سودی مصائب اور ان کا حل

arifkarim

معطل
کاغذی کرنسی کے خلاف جہاد یا تو مغربی گولڈ بگ کرتے ہیں یا مسلمان۔ مگر اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ سونے یا چاندی وغیرہ پر بیسڈ کرنسی کے کتنے نقصانات ہیں۔
یہ محض آپکا تعصبانہ رویہ ہے۔ فریکشنل ریزرو بینکنگ کی مخالف مختلف معاشی اسکول کرتے آئے ہیں۔ اس سے معاشی سسٹم مستحکم نہیں ہوتا جب آپ ریزرو کرنسی سے کہیں زیادہ قرضے بمع قرض جاری کرتے ہیں تو ان قرضوں کی ادائیگی کیسے ہوگی؟ جب داڑھی سے مونچھ بڑھ گئی تو استحکام کہاں سے آئے گا؟
 

arifkarim

معطل
حالیہ معاشی و مالیاتی نظام کہیں سے بھی مستحکم نہیں ہے۔ یہ مالیاتی بلبلے بناتا ہے۔ کبھی ریل اسٹیٹ میں، کبھی آئی ٹی میں تو کبھی ممالک کے بانڈز میں۔ یہ بلبلے ایک مالیاتی اشرافیہ کیلئے تو فائدہ مند ہیں البتہ عام شہری اسکے فوائد سے محروم رہتے ہیں۔
 

زیک

تقریباً غائب
یہ محض آپکا تعصبانہ رویہ ہے۔ فریکشنل ریزرو بینکنگ کی مخالف مختلف معاشی اسکول کرتے آئے ہیں۔ اس سے معاشی سسٹم مستحکم نہیں ہوتا جب آپ ریزرو کرنسی سے کہیں زیادہ قرضے بمع قرض جاری کرتے ہیں تو ان قرضوں کی ادائیگی کیسے ہوگی؟ جب داڑھی سے مونچھ بڑھ گئی تو استحکام کہاں سے آئے گا؟
ایک تو یہ پتا نہیں چلتا کہ بات کیا ہو رہی ہے۔ پیپر کرنسی، fiat money یا فریکشنل ریزرو بینکنگ۔ یہ مختلف چیزیں ہیں۔

فریکشنل ریزرو بینکنگ کافی کارآمد ہے مگر اس کا حد سے زیادہ استعمال 2008 کی ریسشن کا باعث بنا۔ اسی لئے فیڈ اور بہت سے اکنامسٹس لیوریج کو لمٹ کرنا چاہتے ہیں۔
 

زیک

تقریباً غائب
حالیہ معاشی و مالیاتی نظام کہیں سے بھی مستحکم نہیں ہے۔ یہ مالیاتی بلبلے بناتا ہے۔ کبھی ریل اسٹیٹ میں، کبھی آئی ٹی میں تو کبھی ممالک کے بانڈز میں۔ یہ بلبلے ایک مالیاتی اشرافیہ کیلئے تو فائدہ مند ہیں البتہ عام شہری اسکے فوائد سے محروم رہتے ہیں۔
ایک بار پھر مشورہ ہوں گا کہ کم از کم انیسویں صدی کی معاشی تاریخ پڑھیں
 

عادل اسحاق

محفلین
ایک تو یہ پتا نہیں چلتا کہ بات کیا ہو رہی ہے۔ پیپر کرنسی، fiat money یا فریکشنل ریزرو بینکنگ۔ یہ مختلف چیزیں ہیں۔

فریکشنل ریزرو بینکنگ کافی کارآمد ہے مگر اس کا حد سے زیادہ استعمال 2008 کی ریسشن کا باعث بنا۔ اسی لئے فیڈ اور بہت سے اکنامسٹس لیوریج کو لمٹ کرنا چاہتے ہیں۔


بھائی ان سب باتوں کی ایک زندہ جاوید مثال پچھلی دہائی میں زمباوے ہے جہاں سود کی شرح قریب آٹھ سو تک پہنچی اور بارو سو ارب ڈالر کا نوٹ انگلینڈ کے ایک پاؤنڈ کے برابر ٹھہرا۔
 

عادل اسحاق

محفلین
آپ ریزرو کرنسی سے کہیں زیادہ قرضے بمع قرض جاری کرتے ہیں تو ان قرضوں کی ادائیگی کیسے ہوگی؟ جب داڑھی سے مونچھ بڑھ گئی تو استحکام کہاں سے آئے گا؟

پہلے پہل کاغذی کرنسی کا حال اتنا برا نہیں تھا ۔ اور کاغذی کرنسی حکومت کے پاس موجود سونے چاندی کے ذخائر کے برابر چھاپی گئی لیکن انیس اکہتر کے بعد وہ ایک معاہدہ ٹوٹنے کے بعد کوئی روک ٹوک نا رہی اور بریٹن ووڈ کے ٹوٹنے کے بعد ستر سالوں میں قیمتیں پچاس گنا بڑھ گئی ہیں ۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ
کرنسی نوٹ چھاپنے سے ہماری پرچیز پاور کم ہوتی ہے اور یہ کسی مزدور کی تنخواہ کم کرنے سے زیادہ خطرناک ہے کہ اس کی پرچیز پاور کم ہو ۔
 

arifkarim

معطل
کروگمین کا کہنا ہے کہ کرنسی ڈیجیٹل ہے اسلئے اسکو زیادہ آسانی سے مثبت طور پر مینوپلیٹ کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر بینکس یہ اختیار لے لیا جائے تو کوئی اور یہی کام کریگا۔ الغرض ریگولیشن کے ذریعہ بینکس کی منفی ایکٹیویٹ کو کنڑول کیا جائے۔
اسکی بات بیشک درست ہوتی اگر معیشت کا چھوٹا سا حصہ مالیاتی اداروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ جبکہ حقیقت بالکل مختلف ہے۔ فائننس سیکٹر ہر مالیاتی بحران کے بعد مزید طاقتور ہو جاتا ہے۔
 

زیک

تقریباً غائب
بھائی ان سب باتوں کی ایک زندہ جاوید مثال پچھلی دہائی میں زمباوے ہے جہاں سود کی شرح قریب آٹھ سو تک پہنچی اور بارو سو ارب ڈالر کا نوٹ انگلینڈ کے ایک پاؤنڈ کے برابر ٹھہرا۔
اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ زمبابوے کے مسائل پیپر کرنسی، fiat money یا فریکشنل ریزرو بینکنگ کی وجہ سے ہیں تو آپ کے حالات حاضرہ، سیاسیات اور معاشیات کے علم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ جائیں اور زمبابوے پر کچھ پڑھ کر آئیں۔
 

عادل اسحاق

محفلین
اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ زمبابوے کے مسائل پیپر کرنسی، fiat money یا فریکشنل ریزرو بینکنگ کی وجہ سے ہیں تو آپ کے حالات حاضرہ، سیاسیات اور معاشیات کے علم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ جائیں اور زمبابوے پر کچھ پڑھ کر آئیں۔

میں نے صرف ایک مثال دی ہے ایک ایسے ملک کی جہاں کاغذی کرنسی اپنے اوج کمال :lol:
تک پہنچی ہے
نا کہ اکانومی فلاپ ہونے کی ریزن بتائی ہے ۔ زیک پتا نہیں کیوں آپ کا رویہ ایسا لگتا ہے جیسے آپ اپنی علمیت کا رعب جھاڑ رہے ہوں ۔ معذرت اگر برا لگے تو ۔ مگر دل کی بات اوپن فورم کہہ دی :nailbiting:
 

زیک

تقریباً غائب
پہلے پہل کاغذی کرنسی کا حال اتنا برا نہیں تھا ۔ اور کاغذی کرنسی حکومت کے پاس موجود سونے چاندی کے ذخائر کے برابر چھاپی گئی لیکن انیس اکہتر کے بعد وہ ایک معاہدہ ٹوٹنے کے بعد کوئی روک ٹوک نا رہی
http://crookedtimber.org/2016/02/01...gold-not-on-a-gold-standard-a-from-1934-1971/
 

زیک

تقریباً غائب
میں نے صرف ایک مثال دی ہے ایک ایسے ملک کی جہاں کاغذی کرنسی اپنے اوج کمال :lol:
تک پہنچی ہے
نا کہ اکانومی فلاپ ہونے کی ریزن بتائی ہے ۔ زیک پتا نہیں کیوں آپ کا رویہ ایسا لگتا ہے جیسے آپ اپنی علمیت کا رعب جھاڑ رہے ہوں ۔ معذرت اگر برا لگے تو ۔ مگر دل کی بات اوپن فورم کہہ دی :nailbiting:
زمبابوے کی مثال کے بارے میں میرا جواب یہ ہے کہ آپ کی مثال اتنی غلط ہے کہ مجھے ریفرنس ڈھونڈ کر تفصیل میں جانا بھی گوارا نہیں۔ اب آپ اسے رعب سمجھ لیں یا کچھ اور۔
 

arifkarim

معطل
پہلے پہل کاغذی کرنسی کا حال اتنا برا نہیں تھا ۔ اور کاغذی کرنسی حکومت کے پاس موجود سونے چاندی کے ذخائر کے برابر چھاپی گئی لیکن انیس اکہتر کے بعد وہ ایک معاہدہ ٹوٹنے کے بعد کوئی روک ٹوک نا رہی اور بریٹن ووڈ کے ٹوٹنے کے بعد ستر سالوں میں قیمتیں پچاس گنا بڑھ گئی ہیں ۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ
کرنسی نوٹ چھاپنے سے ہماری پرچیز پاور کم ہوتی ہے اور یہ کسی مزدور کی تنخواہ کم کرنے سے زیادہ خطرناک ہے کہ اس کی پرچیز پاور کم ہو ۔
بالکل درست:
For a century after organized futures exchanges were founded in the mid-19th century, all futures trading was solely based on agricultural commodities. But after the end of the gold-backed fixed-exchange rate system in 1971, contracts based on foreign currencies began to be traded. After the deregulation of interest rates by the Bank of England and then the US Federal Reserve in the late 1970s, futures contracts based on various bonds and interest rates began to be traded. The result was that financial futures contracts—based on such things as interest rates, currencies, or equity indices—came to
dominate the futures markets.
https://en.m.wikipedia.org/wiki/Financializat
ion​
 

عادل اسحاق

محفلین
بالکل درست:
For a century after organized futures exchanges were founded in the mid-19th century, all futures trading was solely based on agricultural commodities. But after the end of the gold-backed fixed-exchange rate system in 1971, contracts based on foreign currencies began to be traded. After the deregulation of interest rates by the Bank of England and then the US Federal Reserve in the late 1970s, futures contracts based on various bonds and interest rates began to be traded. The result was that financial futures contracts—based on such things as interest rates, currencies, or equity indices—came to
dominate the futures markets.
https://en.m.wikipedia.org/wiki/Financializat
ion​


لیکن ان بھائی کی ڈیرھ اینٹ وکھری ہے پھر بھی لکھ رکھو یہ بات ۔
 
Top