جون ایلیا سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں - جون ایلیا

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 22, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,113
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں
    نیند آنے لگی ہے فرقت میں

    ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگر
    سوچتا ہوں تیری حمایت میں

    روح نے عشق کا فریب دیا
    جسم کا جسم کی عداوت میں

    اب فقط عادتوں کی ورزش ہے
    روح شامل نہیں شکایت میں

    عشق کو درمیاں نہ لاؤ کہ میں
    چیختا ہوں بدن کی عسرت میں

    یہ کچھ آسان تو نہیں ہے کہ ہم
    روٹھتے اب بھی ہیں مروت میں

    وہ جو تعمیر ہونے والی تھی
    لگا گئی آگ اس عمارت میں

    اپنے حجرہ کا کیا بیاں کہ یہاں
    خون تھوکا گیا شرارت میں

    وہ خلا ہے کہ سوچتا ہوں میں
    اس سے کیا گفتگو ہو خلوت میں

    زندگی کس طرح بسر ہو گی
    دل نہیں لگ رہا محبت میں

    حاصلِ ’’کُن‘‘ ہے یہ جہانِ خراب
    یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں

    پھر بنایا خدا نے آدم کو
    اپنی صورت پہ، ایسی صورت میں

    اور پھر آدمی نے غور کیا
    چھپکلی کی لطیف صنعت میں

    اے خدا (جو کہیں نہیں موجود)
    کیا لکھا ہے ہماری قسمت میں؟
    جون ایلیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. میم الف

    میم الف محفلین

    مراسلے:
    226
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy

اس صفحے کی تشہیر