سندھ کے صوفیاء کرام کی شاعری

طارق حیات نے 'سندھی فورم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 3, 2014

  1. طارق حیات

    طارق حیات محفلین

    مراسلے:
    84
    موڈ:
    Brooding
  2. طارق حیات

    طارق حیات محفلین

    مراسلے:
    84
    موڈ:
    Brooding
    گولا جي گِراهَ جا، جُوٺا سي جوڳِي؛
    ڦِٽَلَ سي ڦوڳِي، جِنِ شِڪَمَ سانڍِيا.

    Those who are slaves of food morsels, are fake yogis
    The one who took care of their bulging bellies are deserted like bitter fruit

    Hazrat Shah Abdul Latif Bhittai
     
  3. طارق حیات

    طارق حیات محفلین

    مراسلے:
    84
    موڈ:
    Brooding
    اسان نُون عشق، وي يارو، اڃا ديوان نهين ڪيتا
    هئےهئے ميڏے جو سر اُتے، برهه باران نهين ڪيتا
    (ابھی تک ، اے دوستو، عشق نے مجھے دیوانہ نہیں بنایا
    سد افسوس کہ میرے سر پر ابر عشق نہیں برسا )

    ڪرم ڪرڪے اڱڻ ميڏے، جو آيا هڪ ڏينهن ساجن
    افسوس هے ميڪون، مين سر قربان نهين ڪيتا
    (ایک دن میرے اوپر مہربانی کرکے میرا ساجن میرے آنگن آیا
    افسوس کے میں نے اس پر اپنا سر قربان نہیں کیا)

    ڏاڍے غمزے جو غم دے پئے، مين تان حيران هو رهيان
    سنّيان وچون حال ميڏے تے، ڪهين ارمان نهين ڪيتا
    (میرے اوپر اتنے غم کے پہاڑ ٹوٹے کہ میں حیران رہ گئی
    اے پیارے، میرے اس حال پر کسی نے ارمان تک نہیں کیا)

    سارا احوال اِهو ڪِس نون، سنّيان مين آک سڻاوان
    مين بيدردان دے دروازي، سڄڻ سيران نهين ڪيتا
    (اے پیارے ،میں یہ سارا احوال کس کو جا کر سناؤں
    میں بیدردوں کے دروازے پر پڑی ہوئی ہوں جسے محبوب نے سیراب نہیں کیا)

    اها واءِ واءِ دل ميڏي، ڪريندي لک فريادان
    اهين ڪثرت وچون مين تان، سهي سلطان نهين ڪيتا
    (یہ میرا دل ہائے ہائے کی لاکھوں فریادیں بلند کر رہا ہے
    اسی کثرت میں سے میں نے اپنے سلطان (محبوب) کو پہچانا نہیں (وحدت کو حاصل نہیں کیا)

    اساڏے عشق دا اصلون، ڪفر تي دين هے دشمن
    اساڏے قلب وچ ڪلمه، جنهن مسلمان نهين ڪيتا
    (ہمارے عشق کا اصل میں کفر اور تقلیدی دین دشمن رہے ہیں
    یہی وجہ ہے کہ اس کلمہ نے بھی مجھے مسلمان نہیں کیا)

    اساڪون معلوم سڀ مرشد، ڪيتے اسرار اُهين دے
    ڪسي ڪون نينهن رے نادان، مذهب مردان نهين ڪيتا
    (ہمیں معلوم ہے اے پیر مغاں، کہ سارے اسرار اُسی کے ہیں
    کسی کو مذہب نے عشق کہ بغیر مرد (ہمت والا) نہیں بنایا

    اها عبرت تماشے دي، سچل ڪُون هے عمر ساري
    پيارے نال جهاتي دے، ميڪون مستان نهين ڪيتا
    (اس تماشے کی عبرت سچل کو ساری عمر رہی ہے
    کہ محبوب نے ایک جھلک دکھا کر مجھے مست نہیں کیا)

    __________________
    حضرت صوفی سچل فقیر سرمست
     
  4. طارق حیات

    طارق حیات محفلین

    مراسلے:
    84
    موڈ:
    Brooding
    خاص بَاشی جان و تن را کن گداز۔ عَام را راہ خدا روزہ نماز
    جُز گدازی تن بنا شد حاصیلی۔ گر گذری اندرین راہ واصیلی
    ای برادر اندراین رہ شو گداز۔ بگذری تو از نشیب و از فراز

    اگر تم خاص بننا چاہتے ہو تو جان اور تن کو مسمار کرو۔ عام لوگوں کے واسطے خدا کی راہ میں روزہ اور نماز ہے۔
    تن کو فنا کرنے کے سواء کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اگر تم خود کو ختم کردوگے تو تمہیں وصال نصیب ہوگا۔
    ای برادر، اس رستے میں اپنے آپ کو مسمار کرو۔ تو پھر تم اونچایوں گہرائیوں سے گذر جاؤگے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حضرت صوفي سچل فقير سرمست قدس سره العزيز
     
  5. طارق حیات

    طارق حیات محفلین

    مراسلے:
    84
    موڈ:
    Brooding
    درد دوائي محبوب جنهن ڪون، عشق طبيب ک۔ِ۔وائ۔ي،
    رَتي روي نه ره۔ي اندر وچ، غير گمان وڃائ۔۔ي،
    ”مئين“ دا پڙدا ڦاڙ ڪرا ه۔ُ۔ڻ، اکين ”عين“ وِکائ۔۔ي،
    يار ”مراد“ وس۔ي وچ ويڙه۔ي، جو ڪو جهاتي پائ۔۔ي.
    ___________
    محبوب جس کو درد کی دوائی عشق کے حکیم سے کھلوائے
    اس کے اندر رتی برابر کوئی چیز نہیں رہتی اور تمام شک دور ہو جاتے ہیں
    ’’میں‘‘ (ہستی)کے پردے کو پھاڑ کر، اُسی من کی آنکھوں میں حق دکھائی دیتا ہے
    مراد کہتا ہے یار (محبوب حقیقی) تو اپنے گھر میں بستا جو کوئی اپنے میں جھانک کر دیکھے (تو اسے نظر آتا ہے)

    ---------- حضرت صوفی مراد فقیر زنگیجوؒ ------------
     
  6. طارق حیات

    طارق حیات محفلین

    مراسلے:
    84
    موڈ:
    Brooding
    اُٿي وٺ طريقت جو ڪفر، ايهي زُهد تقويٰ ڇڏ کڻي.
    (اٹھو اور طریقت کے کفر (خدا کے سوا ہر چیز کے انکاری بن جاؤ) کو اختیار کرو، یہ زہد و تقوی اٹھا دو)

    بنان عشق پوندي ڪا نه ڪا، حق جي لقا جي ڪا خبر
    ڏي تهدلئون دوئي کي ترڪ، اَٿئي رام حق هڪڙو ڌڻي.

    (بجز عشق کے تمہیں حق کے دیدار کا پتا نہیں پڑے گا
    صدق دل سے دوئی کو ترک کرو ، جان لو کہ رام اور حق وہی ایک خدا ہے)

    صوفي رکن ٿا ڪينڪي، رندي بنان ٻيو ڪو دَلق
    وحدت وجودي ٿا رکن، نعرو ’اناالحق‘ جو هڻي.

    (صوفی رندی (خود کو نیست کرنا) کے سوا کوئی اور مشرب نہیں رکھتے
    جو وحدت الوجود کے قائل ہیں وہ ’میں حق ہوں‘ کا نعرا مارتے ہیں)

    ڀائين ڏسان حق جو حُسن، تان احديت اثبات ڪر
    شيخي مشائخيءَ ۾ نه پئو، رک عشق سان رغبت گهڻي.

    (اگر چاہتے ہو کہ حق کا حسن کا دیدار کروں تو احدیت کو اثبات کرو
    شیخی اور مشائخی میں نہ جاؤ، عشق سے زیادہ رغبت رکھو)

    ”ولي محمد“ ڳُجهه اهو، صورت پرستيءَ ۾ تون ڏس
    اَصلئون ملامت لوڪ جي، آهي سِر عشاقن جي بڻِي

    (ولی محمدؔ کہتا ہے یہ راز حقیقت تم صورت پرستی میں دیکھو
    عشاقوں کے سر پر ہمیشہ لوگوں کی طرف سے ملامت کے تعنے ہی ملے ہیں)
    .

    __________
    حضرت صوفی نواب فقير ولی محمد لغاری قدس سره العزيز
     
  7. طارق حیات

    طارق حیات محفلین

    مراسلے:
    84
    موڈ:
    Brooding
    باہر بھیتر اندر نرنتر - ویاپ رہیو ہے پریتم پیارو
    گھٹ گھٹ مانھیں کھیل کرت ہے - ایک انیک رھت سوں نیارو
    لاکھن موں نہیں لابھن ہے - یہ ستگر شبد کنہہ بیر بیچارو
    ’’غلام علی‘‘ اُس کی خاک ملے - جنہہ رام کے نام کو نیم بسارو
    -------------------------------
    باہر لاتعداد صورتوں میں اور اندر میں ایک ذات بن کر میرا پیارا محبوب سمایا ہوا ہے۔
    جگہ جگہ اس نے کثرت کاکھیل رچایا ہوا ہے، لیکن وہ ایک سب سے الگ ہوکر اکیلا رہتا ہے۔
    وہ لاکھوں لوگوں کو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا، جو بہادر مرشد کے دیئے ہوئے شبد کی کمائی کرے گا وہ ہی پائے گا۔
    غلام علیؔ کہتا ہے کہ اس (اہل ولایت) کی خاک کے قربان جس نے مالک کے نام کو بُھلایا نہیں ہے۔
    -----------------------------

    حضرت صوفی غلام علیؔ فقیر زنگیجو قدس سرہ العزیز
     
  8. طارق حیات

    طارق حیات محفلین

    مراسلے:
    84
    موڈ:
    Brooding
    ڪَنزَ قدوري ڪافيه - جي پڙهي پروڙين سڀ
    ته ڪَر منڊي ماڪوڙي - کُوهه ۾ پيئي ڪَڇي اُڀ

    (تو کیا ہوا ؟) جو تم نے کنز قدوری (صرف و نحو اور فقہ کی کتابیں) پڑھ کر حاصل کرلیں۔
    یہ ایسا ہے جیسے کہ کنویں میں پڑی ہوئی چیونٹی آسمان کو ناپنے کا قصد کرے۔

    ---------- حضرت قاضی قاضن ؒ ---------
     
  9. طارق حیات

    طارق حیات محفلین

    مراسلے:
    84
    موڈ:
    Brooding
    يئَن ڦِڦڙَ ماهَ ۾، اِيئَن روزا عيدَ نمازَ
    اڃان آهي ڪا ٻِئي، اَلله سَندِي حاجَ.

    جیسے بدن کے اندر پھیپھڑے ہیں (جو صاف ہوا اندر لے جا کر خون کو صاف کرتے ہیں) ایسے ہی روزے اور عید کی نماز ہے۔
    مگر اللہ سے ملانے والا عمل یا کام کوئی اور ہی ہے۔

    ۔۔۔۔ ”جيئن ماس (بدن) اندر ڦڦڙ آهن (جي صاف هوا اندر کڻي رت کي صاف ڪن ٿا)، تيئن ئي روزا، عيد ۽ نماز آهن (انهيءَ جو ڪم به تن من کي صاف ڪرڻ آهي).
    ۔۔۔۔ پر الله سان ملڻ وارو عمل يا ڪم اڃا ڪو ٻيو آهي.“

    _______ حضرت قاضي قاضن رح ______
     
  10. طارق حیات

    طارق حیات محفلین

    مراسلے:
    84
    موڈ:
    Brooding

اس صفحے کی تشہیر