سوئٹزرلینڈ اور شہریوں کا بنیادی حق آمدن!

arifkarim

معطل
160524134112-switzerland-basic-income-780x439.jpg

یورپ میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور غربت کے پیش نظر سوئٹزرلینڈ جیسے امیر اور مستحکم ملک نے اپنے ہر شہری کیلئے بنیادی ماہانہ انکم سپورٹ پروگرام پر ریفرنڈم کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 5 جون کو سوئس قوانین کے تحت تمام شہری اس ریفرنڈم میں حصہ لیکر اپنا حق رائے استعمال کریں گے۔
پروگرام کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بغیر کسی تحریک یا مطالبے کے تمام شہریوں میں انکم کی تقسیم ٹیکس دہندگان پر زائد بوجھ ثابت ہوگا ۔ اس سے معاشرے میں کام چوری بڑھے گی اور لوگ کام کرنے کی بجائے انکم سپورٹ کے سہارے جیتے رہیں گے۔
جبکہ اسکیم کے حق میں دلائل دینے والوں کا ماننا ہے کہ چونکہ سوئٹزرلینڈ ایک امیر ملک ہے اسلئے یہ اس بنیادی انکم کا خرچہ برداشت کر سکتا ہے۔ نیز یہ کہ آنے والے وقتوں میں ٹیکنالوجی بیسڈ جابز کی وجہ سے مینول لیبر کی ضرورت نہیں رہی، یوں بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور غربت کے توڑ کیلئے یہ اقدامات نہایت ضروری ہیں۔
حالیہ پولز کے مطابق سوئس لوگوں کی اکثریت اس پروگرام کے حق میں نہیں ہے، البتہ اگر بالفرض یہ پاس ہو بھی جاتا ہے تو ماہانہ 2500 ڈالر ز کی بنیادی انکم، سوئس معیار زندگی کے حساب سے ناکافی ہے۔ یاد رہے کہ اسوقت صرف سوئٹزرلینڈ ہی نہیں بلکہ یورپ کے دیگر ممالک جیسے فن لینڈبھی بنیادی انکم پروگرام اپنے شہریوں کیلئے اگلے سال سے شروع کر رہے ہیں۔ اسلئے ہم امید کر سکتے ہیں کہ ان پروگرامز کے نتائج بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام جیسے بدنما ہرگز نہیں نکلیں گے۔
ماخذ سی این این
 

زیک

تکنیکی معاون
سوئٹزرلینڈ بہت قدامت پسند ہے۔ وہاں فیڈرل الیکشنز میں خواتین کو ووٹ 1971 میں دیا گیا اور ایک کینٹن میں لوکل الیکشن میں 1991 میں۔ لہذا وہاں اس ریفرنڈم کی کامیابی کا چانس کافی کم ہے۔
 

زیک

تکنیکی معاون
سوئٹزرلینڈ کا پروگرام کم از کم ۲۵۰۰ فرانک ماہانہ کی گارنٹی دے گا۔ یعنی اگر آپ اس سے زیادہ کماتے ہیں تو کچھ نہیں ملے گا اور اگر اس سے تھوڑا سا کم تو بہت معمولی رقم ملے گی۔ ایسے پروگرام میں زیادہ کام کرنے یا تنخواہ بڑھانے کا incentive نہیں ہوتا۔ یہ مسائل پیدا کرتا ہے۔ اگر پروگرام کو یونیورسل کر دیا جائے تو اس کی لاگت بہت بڑھ جاتی ہے۔
 

یاز

محفلین
میں بھی زیک بھائی کی بات سے متفق ہوں۔ خیالی دنیاؤں کے باسی مفکروں، شاعروں وغیرہ کی نظروں میں ملعون و مطعون ہونے کے باوجود سرمایہ دارانہ نظام کی "کامیابی" کا راز یہ بھی ہے کہ یہ نظام (جسمانی اور ذہنی) محنت کی ترغیب دیتا ہے۔ مقابلے کا رجحان پیدا کرتا ہے، اور ریاستی پیداوار میں اضافے کی مسلسل جاری کاوشوں میں نجی شعبے کو بھی شریک کرتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ یا دوسرے امیر ممالک کے کیس میں بنیادی حقِ آمدن کو اگر تمام عوام الناس پہ لاگو کر دیا گیا تو اس کی لاگت بھی بے تحاشا ہو گی اور کچھ ہی عرصے میں دیگر مسائل بھی سامنے آنا شروع ہو سکتے ہیں۔ ہاں اگر کچھ شرائط کے ساتھ لاگو کیا جائے جیسے صرف بیمار، معذور یا معمر افراد کے لئے تو زیادہ حرج نہیں۔ لیکن ویسا نظام تو شاید ابھی بھی مستعمل ہو گا۔
 

کعنان

محفلین
السلام علیکم

بے روزگاری کی صورت میں جاب سیکر الاؤنس ملتا ہے، جس پر جاب تلاش کرنے کے لئے سینٹر ایڈوائزر ایک لسٹ دیتا لے جس میں تمام کمپنیوں کے ویب ایڈریسیز ہوتے ہیں اس کے ساتھ ایک سرکاری ویب سائٹ ہے جو ان کی اپنی ہوتی ہے وہاں رجسٹرڈ ہونا پڑتا ہے، اور آنلائن جاب تلاش کرنی پڑتی ہیں، اگر گھر میں نٹ موجود نہیں تو بے شمار لائبریریاں ہیں وہاں انٹرنٹ سروس فری ہوتی ہے وہاں سے بھی جاب تلاش کرنے کے لئے فری نٹ استعمال کیا جا سکتا ہے، جاب سیکر الاؤنس پر ہر 15 دن بعد جاب سینٹر جا کر رپورٹ پیش کرنی ہوتی ہے کہ کہاں کہاں جاب کے لئے اپلائی کیا کہاں انٹرویو ہوا اور سرکاری ویب سائٹ پر وہ خود ہی اسی وقت دیکھ لیتے ہیں کہ اس دو ہفتوں میں اس پر کتنی مرتبہ جاب چیک کی یا اپلائی کی اس دوران کے پاس چائس ہے کہ وہ جس کام میں مہارت رکھتا ہے وہی جاب تلاش کرتا ہے، ایسا 6 مہینے تک چلتا ہے اس کے بعد پھر وہ خود جاب سرچ کر کے انہیں کمپنیوں میں بھیجتے ہیں چاہے کلیننگ کی جاب ہی کیوں نہ ہو، 1 سال تک اگر جاب نہ ملے تو پھر وہ اسے کسی اور پروفیسشن پر ٹریننگ مہیا کرتے ہیں اور اسی دوران پارٹ ٹائم جاب تلاش کی جاتی ہے۔ اگر کسی بھی وجہ سے یہ معلوم ہو جائے کہ جاب سیکر جاب نہیں کرنا چاہتا پھر اس دوران اس کے بینیفٹس بند کر دئے جاتے ہیں۔

انکم سپورٹ اس کو ملتی ہے جو خواتین سنگل ماں ہوتی ہیں، جیسے کسی لڑکی یا عورت کے بچے ہیں اور اس کا خاوند ہو یا دوست جس کے ساتھ وہ رہتی رہی ہے اور انہوں نے علیحدگی اختیار کر لی ہو، یہ عورت انکم سپورٹ اپلائی کر سکتی ہے اور اس پر کبھی بھی کہیں بھی دستخط کرنے نہیں جانا پڑتا۔ پہلے اس پر جو قانون تھا کہ 1، 2، 3، 4، 5 بچہ یا بچے ہیں تو آخری بچہ جب تک 18 سال کا نہ ہو جائے تب تک انکم سپورٹ ملتی رہتی تھی مگر اب اس قانون میں تبدیلی ہو گئی ہے بچہ 6 سال کا ہو گیا ہے تو سنگل ماں کو پارٹ ٹائم جاب کرنی پڑے گی، جس پر دیکھا جائے گا کہ کتنے بچوں کی کفالت ہے اور اس تنخواہ میں اخراجات پورے ہوتے ہیں یا نہیں جس پر انکم سپورٹ بند ہو جائے گی یا اس دوران اگر اسے کوئی فرینڈ مل گیا یا پہلے خاوند سے صلح ہو گئی تب بھی انکم سپورٹ بند ہو جاتی ہے۔

سویٹزرلینڈ اکثر ہالیڈے پر جانا ہوتا ہے بہت ہی مہنگا ملک ہے جو چیز برطانیہ میں 1پاؤنڈ کی ہے وہی چیز وہاں 5 فرانک میں ملتی ہے۔ جیسا اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اگر سپورٹ ملتی ہے تو یہ ہو گا وہ ہو گا ایسا کچھ نہیں، جو لوگ ٹیکس دیتے ہیں اسی سے ہی سپورٹ ملتی ہے، اور جب قانون بنے گا تب نظام بھی ویسا ہی متعارف ہو گا اور اسی کے مطابق سارا سیٹ اپ بھی تیار ہو گا جیسا میں نے برطانیہ سے لکھا ہے۔

والسلام
 
آخری تدوین:

کعنان

محفلین
السلام علیکم

ہاں اگر کچھ شرائط کے ساتھ لاگو کیا جائے جیسے صرف بیمار، معذور یا معمر افراد کے لئے تو زیادہ حرج نہیں۔ لیکن ویسا نظام تو شاید ابھی بھی مستعمل ہو گا۔

ایک ایک پر تفصیلی لکھوں گا تو صفحے بھر جائیں گے، اس لئے سمجھنے کے لئے بیسک تھیوڑی پیش کر دیتا ہوں۔

ہمارے یہاں اگر تو نوکری کے دوران بیمار ہوتے ہیں اس پر ڈاکٹر جہاں سے آپ علاج کروا رہے ہوں وہ ڈاکٹر بیماری پر چھٹیوں کے لئے ایک سرٹیفکیٹ یا کاغذ کہہ لیں لکھ کر دیتا ہے، جو کمپنی میں جمع کروا دیں تو کمپنی سوشل سکیورٹی سے اتنے دن کا معاوضہ لے کر دیتی ہے جو تنخواہ کے وقت نہیں ملتا بلکہ تھوڑا وقت لگتا ہے۔

کچھ بیماریاں ہیں جن میں 6 مہینے علاج کے بعد معذور کا لیٹر مل جاتا ہے۔

معذور کو بینیفٹس زیادہ ملتے ہیں نارمل انسان کی بیماری سے۔

کام کرنے کی عرم مرد 65 سال کی عمر اور عورت کے لئے 60 سال ہے۔ اس کے بعد پینشن۔

معذور و معمر کو ٹرانسپورٹ مفت ہے پورے برطانیہ میں جس پر انہیں کونسل کارڈ جاری کرتی ہے۔

نارمل انسان اگر جاب کرتا ہے تو اس کی بیماری پر تنخواہ کی ایک حد ہے اگر اس حد سے نیچے تنخواہ ہو تو پھر ڈاکٹر ٹریٹمنٹ اور ادویات مفت، اور اگر اس حد سے زیادہ تنخواہ ہے تو پھر ٹریٹمنٹ فری مگر ادویات خود خریدنی پڑتی ہیں۔ اور جاب نہیں پھر بھی یہ دونوں فری، اور بچے کی بیماری پر باپ کی تنخواہ سے کوئی واسطہ نہیں بچوں کو یہ سب مفت ہے۔

والسلام
 

arifkarim

معطل
میں بھی زیک بھائی کی بات سے متفق ہوں۔ خیالی دنیاؤں کے باسی مفکروں، شاعروں وغیرہ کی نظروں میں ملعون و مطعون ہونے کے باوجود سرمایہ دارانہ نظام کی "کامیابی" کا راز یہ بھی ہے کہ یہ نظام (جسمانی اور ذہنی) محنت کی ترغیب دیتا ہے۔ مقابلے کا رجحان پیدا کرتا ہے، اور ریاستی پیداوار میں اضافے کی مسلسل جاری کاوشوں میں نجی شعبے کو بھی شریک کرتا ہے۔
آپکی بات درست ہے یاز پر اس "محنت" کی بھی کچھ حدود و قیود ہیں۔ یہ سچ ہے کہ اس نظام کے تحت معیشت میں افیشنسی و جدت پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اسی کا ایک سائیڈ ایفیکٹ یہ بھی ہے کہ وہ کام جو پہلے انسان کرتے تھے، اب ٹیکنالوجی بیسٹ کمپیوٹر پروگرامز اور روبوٹس کر رہے ہیں۔ ہم انہیں بنانے والے اور چلانے لوگوں کو تنخواہیں تو دے سکتے ہیں البتہ جنکی جابز کو انہوں نے ریپلیس کیا ہے ، انکا کیا؟
میری بہن ناروے کی ایک نامور کمپنی میں آئی فون ایپ ڈویلپر ہیں۔ انکے مطابق انکی کمپنی کا موٹو ہی یہی ہے ایسے پروگرام بناؤ جو موجودہ جابز کو معدوم کر دیں۔ اسے بڑی بڑی کمپنیوں کے مالکان "خرچہ بچانا" کہتے ہیں۔ یعنی اگر 10 ملین ڈالر کا پروگرام ایک بار خرید کر 2ملین ڈالرلاگت کی جابز کٹوتی کی جا سکتی ہے تو وہ انکے نزدیک لاگ ٹرم "افیشنسی" ہے۔ یہ بڑھتے ہوئے بیروزگار قومی معیشت پر بوجھ بنتے ہیں، اسکی اس سرمایہ دارانہ نظام کو کوئی فکر نہیں۔ کیونکہ اسکا مقصد حیات تو کم سے کم لوگوں سے زیادہ زیادہ کام لیناہے (افیشنسی)۔ اب اسکے بدلے میں لوگوں کی جابز اوریوں انکم جاتی ہے تو جائے، انہیں کوئی پرواہ نہیں۔ اسی لئے اس قسم کے انکم اسپورٹ پروگرام نہایت ضروری ہیں تاکہ قومی معیشت کا پہیا گھومتا رہے۔

فلاحی ریاست کے طور پر سوئیڈن کے معاشی نظام پر بھی روشنی ڈالیے اور ہمیں بتلائیے
سوئٹزرلینڈ یا دوسرے امیر ممالک کے کیس میں بنیادی حقِ آمدن کو اگر تمام عوام الناس پہ لاگو کر دیا گیا تو اس کی لاگت بھی بے تحاشا ہو گی اور کچھ ہی عرصے میں دیگر مسائل بھی سامنے آنا شروع ہو سکتے ہیں۔ ہاں اگر کچھ شرائط کے ساتھ لاگو کیا جائے جیسے صرف بیمار، معذور یا معمر افراد کے لئے تو زیادہ حرج نہیں۔ لیکن ویسا نظام تو شاید ابھی بھی مستعمل ہو گا۔

جی یہی نظام تو ابھی بھی مختلف اشکال میں رائج ہے پر اسکا بیروکریٹک خرچہ اتنا زیادہ ہے کہ اسکو مزید افیشنٹ بنانے کیلئے تمام شہریوں کو بنیادی انکم اسپورٹ دئے جانے پر ریفرنڈم کروایا جا رہا ہے۔
 

زیک

تکنیکی معاون
میری بہن ناروے کی ایک نامور کمپنی میں آئی فون ایپ ڈویلپر ہیں۔ انکے مطابق انکی کمپنی کا موٹو ہی یہی ہے ایسے پروگرام بناؤ جو موجودہ جابز کو معدوم کر دیں۔ اسے بڑی بڑی کمپنیوں کے مالکان "خرچہ بچانا" کہتے ہیں۔ یعنی اگر 10 ملین ڈالر کا پروگرام ایک بار خرید کر 2ملین ڈالرلاگت کی جابز کٹوتی کی جا سکتی ہے تو وہ انکے نزدیک لاگ ٹرم "افیشنسی" ہے۔ یہ بڑھتے ہوئے بیروزگار قومی معیشت پر بوجھ بنتے ہیں، اسکی اس سرمایہ دارانہ نظام کو کوئی فکر نہیں۔ کیونکہ اسکا مقصد حیات تو کم سے کم لوگوں سے زیادہ زیادہ کام لیناہے (افیشنسی)۔ اب اسکے بدلے میں لوگوں کی جابز اوریوں انکم جاتی ہے تو جائے، انہیں کوئی پرواہ نہیں۔
کیا بےروزگاری آج کل ٹیکنالوجی کے دور سے پہلے کی نسبت زیادہ ہے؟ اگر نہیں تو پھر آپ کا استدلال غلط ہے۔
 

زیک

تکنیکی معاون
جی یہی نظام تو ابھی بھی مختلف اشکال میں رائج ہے پر اسکا بیروکریٹک خرچہ اتنا زیادہ ہے کہ اسکو مزید افیشنٹ بنانے کیلئے تمام شہریوں کو بنیادی انکم اسپورٹ دئے جانے پر ریفرنڈم کروایا جا رہا ہے۔
موجودہ ویلفیئر نظام کا کتنا فیصد بیوروکریٹک خرچہ ہے؟
 

arifkarim

معطل
کیا بےروزگاری آج کل ٹیکنالوجی کے دور سے پہلے کی نسبت زیادہ ہے؟ اگر نہیں تو پھر آپ کا استدلال غلط ہے۔
نئی جابز کی مارکیٹ میں تشریف آوری کیلئے معاشی ترقی ضروری ہے۔ 2007-2008 کے عالمی اقتصادی بحران کے بعد اس ترقی میں واضح کمی آئی ہے۔ یوں قرضوں کے بوجھ تلے دبے ممالک کی جاب مارکیٹ تو تباہ ہوئی ہے، جنکی مضبوط معیشت ہے وہ بھی اس سے زیادہ عرصہ تک آزادنہیں رہ سکتے۔ اسپر ستم یہ کہ ٹیکنالوجیکل بے روزگاری کم نہیں ہوئی بلکہ مزید بڑھی ہے:

Traditionally, elements like productivity, jobs, hourly wages, and income all grew in unison. However, during the last 30 years GDP and productivity grew while the US median income stopped and employment flattened, Wallach writes in his new book. Technology innovation has played a significant role in this trend.

“For most of our history 50% of GDP went to wages and 50% went to capital, and we are seeing a radical alteration in that largely because of the anomalies of money being made in high tech industries,” he said. “That’s not anybody doing anything wrong, that’s just technology industries are different from old manufacturers."

So, for example, in 1990 GM, Ford, and Chrysler brought in $36 billion in revenue and hired over a million workers, Wallach said. The big three today — Apple, Facebook, and Google — bring in over a trillion dollars in revenue and only have about 137,000 workers, he said.

This change has created a situation where more and more of the capital is going to a smaller percentage of the population. In fact, we are on course for 70% of stock ownership to be held by 5% of the population, Wallach said.

This is a dangerous scenario because it could potentially lead to massive social unrest, possibly even revolutions.

"When people no longer receive the money from wages they need to support their families, it is hard to know what they will do, but in the past and in other countries this has been thought of as a situation ripe for a revolution," Wallach said
دوسرا اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ صرف جابز کا ہونا کافی نہیں ہے۔ جابز کیساتھ اچھی انکم کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ایسے فل ٹائم کام کا کیا فائدہ جب وہاں سے موصول ہونے والی انکم ہی ایک اچھے معیار زندگی کیلئے ناکافی ہو۔ انکم اسپورٹ پروگرامز کیپٹل کو زیادہ سے زیادہ ہاتھوں میں تقسیم کریں گے بجائے اس بڑھتے ٹرینڈ کو جو کم سے کم ہاتھوں میں جا رہا ہے۔

موجودہ ویلفیئر نظام کا کتنا فیصد بیوروکریٹک خرچہ ہے؟
سوئٹزرلینڈ کا تو نہیں پتا البتہ ناروے میں کچھ سال قبل رپورٹ آئی تھی کہ بجٹ کا 35 فیصد حصہ ان پروگرامز میں چلا جاتا ہے۔
 

arifkarim

معطل
بجٹ کا 35 فیصد تو کل ویلفیئر میں جاتا ہے۔ اس میں سے administrative cost کتنی ہے؟
زیک مسئلہ ایڈمنسٹریٹو کاسٹ سے زیادہ مختلف اقسام کے بینی فٹس کو ختم کر کے ایک پر لانا ہے۔ یوں اخراجات اپنے آپ کم ہو جاتے ہیں۔ جیسے ذیل میں دیکھیں:
  • Sosiale formål: 314 milliarder
  • Helsetjenester: 25 milliarder
  • Foreldrepenger: 18 milliarder
  • Arbeidsliv: 12 milliarder
یہاں سوشل، صحت، بچوں اور کام کے بینی فٹس الگ الگ دینے کی بجائے سب کو ایک بیسک انکم اسپورٹ میں بلا تفریق بانٹ دیا جائے تو اخراجات میں کمی آئی گی۔
 

زیک

تکنیکی معاون
نئی جابز کی مارکیٹ میں تشریف آوری کیلئے معاشی ترقی ضروری ہے۔ 2007-2008 کے عالمی اقتصادی بحران کے بعد اس ترقی میں واضح کمی آئی ہے۔ یوں قرضوں کے بوجھ تلے دبے ممالک کی جاب مارکیٹ تو تباہ ہوئی ہے، جنکی مضبوط معیشت ہے وہ بھی اس سے زیادہ عرصہ تک آزادنہیں رہ سکتے۔ اسپر ستم یہ کہ ٹیکنالوجیکل بے روزگاری کم نہیں ہوئی بلکہ مزید بڑھی ہے:

Traditionally, elements like productivity, jobs, hourly wages, and income all grew in unison. However, during the last 30 years GDP and productivity grew while the US median income stopped and employment flattened, Wallach writes in his new book. Technology innovation has played a significant role in this trend.

“For most of our history 50% of GDP went to wages and 50% went to capital, and we are seeing a radical alteration in that largely because of the anomalies of money being made in high tech industries,” he said. “That’s not anybody doing anything wrong, that’s just technology industries are different from old manufacturers."

So, for example, in 1990 GM, Ford, and Chrysler brought in $36 billion in revenue and hired over a million workers, Wallach said. The big three today — Apple, Facebook, and Google — bring in over a trillion dollars in revenue and only have about 137,000 workers, he said.

This change has created a situation where more and more of the capital is going to a smaller percentage of the population. In fact, we are on course for 70% of stock ownership to be held by 5% of the population, Wallach said.

This is a dangerous scenario because it could potentially lead to massive social unrest, possibly even revolutions.

"When people no longer receive the money from wages they need to support their families, it is hard to know what they will do, but in the past and in other countries this has been thought of as a situation ripe for a revolution," Wallach said
دوسرا اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ صرف جابز کا ہونا کافی نہیں ہے۔ جابز کیساتھ اچھی انکم کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ایسے فل ٹائم کام کا کیا فائدہ جب وہاں سے موصول ہونے والی انکم ہی ایک اچھے معیار زندگی کیلئے ناکافی ہو۔ انکم اسپورٹ پروگرامز کیپٹل کو زیادہ سے زیادہ ہاتھوں میں تقسیم کریں گے بجائے اس بڑھتے ٹرینڈ کو جو کم سے کم ہاتھوں میں جا رہا ہے۔


سوئٹزرلینڈ کا تو نہیں پتا البتہ ناروے میں کچھ سال قبل رپورٹ آئی تھی کہ بجٹ کا 35 فیصد حصہ ان پروگرامز میں چلا جاتا ہے۔
یہ گراف دیکھیں:

https://research.stlouisfed.org/fred2/series/EMRATIO
 

زیک

تکنیکی معاون
زیک مسئلہ ایڈمنسٹریٹو کاسٹ سے زیادہ مختلف اقسام کے بینی فٹس کو ختم کر کے ایک پر لانا ہے۔ یوں اخراجات اپنے آپ کم ہو جاتے ہیں۔ جیسے ذیل میں دیکھیں:
  • Sosiale formål: 314 milliarder
  • Helsetjenester: 25 milliarder
  • Foreldrepenger: 18 milliarder
  • Arbeidsliv: 12 milliarder
یہاں سوشل، صحت، بچوں اور کام کے بینی فٹس الگ الگ دینے کی بجائے سب کو ایک بیسک انکم اسپورٹ میں بلا تفریق بانٹ دیا جائے تو اخراجات میں کمی آئی گی۔
اخراجات میں کمی آئے گی مگر کتنی؟ یہ بھی یاد رہے کہ بیسک انکم کی distribution موجودہ ویلفیئر پروگرامز سے مختلف ہو گی۔ کچھ لوگوں کو اب کی نسبت کم اور دوسروں کو زیادہ پیسے ملیں گے۔ اب یہ پالیسی میکرز کو دیکھنا ہے کہ یہ فرق اچھا ہو گا یا برا۔
 

زیک

تکنیکی معاون
  • Sosiale formål: 314 milliarder
  • Helsetjenester: 25 milliarder
  • Foreldrepenger: 18 milliarder
  • Arbeidsliv: 12 milliarder
کل 369 ارب کرون سالانہ۔ ناروے کی کل آبادی 5 ملین ہے۔ یعنی اگر یہی رقم ہر شخص کو دی جائے تو 73800 کرون سالانہ یا 6150 کرون ماہانہ ہوئے۔ ناروے میں median income تقریبا 10000 کرون ماہانہ ہے اور غربت اس سے آدھی آمدن کو سمجھا جاتا ہے۔ لہذا ناروے کے لئے یہ ممکن ہے کہ تمام ناروجینز کو بیسک انکم کے ذریعہ غربت سے نکال لے۔

امریکہ میں poverty line تقریا 11600 ڈالر سالانہ ہے۔ آبادی 319 ملین ہے۔ یعنی اگر پاورٹی لائن جتنی بیسک انکم دی جائے تو کل 3.7 ٹریلین ڈالر سالانہ بنتے ہیں جو کل بجٹ کے برابر ہے۔
 

arifkarim

معطل
امریکہ میں poverty line تقریا 11600 ڈالر سالانہ ہے۔ آبادی 319 ملین ہے۔ یعنی اگر پاورٹی لائن جتنی بیسک انکم دی جائے تو کل 3.7 ٹریلین ڈالر سالانہ بنتے ہیں جو کل بجٹ کے برابر ہے۔
امریکہ کی آبادی کے حساب سے وہاں ممکن نہیں ہے۔ البتہ کم آبادی والے چھوٹے ممالک جیسے ناروے، سوئٹزرلینڈ وغیرہ میں تو ممکن ہونا چاہئے۔ اوپر آپنے جو تقریباً 6000 کرونز کا حساب لگایا ہے، یہ بھی درست ہے۔ اسوقت ایک شول بینی فٹس لینے والے کو کم و بیش اتنے ہی ماہانہ ملتے ہیں یہاں۔
ویسے امریکی جی ڈی پی18 ٹریلین اور بجٹ تقریباً 4 ٹریلین ڈالرزسالانہ ہے۔ آپکے خیال میں یہ زیادہ ہے یا کم ہے؟
 

عثمان

محفلین
آپکی بات درست ہے یاز پر اس "محنت" کی بھی کچھ حدود و قیود ہیں۔ یہ سچ ہے کہ اس نظام کے تحت معیشت میں افیشنسی و جدت پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اسی کا ایک سائیڈ ایفیکٹ یہ بھی ہے کہ وہ کام جو پہلے انسان کرتے تھے، اب ٹیکنالوجی بیسٹ کمپیوٹر پروگرامز اور روبوٹس کر رہے ہیں۔ ہم انہیں بنانے والے اور چلانے لوگوں کو تنخواہیں تو دے سکتے ہیں البتہ جنکی جابز کو انہوں نے ریپلیس کیا ہے ، انکا کیا؟
میری بہن ناروے کی ایک نامور کمپنی میں آئی فون ایپ ڈویلپر ہیں۔ انکے مطابق انکی کمپنی کا موٹو ہی یہی ہے ایسے پروگرام بناؤ جو موجودہ جابز کو معدوم کر دیں۔ اسے بڑی بڑی کمپنیوں کے مالکان "خرچہ بچانا" کہتے ہیں۔ یعنی اگر 10 ملین ڈالر کا پروگرام ایک بار خرید کر 2ملین ڈالرلاگت کی جابز کٹوتی کی جا سکتی ہے تو وہ انکے نزدیک لاگ ٹرم "افیشنسی" ہے۔ یہ بڑھتے ہوئے بیروزگار قومی معیشت پر بوجھ بنتے ہیں، اسکی اس سرمایہ دارانہ نظام کو کوئی فکر نہیں۔ کیونکہ اسکا مقصد حیات تو کم سے کم لوگوں سے زیادہ زیادہ کام لیناہے (افیشنسی)۔ اب اسکے بدلے میں لوگوں کی جابز اوریوں انکم جاتی ہے تو جائے، انہیں کوئی پرواہ نہیں۔ اسی لئے اس قسم کے انکم اسپورٹ پروگرام نہایت ضروری ہیں تاکہ قومی معیشت کا پہیا گھومتا رہے۔




جی یہی نظام تو ابھی بھی مختلف اشکال میں رائج ہے پر اسکا بیروکریٹک خرچہ اتنا زیادہ ہے کہ اسکو مزید افیشنٹ بنانے کیلئے تمام شہریوں کو بنیادی انکم اسپورٹ دئے جانے پر ریفرنڈم کروایا جا رہا ہے۔
اگر موجودہ ٹیکنالوجی نہ ہوتی تو آپ اور آپ کی بہن موجودہ روزگار سے وابستہ نہ ہوتے۔ درحقیقت اگر جدید ٹیکنالوجی نہ ہوتی تو دنیا کے بیشتر لوگ کسان، موچی یا ترخان ہی ہوتے۔ روز اول سے اب تک انسان کی آبادی اور ٹیکنالوجی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کسی نہ کسی تناسب سے روزگار بھی مسلسل بڑھ رہا ہے ورنہ یہ بڑھتی آبادی موجود نہ رہ پاتی۔
ٹیکنالوجی روزگار reallocate کرتی ہے۔ اسےختم نہیں کرتی۔
 
Top