سوشل میڈیا اور جھوٹی خبریں

کل رات ہمارے واٹس اپ پر یہ میسج آیا کہ پانچ ہزار روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گيا ہے ، پانچ ہزار کے نوٹ کی تصویر کے ساتھ اس خبر کے حوالے سے ایک اخباری ترشہ بھی چسپاں کیا گیا تھا ، آج آفس میں آ کر جب اس خبر کے حوالے سے معلومات کی تو معلوم ہو کہ درحقیقت ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ، یہ خبرجھوٹی خبر ہے اور وزیر خزانہ اسد عمر اس کی کئی بار تردید کرچکے ہیں ۔ویسے یہ روایت عام ہوگئی ہے کہ خواہشات ، مفروضوں ، من گھڑت قصوں کی پوسٹ بنائیں اور سوشل میڈيا فورم پر نشر کردیں ، پھر تیل دیکھیں اورتیل کی دھار دیکھیں ، جعلی خبر کی رفتار دیکھیں۔ کہا جاتا ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے بالکل ٹھیک کہا جاتاہے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی کوئی بھی بات بغیر تصدیق کے ایک سے دوسرے اکاؤنٹ ميں منتقل ہوتی اور پھلتی پھولتی رہتی ہے جس پر لوگ یقین بھی کرنے لگتےہيں ۔
اس موضوع پر آپ محفلین کی کیا رائے ہے کہ آیا ان جھوٹی اور من گھڑٹ خبروں کو کیسے روکا جائے اور ان کی تردید کے لیے کیا اقدامات ہونا چاہیے ۔
 
آخری تدوین:
کل رات ہمارے واٹس اپ پر یہ میسج آیا کہ پانچ ہزار روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گيا ہے ، پانچ ہزار کے نوٹ کی تصویر کے ساتھ اس خبر کے حوالے سے ایک اخباری ترشہ بھی چسپاں کیا گیا تھا ، آج آفس میں آ کر جب اس خبر کے حوالے سے معلومات کی تو معلوم ہو کہ درحقیقت ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ، یہ خبرجھوٹی خبر ہے اور وزیر خزانہ اسد عمر اس کی کئی بار تردید کرچکے ہیں ۔ویسے یہ روایت عام ہوگئی ہے کہ خواہشات ، مفروضوں ، من گھڑت قصوں کی پوسٹ بنائیں اور سوشل میڈيا فورم پر نشر کردیں ، پھر تیل دیکھیں اورتیل کی دھار دیکھیں ، جعلی خبر کی رفتار دیکھیں۔ کہا جاتا ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے بالکل ٹھیک کہا جاتاہے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی کوئی بھی بات بغیر تصدیق کے ایک سے دوسرے اکاؤنٹ ميں منتقل ہوتی اور پھلتی پھولتی رہتی ہے جس پر لوگ یقین بھی کرنے لگتےہيں ۔
اس موضوع پر آپ محفلین کی کیا رائے ہے کہ آیا ان جھوٹی اور من گھڑٹ خبروں کو کیسے روکا جائے اور ان کی تردید کے لیے کیا اقدامات ہونا چاہیے ۔
میری نظر میں اس کے دو طریقے ہیں:
ایک یہ کہ جھوٹی پوسٹ نہ بنائی جائے۔
دوسرا یہ کہ جھوٹی پوسٹ کو شیئر نہ کیا جائے۔
:):):)
 
میری نظر میں اس کے دو طریقے ہیں:
ایک یہ کہ جھوٹی پوسٹ نہ بنائی جائے۔
دوسرا یہ کہ جھوٹی پوسٹ کو شیئر نہ کیا جائے۔
:):):)
عبید بھائی بالکل آپ نے بجا فرمایا ، مگر آپ کے پاس جو خبر آئی ہے اس کی تصدیق کیسے کی جائے کہ وہ سچی ہے یا جھوٹی ۔ ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ سوشل میڈیا پر سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے لوگوں نے تو بے بنیاد خبروں اور پوسٹوں کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے اور جب تک لوگوں کے ذہنوں کا بیڑا غرق نہیں ہوجاتا اس وقت تک ان کا بیڑا پار نہیں ہونا والا ۔
 
فٹبال کلب فلحم ایف کے مالک شاہد خان سے منسوب یہ خبر گردش کرنے لگی ہےکہ انہوں نے ڈیم فنڈ کے لیے ایک ارب ڈالرز عطیہ کا اعلان کیا ، یہ بالکل جھوٹی خبر ہے ،ان کے نام سے سوشل میڈیا پر جواکاؤنٹ سامنے آیا ہے وہ چند دن پہلے ہی بنایا گيا ہے اور اس اکاؤنٹ کے حقیقی ہونے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ۔
 

عثمان

محفلین
سوشل میڈیا خبریں حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہے۔ خبریں حاصل کرنے کے لیے روایتی مستند ذرائع مثلا اخبارات، جرائد اور نیوز ویب سائٹس وغیرہ ہی پر بھروسہ کریں۔
 

محبوب الحق

محفلین
پچھلے دنوں ایک ایسا ہی پیغام واٹس ایپ کے بند ہونے کے حوالے سے گردش کرتا رہا جس کی وجہ سے کافی دوستوں کو پریشانی ہوئی اور بند ہونے کے ڈر سے پیغام کو آگے شئیر کرتے رہے. ایسی خبر کو بغور پڑھا جائے تو تصدیق ممکن ہے کسی کمپنی یا ادارے کی طرف سے آپ کو بذریعہ فون یا ای میل مطلع کیا جاتا ہے نہ کہ شئیر کرنے سے کمپنی کی پالیسی بدل جائے گی
 

محمد فہد

محفلین
عدنان بھائی، میں آپ کسے متفق ہوں ہم لوگ اپنی سنی سنائی باتوں کو ہی تفریح کے لیئے نمبرزلینے یا ہنسی مذاق یا دوسرے کو اپنا گرویدا بنانے کے لیئے مفروضوں کو حقیقت کا رنگ دے کر یہاں وہاں پھلا دیتے ہیں اور اگر کوئی تصدیق کرلے یا ریفرنس مانگ لے تو بجائے اسے پوری ایمانداری اور دیانتداری سے بتانے کے آگے سے بحث بڑائے بحث کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔۔۔
 

شکیب

محفلین
پلوامہ حملے کو لے کر ہند و پاک، دونوں طرف سے ایسی ایسی نت نئی نیوز "چھوڑی" جا رہی ہیں کہ پڑھ کر جی خوش ہو جائے۔
 

شکیب

محفلین
میری نظر میں اس کے دو طریقے ہیں:
ایک یہ کہ جھوٹی پوسٹ نہ بنائی جائے۔
دوسرا یہ کہ جھوٹی پوسٹ کو شیئر نہ کیا جائے۔
:):):)
تیسرے یہ جس نے آپ سے شیئر کی ہے، اسے اس کے شعور کی مناسبت سے سمجھایا جائے، تاکہ آئندہ کی بچت ہو۔
میک دی ورک ایزی بائے ٹیچنگ ادرز۔
 
Top