سیاسی منظر نامہ

جاسم محمد

محفلین
یہ اسلامی صدارتی نظام کا شوشہ کس نے چھوڑا ہے؟
کیا صدارتی نظام کے لیے پچ تیار کی جا رہی ہے؟
09/04/2019 عاصمہ شیرازی

صدارتی نظام کے فوائد اور پاکستان میں نظام بدلنے کی ڈرائنگ روم بحث سنجیدہ رُخ اختیار کررہی ہے۔

ایسا کبھی سوچا نہ تھا۔ ملک ناں ہوا کوئی تجربہ گاہ ہو گئی جہاں آئے روز نت نئے طریقوں سے آزمودہ ناکام نظام کے تجربات کیے جاتے ہیں۔ سیاست نا ہوئی کھیل کا میدان ہو گیا جس میں پرانے کھیل نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش لگاتار جاری ہے۔ نظام ناکام نہیں ہو رہا، نظام ناکام کرنے کی البتہ کوشش جاری ہے۔

سنہ 2016 میں مصطفیٰ کمال صاحب پاکستان آئے اور الطاف حسین سے لاتعلقی کے علاوہ جو سب سے بڑھ کر انوکھی بات لگی وہ تھی صدارتی نظام کے حق میں بھر پور دلائل۔ اس سے کچھ دن پہلے یا بعد میں سابق چیف جسٹس نے بھی اپنی جماعت تشکیل دی اور محض اتفاق کہ انھوں نے بھی صدارتی نظام کو ہی مطمح نظر قرار دیا۔

مجھ جیسے جمہوریت پسند اس وقت چونکے جب کوئی اور نہیں بلکہ ملک کے وزیراعظم نے 18ویں ترمیم کو وفاق کے دیوالیہ ہونے کی وجہ قرار دے دیا۔ وزیراعظم نے یہ بیان کہیں اور نہیں بلکہ سندھ کے دورے کے دوران داغا۔

اس سے قبل جس تواتر کے ساتھ جناب وزیراعظم جنرل ایوب خان کی خوبیاں اور اُن کے دور اقتدار کی معاشی کامیابیاں گنواتے ہیں، وہ اس بات کی غماز ہے کہ وزیراعظم صدارتی نظام کے متوالے نہیں بھی تو بھی مداح ضرور ہیں۔ یہ جانے بنا کہ صدارتی نظام کے ون یونٹ نے مملکت پاکستان کی یکجہتی کو جس قدر نقصان پہنچایا اس سے قبل اور بعد میں بھی اتنا کسی نے نقصان نہیں پہنچایا۔

محض اتفاق ہے کہ گذشتہ چند دنوں سے واٹس ایپ گروپس پر جنرل ایوب کی ایک ویڈیو کی گردش قدرے بڑھ گئی ہے جس میں وہ پارلیمانی نظام کو فقط مغرب میں ہی کامیاب قرار دیتے ہیں۔

کبھی مشرف کے دور کے اٹارنی جنرل انور منصور خان 18ویں ترمیم کے خلاف بیانات دیتے دکھائی دیتے ہیں اور کبھی مشرف کے وکیل موجودہ وزیر قانون فروغ نسیم، تو کبھی فیصل واوڈا کی زبان پھسل جاتی ہے۔

اور تو اور انصافی اداکار بھی صدارتی نظام کے حق میں ٹویٹ کرتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے روزانہ کی بنیاد پر صدارتی نظام کی حمایت سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن جاتے ہیں۔ ۔ یا خدا یہ ماجرا کیا ہے؟ ان تمام اصحاب کی کج فہمیوں پر مہر وزیراعظم کے 18ویں ترمیم پر اقوال زریں ثبت کرتے ہیں۔

یوں تو 18ویں ترمیم کا صدارتی نظام سے کوئی خاص تعلق نہیں تاہم وفاقیت اور صوبائی مختاری کا نظریہ صدارتی نظام کی ضد ضرور ہے۔ مثلاً اگر آپ بہو کو سنانا چاہیں اور بیٹی کو بُرا بھلا کہیں تو پیغام بہترین انداز میں پہنچ جاتا ہے۔

اٹھارویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ سے متعلق آرٹیکل 160 اصل معاملہ قرار دیا جا رہا ہے جس کے تحت چاروں صوبوں کو وفاق اپنے اپنے حصے کی رقم ایوارڈ کرتا ہے اور صوبے اپنے محاصل کے حقدار بھی خود ہیں۔ ظاہر ہے کہ وفاق مالی مشکلات کا شکار ہے اور وفاق کے ذخائر میں کمی اور اخراجات میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جو وزیراعظم کی نظر میں وفاق کے دیوالیہ پن کا موجب ہے۔ یعنی اٹھارویں ترمیم۔

یہ بحث شروع کیوں کی جا رہی ہے جبکہ بابائے قوم محمد علی جناح نے ایک سے زیادہ مرتبہ پاکستان میں پارلیمانی اور وفاقی نظام کی حمایت کی ہے۔ ہم صدارتی نظام کے ‘ثمرات’ ملک ٹوٹنے کی صورت بھگت چکے ہیں، کتنے تجربے اور کرنا چاہتے ہیں؟ سوائے ایک آدھی جماعت کے تمام سیاسی جماعتیں پارلیمانی، وفاقی نظام بمع صوبائی خودمختاری متفق ہیں، یہ اتحاد 18ویں ترمیم کا ہی شاخسانہ تھا۔

ملک کو فرد واحد کے اختیار میں دینے کا خواب دیکھنے والوں کو متنبہ ہونا چاہیے کہ پارلیمانی نظام کے علاوہ کوئی بھی نظام پاکستان کی وحدت اور یک جہتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ایسی دلیلیں کہ پارلیمان کی مشترکہ دانش اور عوام کو براہ راست جواب دہی کا نظام ملک کو کمزور کر رہا ہے دراصل کمزور اور لایعنی دلیل ہے۔ کسی بھی حکومت کی ناکامی کو نظام کی ناکامی سے منسوب کیا جانا درست نہیں۔

کوئی بھی نظام ناکام ہو گا اگر ملک میں قانون کی عملداری اور کارکردگی نہ ہو۔ کیا سیاسی حکومتوں کی ناقص کارکردگی ظاہر کرنے والے دراصل تاثر دینا چاہتے ہیں کہ یہ نظام ہی پرفارم نہیں کر سکتا۔ کیا صدارتی نظام کے لیے پچ تیار کی جا رہی ہے؟

حالت یہ ہے کہ بلوچستان جیسے صوبے کے ترقیاتی فنڈز کا محض 12 فی صد خرچ ہوا ہے اور بقول حکومت کے ہی اتحادی بی این پی مینگل کے ثناء اللہ بلوچ کے پہلی بار کوئی سرکار اپنے ترقیاتی بجٹ کا 85 فی صد ضائع کر دے گی۔ خیبر پختونخواہ میں بی آر ٹی پی ٹی آئی سرکار کے لیے ایک ڈراونا خواب بن چکی ہے اور پنجاب کی بیڈ گورنننس کے تو ریکارڈ بننا شروع ہو گئے ہیں۔

حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی عوام سے کترا رہے ہیں اور اتحادی چاہے ایم کیو ایم ہو یا بی این پی پی مینگل، اتحاد سے اکتائے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیراعظم نے ایم کیو ایم کو خوش کرنے کے لیے انھیں شروع سے ہی نظریاتی اتحادی قرار دے دیا۔ بی این پی مینگل اپنے چھ نکات پر ایک مرتبہ پھر حکومت کو چار ماہ کی ڈیڈ لائن دے چکی ہے۔ قلیل اکثریت اور اتحادیوں کی مرہون منت حکومت اپنے اتحادیوں کے جائز مطالبوں کو تسلیم کرنے کی بجائے 18ویں ترمیم کے خلاف بیانات دینے میں مصروف ہے۔

موجودہ حکومت کی کار کردگی خاص طور پر معاشی محاذ پر مشکلات تقاضا کرتے ہیں کہ نظام کی تبدیلی کے بجائے کارکردگی پر دھیان دیا جائے۔ سوشل میڈیا پر سرکار چلانے کی بجائے اصلاحات پر زور دیا جائے، ٹوئٹر کی دنیا سے نکل کر عوام سے ناتا جوڑا جائے۔ خدانخواستہ حکومت کی ناکامی کہیں نظام کی ناکامی نہ بن جائے۔ پاکستان نئے تجربوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
 

جاسم محمد

محفلین
مولانا فضل الرحمٰن کی نئی تحریک
11/04/2019 حامد میر


بہت سال پہلے عطاء الحق قاسمی نے مولانا فضل الرحمٰن کو اپنے ایک کالم میں ’’مولانا ڈیزل‘‘ لکھا تو سیاسی مخالفین نے اُچھل اُچھل کر، کبھی لہرا کر اور کبھی بل کھا کر ’’مولانا ڈیزل‘‘ کی اصطلاح کو طعنے کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مولانا فضل الرحمٰن کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا چیئرمین بنا رکھا تھا اور نواز شریف اس حکومت کے خلاف تحریک نجات چلانے میں مصروف تھے۔

اس تحریک نجات میں شیخ رشید احمد نے ’’مولانا ڈیزل‘‘ کے طعنے کا خوب استعمال کیا اور مسلم لیگیوں نے دل کھول کر مولانا کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکالی کیونکہ مولانا نے ماضی کے کچھ تلخ تجربات کی روشنی میں نواز شریف کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔

ڈیزل کا پروپیگنڈا اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے کچھ قریبی ساتھی بھی پریشان ہو گئے۔ ایک دن مفتی نظام الدین شامزئی صاحب نے مجھے پوچھا کہ یہ ڈیزل کا کیا چکر ہے؟ پہلے تو میں ہنس دیا پھر کہا کہ آپ مولانا کے زیادہ قریب ہیں خود ہی پوچھ لیجئے کہ ڈیزل کا کیا چکر ہے؟

یہ سن کر شامزئی صاحب نے قدرے تلخ لہجے میں کہا کہ یہ ایک گھٹیا الزام ہے، میں نے اپنے طور پر تحقیق کر لی ہے مولانا فضل الرحمٰن کا ڈیزل کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر انہوں نے بڑے مشفقانہ انداز میں کہا کہ آپ عطاء الحق قاسمی صاحب سے کیوں نہیں پوچھتے، انہوں نے یہ کیا لکھ دیا؟

قاسمی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے ایک اخبار کی خبر کا ذکر کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے ڈیزل کا پرمٹ لیا تھا۔ کس سے لیا کتنے میں لیا یہ تفصیل ان کے پاس بھی نہیں تھی لیکن مولانا نے کبھی قاسمی صاحب کے بارے میں غصے کا اظہار نہیں کیا۔

جب مفتی نظام الدین شامزئی کو کراچی میں شہید کیا گیا تو مولانا فضل الرحمٰن کو کہا گیا کہ آپ ان کے جنازے میں شرکت سے گریز کریں کیونکہ جنازہ پر بھی حملے کا خدشہ ہے۔ مولانا ہر قیمت پر جنازہ میں شریک ہونا چاہتے تھے۔ آخرکار اکرم درانی صاحب سے کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو کراچی جانے سے روکو۔

درانی صاحب نے بھی کوشش کی لیکن مولانا کراچی پہنچ گئے۔ وہاں پولیس اور رینجرز نے مولانا کو سیکورٹی دینے سے انکار کردیا تو مولانا بغیر سیکورٹی کے جنازے میں پہنچ گئے۔ مولانا فضل الرحمٰن سے کئی دفعہ مجھے بھی اختلاف ہو جاتا ہے لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ نہ تو ان کا نام اصغر خان کیس میں آئی ایس آئی سے پیسے لینے والوں میں آیا اور نہ ہی بعد میں انہوں نے آئی ایس آئی سے کبھی پیسے لئے۔

ماضی قریب میں ایک ذمہ دار شخصیت نے نجی گفتگو میں دعویٰ کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے ایک مغربی ملک سے رقم لی ہے اور اس رقم کے عوض وہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کچھ دن بعد پتہ چلا کہ اس ذمہ دار شخصیت نے مولانا کے ساتھ طویل نشست کی۔

پھر ایک وزیر صاحب نے دعویٰ کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے وزیراعظم عمران خان کو قتل کرانے کی سازش کی۔ یہ دعویٰ بہت تشویشناک تھا لہٰذا میں نے یہ تشویش مولانا کے سامنے رکھی تو انہوں نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ میں نے کبھی سیاست میں تشدد کا سہارا نہیں لیا اور ویسے بھی میں عمران خان کو شہادت کا رتبہ دینے کے لیے تیار نہیں۔

میں نے بہت معلوم کیا کہ عمران خان کے قتل کی سازش میں مولانا کا نام کیوں اور کیسے آیا لیکن کوئی تفصیل پتہ نہ چلی لیکن اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان اور مولانا فضل الرحمٰن ایک دوسرے کا ذکر اچھے الفاظ میں نہیں کرتے۔ مولانا صاحب پہلے دن سے عمران خان کی حکومت گرانا چاہتے ہیں لیکن انہیں نواز شریف نے روک دیا تھا۔ نواز شریف نے کہا تھا حکومت گرانا آسان ہے لیکن حکومت چلانا بہت مشکل ہے آپ عمران خان کو حکومت چلانے دیں، وہ خود ہی گر جائے گا۔

مولانا کا موقف تھا کہ اگر عمران خان کو ہم نے نہیں بلکہ وقت اور حالات نے گرانا ہے تو پھر ہم سیاست میں کیوں ہیں؟ مولانا صاحب عمران خان کو گرانے کی تجویز لے کر آصف علی زرداری کے پاس گئے تو انہوں نے بھی کچھ انتظار کا مشورہ دیا تھا۔ مولانا نے انہیں کہا کہ افسوس سیاستدانوں کو بار بار ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے لیکن وہ بار بار استعمال ہونے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔

مولانا کافی دنوں سے اپنی جماعتی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ انہوں نے شمالی وزیرستان اور سرگودھا میں بڑے بڑے جلسے کئے جو ٹی وی اسکرینوں پر نظر نہ آئے۔ اس دوران ایک صاحب نے انہیں پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف اپنے تعاون کی پیشکش کی تو مولانا نے مسکرا کر معذرت کر لی اور کہا کہ ’’نکّے کے ابا‘‘ سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے لاہور میں نواز شریف سے ملاقات کی تو اس ملاقات پر کچھ وزراء نے کافی تنقید کی۔ یہ ملاقات پہلے سے طے تھی۔ مولانا فضل الرحمٰن کوٹ لکھپت جیل لاہور میں یہ ملاقات کرنے والے تھے لیکن اس دوران سپریم کورٹ نے انہیں چھ ہفتے کے لئے رہا کر دیا لہٰذا یہ ملاقات جیل کے بجائے نواز شریف کے گھر پر ہوئی۔

مولانا ایک طرف نواز شریف اور آصف علی زرداری سے رابطے میں ہیں تو دوسری طرف حکومت کی اتحادی جماعت بی این پی مینگل کو بھی گلے سے لگا رکھا ہے۔ منگل کو نواز شریف سے ملاقات کر کے نکلے تو مجھے کہا کہ آپ میڈیا والے بہت جلد غیر اہم ہو جائیں گے کیونکہ ہم سوشل میڈیا پر انحصار کرنے لگے ہیں۔

الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا سے صرف مولانا فضل الرحمٰن کو نہیں اور لوگوں کو بھی شکوہ ہے حالانکہ مولانا صاحب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وطن عزیز میں ایک ٹیلی فون کال پر کسی بھی وقت کوئی بھی ٹی وی چینل بند کرا دیا جاتا ہے اور اسی لیے ’’نکّے دا ابا‘‘ شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگا ہے۔ لیکن ہم میڈیا والے ٹھہرے کمزور لوگ لہٰذا مولانا کا زور بھی صرف ہم پر چلتا ہے۔

مجھے نہیں معلوم کہ مولانا فضل الرحمٰن اپوزیشن جماعتوں کو متحد کر کے کب تک حکومت گرانے کی کوشش کریں گے لیکن یہ مجھے معلوم ہے کہ حکومت گرانا آسان اور چلانا بہت مشکل ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کی حکومت کے خلاف تحریک صرف سڑکوں پر نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی شروع ہونے والی ہے۔

مولانا صاحب کی سوشل میڈیا فورس تشکیل پا چکی ہے اور کچھ دنوں میں متحرک بھی ہو جائے گی لیکن اس فورس کو دوسری فورسز کی طرح گالم گلوچ، الزام اور دشنام سے پرہیز کرنا ہو گا ورنہ سوائے بدنامی کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔

سوشل میڈیا پر وہی زبان استعمال کی جانی چاہئے جو آپ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے سامنے استعمال کر سکتے ہیں اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو سوشل میڈیا پر آپ کی تحریک بیکار ہو گی۔ سوشل میڈیا اتنا کارگر ہوتا تو عمران خان کی حکومت پر آج گلی کوچوں میں تنقید نہ ہو رہی ہوتی سیاست کے فیصلے آئندہ بھی گلی کوچے کریں گے سوشل میڈیا نہیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ
 

جاسم محمد

محفلین
وزیراعظم کا پنجاب حکومت پر اظہار ناراضگی
ویب ڈیسک 2 گھنٹے پہلے
1629236-pmandcmmeetingx-1555067892-964-640x480.jpg

عوامی شکایات کا ازالہ نہ ہونا گڈ گورننس کے خلاف ہے، وزیراعظم فوٹوفائل

لاہور: لڑکی کے اغوا کے معاملے پر پنجاب پولیس کی جانب سے بار بار جھوٹ بولنے پر وزیراعظم نے صوبائی حکومت پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کو 14 دن میں ذمہ داروں کا تعین کرنے اور غلط رپورٹ دینے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

لاہور کی ایک خاتون نے پاکستان سٹیزن پورٹل پر اپنی بیٹی کے اغواء کی شکایت درج کرائی اور لکھا کہ پولیس اس کی بیٹی کو بازیاب نہیں کرا رہی بلکہ اس کے بیٹے اور پڑوسیوں پر تشدد بھی کیا ہے، جس پر وزیراعظم آفس کی جانب سے لاہور پولیس کو واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا گیا۔ پولیس نے وزیراعظم آفس کو دوبارہ رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ حل ہوچکا ہے جبکہ حقیقت یہ تھی کہ لڑکی بازیاب نہیں کرائی گئی۔

پولیس کا جھوٹ پکڑے جانے پر وزیراعظم آفس کی جانب سے چیف سیکریٹری پنجاب کو ایک خط لکھا گیا جس میں وزیراعظم آفس نے پنجاب حکومت کی جانب سے معاملے پر توجہ نہ دینے پرتنقید کی اورلکھا کہ عوامی شکایات کا ازالہ نہ ہونا گڈ گورننس اور فرائض کی ادائیگی کے اصولوں کے خلاف ہے۔

خط میں پنجاب حکومت کی توجہ پولیس کی جانب سے بار بار جھوٹ بولنے کی طرف بھی دلاتے ہوئے کہا گیا کہ خاتون کی شکایت کو جس طرح ہینڈل کیا گیا اس کے بعد پنجاب حکومت کے طریقہ کار پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔

وزیراعظم آفس کے خط میں پنجاب حکومت سے جواب طلبی کرتے ہوئے پوچھا گیا کہ خاتون کی جانب سے شکایت کو مکمل توجہ کیوں نہیں دی گئی؟ شکایت حل نہ ہونے کے باوجود وزیراعظم کو شکایت حل ہونے کا جواب کیوں بھجوایا گیا؟ کئی سطحوں پر معاملے کو مناسب توجہ نہیں دی گئی۔ تمام تر معاملے میں پولیس افسروں کے کردار اور سپروائزری میکانزم پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔

وزیراعظم آفس کے خط میں لکھا گیا ہے کہ اس تمام معاملے پر پنجاب حکومت اعلیٰ سطح کی تحقیقات کرائے اوراپنی ذمہ داری ادا نہ کرنے والے افسروں کا تعین کرے، وزیراعظم آفس نے پنجاب حکومت سے دو ہفتوں کے اندر پورے معاملے پر رپورٹ طلب کی ہے اور معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانےکی ہدایت کی ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
لاہور کی ایک خاتون نے پاکستان سٹیزن پورٹل پر اپنی بیٹی کے اغواء کی شکایت درج کرائی اور لکھا کہ پولیس اس کی بیٹی کو بازیاب نہیں کرا رہی بلکہ اس کے بیٹے اور پڑوسیوں پر تشدد بھی کیا ہے، جس پر وزیراعظم آفس کی جانب سے لاہور پولیس کو واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا گیا۔ پولیس نے وزیراعظم آفس کو دوبارہ رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ حل ہوچکا ہے جبکہ حقیقت یہ تھی کہ لڑکی بازیاب نہیں کرائی گئی۔
یاد ہے کسی نے کہا تھا کہ اوپر ایماندار شخص بیٹھا ہو تو نیچے سب کچھ اپنے آپ ٹھیک ہو جائے گا؟ جب گلی محلے کے لیول تک کا سارا نظام ہی کرپٹ ہو تو ایک ایماندار شخص اوپر بیٹھ کر کیا اکھاڑ لےگا؟
 

جاسم محمد

محفلین
سندھ تقسیم ہوچکا صرف اعلان ہونا باقی ہے، خالد مقبول صدیقی
ویب ڈیسک ہفتہ 13 اپريل 2019
1630401-khalidmaqbool-1555153781-217-640x480.jpg

صوبوں کے وسائل فوری طور پر نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں، خالد مقبول صدیقی فوٹو: فائل

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر اور وفاقی وزیر آئی ٹی خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ سندھ تقسیم ہوچکا صرف اعلان ہونا باقی ہے۔

کراچی میں ایم کیو ایم کے دیگر رہنما کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ کے حالات اور سندھ کی نسل پرست حکومت نے کرپشن، بدعنوانی اور تعصب کے وہ ریکارڈ قائم کردئیے ہیں جو پہلے کبھی نہیں ہوئے، نیشنلائزیشن کے نام پر محب وطن پاکستانیوں کی املاک مہاجروں سے چھین لی گئیں، اٹھارویں ترمیم میں ایم کیوایم اور عوام سے دھوکہ کیا گیا، صوبوں کے وسائل کو فوری طور پر نچلی سطح پر منتقل کرنے کی ضرورت ہے، صوبائی خودمختاری کے نام پر عام عوام کے وسائل چھین لیے گئے، کراچی بہت تیزی سے پانی مسائل اور دیگرمشکلات کا شکار ہوتا جارہا ہے، دیہی اور شہری کی تفریق اب لسانی تفریق میں تبدیل ہوچکی ہے۔

کنوینر ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ جنہوں نے ملک دولخت کیا اب وہ سندھ کو بھی تقسیم کرچکے ہیں، سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کرکے سندھ کو پہلے ہی دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا، اس شہر میں فسادات پھوٹنے کا ڈر ہے، ہمارے ساتھ جو نا انصافیاں ہوئیں اس کے لئے ہم قانونی و آئینی راستے اختیار کرتے رہے ہیں، کراچی میں تعینات کمشنر، ڈپٹی کشمنر، آئی جی، ڈی آئی جیز و دیگر افسران کا تعلق صرف اندرون سندھ یا دیگر صوبوں سے ہے، کوٹہ سسٹم کے نام پر سندھ کے شہری علاقوں میں نفرت پیدا ہو رہی ہے، وفاقی حکومت کے ذمہ داری ہے کہ صوبوں میں ہونے والی نا انصافی کےخلاف اقدامات کرے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم حادثاتی پاکستانی نہیں ہیں پاکستان ہمارا پہلا اور آخری انتخاب ہے، 10 پندرہ سال ہمیں لوٹ کر بھی سندھ کے دیہی علاقے آباد نہیں ہوسکے، آنے والے دو سال میں پانی نہیں ملا تو یہاں ایمرجنسی ہوگی، وزیر اعظم اپنے سندھ کے شہری علاقوں کے لوگوں کو ان کے اختیارات دلوائیں، آرٹیکل 149 وزیر اعظم کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ صوبائی معاملات میں مداخلت کرسکتے ہیں اور صوبائی حکومت کو احکامات بھی دے سکتے ہیں جہاں وہ ناانصافی اور کرپشن دیکھ رہے ہوں، وزیر اعظم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سندھ میں اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے مداخلت کریں کہ اس سے پہلے دیر ہو جائے۔
 

جاسم محمد

محفلین
حکومت گرانا مسائل کا حل نہیں ہمیں بھی 5سال ملنے چاہئیں، شاہ محمود قریشی
ویب ڈیسک اتوار 14 اپريل 2019

ملتان: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ حکومت گرانا مسائل کا حل نہیں لہذا ہماری حکومت کو بھی 5سال ملنے چاہئیں۔

ملتان میں میڈیا سے گفتگو میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت غیرذمہ داربیان بازی کرتا ہے، ہمیں ایسا نہیں کرنا، 19 مئی تک بھارت میں انتخابات کا سلسلہ جاری رہے گا لہذا تب تک پاکستان کومحتاط رہنے کی ضرورت ہے جب کہ مودی کے بارے میں وزیراعظم کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میری نظرمیں نیب خود مختارادارہ ہے، فیصلے کرنے میں آزاد ہے، نیب کرپشن ختم کرنے میں مدد کرے، عوام کو امید ہے نیب کرپشن فری پاکستان بنانے میں کردار ادا کرے گا جب کہ کرپشن کا تدارک تحریک انصاف کا ایجنڈا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیورو کریسی کا کام حکومت کی پالیسی پر عمل کرنا ہے، بیورو کریسی کا فرض ہے حکومت کی پالیسی کو عملی جامہ پہنائے جب کہ بیوکریسی میں بہت اچھے افسران ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پچھلے 10سال کی حکومت نے معیشت کو تباہ کیا، ملک پر قرضوں کا بوجھ بہت ہے، پچھلے 10سال میں ریکارڈ قرض لیا گیا لہذا مہنگائی کی وجہ 8ماہ کی پی ٹی آئی حکومت کو قرار نہیں دیا جاسکتا، اسحاق ڈار نے ڈالر کو اپنی پالیسی کے مطابق روکے رکھا، 2018 میں عوام نے تحریک انصاف کو منتخب کیا، ہماری حکومت کو بھی 5سال ملنے چاہئیں، 5 سال کے بعد عوام جو فیصلہ کریں گے قبول ہوگا تاہم حکومت گرانا مسائل کا حل نہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم ایران اور چائنہ کا دورہ کریں گے، ایران ہمارا دوست ملک ہے، باڈر پر حالات بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ میں طالبان اور امریکا مذاکرات ہورہے ہیں، امید ہے امریکا طالبان مذاکرات میں پیش رفت ہوگی جب کہ افغانستان میں امن اور خوشحالی چاہتے ہیں، افغان امن مذاکرات میں بطور دوست ملک شریک ہوتے ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سانحہ ہزارہ پر ہمیں دکھاوے کی باتیں نہیں کرنیں بلکہ تحقیق کرنی ہے، کوئٹہ میں معصوم لوگوں کو شہید کیا گیا، ہزارہ کمیونٹی پاکستان کا اہم حصہ ہے، جائزہ لے رہے ہیں حملے میں کون ملوث ہے۔
 
کیپٹن عارف نواز (دوبارہ آئی جی پنجاب) اور میجر اعظم سیلمان چیف سیکریٹری پنجاب کی پوسٹ پر تعینات کیے گئے ہیں۔ مجھے نہیں علم کہ ان میں کیا کیا خوبیاں ہیں البتہ دونوں ہی باجوہ صاحب کے بیج میٹ (62 لانگ کورس) ہیں۔
 

جان

محفلین
یاد ہے کسی نے کہا تھا کہ اوپر ایماندار شخص بیٹھا ہو تو نیچے سب کچھ اپنے آپ ٹھیک ہو جائے گا؟ جب گلی محلے کے لیول تک کا سارا نظام ہی کرپٹ ہو تو ایک ایماندار شخص اوپر بیٹھ کر کیا اکھاڑ لےگا؟
آپ نے اپنی یاد دہانی کے لیے لکھا ہے؟
 

جاسم محمد

محفلین
جناب کی اپنی لیکویفائیڈ پٹرولیم کمپنی Priority Group کے نام سے ہے، یقیناََ مفادات کا کوئی ٹکراؤ وغیرہ وغیرہ نہیں ہوگا۔ :)
جس ملک میں وزیر اعظم کا سمدھی ۴ سال وزیر خزانہ رہ کر کرپشن کیسز سامنے آنے پر برطانیہ فرار ہو سکتا ہے۔ وہاں کی عوام کا میرٹ پر بات کرنا خود فریبی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
تحریک انصاف حکومت کو جس دوہرے معیار پر تولا جا رہا ہے۔ اگر یہی کام لیگی اور جیالہ حکومتوں میں کیا ہوتا آج یہاں تحریک انصاف کی حکومت نہ ہوتی۔
 
جس ملک میں وزیر اعظم کا سمدھی ۴ سال وزیر خزانہ رہ کر کرپشن کیسز سامنے آنے پر برطانیہ فرار ہو سکتا ہے۔ وہاں کی عوام کا میرٹ پر بات کرنا خود فریبی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
تحریک انصاف حکومت کو جس دوہرے معیار پر تولا جا رہا ہے۔ اگر یہی کام لیگی اور جیالہ حکومتوں میں کیا ہوتا آج یہاں تحریک انصاف کی حکومت نہ ہوتی۔
ایک الزام کا جواب دوسرا الزام نہیں ہوتا۔ تحریک انصاف تبدیلی کے جھوٹے نعرے سے دستبرداری کا اعلان فرمائے تو پھر ہم اس کا موازنہ چھوڑ دیں گے۔
 

جاسم محمد

محفلین
ایک الزام کا جواب دوسرا الزام نہیں ہوتا۔ تحریک انصاف تبدیلی کے جھوٹے نعرے سے دستبرداری کا اعلان فرمائے تو پھر ہم اس کا موازنہ چھوڑ دیں گے۔
ماشاءاللہ۔ آپ کی جماعت ملک کا نظام ۳۰ سال لگا کر خراب کرے اور تحریک انصاف اسے ۸ ماہ میں ٹھیک کر دے۔ کم از کم ۳۰ ماہ کا وقت تو دیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
کیوں ؟ پہلے تحریک 100 دن والے جھوٹ پر قوم سے معافی مانگے۔
پھر وہی دوہرا معیار۔ کیا ن لیگ نے کشکول توڑنے یا پیپلز پارٹی نے روٹی کپڑا مکان کا جھوٹ بولنے پر آج تک قوم سے کوئی معافی مانگی ہے؟ الٹا پوری ڈھٹائی سے انہی جھوٹے وعدوں پر قوم سے ہر بار ووٹ لیا ہے۔ اور یہ سلسلہ ۴۰ سال سے جاری ہے :)
 

جاسم محمد

محفلین
سلمان شہباز اشتہاری مفرور اپنے ہی حامی چینل جیو نیوز پر اپنی منی لانڈرنگ کا کوئی ایک دفاع نہ پیش کر سکا

لیکن اک واری فیر شیر!
 
بریکنگ نیوز
اسٹاک مارکیٹ منفی623پوانٹس کےساتھ مزید تباہی کی جانب گامزن ہے، گو نواز گو کا راگ الاپنے والوں کی اپنی آوازیں بھی بند ہوچکی ہے ۔ کہتے تھے جب اوپر لیڈر ٹھیک ہووے ہے تو ٹریکل ڈاؤن افیکٹ آوے گا اور ہر شے ٹھیک ہو جاوےگی۔
بس پوچھنا یہی تھا کہ اس مزید بربادی پہ شکریہ راحیل شریف کہنا ہے یا باجوہ شریف۔ :)
 
Top