سندھ: توہین رسالت قیدی جیل میں ’ذبح‘

کعنان

محفلین
السلام علیکم

پاکستان میں کسی کو بھی جیل میں مروا دو اور اس پر یہ الزام لگا دو کوئی مشکل کام نہیں ھے
اس کہانی کو غور سے پڑھیں کوئی صداقت نظر نہیں آتی ، جیل میں قیدی کو قتل کر دیا گیا اور جان چھڑانے کے لیے اس پر توہین کا لیبل لگا دیا۔
والسلام
 

فخرنوید

محفلین
جناب بات ہو رہی ہے توہین رسالت کی:
اگر کسی نے توہین رسالت کی ہے خواد کسی نبی یا رسول کی تو اس گستاخی کے ثابت ہو جانے پر وہ سزا کا مستحق ہو جاتا ہے۔
1۔ غازی علم دین شہید نے ایک مصدقہ معلومات کے ہوتے ہوئے اس شخص کا قتل کیا جائز ہے۔
اگر کوئی ہمارے والدین یا عزیز رشتے داروں کو گالی دے یا گستاخی کرے۔ ہم اس کی تو جان لینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی ہمارے دل و جان سے عزیز نبی یا رسول کی گستاخی کرے تو چپ کر کے بیٹھ جاو اور حکومت کا انتظار کرو کہ وہ اسے سزا دے واہ رے واہ۔۔۔۔۔۔۔۔ رسول کا جو گستاخ ہے ۔۔۔۔۔ موت کا حقدار ہے۔
2۔ عامر چیمہ شہید:
اس نے بھی مکمل اور مصدقہ معلومات کے ہوتے ہوئے اس کو قتل کیا۔ وہاں کوئی اسلامی حکوت قائم نہیں تھی۔ کہ جو اس گستاخی پر اس مجرم کو سزا دیتی۔ عامر چیمہ تو وہاں تعلیم کے لئے گیا تھا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ یہ گستاخ رسول ہے۔ تو اس نے حق امتی ادا کر دیا۔

اب لوگ اسے افسانے سمجھیں یا اپنی غیرت ایمانی کا جنازہ اٹھائیں ۔ ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑھتا ہے۔

مومن وہ ہے جو اپنے ایمان اور رسول کی ناموس پر کٹ جائے۔ لیکن ناموس رسالت اور ایمان پر ضرب نہ آنے دے۔
 

کعنان

محفلین
جناب بات ہو رہی ہے توہین رسالت کی:
اگر کسی نے توہین رسالت کی ہے خواد کسی نبی یا رسول کی تو اس گستاخی کے ثابت ہو جانے پر وہ سزا کا مستحق ہو جاتا ہے۔
1۔ غازی علم دین شہید نے ایک مصدقہ معلومات کے ہوتے ہوئے اس شخص کا قتل کیا جائز ہے۔

السلام علیکم
آپ غازی علم دین شہید کی مثال دے رہے ہیں بھائی اس وقت یہ ہندوستان تھا انڈر برٹش کنٹرول، اور اس کے اس عمل کو کبھی فراموش نہیں
کیا جا سکتا


اگر کوئی ہمارے والدین یا عزیز رشتے داروں کو گالی دے یا گستاخی کرے۔ ہم اس کی تو جان لینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی ہمارے دل و جان سے عزیز نبی یا رسول کی گستاخی کرے تو چپ کر کے بیٹھ جاو اور حکومت کا انتظار کرو کہ وہ اسے سزا دے واہ رے واہ۔۔۔۔۔۔۔۔ رسول کا جو گستاخ ہے ۔۔۔۔۔ موت کا حقدار ہے۔

اس پر تو حدیث بھی ھے کہ اپنے والدین سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرو

2۔ عامر چیمہ شہید:
اس نے بھی مکمل اور مصدقہ معلومات کے ہوتے ہوئے اس کو قتل کیا۔ وہاں کوئی اسلامی حکوت قائم نہیں تھی۔ کہ جو اس گستاخی پر اس مجرم کو سزا دیتی۔ عامر چیمہ تو وہاں تعلیم کے لئے گیا تھا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ یہ گستاخ رسول ہے۔ تو اس نے حق امتی ادا کر دیا۔

عامر نزیر چیمہ شہید نے جرمنی ایڈیٹر کے آفس میں جا کر اس کو وارن کیا تھا لیکن ایڈیٹر کے منع نہ ہونے پر پھر شہید نے ایڈیٹر پر چھری سے حملہ کیا اور 2 وار کیے جس سے ایڈیٹر زخمی ہوا اور پھر اس کو پکڑ لیا گیا اور جیل میں پھانسی لگا کر اس کی لعش پاکستان کے حوالے کر دی
اب اس کے بعد کا واقعی آپ نے نہیں پڑھا ہو گا کہ پاکستان مشرف گورنمنٹ نے انکوائری نہ کرنے پر نذیر چیمہ کو دھمکیاں دیں

اگر کرسچن نے پاگل پن دکھایا تو ہمارے دین میں پاگل پن نہیں ھے انصاف مہیا کیا جاتا ھے



اب لوگ اسے افسانے سمجھیں یا اپنی غیرت ایمانی کا جنازہ اٹھائیں ۔ ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑھتا ہے۔

مومن وہ ہے جو اپنے ایمان اور رسول کی ناموس پر کٹ جائے۔ لیکن ناموس رسالت اور ایمان پر ضرب نہ آنے دے۔

پاکستان میں اسلامی قانون نہیں ھے

اگر کوئی گستاخی کرتا ھے تو اس کی سزا موت آپ کس طرح اخذ کرتے ہیں
حالانکہ اسلامی قانون کے مطابق بھی گواہوں کی ضرورت ھے
اور اس کے لیے معافی مانگنے کا آپشن بھی ھے ، اگر کسی مسلمان سے ایسی حرکت ہوئی ھے تو اس کا دماغی توازن چیک کروایا جاتا ھے اور اگر اس کا دماغی توازن ٹھیک ھے تو اسے اپنی اس حرکت کی معافی مانگنے کا موقع فراہم کیا جاتا ھے
اگر وہ نن مسلم ھے تو بھی معافی کا موقع فراہم کیا جاتا ھے اور ہو سکتا ھے وہ مسلمان بھی ہو جائے
اگر ان سب چیزوں پر گستاخی کرنے والا خاموشی اختیار کرتا ھے تو پھر آپ ایسی کوئی ڈسیزن لے سکتے ہیں

پاکستان میں کسی کو بھی جیل میں قتل کر کے اس پر اسی طرح کے الزام لگا کے فائل بند کر دی جاتی ھے۔


والسلام

------------
 

طالوت

محفلین
کیا ہی بہتر ہو اس غیرت ایمانی کا آغاز خود سے کیا جائے ۔ کبھی غور سے کتب روایات و عقائد کا مطالع کیجئے ممکن ہے خود اپنے گلے پر چھری پھیرنے کی نوبت آ جائے ۔ فی الحال غیرت ایمانی جگانے کو ایک معمولی سی بات عرض کرتا ہوں ۔
بقول روایات کے جب پہلی بار رسول اللہ پر وحی کا نزول ہوا تو گبھرا گئے ، ڈر گئے ، خوف غالب ہو گیا ، کانپتے گھر پہنچے ام المومنین سے کہا مجھے کمبل اوڑھا دو ۔ پھر سیدہ کو سارا ماجرہ سنایا انھوں نے ورقہ بن نوفل کر بلایا تو ورقہ بن نوفل نے رسول اللہ کو بتایا کہ آپ تو نبی بن گئے ہیں اور وہ فرشتہ جبریل تھا ۔ گویا ایک عیسائی خاتم النبیین سے سمجھ بوجھ رکھتا تھا اور بغیر دیکھے سنے وہ سمجھ گیا کہ وہ جبریل کی آمد تھی اور آپ کو رسالت بخشی گئی ۔ جبکہ جن کا نبی ہونا طے تھا وہ اس بے خبر ، سارے معاملے کو سمجھنے سے قاصر اور گھبرا گئے تھے اس ساری صورتحال سے ۔ (معاذ اللہ)
امید ہے غیرت ایمانی کی رگ پھڑکی ہو گی ۔ ۔ ۔ ۔
یہ تو ایک بات ہے اگر وقت ہوتا اور دلچسپی رکھتا تو آپ کو خاصی لمبی فہرست بمع ثبوت و دلیل فراہم کر دیتا جس میں انبیاء حتٰی کہ رب العزت تک کی شان میں گستاخیاں کی گئی ہیں اور ان کتب کو ہم کیا درجہ دیتے ہیں اس کے بیان کی ضرورت نہیں ۔

دوسری بات یہ کہ اگر ہر شخص کو یوں اجازت دے دی جائے کہ وہ خود فیصلہ کرے تو معاف کیجئے گا کفر و مرتد کے اعلانیہ و غیر اعلانیہ فتووں کا اتنا بڑا ڈھیر ہے کہ ہم ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنا شروع کر دیں کہ آخر مرتد کی سزا بھی موت ہے اور ایک دوسرے کی عورتوں کو لونڈیاں بنانا شروع کر دیں کہ بہرحال اب بھی ہمارے یہاں یہ جائز سمجھا جاتا ہے ۔ اور عقائد کی رو سے یہ عین جہاد ہو گا جو ہر ایک پر فرض ہے ۔
وسلام
 

باسم

محفلین
مکمل حدیث کو دیکھا جائے تو یہ مفہوم بہت بعید معلوم ہوتا ہے جو آپ نے بیان کیا۔
صحیح بخاری، باب بدء الوحی
یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، عروہ بن زبیر ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ سب سے پہلی وحی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اترنی شروع ہوئی وہ اچھے خواب تھے، جو بحالت نیند آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھتے تھے، چناچہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہوجاتا، پھر تنہائی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محبت ہونے لگی اور غار حرا میں تنہا رہنے لگے اور قبل اس کے کہ گھر والوں کے پاس آنے کا شوق ہو وہاں تحنث کیا کرتے، تحنث سے مراد کئی راتیں عبادت کرنا ہے اور اس کے لئے توشہ ساتھ لے جاتے پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس واپس آتے اور اسی طرح توشہ لے جاتے، یہاں تک کہ جب وہ غار حرا میں تھے، حق آیا، چناچہ ان کے پاس فرشتہ آیا اور کہا پڑھ، آپ نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرتے ہیں کہ مجھے فرشتے نے پکڑ کر زور سے دبایا، یہاں تک کہ مجھے تکلیف محسوس ہوئی، پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، پھر دوسری بار مجھے پکڑا اور زور سے دبایا، یہاں تک کہ میری طاقت جواب دینے لگی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ تیسری بار پکڑ کر مجھے زور سے دبایا پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، پڑھ اور تیرا رب سب سے بزرگ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دہرایا اس حال کہ آپ کا دل کانپ رہا تھا چناچہ آپ حضرت خدیجہ بنت خویلد کے پاس آئے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو، تو لوگوں نے کمبل اڑھا دیا، یہاں تک کہ آپ کا ڈر جاتا رہا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سارا واقعہ بیان کر کے فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے، حضرت خدیجہ نے کہا ہرگز نہیں، خدا کی قسم، اللہ تعالی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صلہ رحمی کرتے ہیں، ناتوانوں کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہیں، محتاجوں کے لئے کماتے ہیں، مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں مصیبتیں اٹھاتے ہیں، پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لیکر ورقہ بن نوفل بن اسید بن عبدالعزی کے پاس گئیں جو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچا زاد بھائی تھے، زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگئے تھے اور عبرانی کتاب لکھا کرتے تھے۔ چناچہ انجیل کو عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے، جس قدر اللہ چاہتا، نابینا اور بوڑھے ہوگئے تھے، ان سے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اے میرے چچا زاد بھائی اپنے بھتیجے کی بات سنو آپ سے ورقہ نے کہا اے میرے بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو؟ تو جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا تھا، بیان کردیا، ورقہ نے آپ سے کہا کہ یہی وہ ناموس ہے، جو اللہ تعالی نے حضرت موسیٰ پر نازل فرمایا تھا، کاش میں نوجوان ہوتا، کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا، جب تمہاری قوم تمہیں نکال دے گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا، ہاں! جو چیز تو لے کر آیا ہے اس طرح کی چیز جو بھی لے کر آیا اس سے دشمنی کی گئی، اگر میں تیرا زمانہ پاؤں تو میں تیری پوری مدد کروں گا، پھر زیادہ زمانہ نہیں گذرا کہ ورقہ کا انتقال ہوگیا، اور وحی کا آنا کچھ دنوں کے لئے بند ہوگیا، ابن شہاب نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بیان کیا کہ جابر بن عبد اللہ انصاری وحی کے رکنے کی حدیث بیان کر رہے تھے، تو اس حدیث میں بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان فرما رہے تھے کہ ایک بار میں جا رہا تھا تو آسمان سے ایک آواز سنی، نظر اٹھا کردیکھا تو وہی فرشتہ تھا، جو میرے پاس حرا میں آیا تھا ، آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا، مجھ پر رعب طاری ہوگیا اور واپس لوٹ کر میں نے کہا مجھے کمبل اڑھا دو مجھے کمبل اڑھا دو، تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی، ﴿اے کمبل اوڑھنے والے اٹھ اور لوگوں کو ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑے کو پاک رکھ اور ناپاکی کو چھوڑ دے﴾، پھر وحی کا سلسلہ گرم ہوگیا اور لگاتار آنے لگی، عبد اللہ بن یوسف اور ابوصالح نے اس کے متابع حدیث بیان کی ہے اور ہلال بن رواد نے زہری سے متابعت کی ہے، یونس اور معمر نے فوادہ کی جگہ بوادرہ بیان کیا۔
 

کعنان

محفلین
السلام علیکم

قطع کلامی کی میں معافی چاہتا ہوں ایک بات کہنا چاہوں گا کیونکہ دور نہیں کسی کو بھی کچھ کہنے کا سب اپنی اپنی مرضی کے مالک ہیں

ایک بھائی صاحب نے پہلی وحی کا نزول 4 لین میں عقلی دلیل سے پیش کیا ھے جس کو پڑھ کے ۔۔۔۔۔۔؟

اگر کسی دوست کے پاس وقت کی کمی ھے تو پھر مہربانی کر کے اسطرح عقلی دلیل کا سہارہ نہ لیا جائے

اسطرح کے کی باتیں قرآن اور احادیث مبارکہ سے حوالوں کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں


باسم بھائی کی غیرت ایمانی کی رک پھڑکی اور ان کے عشق نبوی صلعم نے وقت کی دہلیزیں توڑتے ہوئے نزول وحی قرآن اور حدیث کے حوالوں کے ساتھ بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا جس کو پڑھ کے سمجھ نہ رکھنے والا بھی سمجھ سکتا ھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و مرتبہ۔

اللہ تعالی ہمارے حال پر رحم فرمائے آمین

والسلام
 

خوشی

محفلین
میں نہ تو کسی مذھبی بحث میں پڑتی ہوں نہ میں کوئی عالم ہوں ، مگر میں اتنا ضرور پوچھنا چاہوں گی کہ مجھے کوئی 1 مثال ایسی دیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلی وسلم کے زمانے میں توھین رسالت پہ کسی کو قتل کیا گیا ہو ، جبکہ وہ صحابہ تو نبی کریم پہ فدا ہونے کو ہر وقت تیار رہتے تھے ہم تو شاید ان صحابہ کرام کی خاک بھی نہیں ھیں
 

آبی ٹوکول

محفلین
میں نہ تو کسی مذھبی بحث میں پڑتی ہوں نہ میں کوئی عالم ہوں ، مگر میں اتنا ضرور پوچھنا چاہوں گی کہ مجھے کوئی 1 مثال ایسی دیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلی وسلم کے زمانے میں توھین رسالت پہ کسی کو قتل کیا گیا ہو ، جبکہ وہ صحابہ تو نبی کریم پہ فدا ہونے کو ہر وقت تیار رہتے تھے ہم تو شاید ان صحابہ کرام کی خاک بھی نہیں ھیں
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش



شاتم رسول کی سزا اور اس کی معافی




نبی کریم کی عظمت وتوقیر مسلمان کےایمان کا بنیادی جزو ہےاور علمائےاسلام دور صحابہ سےلےکر آج تک ا س بات پر متفق رہےہیں کہ آپ کی شان اقدس میں گستاخی کرنےوالا آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنےکےعلاوہ اس دنیا میں بھی گردن زونی ہی۔ خود نبی رحمت نےاپنےاور اسلام کےبےشمار دشمنوں کو (خصوصاً فتح مکہ کےموقع پر) معاف فرما دینےکےساتھ ساتھ ان چند بدبختوںکےبارےمیں جو نظم ونثر میں آپ کی ہجو اور گستاخی کیا کرتےتھی، فرمایا تھا کہ اگر وہ کعبہ کےپردوں سےچمٹےہوئےبھی ملیں تو انہیں واصل جہنم کیا جائی، یہ حکم (نعوذ باللہ) آپ کی ذاتی انتقام پسندی کی وجہ سےنہ تھا کہ آپ کےبارےمیں تو حضرت عائشہ اور صحابہ کرام کی شہادت موجود ہےکہ آپ نےکبھی بھی کسی سےذاتی انتقام نہیں لیا، بلکہ اس وجہ سےتھا کہ شاتم رسول دوسروں کےدلوں سےعظمت وتوقیر رسول گھٹانےکی کوشش کرتا اور ان میں کفر ونفاق کےبیج بوتا ہی، اس لیےتوہین رسول کو ”تہذیب وشرافت“ سےبرداشت کر لینا، اپنےایمان سےہاتھ دھونا اور دوسروں کےایمان چھن جانےکا راستہ ہموار کرنےکےمترادف ہی۔ نیز ذات رسالت مآبچونکہ ہر زمانےکےمسلمان معاشرہ کا مرکز ومحور ہےاس لیےجو زبان آپ پر طعن کیلئےکھلتی ہی، اگر اسےکاٹا نہ جائےاورجو قلم آپ کی گستاخی کیلئےاٹھتا ہی، اگر اسےتوڑا نہ جائےتو اسلامی معاشرہ فساد بداعتقادی اور بدعملی کا شکار ہو کر رہ جائےگا۔ امام ابن تیمیہ کےالفاظ میں، نبی کریم کو (نعوذباللہ) نازیبا الفاظ کہنےوالا ساری امت کو گالی دینےوالا ہےاور وہ ہمارےایمان کی جڑ کو کاٹنےکی کوشش کرتا ہی۔ نبی کریم نےاپنےلیےنہیں بلکہ مسلمانوں کا ایمان اور غیرت بچانےکیلئےہجو نگاروں کی گستاخیوں کی پاداش میں ان کا قتل روا رکھا۔ ان میں سےایک ملعون کا نام ابن خطل تھا، وہ حضور اکرمکی شان کےخلاف شعر کہتا اور اس کی دو لونڈیاں یہ غلیظ شعر اسےگا گا کر سناتیں۔ فتح مکہ کےدن وہ حرم مکہ میں پناہ گزین تھا۔ ابوبرزہ صحابی نےنبی کریم کےحکم کےمطابق اسےوہیں جہنم رسید کر دیا۔
عام طور پر غزوات اور جنگوں میں آپ کا حکم ہوتا تھا کہ عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کیا جائی، لیکن توہین رسالت اسلامی شریعت میں اتنا سنگین جرم ہےکہ اس کی مرتکب عورت بھی قابل معافی نہیں چنانچہ آپ نےابن خطل کی مذکورہ دو لونڈیوں کےعلاوہ دو اور عورتوں کےبارےمیں بھی جو آپ کےحق میں بدزبانی کی مرتکب تھیں، قتل کا حکم جاری کیا تھا۔ اس طرح مدینہ میں ایک نابینا صحابہ کی ایک چہیتی اور خدمت گزار لونڈی جس سےان کےبقول ان کےموتیوں جیسےدو بیٹےبھی تھی، رسول اکرم کی شان میں گستاخی اور بدزبانی کا ارتکاب کیا کرتا تھی۔ یہ نابینا صحابی اسےمنع کرتےمگر وہ باز نہ آتی۔ ایک شب وبدزبانی کر رہی تھی کہ انہوں نےاس کا پیٹ چاک کر دیا جب یہ معاملہ نبی کریم کےسامنےپیش ہوا تو آپ نےفرمایا لوگو! گواہ رہو اس خون کا کوئی تاوان یا بدلہ نہیں ہی۔ (ابودائود، نسائی)
جب حضرت عمر نےگستاخ رسول کےنابینا قاتل کےبارےمیں پیار سےکہا دیکھو اس نابینا نےکتنا بڑا کارنامہ انجام دیا ہی، تو آپ نےفرمایا، اےاعمیٰ (نابینا) نہ کہو، بصیروبینا ہو کہ اس کی بصیرت وغیرت ایمانی زندہ وتابندہ ہےاور جب ایک اور گستاخ ملعونہ اسماءبنت مروان کو اس کےایک اپنےرشتہ دار غیرت مند صحابی نےقتل کیاتو آپ نےفرمایا لوگو! اگر تم کسی ایسےشخص کی زیارت کرنا چاہتےہو جو اللہ اور اس کےرسول کی نصرت وامداد کرنےوالا ہےتو میرےاس جانثار کو دیکھ لو۔ یہ غیرت مند صحابی عمیر بن عدی جب اس ملعونہ کےقتل سےفارغ ہوئےتو ان کےقبیلہ کےبعض سرکردہ افراد نےان سےپوچھا تھاکہ تم نےیہ قتل کیا ہی؟ انہوں نےبلاتامل کہا، ہاں اور اگر تم سب گستاخی کا وہ جرم کرو جو اس نےکیا تھا کہ تم سب کو بھی قتل کر دوں گا۔
(الصارم المسئول لابن تیمیہ)۔
 

طالوت

محفلین
میری عرض اب بھی وہی ہے مکمل حدیث کو بیان کرنے پر بھی سوالات تو اپنی جگہ ہیں ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ امام بخاری سےے اس قدر عقیدت ہو کہ سب کچھ ہضم کیا جا سکتا ہے تو میں کیا کہوں ۔ ممکن ہے ان سوالات کا کوئی جواب بھی ہو جیسا کہ ام المومنین سیدہ عائشہ سے نکاح و رخصتی سے متعلق احادیث کا دفاع بے تکی تاویلوں اور دلیلوں سے کیا جاتا ہے ۔ یاد رہے یہ تمام گفتگو ناموس رسالت کے سلسلے میں ہے ۔

خوشی مجھے یاد پڑتا ہے کہ کسی صحابی کے حوالے سے یہ نام نہاد واقع موجود ہے کہ ان کی بیویاں رسول اللہ کو برا بھلا کہتی تھی تو ایک دن انھوں نے کدال یا اس جیسی کسی چیز سے اس پیٹ پھاڑ ڈالا اور رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے اس پر شاید خوشی کا اظہار کیا یا اطمینانی کیفیت میں رہے ۔ بہرحال پورا واقع اور حوالہ میرے ذہن میں نہیں کسی رکن کے علم میں ہو تو پیش کریں ۔

کنعان اس غیرت ایمانی کی رگ شاید ہم جیسوں میں زیادہ پھڑکتی ہے اسی لئے ہم کسی ایک بھی ایسے واقعے کی صحت کو تسلیم نہیں کرتے جس میں رسول اللہ کی ذات اقدس کے بارے میں‌ذرا سا بھی شائبہ پایا جائے کجا یہ کہ اس دیدہ دلیری سے ایک عیسائی کو رسول اللہ سے زیادہ سمجھدار دکھایا جائے ۔
الصلوۃ و سلام ہو تمام انبیاء پر ۔
وسلام
 

باسم

محفلین
صحیح بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب الکذب فی الحرب
قتیبہ سفیان عمرو بن دینار حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کعب بن اشرف کو قتل کرنے کا ذمہ کون لیتا ہے؟ کیونکہ اس نے اللہ کو اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت تکلیف دی ہے تو محمد بن مسلمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ پسند کرتے ہیں کہ میں اس کو قتل کردوں؟ جس پر آپ نے فرمایا ہاں جابر نے کہا کہ محمد بن مسلمہ نے اس کے پاس جا کر کہا کہ اس نبی نے ہم کو پریشان کردیا ہے ہم سے صدقہ مانگتے ہیں تو اس نے جواب دیا کہ خدا کی قسم تم بھی ان کو پریشان کرو اس پر محمد نے کہا کہ ہم تو ان کی پیروی کا اقرار کر چکے ہیں انہیں چھوڑ نہیں سکتے بس ہم تو اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کا انجام کار کیا ہوتا ہے اور وہ اسی طرح اس سے باتیں کرتے رہے حتیٰ کہ قابو پا کر کعب کو تہ تیغ کردیا۔
 

کعنان

محفلین
میری عرض اب بھی وہی ہے مکمل حدیث کو بیان کرنے پر بھی سوالات تو اپنی جگہ ہیں ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ امام بخاری سےے اس قدر عقیدت ہو کہ سب کچھ ہضم کیا جا سکتا ہے تو میں کیا کہوں ۔ ممکن ہے ان سوالات کا کوئی جواب بھی ہو جیسا کہ ام المومنین سیدہ عائشہ سے نکاح و رخصتی سے متعلق احادیث کا دفاع بے تکی تاویلوں اور دلیلوں سے کیا جاتا ہے ۔ یاد رہے یہ تمام گفتگو ناموس رسالت کے سلسلے میں ہے ۔

جس موضوع پر گفتگو ہو رہی ہو اگر اس کا جواب نہ ہو تو پھر ضروری نہیں ھے آگے آگے بھاگو اگر آگے بھاگنا ہی ھے تو اس کے لیے آپ نیا دھاگہ تشکیل دے سکتے ہیں ہم ضرور وہاں حاضری دیں گے



خوشی مجھے یاد پڑتا ہے کہ کسی صحابی کے حوالے سے یہ نام نہاد واقع موجود ہے کہ ان کی بیویاں رسول اللہ کو برا بھلا کہتی تھی تو ایک دن انھوں نے کدال یا اس جیسی کسی چیز سے اس پیٹ پھاڑ ڈالا اور رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے اس پر شاید خوشی کا اظہار کیا یا اطمینانی کیفیت میں رہے ۔ بہرحال پورا واقع اور حوالہ میرے ذہن میں نہیں کسی رکن کے علم میں ہو تو پیش کریں ۔

اگر آپ اپنی یاد کو اپنے تک ہی محدود رکھیں تو اچھا ہو گا حدیث لکھنے کی کوشش کریں اگر حدیث لکھتے ہوئے ڈر لگتا ھے تو بتا دیں تاکہ میں سمجھ سکوں کہ آپ کا کن سے رابطہ ھے پھر میں بھی اپنی یادداشت اور عقلی دلیلوں اور فلسفوں سے آپ سے گفگتو کر سکوں


کنعان اس غیرت ایمانی کی رگ شاید ہم جیسوں میں زیادہ پھڑکتی ہے اسی لئے ہم کسی ایک بھی ایسے واقعے کی صحت کو تسلیم نہیں کرتے جس میں رسول اللہ کی ذات اقدس کے بارے میں‌ذرا سا بھی شائبہ پایا جائے کجا یہ کہ اس دیدہ دلیری سے ایک عیسائی کو رسول اللہ سے زیادہ سمجھدار دکھایا جائے ۔

استغفراللہ

پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا لیکن اب اپنی زبان سے اقرار بھی کر دیا
آپ کوئی ایسا دھاگہ دکھا دیں جہاں میں نے کوئی غلط بات کہی ہو

اور آپ کے لیے ایک خاص بات کہوں گا کہ آپ نے یہ جملہ تو لکھ دیا لیکن اس جملے میں آپ نے جو رسول اللہ لکھا ھے وہ یا تو لاہوری گروپ والے لکھتے ہیں یا قادیانی، اب آپ کو متعلق اللہ بہتر جانتا ھے آپ کو جو عادت پڑی ہوئی ھے آپ اسی طرح کریں۔ یہ آپکی محبت کا انداز ھے۔




رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم




الصلوۃ و سلام ہو تمام انبیاء پر ۔

زباں سے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل
دِل ونگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں



وسلام

----------------------------
 

طالوت

محفلین
کہاں رحمت اللعلمین اور کہاں یہ ۔ ۔ ۔ ۔
خیر مجھے اس حدیث اور ایسی ہی سینکڑوں احادیث کے حوالے سے ام مسلمہ کی غیرت ایمانی کا انتظار ہے ۔ اگر برادران کی تسلی نہیں ہوئی تو چار چھ مثالیں اور پیش کی جا سکتیں ہیں ۔
وسلام
 

طالوت

محفلین
آپ اپنا پیغام اقتباس کے باہر رکھا کریں تاکہ ریکارڈ محفوظ رہے ۔ خیر "مینولی" کاپی پیسٹ سے کام چلاتا ہوں ۔
جس موضوع پر گفتگو ہو رہی ہو اگر اس کا جواب نہ ہو تو پھر ضروری نہیں ھے آگے آگے بھاگو اگر آگے بھاگنا ہی ھے تو اس کے لیے آپ نیا دھاگہ تشکیل دے سکتے ہیں ہم ضرور وہاں حاضری دیں گے
آپ کا یہ انداز نیا نہیں اس لئے میں نہ حیران ہوں نہ پریشان ۔ موضوع پر ہی گفتگو ہو رہی ہے مگر شاید آپ کے اوپر سے گزر رہی ہے ۔ آپ نے سابقہ مراسلے میں مجھے " ایک بھائی صاحب" کہہ کر مخاطب کیا ہے اسلئے میں نے آپ کا براہ راست نام لیا ہے تاکہ پڑھنے والے یا میں کسی الجھن میں نہ پڑیں ۔ کہ ڈھونڈتے ہی رہ جائیں کہ یہ بھائی صاحب کون ہیں ۔ میرے سوالات یا اعتراضات بھی توہین رسالت سے متعلق ہی ہیں ۔
اگر آپ اپنی یاد کو اپنے تک ہی محدود رکھیں تو اچھا ہو گا حدیث لکھنے کی کوشش کریں اگر حدیث لکھتے ہوئے ڈر لگتا ھے تو بتا دیں تاکہ میں سمجھ سکوں کہ آپ کا کن سے رابطہ ھے پھر میں بھی اپنی یادداشت اور عقلی دلیلوں اور فلسفوں سے آپ سے گفگتو کر سکوں
آپ ہرگز ذہن پر زور نہ دیں میرا تعلق واسطہ سب عیاں ہے اور میں بارہا اس کا اظہار کر چکا ہوں ۔ رہی بات یاد کی تو ایک بات ذہن میں تھی سو عرض کر دی تھوپی نہیں محفلین سے تصدیق کی درخواست کی ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ اگر تصدیق نہیں ہوتی تو اس پر نہ یقین کرنے کی ضرورت ہے نہ اس کی کوئی اہمیت باقی رہ جاتی ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ میں اکثر حوالے بھول جاتا ہوں بس لب لباب ذہن میں رہ جاتا ہے کہ سعودیہ میں آمد کے وقت میں اپنے نوٹس ساتھ نہیں لا سکا ۔ آپ اپنی عقلی دلیلوں سے بے شک گفتگو کریں مجھے خوشی ہو گی مگر وہ ویسی گفتگو نہ ہو جس کا ہمیں تجربہ ہو چکا ہے ۔

استغفراللہ

پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا لیکن اب اپنی زبان سے اقرار بھی کر دیا
آپ کوئی ایسا دھاگہ دکھا دیں جہاں میں نے کوئی غلط بات کہی ہو

اور آپ کے لیے ایک خاص بات کہوں گا کہ آپ نے یہ جملہ تو لکھ دیا لیکن اس جملے میں آپ نے جو رسول اللہ لکھا ھے وہ یا تو لاہوری گروپ والے لکھتے ہیں یا قادیانی، اب آپ کو متعلق اللہ بہتر جانتا ھے آپ کو جو عادت پڑی ہوئی ھے آپ اسی طرح کریں۔ یہ آپکی محبت کا انداز ھے۔
استغفر اللہ تو آپ نے یوں کہا جیسے میں نے کوئی الزام آپ کے سر رکھ دیا ۔ آپ نے بلا واسطہ مجھے مخاطب کیا تھا میں نے براہ راست کر لیا ۔ اور میں نے کہیں نہیں کہا کہ آپ نے کوئی غلط کہی بھلا مجھے کہنے کی کیا ضرورت ہے ;) ۔
لاہوری گروپ لکھے یا قادیانی ۔ مجھے تو رسول اللہ کہنے میں جس قدر لذت حاصل ہوتی ہے وہ کسی اور طرح سے نہیں ہوتی ۔ علاوہ اس کے رسول عربی ، سیدنا محمد رسول عربی لکھنا اور کہنا بھی پسند ہے ۔ اب آپ اس کو قران کی رو سے غلط ثابت کر دیں تو میں اپنے معاملات سدھار لوں گا۔
زباں سے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل
دِل ونگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں
اس کا جواب نہ دینے میں ہی عافیت ہے سو میں خاموش ہوں ۔ یہ تو ہوئی گئی غیر متعلق گفتگو ۔ جس کا آپ اظہار فرما رہے تھے وہ کام آپ نے کہیں بڑھ کر کیا ۔
میرے سوالات و اعتراضات اب بھی موجود ہیں اگر ان پر کوئی نظر کریں تو نوازش ہو گی ۔ عقل کے استعمال کو اسلام میں کیا حیثیت حاصل ہے اگر آپ کہیں تو وہ بھی میں پیش کر دوں ۔ مگر یقینا آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں ۔
جوابات کا انتظار ہے ۔ بلکہ جواب کا کہ آیا اس قسم کی حدیثوں سے اہانت رسول کا پہلو واضح ہے یا نہیں ، اگر نہیں تو کیسے ثابت کیجئے ؟ اور اگر نکلتا ہے تو ان کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ؟ اور ہم کس طرح ان سے چھٹکارا پا سکتے ہیں ۔
وسلام
 

کعنان

محفلین
آپ اپنا پیغام اقتباس کے باہر رکھا کریں تاکہ ریکارڈ محفوظ رہے ۔ خیر "مینولی" کاپی پیسٹ سے کام چلاتا ہوں ۔
وسلام

السلام

اللہ آپ کے حال پر رحم کرے آپ کے عقیدے کا بخوبی اندازہ ہو گیا ھے اب میں مناسب نہیں سمجھتا کہ آپ کو چھیڑوں اور اپنا وقت برباد کروں کیونکہ فارم کا قانون بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا اگر آپ کی طرف سے کوئی بات ہوئی تو علم کی حد تک ضرور گفتگو ہو گی

والسلام
 

باسم

محفلین
" ورقہ بن نوفل نے رسول اللہ کو بتایا کہ آپ تو نبی بن گئے ہیں اور وہ فرشتہ جبریل تھا "
آپ کے لکھے ہوئے الفاظ سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ورقہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی ہونے کی خبر دی اور بتایا کہ وہ فرشتہ جبریل تھا
" ورقہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہی وہ ناموس ہے، جو اللہ تعالی نے حضرت موسیٰ پر نازل فرمایا تھا "
جبکہ حدیث کے الفاظ میں نبی ہونے کی خبر دینے کا کوئی ذکر نہیں صرف یہ تائید ہے کہ جو فرشتہ آپ پر قرآن مجید کی ابتدائی آیات لے کر آیا وہ موسٰی علیہ السلام پر بھی نازل ہوا تھا
اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بننے کی خبر نہ ہوئی اور ورقہ نے خبر دی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتے کی آمد اور آیات کے نزول کی تفصیل اس سے پہلے خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان فرمائی ہے۔
اگر یہ سوال پیدا ہو کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم نہ تھا کہ یہ وہ فرشتہ ہے "جو اللہ تعالی نے حضرت موسیٰ پر نازل فرمایا تھا" اور ورقہ کو اس کا علم تھا؟
تو حدیث سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ ورقہ کو اس کا علم تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے علم کی نفی نہیں ہے
کیونکہ ایک کی واقفیت دوسرے کی عدم واقفیت پر دلیل نہیں ہوا کرتی
بلکہ یہاں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال بھی نہیں فرمایا جبکہ اگلی بات میں سوال فرمایا تو یہاں سوال نہ کرنا معلوم ہونے کی وجہ سے ہوسکتا ہے
اس جملے کے متعلق یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟
توورقہ کا علم گزشتہ آسمانی کتابوں کی بنیاد پر تھا اور ان سے "امّی" ہونے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت نہیں افتخار ہے
جیسا کہ اسے قرآن مجید میں وحی کے نزول کے متعلق آیات میں بیان فرمایا گیا ہے
[arabic]وكذلك اوحينا اليك روحا من امرنا ما كنت تدري ما الكتاب ولا الايمان ولكن جعلناه نورا نهدي به من نشاء من عبادنا وانك لتهدي الي صراط مستقيم[/arabic] [ayah]42:52[/ayah]
ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنا حکم سے قرآن نازل کیا آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے اورلیکن ہم نے قرآن کو ایسا نور بنایا ہے کہ ہم اس کے ذریعہ سے ہم اپنے بندوں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں اور بے شک آپ سیدھا راستہ بتاتے ہیں۔
دوسری جگہ ارشاد باری تعالٰی ہے
[arabic]وما كنت تتلو من قبله من كتاب ولا تخطه بيمينك اذا لارتاب المبطلون[/arabic][ayah]29:48[/ayah]
ترجمہ: اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اُسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہلِ باطل ضرور شک کرتے
اور یہاں امی ہونے کو بطور افتخار بیان فرمایا ہے۔
[arabic]قل يأيها الناس اني رسول الله اليكم جميعا الذي له ملك السماوات والارض لا اله الا هو يحيي ويميت فامنوا بالله ورسوله النبي الامي الذي يؤمن بالله وكلماته واتبعوه لعلكم تهتدون[/arabic][ayah]7:158[/ayah]
ترجمہ: کہہ دو اے لوگو تم سب کی طرف الله کا رسول ہوں جس کی حکومت آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے پس الله پر ایمان لاؤ اوراس کے رسول نبی امی پر جو کہ الله پر اور اس کے سب کلاموں پر یقین رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ

اور اگر ورقہ کو ایک بات زیادہ معلوم بھی تھی تو یہ ابتدائے وحی کے زمانے میں میں تھی بعد میں بتدریج آپ صلی اللہ علیہ وسلم علم کے اس بلند مقام تک پہنچے کہ کوئی راہب اس راستے کی خاک بھی نہیں ہوسکتا۔
 

طالوت

محفلین
السلام

اللہ آپ کے حال پر رحم کرے آپ کے عقیدے کا بخوبی اندازہ ہو گیا ھے اب میں مناسب نہیں سمجھتا کہ آپ کو چھیڑوں اور اپنا وقت برباد کروں کیونکہ فارم کا قانون بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا اگر آپ کی طرف سے کوئی بات ہوئی تو علم کی حد تک ضرور گفتگو ہو گی

والسلام
اللہ ہم سب کی حالت پر رحم فرمائے ۔ میرے عقیدے پر آپ پریشاں نہ ہوں آپ جیسے کئی حضرات نے عجیب و غریب اندازے لگائے کہ سطحی سوچ اور پہلی ملاقات میں فتوے صادر کرنے سے ایسا ہی ہوتا ہے ۔ شاید آپ کو بھی سوال گول کرنے کی عادت ہے ورنہ جس علم کے آپ ڈنکے پہلے دن سے بجا رہے ہیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔
(معاف کیجئے گا تلخ تو میں ہوں ہی مگرمیرے بارے میں بغیر کچھ جانے آپ کے اندازوں سے کچھ زیادہ تلخ ہو گیا)
وسلام
 

طالوت

محفلین
" ورقہ بن نوفل نے رسول اللہ کو بتایا کہ آپ تو نبی بن گئے ہیں اور وہ فرشتہ جبریل تھا "
آپ کے لکھے ہوئے الفاظ سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ورقہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی ہونے کی خبر دی اور بتایا کہ وہ فرشتہ جبریل تھا
" ورقہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہی وہ ناموس ہے، جو اللہ تعالی نے حضرت موسیٰ پر نازل فرمایا تھا "
جبکہ حدیث کے الفاظ میں نبی ہونے کی خبر دینے کا کوئی ذکر نہیں صرف یہ تائید ہے کہ جو فرشتہ آپ پر قرآن مجید کی ابتدائی آیات لے کر آیا وہ موسٰی علیہ السلام پر بھی نازل ہوا تھا
اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بننے کی خبر نہ ہوئی اور ورقہ نے خبر دی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتے کی آمد اور آیات کے نزول کی تفصیل اس سے پہلے خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان فرمائی ہے۔
اگر یہ سوال پیدا ہو کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم نہ تھا کہ یہ وہ فرشتہ ہے "جو اللہ تعالی نے حضرت موسیٰ پر نازل فرمایا تھا" اور ورقہ کو اس کا علم تھا؟
تو حدیث سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ ورقہ کو اس کا علم تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے علم کی نفی نہیں ہے
کیونکہ ایک کی واقفیت دوسرے کی عدم واقفیت پر دلیل نہیں ہوا کرتی
بلکہ یہاں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال بھی نہیں فرمایا جبکہ اگلی بات میں سوال فرمایا تو یہاں سوال نہ کرنا معلوم ہونے کی وجہ سے ہوسکتا ہے
اس جملے کے متعلق یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟
توورقہ کا علم گزشتہ آسمانی کتابوں کی بنیاد پر تھا اور ان سے "امّی" ہونے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت نہیں افتخار ہے
جیسا کہ اسے قرآن مجید میں وحی کے نزول کے متعلق آیات میں بیان فرمایا گیا ہے
[arabic]وكذلك اوحينا اليك روحا من امرنا ما كنت تدري ما الكتاب ولا الايمان ولكن جعلناه نورا نهدي به من نشاء من عبادنا وانك لتهدي الي صراط مستقيم[/arabic] [ayah]42:52[/ayah]
ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنا حکم سے قرآن نازل کیا آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے اورلیکن ہم نے قرآن کو ایسا نور بنایا ہے کہ ہم اس کے ذریعہ سے ہم اپنے بندوں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں اور بے شک آپ سیدھا راستہ بتاتے ہیں۔
دوسری جگہ ارشاد باری تعالٰی ہے
[arabic]وما كنت تتلو من قبله من كتاب ولا تخطه بيمينك اذا لارتاب المبطلون[/arabic][ayah]29:48[/ayah]
ترجمہ: اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اُسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہلِ باطل ضرور شک کرتے
اور یہاں امی ہونے کو بطور افتخار بیان فرمایا ہے۔
[arabic]قل يأيها الناس اني رسول الله اليكم جميعا الذي له ملك السماوات والارض لا اله الا هو يحيي ويميت فامنوا بالله ورسوله النبي الامي الذي يؤمن بالله وكلماته واتبعوه لعلكم تهتدون[/arabic][ayah]7:158[/ayah]
ترجمہ: کہہ دو اے لوگو تم سب کی طرف الله کا رسول ہوں جس کی حکومت آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے پس الله پر ایمان لاؤ اوراس کے رسول نبی امی پر جو کہ الله پر اور اس کے سب کلاموں پر یقین رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ

اور اگر ورقہ کو ایک بات زیادہ معلوم بھی تھی تو یہ ابتدائے وحی کے زمانے میں میں تھی بعد میں بتدریج آپ صلی اللہ علیہ وسلم علم کے اس بلند مقام تک پہنچے کہ کوئی راہب اس راستے کی خاک بھی نہیں ہوسکتا۔
اوپری بات میں میرے الفاظ کی زیادتی پر متفق ہوں مگر نیچے آپ نے جو وضاحت کی ہے اور پھر آیات پیش کی ہیں وہ آپس میں میل نہیں کھاتیں ، کیونکہ آپ نے صرف ورقہ بن نوفل اور رسول اللہ کے مکالمے پر بحث کی ہے جبکہ اس میں رسول اللہ کا بقول حدیث گھبرا جانا ڈر جانا خوف سے کپکپانا بھی منظر میں لایا جائے تو آپ کی پیش کردہ تاویلیں نہ تو درست ثابت ہوتیں اور نہ بحث مکمل ہوتی ہے ۔ اور آخری جملے کی بابت کیا کہوں اوپر سے نیچے تک کی تحریر کی آپ نے خود ہی نفی کر دی کیونکہ رسول اللہ کا علم حق پر مبنی تھا اسلئے ورقہ کو زیادہ معلوم ہو یا بہت زیادہ اس کے علم کا رسول کے علم سے کوئی موازنہ کیا ہی نہیں جا سکتا کیونکہ انبیاء پہلے سے ہی ان معاملات کے لئے تربیت کئے جاتے تھے یہ ایسا نہیں کہ نبوت کا بار اچانک ڈال دیا جائے اور پھر معاذ اللہ رسول خوف سے کانپنے لگیں اور کوئی بے دین آ کر ان کی تائید کرتا پھرے تسلی کے واسطے اور پھر اس کے علم کے مدراج بیان ہوں۔ شاید جلدی میں آپ یہ عبارت لکھ گئے ۔ بلاشبہ رسول اللہ کی علم و حکمت دینی معاملات میں نہ کسی تائید کی محتاج ہے اور نہ کوئی ایسا ہے جو اس سے موازنے کے لائق ہو ۔
وسلام
 

باسم

محفلین
توجہ دلانے کا شکریہ
آپ کی یہ بات درست ہے کہ یہاں تدریج والی بات سے مفہوم بدل گیا وضاحت کر دیتا ہوں
اگر ورقہ کو ایک بات زیادہ معلوم بھی تھی تو اس ایک بات کا "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم سے کوئی موازنہ کیا ہی نہیں جا سکتا" کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم علم کے اس بلند مقام پر تھے کہ کوئی راہب اس راستے کی خاک بھی نہیں ہوسکتا۔
"انبیاء پہلے سے ہی ان معاملات کے لئے تربیت کئے جاتے تھے"
یہ بات زیر بحث حدیث سے تو معلوم ہوتی ہے قرآن مجید سے حوالہ درکار ہے
اور ووضعنا عنك وزرك الذي انقض ظهرك (سورۃ الانشراح آیت 2-3(
ترجمہ: اور تم پر سے بوجھ بھی اتار دیا جس نے تمہاری پیٹھ توڑ رکھی تھی
سے نزول وحی کی یہ شدت معلوم ہوتی ہے
 
Top