سفرِ مشی گن و نیاگرا آبشار وغیرہ

یاز

محفلین
سالِ گزشتہ کے اختتامی چند ہفتوں میں امریکہ یاترا کا اتفاق ہوا۔ اس سفر کا سب سے یادگار حصہ نیاگرا آبشار کا ٹرپ رہا۔ رسمِ سفرنامہء محفل کے مطابق نیاگرا ٹرپ بمعہ چند دیگر مواقع کی تصاویر پیشِ خدمت ہیں۔

ترتیب سے تصاویر ذیلی مراسلوں میں شامل کرتا جاؤں گا۔ فی الحال چند ٹیزر

IY6IR2x.jpg

OPYXQnt.jpg

wQpXGYe.jpg
 
آخری تدوین:

یاز

محفلین
سفر کے پہلے مرحلے میں اسلام آباد سے دوہا ایئرپورٹ، قطر پہنچے۔
دوہا سے ہمیں بھلے شاہ یاد آئے، چنانچہ کوک سٹوڈیو والا "بھلا! کی جاناں میں کون" سن کر ان کی یاد کو تازہ کیا۔
قطر کا شیخ فلاں فلاں ایئرپورٹ بہت ہی شاندار ہے۔ ہم نے بہت زیادہ ایئرپورٹ تو نہیں دیکھے، لیکن جتنے دیکھے ہیں، قطر ایئرپورٹ جیسا نفاست اور رنگ و نور کا امتزاج کسی اور میں نہیں پایا۔
قطر ایئرپورٹ کی چند تصاویر لیں، کہ کبھی آف شور کمپنی نکل آئی تو قطری خط نہ سہی، قطری تصاویر ہی پیش کر کے خلاصی کی امید کر سکیں۔

w51v1cg.jpg

QmEWsJd.jpg

gPbke8V.jpg
 

یاز

محفلین
اگلا مرحلہ دوہا سے شکاگو تک کے طویل (ساڑھے پندرہ گھنٹے) فضائی سفر کا تھا۔ قطر پہ حال ہی میں عرب ملکوں نے پابندیاں لگائی ہیں، جن میں قطر ایئرویز کے لئے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی پابندی بھی ہے۔ اسی پابندی کے بعد ایران نے قطر کے لئے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ لہٰذا قطر سے اب جہاز پہلے سیدھا شمال کی جانب جا کر ایران کی فضائی حدود میں داخل ہو کر ایران سے ترکی اور پھر یورپ کی فضاؤں میں داخل ہوتے ہیں۔
پرانا روٹ کچھ اس طرح کا تھا، جس کا ابتدائی حصہ اگرایران تک سیدھا شمال کی جانب موڑ لیا جائے تو موجودہ روٹ بن جائے گا۔
Qatar-Chicago-flight-path.gif


یہیں ایک دلچسپ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ بھئی اگر قطر (یا خلیج کے کسی بھی ایئرپورٹ) سے امریکہ جانا ہے تو سیدھا مغرب کی جانب کیوں نہیں چلے جاتے۔ یہ اوپر کی جانب لمبا چکر کیوں لگاتے (جیسے ٹیکسی والے زیادہ میٹر چلانے کے لئے لگایا کرتے ہیں)۔
اس کا جواب یہ ہے کہ مختصر ترین روٹ یہی ہے جو اوپر سے گھوم کر آ رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ زمین ایسی فلیٹ نہیں جیسا یہ نقشہ دکھا رہا ہے، بلکہ کروی ہونے کی وجہ سے زمین کا قطبین کی جانب والا راستہ نقشے پہ لمبا دکھائی دینے کے باوجود حقیقت میں کم لمبا ہوتا ہے۔
 

یاز

محفلین
جیسے ہی ہمیں اندازہ ہوا کہ جہاز ایران کی فضائی حدود استعمال کرے گا تو ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ کیونکہ ہمیں ایران دیکھنے کا بہت ہی شوق رہا ہے۔ برادر حسان خان کی تصویری لڑیوں کو بھی ہم اسی شوق اور حسرت میں دیکھا کرتے ہیں کہ شاید ایک دن ہم بھی شیراز، اصفہان وغیرہ دیکھ لیں۔
خیر ایران کی سرزمین کا نزدیک سے نہ سہی، فضا سے ہی نظارہ کرنے سے کچھ تشفی ضرور ہوئی۔ ایران کا زیادہ علاقہ پہاڑی ہے اور اس میں بھی بہت سا بلوچستان کی مانند بنجر پہاڑوں پہ مشتمل ہے۔ جہاں پہاڑوں کی بلندی کچھ زیادہ ہے تو وہاں برف بھی دکھائی دی۔ جہاز میں موبائل فون کیمرہ ہی استعمال کر پائے تو تصاویر کی کوالٹی بہت عمدہ نہیں ہے۔

nBrZvzq.jpg

kN8iZCC.jpg
 

یاز

محفلین
ایران سے نکل کر ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔ سیٹ کے سامنے نصب سکرین پہ نقشہ دیکھ اندازہ ہوا کہ آرمینیا کا دارالحکومت یرون ہمارے دائیں جانب سے گزرے گا۔ سو ہم نے بائیں جانب توجہ مرکوز رکھی کہ کوہِ ارارات کو پہچاننے کی کوشش کر سکیں۔
کوہ ارارات
اس پہاڑ کو بائبل میں ارارات اور اسلامی لٹریچر میں کوہِ جودی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ روایات و تواریخ کے مطابق طوفانِ نوح میں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اسی پہاڑ کے کنارے لگی تھی۔ وکی پیڈیا وغیرہ کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں میں چند مہمات کے دوران پہاڑ کی سلوپس پر کشتی کی لکڑی کے کچھ آثار دیکھے جانے کے دعویٰ جات کئے جاتے رہے ہیں۔

اگر ہمارا جغرافیہ، قسمت اور جہاز میں نصب لائیو میپ وغیرہ ٹھیک کام کر رہے تھے تو ذیلی تصاویر میں جہاز کے پر کے عین نیچے دور جو بلند پہاڑ دکھائی دے رہا ہے تو وہی کوہِ ارارات ہونا چاہئے۔
lEiNlot.jpg


کچھ زوم کر کے
79PCq59.jpg



ویسے برسبیلِ تذکرہ یرون سے ارارات کا نظارہ کچھ یوں ہے
133085-004-1B97E767.jpg
 
آخری تدوین:

زیک

تقریباً غائب
ایروان؟

آرمینیا کا دارالحکومت یرون ہمارے بائیں جانب سے گزرے گا۔ سو ہم نے دائیں جانب توجہ مرکوز رکھی کہ کوہِ ارارات کو پہچاننے کی کوشش کر سکیں۔
کیا جہاز شمال مشرق کی طرف جا رہا تھا؟

اگر ہمارا جغرافیہ، قسمت اور جہاز میں نصب لائیو میپ وغیرہ ٹھیک کام کر رہے تھے تو ذیلی تصاویر میں جہاز کے پر کے عین نیچے دور جو بلند پہاڑ دکھائی دے رہا ہے تو وہی کوہِ ارارات ہونا چاہئے۔
آتش فشاں کا فائدہ! ان کی پرامیننس اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ پہچان آسان ہے۔
 

یاز

محفلین
جی جی وہی۔ فرنگی زبان میں اس کو Yerevan اور Erevan دونوں انداز سے لکھا جاتا تھا۔ بولا نجانے کیسے جاتا ہو گا۔

کیا جہاز شمال مشرق کی طرف جا رہا تھا؟
شمال مشرق تو نہیں۔ شمال اور چند ڈگری مغرب کی جانب رخ تھا۔
آتش فشاں کا فائدہ! ان کی پرامیننس اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ پہچان آسان ہے۔
جی جی بالکل۔
 

زیک

تقریباً غائب
چھوٹے سے نام کو توڑنے کی کیا ضرورت؟

ویسے Michigan کے دونوں i کا تلفظ ایک ہی ہے جو اردو میں زیر سے ادا ہوتا ہے۔ پھر ایک زیر اور ایک ی کیوں؟

نوٹ: مجھے علم ہے کہ یہ اردو یا اردودان طبقے کا مسئلہ ہے کہ آپ نے عام ہجے ہی لکھے ہیں۔
 

یاز

محفلین
اس کے بعد شکاگو اوہیئر ایئرپورٹ کا طویل صبر آزما سفر طے کیا۔ شکاگو ایئرپورٹ سے ٹرمینل تبدیل کر کے ڈیٹرائٹ کی فلائٹ پکڑی۔ جہاز شکاگو سے نکل کر جیسے ہی مِشِگن (اب ٹھیک ہے زیک بھائی) جھیل کی فضاؤں میں پہنچا تو بادلوں کی دبیز تہہ ہمارے اور جھیل کے درمیان حائل ہو گئی۔ کچھ دیر بعد یہ حال ہو گیا کہ اوپر بھی بادل اور نیچے بھی بادل۔ ایسے میں کافی مواقع پہ ہم اور سورج بادلوں کی دو تہوں میں اکٹھے سینڈوچ بنے رہے۔

vTubaih.jpg

iNrxZhb.jpg

2xFmfBk.jpg
 
آخری تدوین:

یاز

محفلین
کچھ آگے جا کر بادلوں کی اوپر والی تہہ ختم ہوئی تو قدرے صاف آسمان اور قوسِ قزح دکھائی دینے لگے۔
5zLoQiM.jpg

LgHYqU3.jpg
 

یاز

محفلین
یہ یقیناً صرف اوہیئر کا ذکر ہے۔
جی جی بالکل۔ اس دفعہ کا سفر فقط اوہیئر تک ہی محدود رہا۔ سابقہ ٹور میں شکاگو کا قدرے تفصیلی ٹرپ کیا تھا۔
ویسے سابقہ ٹور میں اوہیئر کو بھی تفصیل سے کھنگالا تھا کہ ٹرمینل تبدیل ہونے کی وجہ سے امیگریشن یہیں ہونی تھی، جس میں اتنا وقت لگ گیا کہ اگلی فلائٹ مس ہو گئی اور آٹھ نو گھنٹے بعد کی فلائٹ میں ایڈجسٹمنٹ ملی۔ سو ان بہت سے گھنٹوں کو ایئرپورٹ پہ "لُور لُور" پھرنے میں صرف کیا۔
ویسے چند ہی ایئرپورٹ ہیں جو ہارٹ فیلڈ جیکسن کو کچھ پیرامیٹرز میں پچھاڑتے ہیں۔ اوہیئر اور ہیتھرو ان میں شامل ہیں۔
 

یاز

محفلین
شکاگو ایئرپورٹ سے ڈیٹرائٹ پہنچے اور پھر اگلے چار ہفتے وہیں قیام رہا۔
پہلے ویک اینڈ پہ نیاگرا آبشار کے ٹرپ کا پلان بنایا۔ پلان یہی تھا کہ صبح ہونے سے پہلے ڈیٹرائٹ سے نکلا جائے اور دوپہر سے پہلے نیاگرا پہنچ کر آبشار اور گردونواح کی زیارت کریں اور شام کے قریب واپسی کی راہ پکڑیں۔
ڈیٹرائٹ سے نیاگرا جانے کا مختصر ترین راستہ کینیڈا سے ہو کر جاتا ہے۔ جو کہ تقریباً 400 کلومیٹر طویل ہے اور چار ساڑھے چار گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ ہمارے پاس کینیڈا کا ویزا نہیں تھا تو ہمیں امریکی سائیڈ کے طویل راستے سے جانا پڑا جو کہ ٹولیڈو، کلیولینڈ سے ہوتا ہوا ایری جھیل کے گرد چکر کاٹ کر نیاگرا تک جاتا ہے۔ یہ راستہ تقریباً 630 کلومیٹر طویل تھا اور تقریباً سات گھنٹوں کی نان سٹاپ ڈرائیو کے بعد طے ہوا۔
ذیلی نقشے میں دونوں روٹس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
missing+plane+lake+erie+map+mgn+google.jpg
 

یاز

محفلین
سفر کے لئے ایک عدد کار رینٹ پہ لی گئی، جو حیران کن طور پر فقط 25 ڈالر فی دن پہ دستیاب تھی۔ ہمیں خوشی کے ساتھ ساتھ بہت حیرانی بھی ہوئی کہ ہمارے ہاں تو اس سے زیادہ کرایے پہ چھکڑا ٹائپ گاڑی آدھے دن کے لئے ملتی ہے، جبکہ وہاں کار رینٹل والی خاتون پارکنگ میں بہت سی گاڑیوں کے سامنے لے جا کر کہنے لگیں کہ ان میں سے اپنی پسند کے حساب سے منتخب کر لیں۔ ہنری فورڈ سے عقیدت کے باعث ہم نے فورڈ کو ترجیح دی اور ذیلی کار منتخب کی جس کا ماڈل شاید فورڈ فوکس تھا۔
6Let2D3.jpg



اس کے بعد ڈیٹرائٹ سے مکمل اندھیرے میں نکلے اور 75 نمبر کی انٹرسٹیٹ ساؤتھ پکڑ کر ٹولیڈو پہنچے اور وہاں سے 90 نمبر والی انٹرسٹیٹ ایسٹ پہ گامزن ہوئے۔ پہلی تصویر کلیولینڈ شہر سے گزر کر لی۔ اس وقت بھی نیم روشنی ہی تھی۔
UIy531N.jpg

RfHu8M8.jpg
 

یاز

محفلین
سورج نمودار ہوا تو زردی مائل روشنی میں جہازوں کے دھویں کی لکیروں (کہ کنڈنسیشن ٹریل یا کونٹریل کہلاتی ہیں) نے ایسا سماں باندھ رکھا تھا جیسے پوسٹ آپوکلپسی فلموں کے مناظر ہوتے ہیں۔
ZnbJql8.jpg

smhLogH.jpg
 
Top