اسکین دستیاب سیر ظلمات

سید عاطف علی

لائبریرین
51-----
غلام بھاگ گئے کیا وہ اب بھی زرد لوہے کو کھودتے چلے جائیں گے۔ جس کا نکلنا اس قدر دشوار ہے اور جو نکلتا ہے تو آدمی اس کا برچھا بھی نہیں بنا سکتا۔ لیکن آٹڑ تجھے اس سے کیا جو کچھ میاں کرتے ہیں تو بھی کر ایلو سامنے ہرن کے پاؤں کے نشان ہیں۔"
آٹر کی بات ٹھیک تھی۔ گرمی شدت کی پڑ رہی تھی۔ مشرقی افریقہ میں یہ دن گرمیوں کے تھے بلکہ یوں کہیے کہ خزاں کے۔ اس موسم میں بخار کا دور دورہ ہوتا ہے بادل گرجتے ہیں امینھ امنڈ امنڈ کر ٹا ہے اور جس شخص کو اپنی جان عزیز ہو وہ غریبانہ خورش اور ناقص مسکن پر اکتفا کر کے سونے کی تلاش میں ایسے موسم کے اندر اس وحشتناک حصہ ملک میں زندگی بسر کرنا پسند کرے گا۔ لیکن جو لوگ دولت کمانا چاہتے ہیں وہ اپنی اور دوسروں کی جانوں کو معرض خطر میں ڈالتے ہوئے کچھ پس و پیش نہیں کرتے۔ ایسے لوگ تقدیر کے قائل ہو جاتے ہیں اور گو باللسان وہ اس کا اقرار نہ کریں لیکن نا دانستہ طور پر بالقلب اس کی ضرور تصدیق کرتے ہیں۔ ان کا یہ خیال ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو مرنا ہوگا وہ مر جائیں گے اور جنہیں بچنا ہو گا وہ ہر حیلہ بچیں گے۔ اور علاوہ اس کے انہیں اپنی مرنے جینے کی پروا بھی نہیں ہوتی کیوں کہ وہ خوب جانتے ہیں کہ اگر ہم مر جائیں گے تو دنیا کا اس سے کوئی نقصان نہ ہو گا۔

جب لیو نارڈ اور ٹرم اور اس کے بھائی اور دو رفیقوں نے وہاں کے باشندوں سے سنا کہ دریائے زمبسی کے کنارے ایک خاص پہاڑی مقام پر جو برائے نام علاقہ پرتگال کے حدود کے اندر تھا سونا لوہے کی طرح نکلتا ہے۔ اور جب انہوں نے اس علاقے کے سردار سے دو بندوقوں اور ایک تازی کتے کے معاوضے میں سونا کھودنے اور اس پر بلا مزاحمت احدی قابض ہونے کا حکم حاصل کر لیا تو وہ فورا مقام مزبور کی جانب روانہ ہوئے اور اپنے ارادے کو اس خیال کی وجہ سے التوا میں نہ ڈالا کہ جس مقام کا ہمارا قصد ہے وہ بخار کا گھر ہے اور نیز بیماری کے موسم کی آمد آمد ہے۔ اس کی وجہ اول تو یہ تھی کہ ان کی مالی حالت اس وقت قابل اطمینان نہ تھی اور دوسرے انہیں یہ خیال ہوا کہ ممکن ہے اگر کوئی اور شخص تین بندوقیں اور دو تازی کتے نذر کر کے وہاں کے سردار سے اپنے لیے حکم لکھوا لے اور ان کا حکم نامہ منسوخ کرادے۔
نظر براں وہ جوں توں کر کے چھپی دولت کی کان تک پہنچے اور جس قدر دیسی مزدور ان کو مل سکے ان کی مدد سے انہوں نے زر کی جستجو شروع کی اول اول انہیں خوب کامیابی ہوئی۔ جہاں کہیں انہوں نت کھودا انہیں سونے کی دھاریاں نظر آئیں اور ایک دو جگہ تو انہیں سونے کے بڑے بڑے ٹکڑے بھی ملے ان کی ہمت
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
52
اس کامیابی سے بہت کچھ بڑھ گئی۔ لیکن اب ان چاروں میں سے ایک شخص ایسکٹو نامی بخار میں مبتلا ہوا اور کچھ عرصے بعد مر گیاانہوں نے اسے دفن کر دیا اور پھر بفحوائے۔
طلبگار گوہر کہ کانے کند
بہ پندار و امید جانے کند
جانفشانی کے ساتھ زر میں منہمک ہوئے اور کبھی کبھی ان کا نصیبہ یاوری بھی کر جاتا لیکن کچھ عرصہ نہ گزرنے پایا تھا کہ اس جماعت ثلاثہ کا ایک اور فرد جانسٹن نامی بیمار ہو گیا اور ایک مہینے کے بعد وہ بھی چل بسا اس کے بعد لیونارڈ کی یہ رائے ہوئی کہ اس کام کو چھوڑ دیا جائے لیکن قسمت کے لکھے کو کون مٹا سکتا ہے ۔ جانٹن کی وفات کے بعد دوسرے ہی دن انہیں سونے کی ایک مقدار کثیر دستیاب ہوئی اور لیونارڈ کے بھائی نے جس کی خواہس حصول دولے کو متواتر ناکامیوں نے اور بھی بڑھا دیا تھا لیونارڈ کی ایک نہ سنی۔
پس انہوں نے ایک بلند تر اور صحیح تر مقم پر اپنی جھونپڑی ڈال لی اور ٹھہرے رہے لیکن ایک روز کسی کمبخت گھڑی میں ٹامس اوٹرم شکار کھیلنے باہرنکلا اور جنگل میں رستہ بھول گیا جس کی وجہ سے مجبوراََ اسے رات بھر تپ آور انجروں میں زیر سما رہنا پڑا ایک ہفتے بعد اسے درد کمر اور بے چینی محسوس ہوئی اور تین ہفتے بعد جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں اس کا انتقال ہو گیا۔
اپنے مردہ بھائی کے پاس بیٹھے بیٹھے یہ تمام واقعات اور پیشتر کے زمانے کی بھی بہت سی باتیں لیونارڈ کے زہن میں گزریں۔ اس سے پہلے اس نے اپنے آپ کو اس درجے بیکس و مایوس اور الفت و امید کی نعمتوں سے محروم نہ پایا تھا۔ یہ ایک حقیقت نفس امری تھی کہ دنیا بھر میں اس وقت اس کا کوئی یار مددگار نہ تھا البتہ لٹو کی سی ناک والا حبشی آٹر ایک اس کے پاس تھا جسے وہ اپنا یار سمجھتا یا مددگار۔ اسے انگلستان سے آئے کی سال گزر چکے تھے اس کے دور کے چند رشتہ دار تھے ان کو اس کی اور اسکے بھائی کی جو آوارہ و بے خانماں دور دراز مملک میں بھٹکے پھرتے کچھ پروا نہ تھی اور اس کے ہم مکتب رفتا کی لوح حافظہ سے غالباََ اس کی یاد کا نقش اب تک محو ہو چکا تھا۔
البتہ ایک شخص دنیا میں ایسا تھا جو اسے فراموش نہ ہوا تھا اور وہ اس کی معشوقہ جین تھی مگر اس فراق کی رات سے جسے سات سال ہو چکے تھے اس نے اس کی کوئی خبر نہ سنی تھی۔ دو مرتبہ اس نے جین کو خط لکھا تھا لیکن خطوں کا کوئی جواب نہ آیا اس کے بعد اس نے خط لکھنا ترک کر دیا کیوں کہ وہ ایک ایسا شخص تھا جسے اپنی وضع کا پاس
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
53
بہت تھا۔ مزید براں اس نے یہ قیاس کیا کہ جین نے جو میرے خطوں کا جواب نہیں دیا اس کی وجہ یہ ہو گی کہ اس نے جواب دینے کی قدرت نہ تھی۔ اپنے بھائی سے اس نے ایک دفعہ یہ کہا تھا کہ جین کا اب تک یا تو انتقال ہو چکا ہے اوریاں گمان غالب ہے کہ مسٹر کوہن سے اس کی شادی ہو گئی ہے۔ باایں ہمہ اس کو جین سے اس جین کو اس سے محبت تھی اور اس وقت تک جین جین کے عشق کی چنگاری اس کے دلل میں سنگ رہی تھی کم از کم اسے اس قدر خیال ضرور تھا کہ یہ چنگاری ابھی خاموش نہیں ہوئی ہے۔ کیون کہ سالہا سال کی جلا وطنی اور محنت و مشقت اور تحصیل لاحاصل کی مساعی متصلہ کے جانگزا مشاغل میں سبھی جین کی صورت اور اس کی یاد بطور ایک نقش طمانیت کے اس کے دل کی لوح پر کندہ تھی اگرچہ سوائے اس الوداعی تحفے کے جو ایک انجیل اور ایک بالوں کی لچھے پر مشتمل تھا جین کے احساسی روابط کی قبیل سے اس کے پاس کوئی اور شئے موجود نہ تھی۔ جنگل اور ویرانہ ایسا مقام نہین ہوتا جہاں لوگ اپنی پہلی معشوقہ کی یاد سے دل کو بہلا سکیں۔ وہ واقع میں بالکل بےکس اور بے بس تھا۔ نہ اس کا کوئی رفیق تھا نہ غمخوار نہ مونس تھا نہ غمگسار۔ ایک ویران اور وحشتناک سرزمین میں وہ بادیہ فرد اور دشت نورد تھا اور جاہل اور وحشی اس کے ہم صحبت تھے۔
اس نے اپنے جی میں سوچا کہ اب کیا کرنا چاہیئے اس مقام میں رہ کر سونے کی تلاش کو جاری رکھنا تو خارج از امکان تھا۔ سونا تو یہاں موجود تھا مگر لیونارڈ خوب جانتا تھا کہ یہ سونا سنگ خارا کہ رگوں میں جو پہاڑ کی رگوں میں دوڑتی ہوئی چلی گئی ہیں جکڑا ہوا ہے اور بغیر مناسب آلات یا کافی سرمائے کے پتھر میں سے سونا نکالنا فعل عبث ہے۔علاوہ اس کے جتنے جتنے حبشی غلام اس کے پاس تھے وہ سب کے سب محنت شاقہ سے خستہ اور بخار سے ماندے ہو کر اسے چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور اس موسم میں دوسرے مزدوروں کا ملنا محال تھا خیر۔
ایں ہم اندر عاشقی بالائے غمہائے دگر

جہاں اتنی مصیبتیں اور ناکامیاں اس نے جھیلی تھیں وہاں یہ ایک اور سہی اب سوائے اس کے اور کیا چارہ تھا کہ وہ ناٹال جا کر قسمت آزمائی کرےکم ا کم روٹی کما کھانے کو ناٹال میں گاڑی بانی تو کہیں گئیں نہ تھ اور دولت کے تجسس کی اس کوشش بے فائدہ سے جس کی بنا پر اسے اپنا خاندا از سر نو قائم کرنا تھا اسے رستگاری حاصل ہونا غنیمت معلوم ہوا۔
لیو نارڈ ان سوچوں میں پڑا ہوا تھا کہ اسے اپنا وعدہ یاد آیا جو اس نے اپنے بھائی سے کیا تھا اور جو یہ تھا کہ دولت کی تلاش میں مرتے دم تک سر گرم رہوں گا۔ اس وعدے کے یاد آتے ہی اس نے عزم بالجزم کرلیا کہ دولت
 
آخری تدوین:

لاريب اخلاص

لائبریرین
صفحہ 341
نے انکو نہ صرف دولت و عزت کی برکت دی کیوں کہ لیونارڈ پارلیمنٹ کا ممبر بھی ہو گیا تھا بلکہ ان کو اولاد کی نعمت بھی عطا کی۔ دو بیٹے اور دو بیٹیاں ان کے گھر تولد ہوئیں اور بڑے بیٹے کا نام اپنے بھائی کی یادگار میں لیونارڈ نے ٹامس رکھا۔
ہمارا قصہ اب قریب الاختتام ہے اور اب ہم ساکنان اور ٹرم ہال کی زندگی کا ایک سین دکھا کر اسے ختم کرتے ہیں۔
اور ٹرم ہال کے محاذی شاہ بلوطون کے درمیان ایک عجیب قطع کی جھونپڑی سرکنڈوں اور پھونس کی بنی ہوئی ہے۔ اسے ساکنان اور ٹرم ہال "کرال" کے نام سے پکارتے ہیں۔اس گرال کے سامنے تھوڑی سی کھلی جگہ ہے جہاں آٹر بیٹھا ہوا دھوپ کھا رہا ہے۔
لیونارڈ ہال سے نکل کر سیدھا اس جھونپڑی کی طرف آرہا ہے ۔۔۔ (غیر واضح لفظ) اپنے آقا کو دیکھ کر اٹھا اور جب لیونارڈ اس کے پاس آ پہنچتا ہے تو وہ ایک ایسی زبان میں جسے اور کوئی نہیں سمجھتا کہتا ہے۔
"کیوں میاں کئی سال ہوئے میں نے آپ سے کیا کہا تھا۔ کیا میں نے یہ نہیں کہا تھا۔ کہ آپ کو دولت ملے گی اور سمندر پار جو بڑی کرال ہے وہ بھی آپ کے قبضہ میں آئے گی اور اغیار کی اولاد اس میں نہ پھلے پھولے گی یہ کہہ کر اس نے لیونارڈ کے بچوں کی طرف جو کھیل رہے تھے اشارہ کیا اور پھر بولا ۔۔۔(غیر واضح لفظ) آٹر جو اور بہت سی باتوں میں بیوقوف ہوں اس پیشن گوئی کے متعلق تو پیغمبروں سے بھی بڑھ گیا مگر اب میں اور کوئی پیشن گوئی نہیں کرتا کہ کہیں میری بھی وہ مثل نہ ہو کہ
"گاہ باشد کہ کود کے نادان + بغلط بر ہدف زند تیرے
گاہ باشد ز پیر روشن رائے + برنیاید درست تدبیرے"
تھوڑی دیر میں کھانے کی گھنٹی بجتی ہے اور طعام سے فارغ ہونے کے بعد بڑے کمرہ میں سے سوائے آٹر کے جو ایک سفید سوٹ پہنے اپنے آقا کی کرسی کے پیچھے کھڑا ہے اور سب نوکر باہر چلے جاتے ہیں اس کمرے میں سوائے مسٹر ۔۔۔(غیر واضح لفظ) کے جو ابھی ابھی اپنے دوسرے سفر افریقہ سے واپس آئے ہیں اور خوش وخرم بیٹھے مسکرا رہیے ہیں اور کوئی غیر آدمی موجود نہیں۔ جوانا ایک پرتکلف لباس پہنے بیٹھی ہے اور اس کے سینے پر ایک لعل رمانی ۔۔۔(غیر واضح لفظ) آب و تاب چمک رہا ہے اس کا سب سے بڑا بیٹا ٹامس جو اپنی دو بہنوں کے ساتھ ابھی کمرہ میں داخل ہوا ہے اس سے پوچھتا ہے
"اماں آج یہ لعل تم نے کس لیے لگایا۔"
 
آخری تدوین:

لاريب اخلاص

لائبریرین
342
وہ کہتی ہے "خاموش بیٹا یہ وقت باتیں کرنے کا نہیں" اتنے میں آٹر شراب کا پیالہ ہاتھ میں لیے اس میز کی طرف بڑھتا ہے جس کے اوپر بائبل کا وہ نسخہ رکھا ہوا ہے جس پر لیونارڈ اور اس کے بھائی ٹامس مرحوم نے ہاتھ دھر کر قسم کھائی تھی اور سسوٹو بولی میں ان سے کہتا ہے۔

"اے نجات دہندہ اور اے راعیہ گیارہ سال ہوئے کہ ٹام میان کا اس ویرانہ میں انتقال ہوا۔
میں جو سال میں صرف ایک دفعہ شراب پیتا ہوں یہ ٹام میان کی یاد میں اور اس مبارک تقریب کی یاد میں جبکہ ہم بزرگ بزرگ خدا کے سونے کے محل میں جا کر اس سے ملاقات کریں گے پیتا ہوں"
یہ کہہ کر وہ شراب غٹ غٹ پی جاتا ہے۔ اور پیالہ کو فرش پر ٹپک کر پاش پاش کر دیتا ہے۔ اس پر لیونارڈ کہتا ہے "آمین۔ پیاری اب میں تمہارا جام صحت نوش کرتا ہوں۔"
جوانا دبی آواز میں کہتی ہے "میں یہ جام فرانسسکو کی یاد میں پیتی ہوں جس نے میری جان بچانے کے لیے اپنی جان دی۔"
اس کا شوہر اس پر آمین کہتا ہے۔
پھر کچھ دیر تک خاموشی کا عالم طاری رہتا ہے کیونکہ لیونارڈ کوئی جام صحت تجویز نہیں کرتا۔ سب سے بڑا لڑکا ٹامس اپنا گلا اٹھا کر پکارتا ہے۔

"اور میں یہ جام ۔۔۔(غیر واضح لفظ) شاہ ظلمات کی یاد میں آٹر کی سلامتی کے لیے پیتا ہوں جس نے سانپ دیوتا کو مارا اور جس سے مجھے سب سے زیادہ محبت ہے" اماں آپ آٹر سے کہیے کہ وہ ۔۔۔(غیر واضح لفظ) لے آئے اور ہمیں وہ قصہ سنائے کہ برف کے پل پر سے آپ کو اور ابا جان کو اس نے کس طرح اوپر کھینچا تھا۔
تمت بالخیر
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
54
کی جستجو میں اس وقت تک کروں گا جب تک کہ موت میرا خاتمہ نہ کردے اس کے ساتھ ہی اسے وہ عجیب پیشن گوئی بھی یاد ائی جو اس کے بھائی نے گزشتہ شب کی تھی اور جو یہ تھی کہ دولت اس کو ملے گی۔ اس کے ندزیک اس پیشن گائی کی حقیقت ایک مرنے والے شخص کی پریشان خیالی سے زیادہ نہ تھی کیوں کہ کئی سال سے اس کا بھائی دولت حاصل کرنے اور اپنے قدیم گھرانے کی از س نو بنا ڈالنے کی خیلا میں ایسا مستغرق اور محو تھا کہ مقام تعجب نہیں جو حالت نزع میں بھی اس نے اپنی زندگی کے مقصد کے حصول کو گو کسی دوسرے کی وساطت سے سہی عالم رؤیا میں دیکھا ہو۔ بایں ہمہ مرتے وقت کس عجیب نگاہ سے مرنے والے نے اس کی طرف دیکھا تھا اوور کس تیقن اور وثوق کے ساتھ پیشن گوئی کی تھی لیکن یہ امر تو خارج از بحث تھا جو بات کہ اس وقت بحث طلب تھی وہ یہ تھی کہ اس نے یعنی لیونارڈ نے کئی سال گزرے ایک قسم کھائی تھی اور گزشتہ شب ہی کو اس کی تجدید کی تھی پس خواہ کچھ بھی ہو اس قسم پر مرتے دم تک کاربند ہونا اس پر فرض ہو گیا تھا۔
اس سوچ میں پڑے پڑے اسے گھنٹوں گزر گئے اور اس بے جان جسم کے پاس جو کسی زمانے میں اس کا ہمجولی اس کا بھائی اور اس کا دوست تھا بیٹھا ہوا وہ انتظار کرتا رہا تھوڑی تھوری دیر کے بعد وہ غاار میں ادھر ادھر ٹہلنے لگتا دوپہر ڈھلنے پر گرمی زیادہ ہو گئی حبس محسوس ہونے لگا اور افق پر بادل جمع ہونے لگے۔
مطلع کی یہ حالت دیکھ کر لیونارڈ بآواز بلند بولا "غروب آفتاب کے وقت رعد و ابر کی خوب گرم بازاری ہوگی، خدا کرے آٹر جلد واپس آجائے تا کہ ہم تجہیز و تکفین سے نبٹ لیں ورنہ کل تک ہم کو منتظر رہنا پڑے گا۔
آخر کار اندھیرا ہونے سے نصف ساعت پہلے بونا آپہنچا ایک ہرن کو وہ اپنی زبردست پیٹھ پر لادے ہوئے تھا اور ہاتھ میں خوشبو دار سوسن دشتی کا ایک بڑا گچھا لیے ہوئے تھا۔
تن دونوں نے ٹامس اوٹرم کو مل کر اسی قبر میں جو اس نے دامن کوہ میں اپنے ہاتھ سے کھودی تھی دفن کر دیا اور رعد کی کڑک نے اس کا نوحہ پڑھا۔
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
55
باب پنجم
-------
آٹر مشورہ دیتا ہے
-----------
جب مٹی حوبجا چکی اور ٹامس اوٹرم بستر بستر مرقد پر اپنی آخری نیند سو گیا تو اس کے بھائی نے جو جین بیچ نے اسے دیا تھا باہر نکالا اور قبر پر جنازے کی نماز پڑھی ۔اس کے بعد لیونارڈ اور آٹر غار کو واپس آئے اور کچھ کھایا پیا لیکن کھانے میں ایک لفظ منہ سے نہ نکالا جب وہ کھانا کھا چکے تو لیونارڈ نے بونے کو جو کچھ فاصلے پر بیٹھا ہوا تھا پکارا۔
لالٹین کو اپنے اور آٹر کے درمیان رکھ کر لیونارڈ اس سے کہنے لگا" آٹر تم ایک وفا دار شخص ہو اور ایک طرح سے ہشیار بھی ہو میں تم سے ایک بات کہا چاہتا ہوں اور اس کے متعلق تمہاری رائے طلب کرتا ہوں" اتنا کہہ کر لیو نارڈ نے انگریزی زبان میں یہ فقرہ اور ایزاد کیا " کم از کم اس معاملے میں تو تمہاری رائے اور قوت فیصلہ مجھ سے کسی طرح کم نہیں ہو سکتی۔"
بونا بولا" میاں آپ کہیے میں ہمہ تن گوش ہوں" اور یہ کہہ کر وہ لالٹین کی دوسری طرف ایک بڑے مینڈک کی طرح اکڑ کر بیٹھ گیا اور اپنے آقا کے چہرے پر اپنی سیاہ سیاہ آنکھیں جما دیں۔
لیونارد۔" آٹر سات سال کا زمانہ ہوتا ہے کہ جو میاں کہ مر گئے ہیں وہ اور میں سفر کرتے ہوئے اس ملک میں آئے یہاں آنے سے پہلے ہم بھی دولت مند تھے اور اپنے ملک میں سردار تھے۔ لیکن ہماری کرالیں اور مویشی اور زمینیں ہمارے ہاتھ سے نکل گئیں اور ایک دوسروں کے قبضے میں چلی گئیں اور ہم غریب ہو گئے جب ہماری یہ حالت ہوگئی تو ہم نے ایک دوسرے سے کہا کہ یہاں تو اب ہمارا کوئی گھر نہیں رہا اور افلاس اور قلاشی کی ندامت کا داغ ہمیں لگ گیا۔ علاوہ اس کے ہم خاندانی امیر ہیں ممعولی آدمیوں کی طرح محنت مزدوری نہیں کر سکتے مبادا کہ امیر و غریب ہماری ہنسی اڑائیں۔ ہماری بڑی سنگین' کرال' جو نسلا بعد نسل ہمارے خاندان کی ملک میں چلی آتی تھی ہم سےچھن گئی۔ اس میں غیر لوگ رہتے ہیں اور غیر عورتیں اس کا کام کرتی ہیں اور ان کی اولاد اب ہماری زمینوں پر قابض ہوگی
---------------------------
"کرال" زولو زبان کا لفظ ہے جس کے معنی جھونپڑی یا مکان کے ہیں۔
 
آخری تدوین:

لاريب اخلاص

لائبریرین
صفحہ 338
سے نکالا۔ اور لیونارڈ کو دیا۔ خط ہاتھ میں لے کر لیونارڈ کے دل میں گو نا گوں خیالات موجزن ہوئے۔
جین بیچ کا اس کے نام یہ پہلا اور آخری خط تھا۔ لفافے کو چاک کرتے وقت لیونارڈ کے ہاتھ ذرا کانپے۔ خط کا مضمون حسب ذیل تھا۔

”جان سے پیارے لیونارڈ
”اس ۔۔۔(غیر واضح لفظ) شوقیہ عنوان میرے لیے جس کے گلے سے طوق ۔۔۔(غیر واضح لفظ) جدا ہو چکا ہے اب باعث ننگ و حجاب نہیں ہے کیوں کہ تم خواہ ابھی تک زندہ ہو یا میرے خاوند اور میری بیٹی کی طرح عالم عقبی کو سدھار چکے ہو پھر بھی مجھے جان سے زیادہ عزیز ہو۔
وہ جس وصیت نامہ پر میں کل اپنے دستخط ثبت کرنے والی ہوں اس سے تم کو معلوم ہو جائے گا کہ میری یہ عین آرزو ہے کہ جس آبائی گھر سے قسمت نے تمہیں محروم کر دیا۔ وہ پھر تمہارے قبضہ میں آئے۔ میں نہایت خوشی سے یہ جائداد تمہارے نام چھوڑتی ہوں اور ایسا کرنے میں مجھے اپنے ضمیر کی طرف سے پورا اطمینان ہے کیوں کہ میرے شوہر متوفی نے درصورت اپنی بیٹی کے انتقال کے جو ہماری اکلوتی بیٹی تھی اور جس کے انتقال کا افسوسناک واقعہ ظہور میں آ چکا ہے کل جائداد میرے نام چھوڑی تھی اور مجھے اس کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا تھا۔
”میری دعا ہے کہ جو اراضیات اور دولت میں اس طرح پر تمہارے خاندان کو واپس پہنچاتی ہوں تم ان سے سالہا سال تمتع اٹھاؤ اور تمہاری اولاد۔۔۔(غیر واضح لفظ) پشت ہا پشت تک اوٹرم ہال میں پھلے پھولے۔
”اب میں اس کا ذکر جانے دیتی ہوں کیوں کہ مجھے کچھ عذرات پیش کرنے ہیںاور تم سے معافی چاہنی ہے لیونارڈ اس امر کا احتمال ہے کی جب اس خط پر تمہاری نظر پڑے گی تو مجھے تم بھول گئے ہو گے (اور اس میں تم حق بجانب ہو میں اس کی سزاوار ہوں) اور تمہیں کوئی دوسری عورت محبت کرنے کو مل گئی ہو گی۔ لیکن نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ لیونارڈ اس خط کو لکھتے وقت بھی جس کا ایک ایک حرف میں نے خون جگر سے لکھا ہے۔
میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ تم مجھ کو جو تمہاری پہلی محبوبہ ہوں کبھی۔۔۔(غیر واضح لفظ) نہیں کرو گے اور کسی عورت سے تم کو وہ عشق نہ ہو گا جو مجھ سے تھا۔
”پیارے لیونارڈ! تم مجھ سے سوال کرو گے کہ میں نے جو تم سے اس بری طرح سلوک کیا اور اپنے دل کے جذبات کو جن میں ہر وقت تیری یاد۔۔۔(غیر واضح لفظ) تھی دوسری اغراض پر نثار کر دیا اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔
 

لاريب اخلاص

لائبریرین
339
اس کی وجوہات جو کچھ بھی ہیں میں تم کو بتاتی ہوں۔
”لیونارڈ میرے باپ نے جو ایک نہایت بے رحم شخص تھا مجھے اس شادی پر مجبور کیا اور زبردستی یہ بیڑیاں میرے پاؤں میں پہنائیں۔۔ میں جانتی ہوں کہ اس سے میری کمزوری ثابت ہوتی ہے لیکن میں ہمیشہ سے کمزور اور میری قوت فیصلہ کبھی بھی زبردست نہ تھی۔ پھر بھی لیونارڈ یقین مانو کہ جہاں تک مجھ سے ہو سکا میں نے اس کے خلاف جد و جہد کی۔ ایک دفعہ میں نے تم کو خط بھی لکھا مگر میرے باپ نے اس خط کو روک لیا۔ میں نے مسٹر کوہن سے بھی سب حقیقت کہہ دی مگر وہ خود غرض اور مغلوب الجذبات تھا اور اس نے میری منت و زاری پر کچھ التفات نہ کیا آخرکار مجھے مجبوراً اس سے شادی کرنی پڑی اور کچھ عرصے کے بعد میں اپنی قسمت پر صابر و شاکر ہو گئی کیونکہ وہ مجھ سے نہایت مہربانی سے پیش آتا تھا مگر لیونارڈ میں اسی دن سے گھلنے لگی۔
”اس رات کو جب برف پر ہمارا فراق ہوا چھ سال گزر چکے ہیں اور میرا خاتمہ قریب ہے کیوں کہ میں واقعی مر رہی ہوں۔ مجھے اپنی ننھی سی بچی کے مر جانے کا اس قدر صدمہ ہوا ہے کہ میں اسے برداشت نہیں کر سکی۔ اب میں اس کے پیچھے پیچھے دوسری دنیا میں جاتی ہوں جہاں اس وقت تک منتظر رہوں گی جبکہ تمہارا پیارا چہرہ جس کا نقش میرے دل کی لوح سے کبھی محو نہیں ہو سکتا ایک دفعہ پھر نظر آئے۔
”پیارے لیونارڈ اس کی کیا وجہ ہے کہ ہماری محبت جس کا ثمر ابھی اس دنیا میں ہمیں نہیں ملا آخر میں تمام دنیوی علائق سے زیادہ زبردست ثابت ہو۔ خدا گواہ ہے کہ مجھے اپنی مرحوم و مغفور بچی کے ساتھ بے پایاں محبت تھی اور اب بھی ہے لیکن اب جو میں بستر مرگ پر پڑی ہوں تو تمہارا خیال میرے دل میں بالاتر ہے اور تمہیں جو نہ میرے خاوند ہو اور نہ بچے یاد آ رہے ہو۔ شاید یہ معما بہت جلد دوسری دنیا میں جا کر حل ہو جائے گا۔ لیکن اے لیونارڈ میرے دل کے مالک لیونارڈ میری روح ورداں کی آنکھوں کے تارے لیونارڈ اگر میری روح انسانی کو بقا ہے جو میرا ایمان ہے تو میں آفرینندہ کون و مکان کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ جو محبت مجھے تم سے ہے گومین نے اس کی امانت میں خیانت کی اور اسے برباد کر ڈالا۔ پھر بھی وہ میری فطرت کا سب سے غیر فانی جز ہے۔"
”بس پیارے لیونارڈ میرا پیام اس قدر ہے اور کہا کہوں۔ ہاں اگر مجھے خود غرض نہ تصور کرو تو اتنا اور کہتی ہوں کہ مجھے بھول نہ جانا.
 

لاريب اخلاص

لائبریرین
340
مجروح سینہ خستہ جگر دلفگار

جین"
لیوناردو نے خط کو میز کے اوپر رکھ دیا اور دوبارہ اپنے ہاتھوں سے منہ کو چھپا لیا کیونکہ جین کی محبت کی سچائی اور خلوص نے اس کے دل میں گھر کیا تھا اور اس کے چہرے سے اس کے اندرونی جذبات عیاں تھے۔
جوانا (آہستہ سے) ”کیا تمہاری اجازت ہے کہ میں اس خط کو پڑھوں۔“
لیوناردو نے۔۔۔(غیر واضح لفظ) خیال کہ سب باتیں صاف ہو جانی چاہیں تاکہ آیندہ کسی قسم کی غلط فہمی کا اندیشہ نہ ہو جواب دیا ”ہاں جان من اگر تم چاہتی ہو تو پڑھ لو۔“
جوانا نے خط لے کر پڑھا اور ۔۔۔(غیر واضح لفظ) پڑھا یہاں تک کہ اس کا ایک ایک لفظ اس کو یاد ہو گیا۔ پھر اس نے وکیل کو خط دے دیا اور خاموش ہو کر بیٹھ گئی آخرکار مسٹر ٹرنر نے اس دہ خاموشی کو توڑا اور کہنے لگا۔“
”چونکہ فی الحال آپ کو روپیہ کی ضرورت ہوگی میں آپ کو پیشگی کچھ روپیہ دیتا ہوا۔“
یہ کہہ کر اس نے ایک پاؤنڈ کا چیک لے کر لیونارڈ کے حوالہ کیا۔ مسٹر ٹرنر سے رخصت ہو کر لیونارڈ اور جمانا اس ہوٹل میں آئے جہاں وہ فروکش تھے۔ جوانا نے خط کے مطالعہ کے وقت سے لے کر اب تک جسے آدھا گھنٹہ گزر گیا تھا لیونارڈ سے کوئی بات نہ کی تھی۔ اب وہ ایک درشت لہجہ میں اپنے خاوند سے اس طرح ہمکلام ہوئی۔ ”ٹم کو معلوم ہوا کہ تم نے اپنے مرنے والے بھائی کی پیشن گوئی کی تاویل میں کیسی غلطی کی۔“ تمہارے بھائی نے جو مرتے دم پیشن گوئی کی تھی وہ ذو معنی تھی اور تم غلط معنی سمجھ کر۔۔۔(غیر واضح لفظ) کے ساتھ ہو لیے اوٹرم ہال تو تمہیں جین ۔۔۔(غیر واضح لفظ) کی مدد سے ملا نہ کی میری مدد سے۔“ یہ کہہ کر وہ ہنس پڑی مگر اس کی ہنسی ۔۔۔(غیر واضح لفظ) تھی۔
لیونارڈ (افسردگی کے لہجہ میں) ” پیاری اس قسم کی باتوں سے تم ناحق میرا دل دکھاتی ہو۔“
جوانا ”اس خط کو پڑھ کر تو اسی قسم کی باتیں ہوں گی۔ سوکن گو وہ مر چکی ہو پھر بھی سوکن ہے۔ مگر مری ہوئی سوکن سے کون عہدہ برآ ہو سکتا ہے۔ تمہارے ساتھ اب میں بھی اس کی زیر بار احسان رہوں گی۔ افسوس اگر میرے جواہرات نہ کھوئے جاتے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ہائے افسوس اگر اور کچھ نہیں تو میرے جواہرات میرے پاس ہوتے۔“
ایک ہفتہ کے بعد لیونارڈ کو اوٹرم ہال کا قبضہ مل گیا اور اس طرح وہ قسم پوری ہوئی جو سات سال پیشتر دونوں بھائیوں نے مل کر کھائی تھی لیونارڈ اور جوانا عیش و عشرت کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگے اور خدا
 

لاريب اخلاص

لائبریرین
صفحہ 333
مجھے کسی قدر روپیہ قرض دے دے مگر مجھے مانگتے ہوئے شرم آتی ہے۔“
اس کے بعد وہ خیمہ کو واپس آئے اور کھانا کھانے لگے اور کھانے سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ مسٹر ویلیس شہر سے واپس آئے اور کہنے لگے“ میں آپ کے لیے خوشخبری لایا ہوں دو دن میں ہندوستان کی ڈاک کا جہاز آنے والا ہے میرا قصد ہے کہ اس پر سوار ہو کر عدن کے رستہ ہوتا ہوا گھر چلا جاؤں۔
آپ دونوں بھی میرے ساتھ چلیں ہی گی کیونکہ میری طرح غالباً افریقہ سے آپ بھی سیر ہو چکے ہیں۔ مسٹر آؤٹرم یہ لیجیے اخبار ” ٹائمس“ کا ہفتہ واری پرچہ۔ آپ اسے دیکھئیے میں اپنے خط پڑھتا ہوں۔“
جوانا اخبار کھول کر پڑھنے لگی۔ پڑھتے پڑھتے دفعتہً ایک ندا اس کے منہ سے بلند ہوئی لیونارڈ اور مسٹر ویلیس دونوں ایک ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور مسٹر ویلیس نے کہا ”مسٹر اوٹرم خیر تو ہے؟
کیا فرانس نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا مسٹر گایڈ سٹون کا انتقال ہو گیا۔“
جوانا ”یہ تو نہیں مگر ایک اس سے بھی زیادہ اہم بات میں نے دیکھی ہے لیونارڈ اس اشتہار کو سنو۔“
”اگر لیونارڈ اوٹرم سرٹامس اوٹرم بارٹ سابق مالک اوٹرم ہال کا چھوٹا بیٹا جس کی خبر کچھ عرصہ ہوا کہ مشرقی افریقہ میں علاقہ خلیج ڈلگوا کے شمال سے آئی تھی زندہ ہو یا در صورت اس کے انتقال کے اس کے قانونی وارث معلن اشتہار ہذا سے خط و کتابت کریں گے تو ان کو ایک ایسی بات معلوم ہو گی جو ان کے حق میں بدرجہ غایت مفید ہو گی۔

ٹامس وٹرنر

البرٹ کورٹ-گوشہ مشرقی لندن۔“

لیونارڈ (کچھ دیر ٹھہر کر) ”جوانا مذاق تو نہیں کر رہی ہو؟“

جوانا ”خود آپ اپنی آنکھ سے دیکھ لو۔“
لیونارڈ (اخبار کو لے کر اور اشتہار کو مکرر سکرر پڑھ کر) ”یہ خبر تو بہت کچھ امید دلانے والی ہے مگر یہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم مسٹر ٹامس و مسٹر ٹرنر کی دعوت کو کس طرح پر قبول کر سکتے ہیں کیونکہ سوائے ایک لعل کے جو ممکن ہے کہ سچا نہ ہوا اس وقت میرے پاس ایک پیسہ نہیں۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ان کے نام چٹھی لکھوں اور جواب آنے تک کسی کافر کی جھونپڑی میں ٹھہرا رہوں۔“
 

لاريب اخلاص

لائبریرین
334
ویلیس ”اجی روپیہ کی طرف ذرا تردد مت کرو میرے پاس بہت سا روپیہ موجود ہے اور اس میں سے جس قدر چاہو تمہارا مال ہے۔“
لیونارڈ (شرما کر) ”ویلیس میں تمہاری عنایت کے بوجھ کے تلے پہلے ہی کیا تھوڑا دبا ہوا ہوں؟
میں نہایت محجوب ہوں کہ مجھے تمہاری فیاضی سے مزید استفادہ کی ضرورت ہے۔“
ویلیس ”یہ الٹا مجھے تم کانٹوں میں گھسیٹتے ہو ایسی باتیں زبان پر مت لاؤ۔“
لیونارڈ ”خیر جب انسان مانگنے پر آئے تو شرم ہی کیا ویلیس اگر تم مجھے اس لعل کی ضمانت پر دو سو پاؤنڈ دے دو تو میں تمہارا اور بھی زیادہ ممنون ہوں گا۔“
الغرض ویلیس کی طرف سے بہت سے اصرار اور لیونارڈ کی جانب سے بہت سے حیل و حجت کے بعد یہ معاملہ اس طرح طے ہو گیا کہ ویلیس نے دو سو پاؤنڈ (تین ہزار روپیہ) لیونارڈ کو دیے اور لیونارڈ نے اس روپیہ کے بدلے لعل ویلیس کو دیا۔ مگر نصف ساعت نہ گزرنے پائی تھی کہ ویلیس نے لعل جوانا کو یہ کہہ کر واپس دے دیا کہ ”میری طرف سے آپ اسے قبول فرمائیں۔“
دو دن تیاریوں میں گزرے اور تیسرے دن ایک قاصد شہر سے یہ خبر لایا کہ جہاز آ گیا ہے۔
اسی رات کو لیونارڈ جوانا اور آٹر ویلیس کے ہمراہ جہاز پر سوار ہو کر عازم لندن ہوئے.
 

لاريب اخلاص

لائبریرین
335
خاتمہ
شکر کہ حجازہ بمنزل رسید زرورق اندیشہ بہ ساحل رسید

چھ ہفتے کے قریب گزر چکے تھے کہ شہر لندن کے گوشہ مشرقی میں البرٹ کورٹ (2) کے دروازہ کے سامنے ایک کرایہ کی چار پہیہ والی گاڑی آ ٹھہری۔ شہر کے جن جن لوگوں اس گاڑی کو دیکھا وہ تعجب کرنے لگے کیوں کہ اس کے آگے کوچبان کے برابر ایک عجیب الخلقت آدمی یک رنگ سوٹ پہنے اور سر پر ایک خاکی ٹوپی اوڑھے بیٹھا تھا جس کے سیاہ چہرہ پستہ قد لٹو دار ناک اور چوڑے کندھوں کو دیکھ کر بے اختیار ہنسی آتی تھی۔“
گاڑی کے کھڑے ہوتے ہی آٹر کوچ بکس پر سے بندر کی طرح نیچے کود پڑا اور گلی کے جتنے لڑکے تھے وہ یہ سمجھ کر کہ یہ کوئی افریقہ کا جنگلی جانور ہے خوفزدہ ہو کر ادھر ادھر بھاگ گئے۔
پھر لیونارڈ اور جوانا گاڑی سے اترے سمندر کا سفر ان کے لیے بہت مفید ثابت ہوا تھا اور ان کا رنگ روغن خوب نکل آیا تھا۔
دفتر کے باہر کے کمرے میں داخل ہو کر لیونارڈ نے ایک مقطع صورت شخص سے جو دفتر کا کوئی منشی معلوم ہوتا تھا پوچھا ”کیا مسٹر ٹامس اور مسٹر ٹرنر کا دفتر یہی ہے؟“
منشی ”جی ہاں مسٹر ٹرنر اندر تشریف رکھتے ہیں۔“
لیونارڈ ”اپ ذرا اتنی تکلیف کیجیے کہ مسٹر ٹرنر کو میری اطلاع کر دیں۔“
منشی (جو آٹر کی طرف گھور گھور کر دیکھ رہا تھا) ”واہ جناب اس میں کیا تکلیف ہے۔میں ابھی جا کر ان سے آپ کی اطلاع کیے دیتا ہوں۔“
لیونارڈ ”ذرا ٹھہریے آپ ان سے یہ کہیے کہ میں ان سے ایک اشتہار کے متعلق جو انہوں نے چند ماہ گزرے اخبار ”ٹائمس آف لندن” میں دیا تھا گفتگو کرنی چاہتا ہوں۔“
منشی نے جواب میں ”بہت خوب” کہا اور ایک دروازہ میں سے ہو کر اندر چلا گیا تھوڑی دیر کے بعد وہ واپس آیا اور بولا ”جناب مسٹر ٹرنر کہتے ہیں کہ آپ مہربانی کرکے اندر آئیں۔“
 

لاريب اخلاص

لائبریرین
336
لیونارڈ کے اشارہ پر بونا ایک تہائی پر جو دروازہ کے قریب رکھی ہوئی تھی بیٹھ گیا اور لیونارڈ اور جوانا مسٹر ٹرنر کے کمرے میں داخل ہوئے مسٹر ٹرنر نے کہا ” آئیے جناب تشریف رکھیے۔ لیونارڈ اور جوانا دو کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ پھر لیونارڈ نے جیب میں سے ہفتہ وار ”ٹائمس“ کا ایک پرچہ نکال کر کہا۔ ”کیا یہ اشتہار آپ نے دیا تھا؟“
مسٹر ٹرنر جس کا پیشہ وکالت تھا اور جو ٹامس اور ٹرنر کی وکالتی کوٹھی کا ایک حصہ دار تھا جوا دیا ”جی ہوں ہم ہی نے دیا تھا۔ کیا مسٹر لیونارڈ اوٹرم کے متعلق آپ کوئی خبر لائے ہیں۔“
لیونارڈ ”جی ہاں وہ شخص میں ہی ہوں اور یہ خاتون میری بی بی ہے۔“
وکیل نے اپنا سر مؤدبانہ جھکایا اور کہنے لگا ”یہ تو بڑی خوش قسمتی کی بات ہے۔ ہمیں تو آپ کی طرف سے بالکل مایوسی ہو چلی تھی مگر غالباً آپ اپنی تشخیص کا ثبوت پیش کر سکتے ہیں۔“
لیونارڈ ”میں خاطر خواہ ثبوت پیش کروں گا۔ فی الحال آپ اس امر کو فرض کر لیں کہ میں وہی شخص ہوں جس کے ہونے کا میں دعویٰ کرتا ہوں اور آپ مہربانی کرکے مجھے یہ بتائیں کہ یہ اشتہار کس بات کے متعلق ہے۔“
وکیل ” مجھ کو اس میں کوئی عذر نہیں۔ سنیے۔ آپ جانتے ہی ہوں گے کی سر ٹامس اوٹرم بیرونٹ جس کا حال میں انتقال ہوا۔ دو بیٹے چھوڑ مرے ٹامس اور لیونارڈ-چھوٹا بیٹا لیونارڈ ایک لیڈی سے منسوب ہے تھا یا یوں کہنا چاہیے کہ اس سے اس کو عشق تھا۔ مجھ کو یاد نہیں کہ اس لیڈی کا شادی سے پہلے کیا نام تھا شاید آپ مجھ کو بتا سکیں۔“
لیونارڈ “کیا آپ کی مراد مس جین بیچ سے ہے؟“
وکیل “جی ہاں معاف کیجیے گا جب سر ٹامس کی وفات کے بعد ان کے خانگی معاملات بگڑ گئے تو مسٹر لیونارڈ آٹرم اور ان کے بڑے بھائی ٹامس جنوبی افریقہ کی طرف نکل گئے۔ اسی سال مس جین بیچ کی شادی ہمارے ایک موکل مسٹر کوہن کے ساتھ ہو گئی جس کے باپ نے آٹرم کی جائداد کو جس کا دیوالیہ نکل گیا تھا اس کے۔۔۔(غیر واضح لفظ) سے خرید لیا تھا۔“
لیونارڈو - “ہاں“
وکیل “تھوڑے دن بعد سر جمیں کوہن کا انتقال ہو گیا اور اس کا بیٹا مسٹر جونس کوہن جو اب سر جونس
 

لاريب اخلاص

لائبریرین
337
کوہن تھا اپنے باپ کی جائداد کا مالک بنا۔ دو سال ہوئے کہ وہ بھی مر گیا اور اپنی تمام جائداد منقولہ و غیر منقولہ اپنی اکلوتی بیٹی جین کے نام لکھ گیا۔ لیکن اس وصیت میں یہ شرط تھی کہ جین کی وفات پا جانے کی صورت میں جائداد کا انتقال بلا مشارکت احدی کلیتہً اس کی بیوہ کے نام ہو جائے جس کو پورا اختیار تھا کہ جس طرح چاہے جائداد کو استعمال میں لائے۔ ابھی اس کی وفات کو ایک ماہ بھی نہیں گزرا تھا کہ اس کی بیٹی بھی مر گئی اور بیٹی کے نو مہینے کے بعد اس کی ماں جین بیچ بھی چل دی۔“
لیونارڈ (اپنے چھرہ پر ہاتھ رکھ کر_________افسردگی کے لہجہ میں) ”جی ہاں آپ آگے چلیے “
وکیل “لیڈی کوہن نے اپنے وصیت نامہ میں لکھ دیا کہ اوٹرم ہال اور جائداد: غیر منقولہ متعلقہ اوٹرم ہال اور نیز جائداد منقولہ مشتمل ۔۔۔(غیر واضح لفظ) نقد کا بہت سا حصہ جو قریب ایک لاکھ پاؤنڈ (پندرہ لاکھ روپیہ) کے ہوتا ہے اس کے قدیم دوست لیونارڈ اوٹرم کو اور اس کے بعد اس کے ورثا کو ملے اور اگر کہیں لیونارڈ اوٹرم کا سراغ نہ ملے تو پھر جائداد مذکورہ اس کے بھائی کو دی جانے۔اس وصیت نامہ کو سب نے تسلیم کر لیا اور کسی نے اس پر جھگڑا نہیں کیا۔ اس لیے اگر آپ لیونارڈ اوٹرم ہیں تو آپ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ کو نہ صرف اپنی آبائی جائداد پھر مل گئی بلکہ بہت سی نقدی بھی۔“
لیونارڈ مارے خوشی کے کچھ دیر تک نہ بول سکا آخرکار اس نے کہا “میں آپ کو ثبوت بہم پہنچا دوں گا کہ میں وہی لیونارڈ اوٹرم ہوں۔ میرے ثبوت بادی النظری ہوں گے۔ اس کے بعد آپ معمولی طریقہ کے مطابق میرے بیانات کی تصدیق کر کے اپنی تسلی کر سکتے ہیں۔“ یہ کہہ کر لیونارڈ نے مختلف قسم کی شہادتیں پیش کیں جن کی تفصیل کی یہاں ضرورت نہیں۔ وکیل خاموش سنتا رہا اور کبھی کبھی کاغذ پر اپنی یاداشت کے لیے نوٹ لکھتا گیا۔
جب لیونارڈ کو جو کچھ کہنا تھا کہہ چکا تو وکیل بولا۔ “میرے خیال میں آپ نے کافی دلائل سے ثابت کر دیا ہے کہ آپ لیونارڈ اوٹرم ہی ہیں یا چونکہ آپ کا بڑا بھائی ٹامس اس جہان سے انتقال کر گیا ہے یوں کہنا چاہیے کہ آپ سر لیونارڈ اوٹرم ہیں۔ اس لیے مجھے آپ کو ایک خط کے دے دینے میں کوئی عذر نہیں جو مجھ کو لیڈی کوہن متوفیہ نے وصیت نامہ کے ہمراہ آپ کے نام دیا تھا مگر جب آپ اس خط کو پڑھ چکیں تو تو فی الحال اس خط کو میرے پاس چھوڑ جائیں۔“
یہ کہہ کر وہ خزانہ کے۔۔۔(غیر واضح لفظ) صندوق کی طرف جو فرش میں گڑا ہوا تھا بڑھا اور قفل کھول کر اس میں
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
صفحہ نمبر 40


تیسرا باب

سات سال کا وقفہ

"لیونارڈ۔ کیا وقت ہو گا؟"

"بھائی گیارہ بجے ہیں"

"ہیں! کیا گیارہ ابھی سے بج گئے۔ لیونارڈ میں علی الصباح تم سے رخصت ہوں گا۔ جانسن کا انتقال بھی صبح ہی کے وقت ہوا تھا اور اسکیو نے بھی طلوعِ آفتاب کے قبل وفات پائی تھی۔"

"بھائی جان خدا کے لیے ایسی باتیں نہ کیجیے اگر آپ مرنے کا ہی تصور باندھے جائیں گے تو پھر آپ نہیں بچیں گے۔

ٹامس۔ جس کے چہرہ پر مردنی چھائی ہوئی تھی اور جو مرض الموت میں مبتلا تھا یہ سن کر ہنسا۔ ہنسی کیا تھی اس کے گھرا لگنے کی آواز تھی پھر وہ کہنے لگا۔

"لیونارڈ۔ ان باتوں سے کیا فائدہ! اب بناے کچھ نہیں بنتی مجھے معلوم ہے کہ میرا دم عنقریب نکلنے والا ہے اور مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میری آتش زندگانی بجھتی جا رہی ہے۔ اس وقت میرے قواے روحانی و دماغی بالکل صحیح ہیں لیکن پھر بھی موت کا پنجہ سے میری رہائی نہیں ہو سکتی۔ اس بخار نے مجھے جھلس ڈالا ہے۔" لیونارڈ کیا میں بے ہوشی میں واہی تباہی باتیں کر رہا تھا۔

"بھائی جان ہاں کچھ کچھ"

"وہ کیا باتیں تھیں؟"

"زیادہ تر گھر کے متعلق"

گھر کے متعلق؟ "لیونارڈ۔ ہمارا کوئی گھر نہیں ہمارا گھر جو تھا وہ بک چکا ہمیں وطن چھوڑے ہوئے کس قدر عرصہ ہوا؟"

"سات سال"


صفحہ نمبر 41


سات سال؟ ہاں ٹھیک اتنا ہی عرصہ گزرا ہے کیا تمہیں یاد ہے کہ نیلام کے بعد اس جاڑے کی بات میں ہم اپنے قدیم گھر سے کس طور پر رخصت ہوئے اور ہم نے وہاں کی نیت کی تھی۔"

"بھائی جان مجھے وہ رات اور وہ ارادہ خوب یاد ہے۔"

"ذرا اس کو دہراؤ تو۔"

ہم نے یہ قسم کھائی تھی کہ ہم اپنے قدیم مکان کو ازسر نو حاصل کرنے کے لیے روپیہ جمع کریں گے اور اس کوشش میں اپنی جان تک لڑا دیں گے اور جب تک کافی روپیہ جمع نہ کر لیں گے اس وقت تک انگلستان واپس نہ جائیں گے۔ اس کے بعد ہم جہاز میں سوار ہو کر افریقہ کی جانب روانہ ہوئے سات سال سے سوائے اس کے کہ بمشکل اپنے لیے معاش حاصل کریں اور ہم نے کچھ پیدا نہیں کیا دو لاکھ پونڈ تو کجا!"

"لیونارڈً!"

"ہاں بھائی جان"

"جو قسم ہم نے کھائی تھی اُس کے پورا کرنے والے اب تم رہ گئے ہو میں نے تو اپنی بساط کے موافق کوشش کی اور اسی کوشش میں اپنی جان دے دی اب تم بھی اس جستجو میں محو ہو جاؤ اور یا تو گوہرِ مقصود کو ہاتھ میں لاؤ یا جان دے دو۔ کوشش کی کمند میں نے لگائی ہے اب سپہر رفعت پر جا کر تارے توڑ لانا تمہارا کام ہے۔ لیونارڈ کیا تم اس کوشش میں سرگرم رہو گے۔؟"

بھائی جان میں بھی اپنی جان اسی میں لڑا دوں گا۔"

لیونارڈ۔ اپنا ہاتھ ادھر لاؤ اور قسم پورا کرنے کا وعدہ کرو"

اس پر لیونارڈ نے اپنے گھٹنے ٹیک کر اپنے مرنے والے بھائی کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا اور کچھ دیر تک دونوں خاموش رہے۔

تھوڑی دیر کے ٹامس بولا کہ مجھے اب سونے دو میں تھک گیا ہوں مگر گھبراؤ مت میں تم سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہونے کے قبل بیدار ہوں گا۔ یہ لفظ اُس کے منہ سے نکلے ہی کہ تھے اس کی آنکھیں بند ہو گئیں اور گہری نیند نے اس پر غلبہ کر لیا۔

لیونارڈ اپنے بھائی کے بستر کے پاس ایک تپائی پر بیٹھ گیا باہر اندر ہی چل رہی تھی اور ہوا کی سائیں سائیں کی آواز چاروں طرف سے آ رہی تھی یہ چھپر اور پھونس کا جھونپڑا جو قوم کافر کے چھونپڑوں کی وضع کے مطابق بنا


صفحہ نمبر 42


میں اور جس میں یہ دونوں بھائی سات سال سے سکونت پذیر تھے ہوا کے زبردست جھونکوں سے متزلزل ہو رہا تھا اور اس کی ہر ایک سوراخ اور در زمین سے ہوا داخل ہو کر لالٹین کی روشنی کو بجھانے اور مریض کے بالوں کو اس کی پیشانی پر سے جو موت کے پسینے سے تر تھی اوڑھانے کی کوشش میں مصروف تھی۔ مینھ موسلا دھار برس رہا تھا۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد اس کی تیز بوچھاڑ جھونپڑی پر پڑتی تھی جس سے پھونس کی چھت ٹپک رہی تھی اور فرش پر بہت سا پانی جمع ہو گیا تھا۔ لیونارڈ اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل رینگتا ہوا جھونپڑی کے دروازہ یا یوں کہیے کہ اۃس تنگ محراب دار سوراخ تک جو دروازہ کا کام دیتا تھا پہنچا۔ جس تختہ سے یہ سوراخ بند تھا اُسے اٹھا کر اس نے باہر نظر دوڑائی۔ اُن کی جھونپڑی ایک بڑے پہاڑ کی دامن میں واقع تھی۔ پہاڑ کے نیچے گھنی جھاڑیوں کا ایک سمندر تھا اور پہاڑ کے گردا گرد اور عجیب عجیب شکل کے پہاڑوں کا ایک سلسلہ حلقہ زن تھا سیاہ بادلوں کی نقاب چاند پر پڑی ہوئی تھی لیکن تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد جب نقاب اُس کے چہرہ پر اُٹھ جاتی تھی تو ایک مہیب اور عظیم الشان منظر کی تصویر آنکھوں میں پھر جاتی تھی تھوڑی دیر کے بعد لیونارڈ دروازہ کو بند کر کے واپس آیا اور اپنے بھائی کے چہرہ کو غور سے دیکھنے لگا۔ سالہا سال کی محنت اور عسرت نے ٹامس اور ٹرم کے چہرہ کی ۔۔۔۔۔ حسن کو زائل نہیں کیا تھا۔ اور نہ اُس کی پاکیزگی کو مٹا سکی تھی۔ مگر موت کا نقش اُس کے چہرے پر نمودار تھا۔

لیونارڈ۔ نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور پھر اُسے جو کچھ خیال آیا تو اُس نے ایک چھوٹا سا آئینہ بقچہ میں سے نکالا۔ اس آئینہ کو لالٹین کے سامنے رکھ کر اُس نے اپنی صورت دیکھی آئینہ کی سطح پر جس شکل کا عکس پڑا وہ ایک ایسے شخص کی شکل کا عکس تھا جو خوش شکل تھا جس کی داڑھی گھنی تھی جس کا رنگ ملیح تھا جس کی آنکھوں میں خوف اور خطرہ کو جستجو کرنے والی تیزی اور چمک تھی جس کے بال گھونگر والے تھے اور جس کا سینہ چوڑا تھا قد زیادہ لمبا نہ تھا مگر اعضا کی بناوٹ اور بدن کی ہر ایک حرکت جسمانی طاقت پر دلالت کرتی تھی۔ اگرچہ لیونارڈ ابھی نو عمر تھا لیکن جوانی کی ترنگ اُس میں بالکل نہ رہی تھی۔ محنت اور جفا کشی نے اس پر ایک نہ مٹ سکنے والا اثر ڈالا تھا اور امتداد زمانہ نے جس طرح اۃس کے جسم کو قوی اور سخت کر دیا تھا اُسی طرح اُس کے دل کو بھی سن رسیدہ اور سخت بنا دیا تھا۔ خط و خال اچھے تھے لیکن اکثر لوگ اُس کی سیاہ آنکھوں میں بجائے اُس عداوت اور نفرت کی چک کے جن سے وہ ہر وقت روشن رہتی تھیں درستی اور خلوص کے لوز کو زیادہ ترجیح دیتے۔ لیونارڈ کے مذہب میں دشمن سے سلوک جائز نہ تھا اور جب عداوت پر آتا تھا تو دشمن کا مشکل سے پیچھا چھوڑتا تھا۔ دنیا کے نشیب و فراز کی اس نے اس قدر ٹھوکریں کھائی تھیں کہ بعض دفعہ اُن شخصوں کو بھی اپنا دشمن کو بھی اپنا دشمن تصور کرتا تھا جو دراصل اُس کے دشمن نہ تھی
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
صفحہ نمبر 43


چنانچہ اس وقت بھی لیونارڈ کے دل میں بھی خیال سمایا ہوا تھا۔ آئینہ کو نہایت احتیاط سے بقچہ میں رکھ کر اس نے اپنے دل سے یہ باتیں کرنی شروع کیں۔

"ہائے اب کیا ہو گا میرا بھائی مر رہا ہے دنیا میں ایک ہی شخص تھا جس سے مجھے محبت تھی اور وہ بھی مجھ سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوتا ہے شاید ایک اور بھی ہے جس کی میرے دل میں چاہ ہے لیکن میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ چاہ اب تک میرے دل میں موجود ہے یا نہیں۔ زمانہ ہم سے پھر گیا ہے نہیں نہیں! ہم سے کیوں۔ مجھ سے کیونکہ میں بھائی کو اب اپنا شریک کیسے بنا سکتا ہوں۔ ہر ایک شئے میری دشمن ہے۔ ہمارا باپ میرا پہلا دشمن تھا۔ وہ عالم ہستی میں ہمیں لایا لیکن ہماری نگہداشت اُس نے کی ۔ ہمارے ترکہ کو اُس نے برباد کر ڈالا اور ہمارے نام کو بدنام کیا اور پھر گولی کھا کر مر گیا۔ اور اُس کے بعد سے انسانی اور قدرتی طاقتیں برابر مجھ پر حملہ کرتی رہی ہیں یہ چٹانیں بھی جنہیں میں سونے کی تلاش میں کھودتا ہوں۔ میرے دشمن ہیں (یہ کہہ کر اُس نے اپنے ہاتھوں پر نظر ڈالی جن پر محنت کے نشان اور داغ پڑے ہوئے تھے) اور یہ بخار اور دوسرا دشمن ہے۔ دوست اگر ہے تو موت ہے مگر مجھ سے وہ حق دوستی ادا نہیں کرتی۔ میرے بھائی کو جو مجھے جان سے پیارا ہے وہ اور دن کی طرح لیے جاتی ہے مگر مجھے چھوڑے جاتی ہے"

لیونارڈ تپائی پر بیٹھا ہوا کہنی کو گھنٹوں پر ٹیکے ہوئے اس سوچ میں پڑا تھا آندھی ابھی موجود تھی کبھی بند ہو جاتی تھی اور کبھی پھر زور پکڑتی تھی بیمار کے سرہانے بیٹھے ہوئے اُسے ایک گھنٹہ ہوا اور پھر دو گھنٹے اسی طرح پر گزر گئے۔ آخرکار ٹام او ٹرم نے اپنی آنکھیں کھولیں اور لیونارڈ کی طرف دیکھا۔ تھوڑی دیر تک وہ اسی طرح ٹکٹکی جمائے لیونارڈ کے چہرہ کو دیکھتا رہا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس کے چہرہ کے صفحہ پر سے ایسے حروف پڑھ رہا تھا جسے انسانی آنکھیں مطالعہ نہیں کر سکتیں۔ مرنے والے کے لیے لیونارڈ کا چہرہ ایک کھلی کتاب تھا جسے بخوبی پڑھ رہا تھا تھوڑی دیر تک یہ عجیب فوق العادت نگاہ جو چھپے اسرار کو دریافت کرنے والی معلوم ہوتی تھی اُس کی آنکھوں میں رہی۔ لیکن اُس کے بعد پھر ان کی معمولی حالت ہو گئی ٹام کے ہونٹوں کو جنبش ہوئئی اور آہستہ سے ۔۔۔۔۔ آواز آئی کہ پانی۔"

لیونارڈ نے اسے پانی پینے کو دیا۔ اور ایک ہاتھ سے پیالہ اُس کے لبوں سے لگا دیا اور دوسرے ہاتھ سے اُس کا سر سنبھالے رہا ٹام نے دو دفعہ ایک گھونت پانی پینے کی کوشش کی اور پھر پیالے کو ہاتھ مار کر پانی نیچے گرا دیا اور کہا۔ "لیونارڈ تم کامیاب ہو جاؤ گے۔"


صفحہ نمبر 44


"بھائی جان کیسے میں کامیاب ہو جاؤں گا؟"

"تمہیں روپیہ ملے گا اور اوٹرم تمہارے ہاتھ لگ جائے گا اور تم اپنے خاندان کی نئے سرے سے بنا ڈالو گے لیکن تم اکیلے اس کام کو نہیں کرو گے ایک عورت تمہیں مدد دے گی۔"

اس کے بعد وہ کچھ بہکی بہکی باتیں کرنے لگا اور بولا "جین کیسی ہے کیا جین کی کوئی خبر تم نے سنی ہے؟

"لیونارڈ۔" بھائی جان میں نے سالہا سال سے جین کی کوئی خبر نہیں سنی غالباً یا تو وہ مر گئی ہے اور یا اُس نے کسی سے شادی کر لی ہے لیکن میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا۔"

اس پر ٹام نے دفعتہً ہشیار ہو کر جواب دیا لیونارڈ باتوں میں وقت مت ضائع کرو'۔ میری بات سنو'۔ میرا دم عنقریب نکلا چاہتا ہے۔ تم جانتے ہو کہ مرنے والے لوگ بعض دفعہ دور کی باتوں کو دیکھا کرتے ہیں۔ جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے کہ اُسے سمجھ لو کہ یا تو میں نے خواب کے عالم میں دیکھا یا تمہارے قیافہ سے پہچانا۔ میں تم سے کہے دیتا ہوں کہ تم اوٹرم میں مرو گے۔ میں جب مر چکوں تو تم یہاں کچھ عرصہ کے لیے ٹھہرو۔" کہ کہہ کر وہ فرطِ ضعف سے بستر پر لیٹ گیا اور آنکھیں بند کر لیں۔"

"اب اُس کی جان نکل رہی تھی نا ممکن تھا کہ اس تبدیلی کو جو خون کی آخری مرتبہ تیزی سے رگوں میں دوڑنے اور اُس کے بعد مردنی کی زردی چھا جانے اور سانس کے رک رک کر آنے اور پھر بتدریج خاموشی میں منتقل ہو جانے کی علامات پر مشتمل تھی غلط طور پر تعبیر کیا جائے اسی طرح پر گذشتہ شب کو دن کا انتقال ہوا تھا۔ پہلے تو آسمان کی رنگت زرد ارغوانی ہو گئی تھی اس کے بعد ہوا کی سانس رک رک کر آنے لگی اور پھر خاکستری رنگت چھا کر خاموشی پر خاتمہ ہوا تھا۔

"رات بھر طوفان رہا ہوا کے تھپیڑے جھونپڑی پر اس طرح پڑتے تھے جس طرح لوہار کے ہتھوڑے کی ضرب سندان پر۔ لیکن آخرکار صبح کے قریب طوفان تھمنے لگا بادل سب غائب ہو گئے اور ہوا کا آخری جھونکا جہاں سے آیا تھا وہیں چلا گیا اور سامنے کو مشرقی افق پر صبح صادق کا نور جلوہ افگن ہوا۔"

لیونارڈ کے سر پر کوئی چیز زور سے گری اور اس زور سے گرمی کہ خون جاری ہو کر اس کے چہرہ پر بہنے لگا۔ لیکن اس نے اس کی کچھ پروا نہ کی۔ خون کا بہنا اُسے محسوس تک نہیں ہوا وہ اس وقت اپنے بھائی سے بغل گیر ہونے میں محو تھا اور سالہا سال کے بعد اُس نے پہلی مرتبہ اپنے بھائی کی پیشانی پر بوسہ دیا جو خون سے آلودہ ہو گیا۔

مرنے والے نے اوپر کو نگاہ اُٹھائی اور آفتاب کی نورانی شعاعوں کو جو مشرق میں پھیلی ہوئی تھیں دیکھا۔ آفتاب کا نور اول پہاڑ کے دامن پر چھا گیا اور پھر قلہ ہائے کوہ کو اُس نے منور کیا۔ ہر ایک چوٹی ایک نورانی ستون نظر



صفحہ نمبر 45


آتی تھی اور آسمان سے لے کر زمین تک نور ہی نور پھیلا تھا۔ بادل میں البتہ آفتاب کی روشنی تھوڑی دیر کے لیے ٹھہری مگر وہ اُس کی تاب نہ لا سکے اور وہ زمین کی طرف جھپٹی جنگل کے درختوں نے اُس کے استقبال کے لیے سر اُٹھایا۔ اور سمندر کی سطح اُس کی چمک سے جگمگانے لگی۔

ٹامس اوٹرم نے اس نور کے عالم کو دیکھا اور لڑکھڑاتے ہوئے اُٹھ کر اُس نے نکلتے ہوئے سورج کی طرف اپنے ہاتھ پھیلائے اور اُس کے ہونٹوں کو کچھ جنبش ہوئی۔

تب وہ لیونارڈ کی آغوش میں گر پڑا اور ساتھ ہی اُس کا طائر روح پرواز کر گیا۔


صفحہ نمبر 46


چوتھا باب

آخری رت جگا

کچھ دیر تک لیونارڈ اپنے بھائی کی میّت کے پاس بیٹھا رہا دن اب پورا نکل آیا۔ جھونپڑی کی تاریکی روشنی سے مبدل ہو گئی اور قرص خورشید پہاڑوں کی چوٹی پر نظر آنے لگا۔

طوفان بالکل جا چکا تھا مطلع صاف تھا کیڑوں کی آواز چاروں طرف سے آنے لگی چھپلکیاں اور گرگٹ چٹانوں کی درزوں میں سے نکل کر اِدھر اُدھر دوڑنے لگے اور دامنِ کوہ میں سوسن کے پھول جن کے دل غبار کو رات کے مینہ نے دھو ڈالا تھا کھلے ہوئے نظر آنے لگے۔ لیونارڈ ابھی تک اپنے بھائی کی نعش کے سرہانے بیٹھا تھا اور اُس کی آنکھیں رنج اور درد اور شب بیداری سے پتھرا گئی تھیں آخرکار وہ اُٹھا اور اپنی بساط کے موافق تجہیز و تکفین کی تیاری میں مصروف ہوا۔ لاش کی کھلی آنکھوں کو اُس نے بند کیا۔ گھاس کے ایک بند سے ٹھوڑی کو باندھ دیا اور مشقت آلودہ ہاتھوں کو جنہیں بیماری نے سکھا دیا تھا خاموش دل کے اوپر آڑا جوڑ دیا۔

جب یہ ہولناک کام ختم ہو چکا اور وہ سستانے کو دم بھر کے لیے رُکا تو دفعتاً ایک خیال اُس کے دل میں گذرا اور وہ بآواز بلند پکارا "ان کافروں کو کیا ہوا کیسے مجہول ہیں انہیں ایک گھنٹہ پیشتر سے بیدار ہونا چاہیے تھا۔ آٹر! آٹر! آٹرہوت!"

آٹر آٹر کی صدا پہاڑون سے گونج کر واپس آئی لیکن کسی نے جواب نہ دیا۔ لیونارڈ نے پھر زور سے پکارا مگر جواب ندارد۔ اس پر وہ کہنے لگا کہ "میں لاش کو اکیلا چھوڑ کر تو نہیں جا سکتا مگر یہ بھی ضرور ہے کہ جا کر دیکھوں تو سہی کہ ماجرا کیا ہے۔" یہ کہہ کر اُس نے لاش کو ایک سرخ کمبل سے ڈھانک دیا تاکہ گِدھوں اور کرگسوں سے محفوظ رہے اور پھر جلد اٹھتی ہوئی چٹانوں کی طرف جو اُس سطح مرتفع کے کنارہ تھیں جہاں پر کہ جھونپڑی واقع تھی دوڑا ان چٹانوں کے پیچھے کوئی پچاس قدم کے فاصلہ پر پہاڑ کے بیچ میں ایک چھوٹا سا غار تھا اسی غار میں چار کافر جو لیونارڈ اوٹرم کے ملازم تھے سویا کرتے تھے اور اُن کا قاعدہ تھا کہ اس غار کے منہ کے سامنے وہ اپنا کھانا پکانے کے لیے آگ جلاتے تھے مگر اس صبح کو کوئی آگ نہیں جل رہی تھی اور نہ کوئی کافر نظر آتا تھا۔


صفحہ نمبر 47


لیونارڈ تیز قدم بڑھاتا ہوا غار کی طرف آیا اور بولا دیکھو ابھی تک یہ بدمعاش سو رہے ہیں۔ تھوڑی دیر میں وہ غار کے اندر آ ٹراٹر پکارتا ہوا داخل ہوا اور ایک زمین پر لیٹے ہوئے جسم پر جو آُسے نظر آیا زور سے لات ماری نہایت تعجب ہے کہ یہ جسم بالکل نہیں ہلا کیونکہ لیونارڈ نے ایسے زور سے لات ماری تھی کہ سست سے سست حبشی بھی اپنی گہری سے گہری نیند سے جاگ اُٹھتا لیونارڈ نے نیچے جھک کر اسے دیکھا اور دیکھنے کے ساتھ ہی گھبرا کے پیچھے کو ہٹا اور چلایا۔ "بار خدایا یہ کیا معاملہ ہے یہ تو چیٹ ہے اور مرا پڑا ہے"

اس وقت ایک بھاری آواز غار کے ایک کونے سے آئی یہ آواز آٹرکی تھی جو زبان ڈچ میں بولا۔

"میاں میں یہاں ہوں لیکن میرے ہاتھ پاؤں بند ہیں آپ مجھے آ کر کھولیے کیونکہ میں خود حرکت نہیں کر سکتا۔"

لیونارڈ نے آگے بڑھ کر ایک دیا سلائی جلائی اور اُس کی روشنی میں دیکھا کہ آٹر زمین پر اوندھا پڑا ہوا اور اُس کے بازو اور ٹانگیں سلّو کے تسموں سے مضبوط بند ہیں اور اُس کا چہرہ اور بدن مارے زخموں کے چور ہو رہا ہے لیونارڈ نے اپنا شکاری چاقو نکال کر تسموں کو کاٹا اور اُسے غار میں سے اُلٹا کر باہر لایا۔

آٹردوغلی نسل کا کافر تھا۔ ٹام اور لیونارڈ نے اُسے بہو کون مرتا اور آوارہ پھرنا پا کر نوکر رکھ لیا تھا اور اس نے چند سال نہایت وفاداری سے ان کی خدمت کی تھی انہوں نے اُس کا نام آٹرا (دریائی بچھڑا) رکھا کیونکہ اُس ککا دیسی نام قابلِ تلفظ نہ تھا اور آٹرا اُس کا نام اس لیے رکھا کہ تیرنے کے فن میں اس کو کمال تھا اور جس جانور کے نام پر اُس کا نام رکھا تھا یہ اُس سے تیرنے میں کچھ کم نہ تھا۔

اس شخص کا چہرہ ڈراؤنا تھا لیکن اس کی بدصورتی ایسی نہ تھی کہ دیکھ کر نفرت پیدا ہو۔ اٗس کی ناک غیر معمولی طور پر چپٹی اور بڑی تھی۔ بدن اُس کا نہایت ہی غیر متناسب تھا دراصل آٹر بونا تھا۔ قد اٗس کا چار فیٹ سے بمشکل زیادہ ہو گا لیکن اُس کے طول میں جو کمی تھی اُس کی تلافی عرض نے کر دی تھی۔ معلوم ایسا ہوتا تھا کہ گویا قدرت کا اول یہ منشا تھا کہ اُس کے ایک طویل القامت شخص بنائے لیکن پھر اس کو چو کھونٹا کر کے موجودہ ہیئت میں رہنے دیا اُس کا سینہ جو معمول سے زیادہ چوڑا تھا اس بات پر دلالت کرتا تھا کہ اُس کی طاقت معمولی انسانوں سے بدرجہا زیادہ ہے اور اُس کے لمبے آہنیں بازو اور ٹھوس سر سے اس خیال کی تائید ہوتی تھی۔ لیکن آٹر کی شکل و شباہت کے عیوب کو جس خوبی نے لیونارڈ نے بھی زبان ڈچ میں اُس سے پوچھا "آٹر کیا ہوا"


صفحہ نمبر 48


آٹر۔ میاں اُن تین حرام زادے حبشیوں نے جو آپ کے نوکر تھے رات کو بھاگ جانے کا قصد کیا۔ مجھے انہوں نے اس بات کی اطلاع نہیں دی اور وہ ایسے مکار تھے کہ باوجود یہ کہ میں ان کی حرکات و سکنات اور ان کے خیالات تک کی نگہبانی کرتا تھا لیکن میرے دل میں یہ گمان تک نہ گذرا کہ اُن کی یہ نیت ہے وہ بھی مجھے خوب جانتے تھے اور اگر مجھ کو ذرا بھی معلوم ہوتا تو میں اُن سب کی چمڑی ادھیڑ ڈالتا۔ غرضکہ وہ موقع دیکھتے رہے اور جب میں سو گیا تو اُن میں سے تین نے آ کر میرے ہاتھ پاؤں جکڑ ڈالے تاکہ میں اُن کا مزاحم نہ ہو سکوں اور وہ ٹام کی صندوق جو آپ نے مجھے دی تھی اور چیزیں لے کر چلتے بنے۔"

جب وہ کتّے حبشی مجھے باندھ چکے تو اُنہوں نے مجھے چھیڑنا اور طعنے دینے شروع کیے اور گالیاں دے کر مجھ سے کہا۔ "ابے گدھے تو اُن گوروں کے ساتھ جو تیرے مالک ہیں رہ کر فاقے کھینچا کر جیسا تو احمق ہے ویسے ہی یہ گورے بھی احمق ہیں کہ پہلے لوہے کی خاطر پہاڑ کھودا کرتے ہیں مگر ملتا کچھ نہیں۔"

تب انہوں نے جتنی چیزیں لے جانے کے قابل تھیں سب جمع کر لیں یہاں تک کہ کیتلی تک نہ چھوڑی ار ان سب چیزوں کا پشتارہ باندھ کر چلنے کو تیار ہوئے اور ہر ایک نے آ کر میرے منہ پر ایک چانٹا رسید کیا اور ایک نے یہاں ناک مجھے جلتے لوہے سے داغ دیا۔

میں نے اس عذاب کو بغیر اف کیے اول سے آخر تک برداشت کیا لیکن جب چیٹ نے ٹام کی میان کی بندوق آٹھا لی اور باقی کے لوگ مجھے چٹان کے ساتھ تسمہ سے باندھنے کے لیے میری طرف بڑھے تو مجھ سے رہا نہ گیا میں نے ایک نعرہ مارا اور چیٹ پر جو بندوق ہاتھ میں لیے کھڑا تھا حملہ آور ہوا وہ یہ بھول گئے تھے کہ میرے بازو اگرچہ لوہے کہ ہیں لیکن میرا سر فولاد کا ہے میں نے جھپٹ کر مینڈھے کی طرح چیٹ کے سینہ پر ایک ٹکر جو رسید کی تو اُس کی پشت چٹان سے مل گئی صرف ایک آواز تو اِس کے منہ سے نکلی مگر پھر وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ ادھر سر کی ٹکر نے اُس کی پسلیوں کا کچومر نکال دیا اور اُدھر چٹان کی روک نے اُس کی پشت کو پاش پاش کر ڈالا۔ اُس پر باقی کے دونوں حبشیوں نے مجھے چھریوں سے مارنا شروع کیا اور کئی ہاتھ زور زور سے لگائے میرے ہاتھ بندھے تھے اور میں اپنا بچاؤ نہیں کر سکتا تھا۔ مجھےمعلوم تھا کہ یہ لوگ مجھے جان سے مار ڈالیں گے اس لیے میں ایک بچاؤ کے لیے درد سے کراہتا ہوا زمین پر گر پڑا اور اپنے آپ کو جان کر بے ہوش بنا لیا۔ میری یہ گھات ایسی چلی کہ آخرکار مجھے مردہ تصور کر کے وہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے کیونکہ اُنہیں ڈر تھا کہ کہیں آپ بندوق لے کر نہ آ پہنچیں۔ اُنہیں آپ کا ایسا خوف تھا کہ گھبراہٹ میں وہ بندوق اور بہت سے چیزیں بھی چھوڑ کر چلے گئے۔ اس کے بعد مجھے واقع
 
آخری تدوین:

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
صفحہ نمبر 49

میں غش میں آ گیا۔ تھی تو یہ بزدلی مگر میں کیا کرتا اُن کی چھریاں اور اُن کے سلوکے تازیانے غضب کے تھے۔ میری چمڑی انہوں نے ادھیڑ ڈالی۔ بس یہ سارا قصہ ہے ٹام میان جب سنیں گے کہ میں نے اُن کی بندوق کی اس طرح حفاظت کی تو بڑے خوش ہوں گے اور کہیں گے کہ "شاباش آٹرشاباش آٹر تیرا سر تو پتھر کا ہے۔"

لیونارڈ (افسردہ دلی کی ہنسی ہنس کر) "اب اپنا دل بھی پتھر کر لو کیونکہ ٹام میان ۔۔۔۔ ہار گئے۔ پوپھٹتے ہی میرے آغوش میں اُن کا انتقال ہوا۔ بخار نے جیسا دوسرے ان کو سیون "(سرداروں) کو مار ڈالا ویسا ہی اُن کو بھی مار ڈالا۔"

آٹر نے یہ سنا اور اپنے زخمی سر کو جھکا لیا۔ کچھ دیر وہ اسی طرح سرنگوں رہا اور پھر جو اُس نے اوپر کو نگاہ کی تو لیونارڈ نے دیکھا کہ اُس کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا رہے ہیں۔ رو کر وہ اس طرح بولا " واؤ؎1 کیا ٹام میان مر گئے۔ ارے میرے باپ تم جو شیر کی طرح بہادر اور لڑکی کی طرح مسکین تھے کیا تمہارا دم نکل گیا۔ ہاں تم مر گئے میں نے اس واقعہ کو اپنے کانوں سن لیا اور اگر تمہارے بھائی لیونارڈ میان کا خیال مجھے نہ ہو تو میں بھی اپنا گلا کاٹ کر تمہارے پیچھے پیچھے چلا آؤں۔ واؤ! میرے باپ کیا تم واقعی مر گئے تم ابھی کل میرے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے۔"

لیونارڈ چلو آؤ میں اُن کی لاش کو زیادہ دیر تنہا نہیں چھوڑ سکتا یہ کہہ کر لیونارڈ روانہ ہوا اور آٹر اُس کے پیچھے پیچھے لڑکھڑاتا ہوا چلا کیونکہ زخموں کی وجہ سے وہ کمزور ہو رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں وہ لاش کے قریب پہنچے آٹر نے پاس جا کر ہاتھ اوپر کو اُٹھائے اور لاش کو سلام کر کے زبان زولو میں اس طرح پر لاش سے خطاب کیا۔

"اے میرے سردار! اے میرے باپ! جب تک تو زندہ دنیا میں موجود تھا تو ایک نیک اور بہادر آدمی تھا۔ اگرچہ تیرے مزاج میں کس قدر تیزی تھی اور تو بعض دفعہ جھگڑ بیٹھتا تھا۔ اب تو اس دنیا سے تنگ آ کر ایک عقاب کی طرح سورج کی طرف اُڑ گیا ہے اور وہاں سورج کی روشنی میں رہ کر تو اور بھی بہادر اور نیک بن جائے گا اور تجھ میں تحمل اور بردباری زیادہ آ جائے گی اور جو تجھ سے کم عقل مند ہیں ان سے تو لڑے جھگڑے کا نہیں۔

اے میرے سردار! اے میرے باپ! میں تجھے سلام کرتا ہوں جس کا نام تو آٹر رکھا تھا اس کی آرزو ہے کہ اگر بڑے مالک کے گھر میں اس کے جیسا بدصورت اور کریہہ المنظر شخص داخل ہو سکتا ہو تو وہاں پہنچ کر تیری اور "انکوسی" تیرے بھائی کی ایک دفعہ اور خدمتے کرے اور جس حبشی کتے نے تیری بندوق چُرانے کی جی میں ٹھانی تھی اب میں جانتا ہوں کہ میں نے آُسے ایک نیک ساعت میں مارا کیونکہ وہ بڑے مالک کے گھر میں تیرے قدموں کے


؎1 "واؤ" زبان زولو کا ایک حرف ندا ہے


صفحہ نمبر 50


نیچے تیرا غلام ہو کر رہے گا۔ اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں اس سے بہتر آدمی مار کر تیرے پاس پہنچتا۔ کیونکہ چیٹ (دھوکا دینے والا) وہاں بھی جا کر چیٹ ہی رہے گا۔ آفرین ہے تجھ پر اے میرے باپ آفرین ہے! الوداع اے میرے باپ الوداع! ہم پر جنہیں تجھ سے ابھی تک محبت باقی ہے تیری روح کا سایہ رہے!۔"

یہ کہہ کر آٹر وہاں سے پلٹا اور اپنے زخموں کو پانی سے دھو کر جو دال دلیا اُن کے پاس موجود تھا اُس کی تیاری میں مصروف ہوا۔ جب کھانا تیار ہو گیا تو لیونارڈ نے دوچار لقمے کھائے اور پھر دونوں مل کر لاش کو اُس چھوٹی سی غار میں جس کا اُوپر ذکر ہوا ہے سایہ کے لیے لے آئے۔ لیونارڈ کا مقصد یہ تھا کہ غروبِ آفتاب کے وقت اپنے بھائی کو دفن کرے کیونکہ اس سے زیادہ توقف نہیں کیا جا سکتا تھا آٹر چیٹ حبشی کی لاش کو باہر گھسیٹ لایا اور ایک گڑھے میں اُسے ڈال دیا۔ اور اُس کی جگہ ٹام کی لاش کو غار میں جا کر لٹا دیا اور لیونارڈ غار کی تاریکی میں اُس کے پاس بیٹھ گیا۔

دوپہر کے قریب آٹر جو اپنے روحانی اور جسمانی آلام کو نیند سے غلط کر کے اُٹھا تھا غار میں آیا اور لیونارڈ سے بولا۔ "میاں ہمارے پاس گوشت نہیں رہا۔ اگر آپ کہیں تو میں بندوق لے جا کر کسی ہرن کا شکار کر لاؤں"

لیونارڈ۔ "جاؤ لیکن سورج ڈوبنے سے پہلے لوٹ آؤ کیونکہ اُس وقت مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہو گی۔"

آٹر میان ہم قبر کہاں کھودیں گے؟"

لیونارڈ۔ "قبر پیشتر سے کھدی کھدائی موجود ہے۔ مرنے والے نے اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح سوراخ سونے کی تلاش میں کھودا تھا اسی میں ہم اُسئ گاڑ دیں گے۔ گڑھا خوب گہرا ہے اور بالکل تیار ہے۔ اب جاؤ اور غروبِ آفتاب سے کم از کم آدھ گھنٹہ پیشتر واپس آؤ۔ ذرا ٹھہرو اگر ہو سکے تو سوسم کے پھول جو دامنِ کوہ میں اُگتے ہیں ساتھ لیتے آؤ میان کو اُن سے بڑی رغبت تھی۔"

لیونارڈ۔ سلام کر کرے روانہ ہوا پہاڑی سے نیچے اُتر کر جنگل میں اُس نے شکار کی تلاش میں پھرنا شروع کیا اور اپنے جی سے یوں باتیں کرنی شروع کیں۔ "آٹر تو اگرچہ نہ مُردوں سے ڈرتا ہے نہ زندوں سے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹھنڈی غار میں بیٹھنے کی نسبت تجھے جلتی ہوئی دھوپ میں پھرنا زیادہ پسند ہے۔ بھلا آٹر بتا تو سہی کہ ٹام میان جو جیتے جی ایسے سلیم الطبع اور مسکین تھے اب مرنے کے بعد ایسے ڈراؤنے کیوں نظر آتے ہیں چیٹ ایسا خوف ناک نظر نہیں آتا تھا بلکہ زیادہ بد صورت ہو گیا تھا مگر چیٹ کو تو تو نے مارا تھا اور ٹام میان کو قضا نے مارا اور اُن پر نیستی کی مہر لگا دی ہے۔ اور اب میان لیونارڈ کیا کریں گے اُن کا بھائی تو مر گیا ہے اور حبشی
 

نور وجدان

لائبریرین
صفحہ نمبر 26
سن رہی تھی، ایک صرف وہی ایسی تھی جو اسکے کلمات کو زبان پر نَہ لائی.بلکہ نہایت گرمجوشی و بشاشت سے اٹھی اور لیونارڈ کی طرف یہ کہہ کے بڑھی: "میرے لیونارڈ، پیارے لیونارڈ!
مسٹر بیچ نے اپنی بیٹی کی طرف قہر آلود نگاہ سے دیکھا، ساتھ ایک ایسے لہجہ بین جین سے پدرانہ شفقت و دوستانہ تنبیہ ظاہر ہوتی تھی، جین کو ڈانٹا .جین اسطرح ڈر گئی گویا اک فرمان واجب الادغان نے جیسے وہ اک لمحے کو بہول گئی تھی اسے یکایک ہوشیار کردیا.تب مسٹر بیچ نے پیالے کو نیچے رکھا اور لیونارڈ کی طرف ہمدردانہ وضع و خندہ پیشانی سے بڑھا اور کہنے لگا
عزیز من! تمھارا کیا حال ہے؟ ہم کو تو امید نہ تھی تمھاری یہ حالت دیکھیں گے
لیونارڈ: (تلخی سے) دیکھتے تو آپ یہاں ایسی حالت میں مجھے ہر گز نہیں لیکن میں نے اور تھامس نے یہی سمجھا تھا کہ نیلام صرف تین دن ہوگا
مسٹر بیج: سچ ہے پہلے اشتہار کے مطابق نیلام تین روز کا تھا لیکن نیلام والے نے دیکھا کہ اس عرصہ میں نیلام ختم نہیں ہو سکتا .اوٹرم ہال جیسے قدیم مکان کا سامان لازمی طور پر کثیر المقدار ہونا چاہیے

لیونارڈ: ہاں
مسٹر بیج: یہ خوشی کا مقام ہے کہ مجموعی حالت سے تمام چیزیں بک گئیں اور خوب اچھی طرح بک گئیں اور زیادہ تر شکریہ کا مستحق جائداد کا نیا مالک ہے کہ اس نے بہت سی اشیاء خریدیں،میں نے بھی. یہ صراحی دس شیلنگ فی اونس کے حساب سے خریدی تھی. اسکے بعد تھوڑا سا سکوت ہوا اور اس اثناء میں سوائے مسٹر بیچ اور لیونارڈ کے تمام حاضرین ایک ایک کرکے کمرے سے چلے گئے
سب سے آخر جین نکلی، جب وہ پاس سے ہو کے گزری تو لیونارڈ نے دیکھا اسکی آنکھیں پرنم تھیں .
مسٹر بیج: (جین سے جب وہ دروازے میں تھے بامعنی لہجے میں) مجھے امید ہے کہ تم کھانے کی میز پر اچھا سا لباس پہن کر آؤ گی .تمہیں معلوم ہے کہ نوجوان مسٹر کوہن آنے والے ہیں .میں.چاہتا ہوں کوئی شخص ان کے استقبال کے لیے موجود ہو
جین نے اسکا صرف یہی جواب دیا کہ کمرے سے چلی گئی اور دروازے کو بند کر گئی جس میں سے صاف
 
Top