سورج تب ہی نکلے گا جب خوب اندھیرا چھائے گا

الف عین
عظیم
شکیل احمد خان23
محمد احسن سمیع راحلؔ
-----------
سورج تب ہی نکلے گا جب خوب اندھیرا چھائے گا
ظلمت کا اس دنیا سے پھر نام و نشاں مٹ جائے گا
------------
لالچ میں جو آئے تھے وہ ساتھ ہمارا چھوڑ گئے
مشکل میں جو ساتھ رہے گا وہ اپنا کہلائے گا
---------
مشکل ہیں حالات بہت ہی جینا ہے آسان کہاں
جو بھی جھکنا سیکھے گا بس وہ زندہ رہ پائے گا
---------
پابندی ہے کچھ کہنے پر کیسے کوئی بات کرے
جو بھی حق کی بات کرے گا سر اپنا کٹوائے گا
----------
جان تو آنی جانی شے ہے اس کی ہم کیا بات کریں
جانا ہو گا دنیا سے جب وقت ہمارا آئے گا
----------
الفت کی ہیں راہیں مشکل آگ میں جلنا پڑتا ہے
سونا جل کر نکلے گا جب وہ کندن بن جائے گا
---------
ارشد جس کو سچا سمجھے اس کا وہ بن جاتا ہے
سچا ثابت کر دو خود کو وہ تیرا بن جائے گا
------------
 

عظیم

محفلین
سورج تب ہی نکلے گا جب خوب اندھیرا چھائے گا
ظلمت کا اس دنیا سے پھر نام و نشاں مٹ جائے گا
------------تب ہی سورج نکلے.. ۔۔ بہتر لگتا ہے، باقی ٹھیک ہے شعر

لالچ میں جو آئے تھے وہ ساتھ ہمارا چھوڑ گئے
مشکل میں جو ساتھ رہے گا وہ اپنا کہلائے گا
---------پہلے میں بھی واحد ہی ہونا چاہیے میرا خیال ہے، لالچ میں جو آیا تھا، مگر لالچ کس چیز کی تھی یہ واضح کرنے کی بھی ضرورت ہو گی، کسی طرح 'خود غرضی' یا اس طرح کا کوئی اور لفظ لے آئیں تو بہتر ہو گا

مشکل ہیں حالات بہت ہی جینا ہے آسان کہاں
جو بھی جھکنا سیکھے گا بس وہ زندہ رہ پائے گا
---------'بہت ہی' میں 'ہی' بھرتی کا لگتا ہے، 'بہت اب' کیا جا سکتا ہے، مگر جھکنا سیکھنا سے یہ صاف نہیں ہوتا کہ کسی جابر حکمران یا نظام کے آگے گھٹنے ٹیکنے ہیں

پابندی ہے کچھ کہنے پر کیسے کوئی بات کرے
جو بھی حق کی بات کرے گا سر اپنا کٹوائے گا
----------پابندی ہے/ہو جب کہنے پر.. مگر پہلے میں جب/کچھ کہنا ہے تو دوسرے میں 'حق کی بات' فٹ نہیں رہے گا، پہلے مصرع میں بھی اگر 'سچ' لایا جائے تو ٹھیک ہو سکتا ہے

جان تو آنی جانی شے ہے اس کی ہم کیا بات کریں
جانا ہو گا دنیا سے جب وقت ہمارا آئے گا
----------جان آنی جانی شے کب ہے؟ ایک بار گئی تو گئی! اس کے علاوہ 'اس کی کیا ہم بات کریں' رواں ہے

الفت کی ہیں راہیں مشکل آگ میں جلنا پڑتا ہے
سونا جل کر نکلے گا جب وہ کندن بن جائے گا
---------الفت کی راہیں ہیں مشکل، مگر آگ کون سی ہے یہ واضح نہیں لگتا، دوسرے میں سونا بھی کندن بنتا ہے اس کا مجھے علم نہیں ہے، کندن بننے کا طریقہ کوئی اور لگتا ہے مجھے جلنا بھی مناسب نہیں لگ رہا

ارشد جس کو سچا سمجھے اس کا وہ بن جاتا ہے
سچا ثابت کر دو خود کو وہ تیرا بن جائے گا
------------ارشد خود اس شخص کے بن جاتے ہیں یا ارشد کا وہ شخص بن جاتا ہے یہ واضح نہیں ہے، دوسرے سے کچھ واضح تو ہوتا ہے مگر پہلے میں جو مغالطہ ہے وہ دور کر لیا جائے تو اچھا ہے
 

الف عین

لائبریرین
عظیم کے الفاط
"---------الفت کی راہیں ہیں مشکل، مگر آگ کون سی ہے یہ واضح نہیں لگتا، دوسرے میں سونا بھی کندن بنتا ہے اس کا مجھے علم نہیں ہے، کندن بننے کا طریقہ کوئی اور لگتا ہے مجھے جلنا بھی مناسب نہیں لگ رہا"
کندن تپانے سے ہی بنتا ہے، اس میں کوئی غلطی نہیں، دوسرے "راہیں ہیں" میں بھی تنافر کی کیفیت ہے، اس سے تو ارشد بھائی کا " ہین راہیں مشکل" ہی بہتر ہے
باقی اصلاح درست ہے
 
الف عین
عظیم
(اصلاح کے بعد)
---------
تب ہی سورج نکلے گا جب خوب اندھیرا چھائے گا
ظلمت کا اس دنیا سے پھر نام و نشاں مٹ جائے گا
---------
جو خود غرضی میں آیا تھا وہ ساتھ ہمارا چھوڑ گیا
مشکل میں جو ساتھ رہے گا وہ اپنا کہلائے گا
-----------
مشکل ہیں حالات بہت اب جینا ہے آسان کہاں
ظالم کچھ دن ظلم کرے گا پھر خود ہی مٹ جائے گا
----------
ظلم ہمیشہ کب رہتا ہے بالآخر مٹ جائے گا
--------------
پابندی ہے سچ کہنے پر کیسے کوئی بات کرے
جو بھی حق کی بات کرے گا سر اپنا کٹوائے گا
---------
جان تو جانے والی شے ہے اس کی ہم کیا بات کریں
جانا ہو گا دنیا سے جب وقت ہمارا آئے گا
---------
الفت کب آسان رہی ہے اب تو اور بھی مشکل ہے
-----یا
الفت ہے اک آگ کا دریا، تیر کے جانا پڑتا ہے
سونا جل کر نکلے گا جب وہ کندن بن جائے گا
------------
ارشد جس کو سچا سمجھے اس کے گن ہی گاتا ہے
سچا ثابت کر دو خود کو وہ تیرا بن جائے گا
 

عظیم

محفلین
جو خود غرضی میں آیا تھا وہ ساتھ ہمارا چھوڑ گیا
مشکل میں جو ساتھ رہے گا وہ اپنا کہلائے گا
-----------پہلے میں ایک رکن زائد لگتا ہے، خود غرضی میں جو آیا تھا ساتھ۔ ۔ ۔ البتہ 'غرضی' کا تلفظ کہیں سے دیکھ لیں، مجھے ایسا لگتا ہے کہ ر متحرک ہو گی اس میں

مشکل ہیں حالات بہت اب جینا ہے آسان کہاں
ظالم کچھ دن ظلم کرے گا پھر خود ہی مٹ جائے گا
----------
ظلم ہمیشہ کب رہتا ہے بالآخر مٹ جائے گا
--------------دونوں متبادل ٹھیک نہیں لگ رہے دوسرے مصرع کے
پہلے متبادل میں ظالم کا خود ہی مٹنا اچھا نہیں لگ رہا اور دوسرے 'باالآخر' کی وجہ سے مجھے روانی اچھی نہیں لگ رہی، دو لختی کی کیفیت بھی محسوس ہو رہی ہے

پابندی ہے سچ کہنے پر کیسے کوئی بات کرے
جو بھی حق کی بات کرے گا سر اپنا کٹوائے گا
---------'کیسے کوئی بات کرے' کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی، سچ کہنے پر پابندی ہے مگر بات پر نہیں، ضروری نہیں کہ ہر بات سچی ہی ہو! میرا مشورہ تو تھا 'سچ' لفظ لانے کا مگر اب پہلے مصرع کا دوسرا ٹکڑا بے معنی لگ رہا ہے، مکمل مصرع ہی بدلنے کی کوشش کریں

جان تو جانے والی شے ہے اس کی ہم کیا بات کریں
جانا ہو گا دنیا سے جب وقت ہمارا آئے گا
۔ جان تو اک دن جا کے رہے گی
۔ جان چلی جائے گی اک دن
اس طرح کے کچھ اور بہتر سوچ سکیں پہلے مصرع کے متبادل تو اچھا ہو جائے مصرع بھی اور شعر بھی
'اس کی کیا ہم بات کریں' میں کیا خرابی محسوس ہوئی؟
دوسرے مصرع میں بھی کسی طرح 'جانا پڑے گا' لائں تو مزید بہتر ہو

الفت کب آسان رہی ہے اب تو اور بھی مشکل ہے
-----یا
الفت ہے اک آگ کا دریا، تیر کے جانا پڑتا ہے
سونا جل کر نکلے گا جب وہ کندن بن جائے گا
------------پہلا متبادل ہی ٹھیک ہے مگر اب کیوں زیادہ مشکل ہے الفت یہ واضح نہیں، الفت کی ہیں راہیں مشکل.. . . ہی ٹھیک رہے گا کہ شاید بابا (الف عین) نے قبول فرمایا ہے

ارشد جس کو سچا سمجھے اس کے گن ہی گاتا ہے
سچا ثابت کر دو خود کو وہ تیرا بن جائے گا
۔ اس کے ہی گن
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس!
(اصلاح کے بعد)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب رات خوب تاریک ہوجائے تو صبح نمودار ہوتی ہے
تب ہی سورج نکلے گا جب خوب اندھیرا چھائے گا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہی معاملہ ظلم کے اندھیرے کا ہے ،جب انتہاکوپہنچ جائے توانصاف کاسورج طلوع ہوتا ہے
ظلمت کا اس دنیا سے پھر نام و نشاں مٹ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو لو گ ہمارے ساتھ ہولیے تھے اور مشکل میں ہمیں
جو خود غرضی میں آیا تھا وہ ساتھ ہمارا چھوڑ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چھوڑ گئے اُن کاکیا مذکور۔جو مشکل میں ہمارے ساتھ ہیں
مشکل میں جو ساتھ رہے گا وہ اپنا کہلائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہی ہمارے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشکل ہیں حالات بہت اب جینا ہے آسان کہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حالات اتنے خراب ہیں کہ کہنا آسان نہیں لیکن اُمید ہے
ظالم کچھ دن ظلم کرے گا پھر خود ہی مٹ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ وقت سدا نہیں رہے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ظلم ہمیشہ کب رہتا ہے بالآخر مٹ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ات خدا دا ویر اے (ظلم کی انتہا خدا کے قہر و عِتاب کو دعوت دینا ہے)
پابندی ہے سچ کہنے پر کیسے کوئی بات کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سچ بولنے پر پابندی ہے ،حق گو ئی پرگردن مار ی جاتی ہے
جو بھی حق کی بات کرے گا سر اپنا کٹوائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب نے مرنا ہے ،ہم بھی ،جب وقت آئیگادنیا چھوڑدیں گے(مگر حق گوئی ترک نہ کریں گے)
جان تو جانے والی شے ہے اس کی ہم کیا بات کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محبت آسان نہیں قربانیاں دینا پڑتی ہیں جیسے عشق کو آگ کا دریا ڈوب کر
جانا ہو گا دنیا سے جب وقت ہمارا آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پار کرناہے جیسے سونے کو کندن بننے کےلیے تپتی بھٹی سے گزرنا ہے
الفت کب آسان رہی ہے اب تو اور بھی مشکل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارشد سچے آدمی کی ہی تعریف کرتا ہے،جو خود کو سچاثابت کردے
-----یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ اُس کاہے، بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الفت ہے اک آگ کا دریا، تیر کے جانا پڑتا ہے
سونا جل کر نکلے گا جب وہ کندن بن جائے گا
ارشد جس کو سچا سمجھے اس کے گن ہی گاتا ہے
سچا ثابت کر دو خود کو وہ تیرا بن جائے گا
 
آخری تدوین:
عظیم
(عظیم بھائی اب پسند کر لیں تاکہ میں پیس بک پر لگا سکوں)
---------------
خود غرضی میں جو آیا تھا وہ ساتھ ہمارا چھوڑ گیا
مشکل میں جو ساتھ رہے گا وہ اپنا کہلائے گا
-------
مشکل ہیں حالات بہت اب جینا ہے آسان کہاں
ظلم ہمیشہ کب رہتا ہے کچھ دن میں مٹ جائے گا
---------
پابندی ہے سچ کہنے پر کیسے سچی بات کریں
جو بھی سچی بات کرے گا سیدھا جیل میں جائے گا
----------
جان تو اک دن جا کے رہے گی اس کی ہم کیا بات کریں
جانا پڑے گا دنیا سے جب وقت ہمارا آئے گا
----------
ارشد جس کو سچا سمجھے اس کے ہی گن گاتا ہے
جو بھی سچا ثابت کر دے خود کو اس کا بن جائے گا
 

عظیم

محفلین
عظیم
(عظیم بھائی اب پسند کر لیں تاکہ میں پیس بک پر لگا سکوں)
---------------درست کر لیں تو پسند بھی ہی ہو جائے گی، لیکن اصل چیز درستی ہے آپ کو بھی معلوم ہے

خود غرضی میں جو آیا تھا وہ ساتھ ہمارا چھوڑ گیا
مشکل میں جو ساتھ رہے گا وہ اپنا کہلائے گا
-------اس میں ابھی بھی ایک رکن زائد ہے، پہلے مصرع کا 'وہ' مصرع بے وزن کر رہا ہے، اس کو نکال بھی دیں تو ٹھیک رہتا ہے مصرع، دوسرے کا پہلے سے ربط بھی نہیں بن پا رہا۔ مشکل میں جو ساتھ رہا ہے۔۔ ۔ بہتر ہو سکتا ہے

مشکل ہیں حالات بہت اب جینا ہے آسان کہاں
ظلم ہمیشہ کب رہتا ہے کچھ دن میں مٹ جائے گا
---------دو لختی کی کیفیت ہے، ظلم ہمیشہ کب یہ رہے گا، سے تعلق تو بنتا ہے مگر روانی نہیں لگتی

پابندی ہے سچ کہنے پر کیسے سچی بات کریں
جو بھی سچی بات کرے گا سیدھا جیل میں جائے گا
----------سچی بات ابھی بھی خوامخواہ کا اضافہ لگتا ہے وزن کو پورا کرنے کے لیے، دوسرے میں حق کی بات ہی ٹھیک تھا اگرچہ تنافر تھا، جس کو الفاظ کے ہیر پھیر سے ٹھیک کیا جا سکتا تھا، جیل میں جانا بھی اچھا بیانیہ نہیں بہ نسبت' سر اپنا کٹوائے' کے
جان تو اک دن جا کے رہے گی اس کی ہم کیا بات کریں
جانا پڑے گا دنیا سے جب وقت ہمارا آئے گا
----------ٹھیک

ارشد جس کو سچا سمجھے اس کے ہی گن گاتا ہے
جو بھی سچا ثابت کر دے خود کو اس کا بن جائے گا
دوسرا مصرع بحر کی پٹری سے اترا ہوا لگتا ہے
سچا ثابت کر دے خود کو یہ تیرا...
 
Top