سودا ہمارے سر میں تجھے چاہنے کا تھا

فاروقی

معطل
سودا ہمارے سر میں تجھے چاہنے کا تھا
عہدِ شروعِ عشق بھی کس معرکے کا تھا

محرومِ پیش رفت رہے ہم سے خوش خرام
دشتِ زیاں میں اپنا سفر دائرے میں تھا

پیمائشِ سفر نے کئے حوصلے تمام
ہر سنگِ میل، سنگ مرے راستے کا تھا

میں خود پہ ہنس رہا تھا زمانے کے ساتھ ساتھ
وہ مرحلہ بھی عشق میں کس حوصلے کا تھا !

سن کر ہماری بات یہ کیا حال کر لیا ؟؟؟
تم رو پڑے ؟ یہ وقت دعا مانگنے کا تھا

نکلی تھی مدتوں میں‌ملاقات کی سبیل
تشنہ کہو یہ کون سا موقع گِلے کا تھا

(عالمتاب تشنہ)
 

نوید صادق

محفلین


پیمائشِ سفر نے کئے حوصلے تمام
ہر سنگِ میل، سنگ مرے راستے کا تھا

(عالمتاب تشنہ)

بھائی! عالمتاب تشنہ بہت خوبصورت لب و لہجہ کے شاعر تھے۔ مرحوم کی اک دکا غزلیں نظر سے گزر سکیں۔
اگر آپ کے پاس ان کا کائی مجموعہ کلام ہو تو مزید کلام اپ لوڈ کریں۔
تبرکا" ان کا ایک شعر جو مجھے بہت پسند ہے۔

ٹھہرے ہوئے طوفان کا منظر نہیں دیکھا
دیکھو مجھے گر تم نے سمندر نہیں دیکھا
 
Top