سیاستدانوں سے ملک نہیں چلتا تو

قیصرانی

لائبریرین
انڈس ہائے وے کے حوالے سے جہاں بات ہے تو گذشتہ سال اکتوبر تک تو میں گواہ ہوں کہ اس کا دو سو کلومیٹر کا حصہ جو میں نے دیکھا، وہ اسلام آباد لاہور موٹر وے سے کچھ ہی کم کوالٹی کا تھا۔ البتہ کئی جگہ پیچز لگے تھے جو کہ روٹین کی مرمت کا حصہ ہیں۔ باقی بسوں میں خوار ہونا ہے تو اس سلسلے میں اتنا کہوں گا کہ ڈیرہ غازی خان سے کراچی 1000 کلومیٹر کے لگ بھگ فاصلہ ہے اور بسیں اس کو 12 گھنٹے میں طے کرتی ہیں، جس میں دو یا تین بریکس بھی شامل ہوتی ہیں
 

مہوش علی

لائبریرین
زکریا،

ری بیسنگ والا آرٹیکل اس مسئلے پر کچھ روشنی تو ڈال رہا ہے، مگر مکمل اعداد و شمار پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس آرٹیکل میں ہی فی کس آمدنی بڑھنے کی اہم وجوہات کا ذکر کیا گیا ہے ۔

[align=left:e2ec468391]
Higher GDP growth rates: Yet another factor, which had been of great help in raising the country's per capita income to the present level, was the acceleration in the GDP growth rate during the last two years.

In 2002-03 and 2003-04, the GDP growth rate had stood at 5.1 and 6.4 per cent respectively, as compared to 1.8 and 3.9 per cent between 1999-2000 and 2001-02. Higher GDP growth had played an important part in taking the per capita income to a respectable level.

If the government succeeds in boosting the GDP growth rate further to 7-8 per cent in the coming years, Pakistan may be able to move to the club of lower middle income countries (LMC), within the next two years.
[/align:e2ec468391]

نوٹ: یہ وہ چیز ہے جو مشرف صاحب نے کہی تھی اور میں نے اوپر تحریر کیا تھا کہ پاکستان کی فی کس آمدنی ایک ہزار ڈالر تک پہنچنے والی ہے جس سے وہ مڈل انکم والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔
[align=left:e2ec468391]
Exchange rate stability: Last but not the least, the exchange rate stability had, also, enabled the country to improve the level of its per capita income in terms of US dollars. During the last four years (2000-01 to 2003-04), the exchange rate of Pak rupee vis-a-vis US dollar had remained stable at Rs57.5 to Rs61.4 to a US dollar.

As compared to this, the Pak rupee had continued to lose its value on year to year basis in the 1990's (from Rs22.4 in 1990-91 to Rs51.8 to a US dollar in 1999-2000).
[/align:e2ec468391]

شکریہ زکریا۔ یہ آرٹیکل بہت اچھا ہے اور صورتحال اور کھل کر پیش کر رہا ہے۔
 

ساجداقبال

محفلین
قیصرانی بھیا، آپ شاید N-5نیشنل ہائی وے کی بات کر رہے ہیں، جو بذریعہ لاہور، کراچی کو پشاور سے جوڑتی ہے۔ انڈوس ہائی وے تو پشاور سےکراچی براستہ ڈیرہ اسماعیل خان جاتی ہے۔ اور اس کی تو کل لمبائی 1250 کلومیٹر ہے۔ جبکہ ڈیرہ غازی خان تو پشاور سے بہت دور ہے۔ اور میں نے جن حالات کا ذکر کیا ہے وہ پشاور سے لیکر ڈیرہ اسماعیل خان تک کے ہیں۔
 

مہوش علی

لائبریرین
زکریا نے کہا:
ایک اہم پوائنٹ جو شاید مجھے بار بار دہرانا چاہیئے کہ بہت سے لوگ misconstrue کر لیتے ہیں۔

میرا خیال چرچل والا ہے کہ ڈیموکریسی (بلکہ constitutional democracy) بہت برا نظامِ حکومت ہے مگر باقی سب نظاموں سے بہتر۔

ساری بات institutions کی ہے۔ مشرف یا کوئی بھی ڈکٹیٹر کچھ اچھے کام بھی کرتا ہے اور ان سے انکار ممکن نہیں مگر ڈکٹیٹر کے معاملے میں تو سب جوا ہے۔ وہ جو چاہے کرے۔ اس کے اچھے اور فلاحی کام بھی institutionalize نہیں ہوتے بلکہ پہلے سے موجود institutions کو بھی خراب کرتے ہیں۔ جمہوریت short term میں شاید اچھی نہ بھی ہو مگر وقت کے ساتھ ساتھ institutionsبنانے کا چانس ہوتا ہے۔

باقی مشرف کے بارے میں میرے خیالات unprintable ہیں۔ ضیاء سے یہ شاید کچھ بہتر ہی ہے مگر محض اس لئے کہ یہ میری طرح لبرل ہونے کا دعوٰی کرتا ہے میں اس کی power hungry nature اگنور نہیں کر سکتا۔

اور ہاں مہوش آپ کے میگاپراجیکٹس کی فہرست میں پشاور اسلام‌آباد ہائی‌وے بھی ہے۔ یہ پلان تو کافی پرانا ہے لہذا اس کا کریڈٹ مشرف کو کیوں دیا جائے؟


زکریا،
ڈکٹیٹرشب کے میں بھی خلاف ہوں۔

اور جمہوریت کے حوالے سے کسی قوم کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہو سکتی ہے کہ اس کے انسٹیٹوشنز (ادارے) منضبط ہوں۔

مگر زکریا، (میرے مطابق) مشرف صاحب ڈکٹیٹر کی تعریف پر 100 فیصد پورے نہیں اتر رہے۔

اور ان کے دور میں "ادارے" خراب نہیں ہو رہے بلکہ پچھلی سول حکومتوں کے مقابلے میں بہت بہتر ہی ہوئے ہیں۔

مثال کے طور پر سب سے پہلے "میڈیا" کو لیتے ہیں۔ کیا آپ کو یہاں پر کوئی آمریت نظر آئی؟ (امید ہے کہ چھوٹے ذہن والے لوگوں کی طرح آپ چھوٹے موٹے واقعات کا رونا لے کر نہیں بیٹھ جائیں گے)۔

تو "میڈیا" کے ادارے کے متعلق میری رائے یہ ہے کہ یہ ادارہ مشرف صاحب کے دور میں انتہائی مضبوط ہوا ہے اور اس کی نظیر پچھلے کسی دور میں نہیں ملتی۔

[ مگر (میرے مطابق) لوگوں کا ایک گروہ ہے جو کم ظرف ہے اور یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ موجودہ حکومت کے مثبت رویہ کے وجہ سے میڈیا اتنا جلدی اتنا آزاد ہوا، بلکہ ان کا لنگڑا بہانہ آ جاتا ہے کہ یہ آزادی میڈیا نے قربانیاں پیش کر کے حاصل کی ہے۔
تو (میرے مطابق) اتنی کم ظرفی دکھانے سے قبل ان لوگوں کو دیکھنا چاہئے کہ کیا یہ قربانیاں میڈیا کو "مشرف صاحب" کے دور میں دینی پڑیں تاکہ وہ آزاد ہو سکے؟
تو ماضی کے دور میں سول و فوجی ڈکٹیٹروں کے خلاف میڈیا نے جو قربانیاں دی، اُن کا قصور وار مشرف صاحب کی حکومت کیوں؟؟؟

میرا یہ ماننا ہے کہ مشرف صاحب بنیادی طور پر ڈکٹیٹر نہیں اور پہلے دن سے ہی انکا وژن یہ تھا کہ میڈیا کو آزادی دی جائے تاکہ یہ اہم ادارہ مضبوط ہو سکے جو کہ "حقیقی جمہوریت" کا سب سے اہم ستون ہے۔ تو اگر آج میڈیا یا کچھ کم ظرف یہ کہیں کہ میڈیا نے مشرف صاحب کے خلاف قربانیاں پیش کر کے یہ آزادی حاصل کی ہے تو یہ سراسر جھوٹ و کذب بیانی ہے اور مشرف صاحب کی مخالفت برائے مخالفت ہے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
ساجداقبال نے کہا:
قیصرانی بھیا، آپ شاید N-5نیشنل ہائی وے کی بات کر رہے ہیں، جو بذریعہ لاہور، کراچی کو پشاور سے جوڑتی ہے۔ انڈوس ہائی وے تو پشاور سےکراچی براستہ ڈیرہ اسماعیل خان جاتی ہے۔ اور اس کی تو کل لمبائی 1250 کلومیٹر ہے۔ جبکہ ڈیرہ غازی خان تو پشاور سے بہت دور ہے۔ اور میں نے جن حالات کا ذکر کیا ہے وہ پشاور سے لیکر ڈیرہ اسماعیل خان تک کے ہیں۔
پیارے بھائی، انڈس ہائی سے مراد وہ ہائی وے ہے جو کراچی سے پشاور براستہ ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ اسماعیل خان جاتی ہے
 

qaral

محفلین
if u take a serious look over pakistan's history u will know that politician are more responsible for the crisis that pakistan are suffering from now.ayub khan was a good leader he made pakistan proud in 1965 war and then shimla agreement happend buttho
told people that shimla agreement was not necessary and pakistan can conquer kashmir and ayub khan did this on purpose so people goes aganist ayub khan later on in humood-ur-rehman comission report it is proved that what ayub khan did was necessary and paskitan have not enough resources to continue war.ayub khan hand over the leadership to yahya who was under the influence of buttho he made a fool out of him and take controle of the situation which ultimately results in the creation of bangladesh after getting the controle of pakistan Bhutto made things better but then most horrible thing happend to pakistan that is called zia-ul-haq he came in the name of islam gave power to mullaism promote the klashnekoff culture crashed pakistani's Economy
$ went from rs 20.00to 44.00 in 11 years that he ruled over pakistan he turned karachi city of lights into city of death by creating conflicts and different kind of tanzeems.nawaz shreef is not only a corrupt politicaian but a coward too he do not even have the kind of dignity that bhutto does and be nazeer is now a days doing whatever she can to please usa govt so that she can come back and be pm again musharaf and ayuab might not be the best but they are better choices as compare to these corrupt politicaians.once we made the wrong choice and lost healf of pakistan god knows what will happen to pakistan now if we made the wrong choice again
 

زیک

مسافر
قرل: 1965 کی جنگ کو پاکستان کے لئے اچھی حکمتِ عملی قرار دینا ہی آپ کی غلطی ہے۔ پاکستان نے جنگ شروع کی یہ سوچے بغیر کہ کشمیری ساتھ دیں گے یا نہیں اور یہ بھی نہ سوچا کہ فوج کے پاس سپلائی بھی ہے یا نہیں۔

مشرقی پاکستان کے سانحے کے پیچھے بہت سے لوگوں کا ہاتھ ہے۔ اسے آپ بھٹو پر ہی نہیں تھوپ سکے۔ ایوب کے دور کا متیازی سلوک بنگالیوں کے لئے ایک بڑا محرک تھا۔ یہ بھی بات یاد رہے کہ 1971 کے سارے واقعات کے دوران ایک مطلق العنان فوجی حکمران تھا۔

مہوش: مشرف کو ڈکٹیٹر نہ سمجھنا ہی آپ کی بھول ہے۔ میرے خیال میں ایسی صورت میں بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر آپ مشرف کو ایک اچھا ڈکٹیٹر مانتیں تو شاید کچھ common ground ہوتا بحث کے لئے۔

میڈیا کی آزادی کے بارے میں میں ایک آدھ روبط اسی ہفتے کسی تھریڈ میں پیش کر چکا ہوں انہیں پڑھ لیں۔ وہ ایکسپرٹس کی رائے ہے۔

اور معاشی ترقی واقعی ہوئی ہے مگر ری‌بیسنگ والے مضمون کا نتیجہ یہ ہے کہ per capita income میں جو اضافہ اب ری‌بیسنگ کی وجہ سے نظر آیا ہے وہ اصل میں پہلے ہی کبھی ہو چکا تھا بس measure نہیں کیا گیا تھا۔
 

تفسیر

محفلین

  • مشاہدات؛

    o آپ کسی بھی مسئلہ کو اعداد و شمار سے اچھا یا بُرا ثابت کرسکتے ہیں۔ دینا اور ہر ملک و قوم کی تاریخ میں اتنے واقعات موجود ہوتے ہیں جن کے نتائج ایک مسئلہ کے فائدوں یا نقصانات کو ثابت کرنے لے لیئے استعمال ہو سکتے ہیں۔

    o کسی مسئلہ کو حل کرنے کے لیئے اس کی بنیاد کی جانچ ضروری ہے اور اس مسئلہ کا بنیادی جُز عوام ہیں ۔ عوام سے ملک بنتا ہے۔

    o قوم کے مسائل کے دو بنیادی علاج ہیں ۔
    1۔ تعلیم
    2 - اخلاقی کردار

    تعلیم اور کردار ایک دوسرے کےبغیر مکمل نہیں ہوتے۔

    o راہبر قوم میں پیدا ہوتےہیں ۔ قوم راہبر میں نہیں۔ راہبر کا کام صرف راستہ دکھانا ہوتا ہے ۔ راستہ بنانا نہیں۔

    o قومیں نہ ایک دن میں بنتی ہیں اور نہ بگڑتی ہیں۔

    o نظام ، غیر جانبدار ہوتے ہیں۔ قوم کا اخلاق اور کردار ان کو اچھا یا بُرا بناتا ہے

    o اگر قوم میں بنیادی تعلیم عام ہو اور بلند کردار ہو۔ کوئی بھی نظام حکومت کو عوام کی فلاع کے لیئے کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔
    :p
 

ابوشامل

محفلین
مہوش صاحبہ! مشرف حکومت کے حق میں آپ کے پیش کیے گئے تمام اعداد و شمار سے کوئی انکار نہیں بلاشبہ مشرف دور میں پاکستان نے تعمیرات اور دیگر شعبہ جات میں انتہائی ترقی کی ہے اور اس سلسلے میں میں مشرف حکومت کو سراہتا ہوں۔ بلاشبہ ذرائع ابلاغ کو آزادی دینا اور ٹی وی چینلوں کے قیام کا فیصلہ بھی قابل تحسین ہے لیکن ان ترقیاتی کاموں سے آپ آمریت کو justify نہیں کر سکتیں۔ آمریت بہرحال آمریت ہے یہ کسی بھی دوسرے نظام کے مقابلے میں استبدانہ اور ظالمانہ ترین نظام ہے۔ مانا کہ سیاست دانوں نے عظیم غلطیاں کیں لیکن سیاست دان عوامی دباؤ کا شکار تو ہوتے ہیں نا! مشرف کی طرح یہ تو نہیں کہتے کہ ٹماٹر مہنگے ہوگئے تو نہ کھائیں! یہ تو نہیں کہتے ہیں کہ (بلوچ قبائل کو مخاطب کرتے ہوئے) ہم تمہیں وہاں سے میزائل ماریں گے جہاں سے تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔ نواز شریف نہ چاہتے ہوئے بھی انتہائی عوامی دباؤ کے باعث ایٹمی دھماکہ کرنے پر مجبور ہو گئے اگر مشرف ہوتے تو میں صد فی صد یقین سے کہتا ہوں کہ پاکستان ایٹمی دھماکہ نہ کرتا۔
پاکستان میں ترقی کی موجودہ صورتحال سے زیادہ اچھی مثال آپ کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات و دیگر ممالک کی دوں گا جہاں کے بادشاہوں نے عوام کے لیے کیا نہیں کیا! جا کر دبئی دیکھ لیں، دنیا کے کسی بھی جدید ترین شہر سے زیادہ ترقی یافتہ نظر آتا ہے سعودی عرب کے شہر ریاض، جدہ وغیرہ دیکھ لیں صحرا میں گلزار بنے ہوئے ہیں، اس کے علاوہ دوحہ، قاہرہ، دمشق وغیرہ بھی ترقی کی معراج پر پہنچے ہوئے ہیں لیکن اس ترقی کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم بادشاہت و آمریت کو بہترین نظام سمجھ لیں۔ مسلمانوں کی فلاح صرف اور صرف اللہ کے پیش کردہ آفاقی نظام حکومت یعنی خلافت میں ہے، خلافت کے علاوہ مسلمانوں کو کوئی نظام قبول نہیں ہونا چاہیے۔ جمہوریت کو آپ خلافت کے قریب ترین سمجھ سکتی ہیں بلکہ پاکستان کو اگر آئین کے مطابق چلایا جائے تو پاکستان ایک بہترین اسلامی فلاحی ریاست کا نمونہ بن سکتا ہے۔ کیونکہ جمہوریت کا نظریہ "عوام جو چاہے، جیسے چاہے، جسے چاہے اور جہاں چاہے" ہے جبکہ اسلام اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے تحت تمام شعبہ ہائے زندگی چلانے کا حکم دیتا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کا آئین آئیڈیل ہے جس کے مطابق حاکمیت اعلیٰ اللہ کو حاصل ہے اس طرح کسی بھی منتخب حکومت کو اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق عوام کی تائید کے ذریعے حکومت چلانے کا اختیار حاصل ہے یعنی عوام کے جسے، جیسے اور جہاں چاہنے کے اختیار کو دائرۂ اسلام میں مقید کر دیا گیا یعنی عوام اگر کوئي غیر اسلامی کام چاہتی بھی ہو تو وہ نہیں کر سکتی کیونکہ وہ آئین سے متصادم ہو جائے گا۔ اس طرح ایک اسلامی فلاحی ریاست کی آئیڈیل صورتحال سامنے آ جاتی ہے۔ موجودہ دور میں آپ (اندھوں میں کانا راجہ کی حد تک) ایران کو ماڈل اسلامی جمہوریہ کہہ سکتی ہیں۔ دوسری جانب چونکہ پاکستان میں ادوارِ آمریت میں آئين عضو معطل بن کر رہ جاتا ہے اور فرد واحد کی مرضی سے ہمیشہ ملک کو نقصان ہی پہنچا ہے اس لیے ملک کے وسیع تر مفاد (اصلی وسیع تر مفاد، حکمرانوں‌ کے نظریۂ ضرورت والا وسیع تر مفاد میں‌نہیں) آئین اور جمہوریت کی فوری بحالی انتہائی ضروری ہے۔ اللہ ہمارے وطن اور امت مسلمہ کی حفاظت کرے اور ہمیں علم کے ساتھ ساتھ عمل کی بھی توفیق دے۔
 

ابوشامل

محفلین
پرویز کی جانب سے میڈیا کو آزادی دیے جانے کے حوالے سے چند باتیں واضح کردوں کہ پرویز کا مقصد میڈیا کو اس حوالے سے آزادی دینے کا نہیں تھا کہ وہ ملک کے سیاسی معاملات اور فوج کے کردار پر بیٹھ کر مذاکرے پیش کریں بلکہ ان کا مقصد فحاشی و عریانی کے سیلاب کو عوام پر چھوڑ دینا تھا۔ اس فریضے کو بخوبی سر انجام دینے پر چینلوں نے پرویز اور حکومت وقت سے خوب داد بھی سمیٹی۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ یہ چینل مقابلاتی رحجان کی بھینٹ چڑھ گئے، انہوں نے جب ایک سے بڑھ کر ایک سیاسی مذاکرے اور پروگرامات پیش کرنا شروع کیے تو حکومت کی چولیں ہل گئیں۔ میڈیا کو بزبان خاموش کرنے میں ناکامی پر بزور قوت چپ کرانے کا فیصلہ کیا گیا اور اس کا آغاز جیو نیوز اسلام پر حملے، آج ٹی وی کو شوکاز نوٹس کے اجراء اور اب براہ راست نشریات پر تازہ ترین پابندی سے ہو چکا ہے۔ 12 مئی کے واقعات نے تو حکومت اور وکلاء کی دو طرفہ جنگ میں ایک تیسرے فریق کا اضافہ کیا جو یقیناً ذرائع ابلاغ ہے جو اس وقت وکلاء کی جانب کھڑا ہے۔
تو یہ کہنا کہ پرویزی حکومت نے ذرائع ابلاغ کو اس لیے آزادی دی کہ وہ صحت مندانہ سیاسی بحث و مباحثے کو فروغ دے محض طفلانہ سوچ ہے، اس کے پیچھے ایک بڑی گہری اور منظم سوچ تھی کہ حکومت شدید عوامی ردعمل کے خطرے کے باعث جو کچھ سرکاری ٹیلی وژن سے نہیں دکھا سکتی تھی، وہ کچھ نجی ٹیلی وژن کے ذریعے دکھایا جائے۔ اگر آپ پاکستان میں ذرائع ابلاغ کا اجمالی جائزہ لیں تو آج سے 8 سال قبل اور آج کے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا۔ پہلے تہذیب و تعلیم و تربیت ہمارے ذرائع ابلاغ کا خاصہ تھا جہاں مزاحیہ خاکوں میں بھی تربیت کا عنصر شامل ہوتا تھا ففٹی ففٹی اور الف نون جیسے مزاحیہ پروگرام اس کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں لیکن اب آپ مجھے ایک پروگرام بتا دیں جس سے کوئی بھلائی کا کام سیکھا جائے، تلاوت قرآن مجید، حدیث مبارکہ اور اذانوں جیسی چیزیں تک پیش کرنے والے کتنے چینل پاکستان رہ گئے ہیں؟۔ شاید ایک ہی پی ٹی وی جو گذشتہ 40 سالوں سے دو احادیث بدل بدل کر نشر کرتا رہتا ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ کا سب سے بڑا تحفہ اسلام کے جدید ایڈیشن مثلاً سب سے اہم غامدی ایڈیشن ہے جو روشن خیالی و اعتدال پسندی کا پسندیدہ ترین ہے۔ ایک کالم نگار نے کیا خوب کہا ہے کہ بھارت میں سیاسی تسلسل نے اس کے اندر یہ استعداد پیدا کردی کہ اس نے "فلم" کو بھی "قومی اتحاد" کا ذریعہ بنا لیا اور پاکستان میں یہ تماشہ ہو رہا ہے کہ ہم نے اسلام کو بھی اختلافات، تنازعات، تفریق اور تقسیم کا ذریعہ بنا لیا ہے۔

اور تقسیم کے اس پرویزی ایجنڈے کے اہم ترین مہرے ہمارے ٹی وی چینل تھے جنہوں نے اسلام کے بنیادی عقائد تک کے حوالے سے ایسے ایسے مباحثے پیش کیے کہ با حیا آدمی کا چہرہ شرم کے مارے سرخ ہو جائے۔ آدمی گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی نہیں دیکھ سکتا۔ ان چینلوں نے تو اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال دیا۔ 2004ء! جی ہاں آج سے تین سال پہلے جیو نیوز کے ایک پروگرام نے میرا سر شرم سے جھکا دیاتھا، یہ پروگرام آج بھی آتا ہے "جان ہے تو جہان" اور جو پروگرام میں نے دیکھا اس کا موضوع تھا "نسوانی صحت" جس میں سوائے میزبان کے سب شرکاء ‍و مہمان خواتین تھیں، آپ یقین کریں گے کہ پروگرام کا آغاز کس طرح ہوا؟ میزبان نے کہا کہ السلام وعلیکم آج کے ہمارے پروگرام کا عنوان نسوانی صحت ہے، اس سلسلے میں فلاں فلاں ماہر امراض نسواں یہاں موجود ہیں جی میرا پہلا سوال یہ ہے کہ ماہ۔۔۔۔۔۔ کیا ہوتی ہے؟" میرے تو جسم میں کرنٹ دوڑ گیا کہ یہ کیا کچھ یہاں دکھایا جا رہا ہے؟ اس کے بعد اداکارہ میرا کے بھارتی فلم میں دکھائے گئے مناظر جیو پر دن میں 50، 50 مرتبہ نشر کیے گئے، اے آر وائی پر سلیو لیس شرٹ بلکہ میں تو اسے بنیان کہوں گا اور کپڑا لپیٹ کر سلوائی جانے والی جینز (جسے آپ شاید اسکن فٹنگ کہتے ہیں) پاکستان کی عورتوں کا قومی لباس سمجھ کر دکھایا جاتا رہا، اس دوڑ میں ہم اور ٹی وی ون جیسے چینل بھی کودے جنہوں نے تمام اخلاقی حدود کو پار کیا، ٹی وی ون پر شہر کی راتیں اور انہی ذو معنی عنوانات جیسے ڈراموں کی بھرمار ہے جس میں پاکستانی اداکاروں اور اداکاراؤں کو K..s تک کرتے ہوئے دکھایا گیا، اس وقت تک مشرف حکومت خوب اچھلتی رہی کہ ہم نے میڈیا کو آزادی دی وہ جو چاہے دکھائے اور کیونکہ یہ سب کچھ اس وقت تک ان کے پروگرام کے مطابق چلتا رہا اس لیے سب شیر مادر سجمھ کر پی گئے۔ بات تب خراب ہوئی جب اپنی دُم پر پیر آیا، جب طلعت حسین، کامران خان، شاہد مسعود، انصار عباسی، حامد میر اور سجاد میر حکومت کی خراب پالیسیوں کے خلاف بولنے لگے، اس میں ان کا قصور ہر گز نہ تھا بلکہ چینلوں کے درمیان مقابلے کی فضا اس قدر تیز ہو گئی تھی کہ سچ کو سامنے لانا پڑا، بالآخر یہ کہنا پڑا کہ پرویزی حکومت آمریت کی پروردہ ہے اور الطاف حسین کی ایم کیو ایم نے اسلحے کے زور پر کراچی کو ہائی جیک کر رکھا ہے۔ وہ حقیقتیں سامنے لائی گئیں جو حقیقت ہوتے ہوئے بھی کوئی نہ کہتا تھا، فوج کا سیاسی و تجارتی (جی ہاں! تجارتی) کردار تک زیر بحث آ گیا۔

اور اب پابندی کی بات کی جا رہی ہے "وسیع تر قومی مفاد" کے بدترین استعمال کا وقت ایک مرتبہ پھر سامنے آ رہا ہے، یعنی دیکھو وہ جو ہم دکھانا چاہیں، سنو وہ جو ہم سنانا چاہیں، کہو وہ جو ہم کہلوانا چاہیں، کرو وہ جو ہم کروانا چاہیں۔ یہ پرویزی حکومت کا ذرائع ابلاغ کے حوالے سے چار نکاتی ایجنڈہ ہے اور اس کو پوری طرح سے نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے ایک چند روز قبل آج ٹی وی کے طلعت حسین نے وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی سے بہت ہی زبردست بات کہی کہ جب (بقول اُن کے) انتہا پسند مولوی کہتے ہیں کہ ٹیلی وژن چینلوں پر فحاشی و عریانی بند کی جائے تو صدر صاحب فرماتے ہیں کہ جس نے نہیں دیکھنا وہ آنکھیں بند کرلے لیکن جب یہ سیاسی معاملات پر بات کرتے ہیں اور تو پابندیوں اور شوکاز نوٹس کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس وقت حکومت یہ کیوں نہیں کہتی کہ جس نے دیکھنا ہے دیکھے جس نے نہیں دیکھنا وہ آنکھیں بند کرلے۔

سیاست دانوں کے حوالے سے تمام سوالات کے جوابات چند روز قبل شاہنواز فاروقی کے کالم میں موجود ہیں میں اس کالم کا عکس یہاں ذیل میں دے دیتا ہوں:

27-05-07.gif
 
Top