اصل دو وزن ہیں:
    پہلا وزن: مفعولُ مفاعلن مفاعیلُ فعَل
    دوسرا وزن: مفعولُ مفاعیلُ مفاعیلُ فعَل
    ان دونوں کے آخر میں اگر ایک ایک ساکن بڑھادیا جائے جیسا کہ پچھلی قسط میں بتایا گیا تھا کہ ہر بحر میں ایسا کرنا درست ہے تو اس طرح ہمیں چار اوزان حاصل ہوجائیں گے۔
    پھر پہلے مصرع میں دو جگہ اور دوسرے مصرع میں تین جگہ ”تسکین اوسط“ والا قاعدہ جاری ہوگا۔
    گھبرائیے نہیں، ”تسکین اوسط“ بھی ہم آپ کو بتائے دیتے ہیں۔
    ”تسکین اوسط“ یہ ہے کہ بحر میں جہاں تین متحرک ایک ساتھ جمع ہوجائیں ان میں سے بیچ والے متحرک کو ساکن کرنے کی اجازت ہے۔

    اب ہم ان چوبیس اوزان کو تفصیل سے لکھتے ہیں، ذیل میں چوبیس میں سے ہر نمبر کے آگے تین قسم کی چیزیں لکھی گئی ہیں:
    1۔ مذکورہ بالا دو اوزان میں سے کونسا وزن لیا گیا ہے، تسکین کی گئی ہے یا نہیں ، آخری رکن فعل ہے یا فعول۔
    2۔ وزن کی ظاہری صورت۔
    3۔ روایتی عروض کے مطابق وزن کے ارکان۔

    1۔ پہلا وزن، بغیر تسکین ،آخری رکن فعل ۔۔۔ مفعول مفاعلن مفاعیل فعل ۔۔۔ مفعول مفاعلن مفاعیل فعل
    2۔ پہلا وزن، صرف پہلی جگہ تسکین ،آخری رکن فعل ۔۔۔ مفعولم فاعلن مفاعیل فعل ۔۔۔ مفعولن فاعلن مفاعیل فعل
    3۔ پہلا وزن، صرف دوسری جگہ تسکین ،آخری رکن فعل ۔۔۔ مفعول مفاعلن مفاعیلف عل ۔۔۔ مفعول مفاعلن مفاعیلن فع
    4۔ پہلا وزن، دونوں جگہ تسکین ،آخری رکن فعل ۔۔۔ مفعولم فاعلن مفاعیلف عل ۔۔۔ مفعولن فاعلن مفاعیلن فع
    5۔ پہلا وزن، بغیر تسکین ،آخری رکن فعول ۔۔۔ مفعول مفاعلن مفاعیل فعول ۔۔۔ مفعول مفاعلن مفاعیل فعول
    6۔ پہلا وزن، صرف پہلی جگہ تسکین ،آخری رکن فعول ۔۔۔ مفعولم فاعلن مفاعیل فعول ۔۔۔ مفعولن فاعلن مفاعیل فعول
    7۔ پہلا وزن، صرف دوسری جگہ تسکین ،آخری رکن فعول ۔۔۔ مفعول مفاعلن مفاعیلف عول ۔۔۔ مفعول مفاعلن مفاعیلن فاع
    8۔ پہلا وزن، دونوں جگہ تسکین ،آخری رکن فعول ۔۔۔ مفعولم فاعلن مفاعیلف عول ۔۔۔ مفعولن فاعلن مفاعیلن فاع
    9۔ دوسرا وزن، بغیر تسکین ،آخری رکن فعل ۔۔۔ مفعول مفاعیل مفاعیل فعل ۔۔۔ مفعول مفاعیل مفاعیل فعل
    10۔ دوسرا وزن، صرف پہلی جگہ تسکین ،آخری رکن فعل ۔۔۔ مفعولم فاعیل مفاعیل فعل ۔۔۔ مفعولن مفعول مفاعیل فعَل
    11۔ دوسرا وزن، صرف دوسری جگہ تسکین ،آخری رکن فعل ۔۔۔ مفعول مفاعیلم فاعیل فعل ۔۔۔ مفعول مفاعیلن مفعول فعَل
    12۔ دوسرا وزن، صرف تیسری جگہ تسکین ،آخری رکن فعل ۔۔۔ مفعول مفاعیل مفاعیلف عل ۔۔۔ مفعول مفاعیل مفاعیلن فع
    13۔ دوسرا وزن، تینوں جگہ تسکین ،آخری رکن فعل ۔۔۔ مفعولم فاعیلم فاعیلف عل ۔۔۔ مفعولن مفعولن مفعولن فع
    14۔ دوسرا وزن، پہلی اور دوسری جگہ تسکین ،آخری رکن فعل ۔۔۔ مفعولم فاعیلم فاعیل فعل ۔۔۔ مفعولن مفعولن مفعول فعَل
    15۔ دوسرا وزن، پہلی اور تیسری جگہ تسکین ،آخری رکن فعل ۔۔۔ مفعولم فاعیل مفاعیلف عل ۔۔۔ مفعولن مفعول مفاعیلن فع
    16۔ دوسرا وزن، دوسری اور تیسری جگہ تسکین ،آخری رکن فعل ۔۔۔ مفعول مفاعیلم فاعیلف عل ۔۔۔ مفعول مفاعیلن مفعولن فع
    17۔ دوسرا وزن، بغیر تسکین ،آخری رکن فعول ۔۔۔ مفعول مفاعیل مفاعیل فعول ۔۔۔ مفعول مفاعیل مفاعیل فعول
    18۔ دوسرا وزن، صرف پہلی جگہ تسکین ،آخری رکن فعول ۔۔۔ مفعولم فاعیل مفاعیل فعول ۔۔۔ مفعولن مفعول مفاعیل فعول
    19۔ دوسرا وزن، صرف دوسری جگہ تسکین ،آخری رکن فعول ۔۔۔ مفعول مفاعیلم فاعیل فعول ۔۔۔ مفعول مفاعیلن مفعول فعول
    20۔ دوسرا وزن، صرف تیسری جگہ تسکین ،آخری رکن فعول ۔۔۔ مفعول مفاعیل مفاعیلف عول ۔۔۔ مفعول مفاعیل مفاعیلن فاع
    21۔ دوسرا وزن، تینوں جگہ تسکین ،آخری رکن فعول ۔۔۔ مفعولم فاعیلم فاعیلف عول ۔۔۔ مفعولن مفعولن مفعولن فاع
    22۔ دوسرا وزن، پہلی اور دوسری جگہ تسکین ،آخری رکن فعول ۔۔۔ مفعولم فاعیلم فاعیل فعول ۔۔۔ مفعولن مفعولن مفعول فعول
    23۔ دوسرا وزن، پہلی اور تیسری جگہ تسکین ،آخری رکن فعول ۔۔۔ مفعولم فاعیل مفاعیلف عول ۔۔۔ مفعولن مفعولُ مفاعیلن فاع
    24۔ دوسرا وزن، دوسری اور تیسری جگہ تسکین ،آخری رکن فعول ۔۔۔ مفعول مفاعیلم فاعیلف عول ۔۔۔ مفعول مفاعیلن مفعولن فاع

    مثنوی کے اوزان
    محترم جناب مزمل شیخ بسمل صاحب نے مثنوی کے سات اوازن بتائے ہیں، ہر ایک کا نام ، بحر کے ارکان اور پھر مثالی فقرہ لکھا جارہا ہے:

    1۔ بحرِ متقارب مثمن محذوف ۔۔۔ فعولن فعولن فعولن فعل ۔۔۔ بھلا ہے بھلا ہے بھلا ہے بھلا
    2۔ بحرِ ہزج مسدس محذوف ۔۔۔ مفاعیلن مفاعیلن فعولن ۔۔۔ بہت بہتر بہت بہتر بھلا ہے
    3۔ بحرِ ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف ۔۔۔ مفعولُ مفاعلن فعولن ۔۔۔ کیا خوب کمال ہے بھلا ہے
    4۔ بحرِ خفیف مسدس مخبون محذوف ۔۔۔ فاعلاتن مفاعلن فعلن ۔۔۔ بہتریں ہے کمال ہے عمدہ
    5۔ بحر رمل مسدس محذوف ۔۔۔ فاعلاتن فاعلاتن فاعلن ۔۔۔ خوب عمدہ خوب عمدہ خوب ہے
    6۔ بحرِ رمل مسدس مخبون محذوف ۔۔۔ فعلاتن فعلاتن فعلن ۔۔۔ دل و جاں سے دل و جاں سے پیارا
    7۔ بحرِ سریع مسدس محذوف ۔۔۔ مفتعلن مفتعلن فاعلن ۔۔۔ خوب بھلا خوب بھلا خوب ہے

    الحمدللہ بندۂ ناچیز کی کتاب "آؤ ، شاعری سیکھیں" کتابی شکل میں شائع ہوگئی ہے۔

    اگلی قسط
     
    آخری تدوین: ‏فروری 5, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر