سرائیکی وسیب کے مقبول کھیل

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
صدیوں سے آباد سرائیکی خطہ اپنے اندر زندگی کے سبھی رنگ سموئے ہوئے ہے ۔ مسلسل حملہ آوری کے باوجود بھی اس خطے کے لوگوں نے اپنی زبان و ثقافت کو سینے سے لگائے رکھا۔ شاعری کا میدان ہو یا کھیلوں کا میدان اس خطے نے اپنی ہمسایہ اقوام کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ انہیں اپنی طرف متوجہ بھی کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج سرائیکی شاعری پسندیدگی کے اعتبار سے سرحدیں پار کر چکی ہے ۔ اور سرائیکی شاعری کی مانند سرائیکی خطے میں کھیلا جانے والا کھیل "گھرمے آلی گوڑھی" آج کرکٹ کی شکل میں پوری دنیا پر راج کر رہا ہے۔
یوں تو سرائیکی خطے میں کھیلے جانے والے بچوں کے کھیلوں کی ایک لمبی فہرست ہے ۔ مگر یہاں میں چند مشہور ترین کھیلوں کا تذکرہ کروں گا جو سرائیکی وسیب کے بچوں میں بہت مقبول ہیں۔
باندر کِلہ
یہ سرائیکی خطے کے بچوں کا مقبول ترین کھیل ہے ۔ اسے خواتین بھی شوق سے کھیلتی ہیں ۔​
اس کھیل کیلئے ایک عدد رسی ، کِلے ( کھونٹے) اور چند جوتوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ باری دینے والا کھلاڑی رسے کو پکڑ کر کِلے کے اردگرد گھومتا ہے جبکہ دوسرے کھلاڑی پھرتی سے کلے کے قریب پڑے جوتے اٹھاتے ہیں ۔ اگر سارے جوتے اٹھا لیے جائیں تو وہ رسی چھوڑ کر" پیڑ " (منزل مقصود)کی طرف دوڑتا ہے ، اور باقی کھلاڑی اس پر جوتوں کی بارش کر دیتے ہیں ۔ اگر کوئی کھلاڑی جوتا اٹھانے کی کوشش کے دوران پکڑا جائے تو وہ "سڑ" جاتا ہے اور پھر وہ باری دیتا ہے​
شیدن
یہ کھیل بھی سرائیکی خطے کے دیہاتوں اور شہروں میں یکساں مقبول ہے ۔ اس کھیل کیلئے ایک عدد پِھکری (ٹھیکری) کی ضرورت پڑتی ہے ، جسے گول کر لیا جاتا ہے۔کھلاڑی زمین پر ایک بڑا سا ڈبہ بنا کر اس کے خانے بنا لیتے ہیں ، اور باری باری ٹھیکری کو ان خانوں میں ڈال کر ایک ٹانگ کے ذریعے اسے باہر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ، اگر تمام خانوں سے کامیابی سے ٹھیکری کو باہر نکال لیا جائےتو وہ کھلاڑی جیت جاتا ہے ، اگر کامیاب نہ ہو سکے تو ظاہر ہے ہار جاتا ہے ۔ پھر دوسرا کھلاڑی اسی ترتیب سے کھیل کھیلتا ہے​
ڈیٹی ڈنڈا (گلی ڈنڈا)
یہ کھیل ویسے تو پورے پاکستان میں کھیلا جاتا ہے لیکن سرائیکی خطے میں اس کی اہمیت و نوعیت منفرد ہے ، یہ کھیل بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول ہے ۔ یہ کھیل کئی طریقوں سے کھیلا جاتا ہے۔ اس کھیل کیلئے ایک ڈیٹی (گلی) اور ڈنڈے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایک ٹیم جب مطلوبہ نمبر (پوائنٹ) بنا لیتی ہے تو دوسری ٹیم سزا کے طور پر مخصوص آواز نکالتے ہوئے پیڑ تک آتی ہے ۔ یہ کھیل بارش کے دنوں میں زیادہ کھیلا جاتا ہے ۔ اس کھیل سے ایک تو کھلاڑی چست و چالاک ہو تے ہیں ، دوسرا وہ نظم و ضبط بھی سیکھتے ہیں​
چیکل
یہ ایسا کھیل ہے جو صرف گرمیوں میں کھیلا جاتا ہے ۔ اسے لڑکیاں بہت شوق سے کھیلتی ہیں ۔ ایک ماہر بڑھئی سے چیکل تیار کروانے کے بعد اسےکسی گھر میں موجودسایہ دار درخت کے نیچے نصب کر دیا جاتا ہے ۔ دوپہر کے وقت لڑکیاں اور خواتین اس پر بیٹھتی ہیں اور چیکل کھیلتی ہیں ۔ چیکل کے گھومنے والی جگہ پر کولے (کوئلے) ڈالے جائیں تو اس سے زوردار آواز پیدا ہو تی ہے ۔​
لاٹو (لٹو)
لاٹو بھی سرائیکی خطے کے بچوں اور لڑکوں کا من بھاتا کھیل ہے ۔ بڑھئی سے خوبصورت رنگ برنگے لاٹو تیار کروائے جاتے ہیں ، نوک کے طور پر لاٹو میں لوہے کا کیل بھی نصب کیا جاتا ہے ۔لاٹو گھمانے کیلئے ایک رسی بھی درکار ہوتی ہے۔آج کل مارکیٹ سے بھی خوبصورت لاٹو بنے بنائے مل جاتے ہیں، جنہیں دیہاتی شوق سے خریدتے ہیں۔ دیہات میں کسی بڑے سایہ دار درخت کے نیچے اس کا میچ لگتا ہے ۔ کچھ بڑے لاٹوں کے گھمانے کا کھیل کھیلتے ہیں ، کچھ ایک دوسرے کے لاٹو کو اپنے لاٹو سے مارنے کا ۔ اس کھیل میں لاٹو ٹوٹ بھی جاتے ہیں ۔​
لُک چھپ
یہ ایسا کھیل ہے جو سردیوں ، گرمیوں میں کھیلا جاتا ہے۔ یہ لڑکوں اور لڑکیوں میں یکساں مقبول ہے ۔ اسے کھیلنے کے مختلف طریقے ہیں ۔ ٹاس ہارنے والا پیڑ (منزل مقصود) پر کھڑا ہو جاتا ہے (آنکھیں بند کر کے) باقی کھلاڑی اسے چھپ کر آواز دیتے ہیں ۔ وہ چکے سے انہیں پکڑنے کی کوشش کرتا ہے ، اگر کوئی پکڑا جائےتو ٹھیک ورنہ وہ بار بار باری دیتا ہے ۔ اکثر اوقات یہ کھیل رات گئے تک بھی جاری رہتا ہے ۔​
نوڑا وٹ /کوکلا چھپاکی
یہ کھیل بھی لڑکے اور لڑکیاں شوق سے کھیلتے ہیں ، دیہاتوں اور شہروں یکساں طور پر مقبول ہے ۔ اس کھیل کیلئے کپڑے کے ایک نوڑے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کپڑے کو بل دے کر(وٹ کے) اس کا ایک کوڑا بنا لیا جاتا ہے ۔ باری دینے والا اسے ہاتھ میں پکڑ کر گول دائرے میں بیٹھے کھلاڑیوں کے گرد گھومنے کے دوران چپکے سے نوڑے (کوڑے) کو کسی کے پیچھے رکھ دیتا ہے ۔ اگر اسے پتہ چل جائے تو تو اسے اٹھا کر باری دینے والے کے پیچھے بھاگ کر اسے مارتا ہے ۔ اگر وہ خالی جگہ پر بیٹھ جائے تو مار سے محفوظ ہو جاتا ہے ۔ اگر جس کے پیچھے نوڑا پڑا ہو اسے پتا نہ چلے تو وہ مار کھاتا ہے ۔​
ہِل کانگڑہ/لُنڈی /ون چڑھ
یہ دیہاتی بچوں میں بہت شوق سے کھیلے جانے والا کھیل ہے ۔گرمیوں کی چھٹیوں میں بچے باغوں میں اس کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔اس کھیل میں ایک ڈنڈا مرکزی کردار ادا کرتا ہے ۔ ٹاس ہارنے والا کھلاڑی درخت کے نیچے کھڑا ہو جاتا ہے ۔ جبکہ باری لینے والوں میں سے ایک اس ڈنڈے کو اپنی ٹانگ کے نیچے سے دور پھینکتا ہے ۔ باقی کھلاڑی درختوں پر چڑھ جاتے ہیں ۔ باری دینے والا ڈنڈے کو اٹھا کر اس درخت کے نیچے رکھ کر خود درخت پر چڑھ جاتا ہے ، تاکہ کسی کو پکڑ سکے۔ دوسرے کھلاڑی پھرتی سے نیچے اتر کر اس ڈنڈے کو اٹھا لیتے ہیں ۔ اگر کوئی پہلے پکڑا جائے تو وہ باری دیتا ہے ۔ اس طرح یہ کھیل شام تک جاری رہتا ہے۔​
بیلو بیلو
یہ ایسا کھیل ہے جو شام کے وقت کھیلا جاتا ہے۔ اس کھیل کیلئے دو ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہین ۔ دونوں ٹیموں کے کپتان تھوڑے فاصلے پر بیٹھ جاتے ہیں اور نزدیکی بستی کے کسی درخت یا جانور کا نام ذہن میں رکھ کر کھلاڑیوں سے پوچھتے ہیں :۔" بیلو بیلو کجھی وچوں کھجی چنو"۔​
دونوں ٹیموں میں سے کوئی پہلے بوجھ لے تو وہ ٹیم دوسری ٹیم کے کھلاڑیوں کی پشت پر بیٹھ کر کپتانوں کے پاس آتی ہے ۔ یہ ہارنے والی ٹیم کیلئے ایک سزا ہوتی ہے ۔ یہ نہایت ہی دلچسپ کھیل ہے جو رات گئے تک جاری رہتا ہے ۔​
بچپن یاد آیا کہ نہیں؟۔ ان میں سے کون کون سے کھیل آپ اپنے بچپن میں کھیلتے رہے ہیں۔؟
 

نایاب

لائبریرین
باندر کِلہ
ڈیٹی ڈنڈا (گلی ڈنڈا)
لاٹو (لٹو)
لُک چھپ
نوڑا وٹ /کوکلا چھپاکی
کاش کوئی لوٹا دے میرا بیتا ہوابچپن
عید پر پہلے ہی اداسی اسیر کیئے ہوئے تھے ۔
غالب صغیر صاحب نے اٹھا بچپن میں پہنچا دیا ۔
جانے کیا کیا صورتیں تصور میں آ میلا لگانے لگیں ۔
بہت خوب شراکت
 

مہ جبین

محفلین
بہت اچھے انداز سے سرائیکی وسیب کے کھیلوں کا تذکرہ کیا اویس بھائی !

ہماری معلومات میں اضافہ ہوا اور جو لوگ یہ کھیل کھیلتے رہے ہیں وہ سیدھے اپنے بچپن میں جاپہنچے ہونگے

ویسے تو اس پوسٹ سے سب ہی محظوظ ہوئے ہونگے کہ بچپن کہیں کا بھی ہو کوئی نہ کوئی کھیل تو اپنے اپنے بچپن میں سب ہی کھیلتے ہونگے

ہم لوگ اس طرح کے کھیل تو نہیں کھیلتے تھے لیکن ان سے ملتے جلتے کھیل تھے جیسے کہ
آؤٹ ڈور گیمز میں

پکڑم پکڑائی
کھو کھو
برف پانی
پٹھوگرم
کوڑا جمال شاہی
لال پری آنا
چھپن چھپائی وغیرہ

اور اِن ڈور گیمز میں

لوڈو
کیرم
ڈراف
کروڑپتی
نام ، چیز، جگہ ، جانور
تعلیمی تاش
میرا وزیر کون؟
ٹیبل ٹینس وغیرہ وغیرہ ہوتے تھے

چھوٹاغالبؔ بچپن میں پہنچانے کا شکریہ

خوش رہو
 

عدیل منا

محفلین
زبردست چھوٹا غالب بھائی! واقعی آپ نے بچپن میں پہنچا دیا۔ جس کھیل کو آپ نے شیدن لکھا ہے اسے ہم سٹاپو کہتے ہیں۔ یہ زیادہ تر لڑکیاں کھیلتی ہیں۔
بچپن میں ہم نے لاٹو گھمانے کی بہت کوشش کی مگر کبھی کامیاب نہیں ہوسکے۔
کوکلا چھپاکی لڑکے لڑکیاں مل کر کھیلتے ہیں۔ جب ہم سب کزن کزنیاں اکٹھے ہوتے تو یہ کھیل بہت کھیلا جاتا تھا۔
آجکل کے بچوں میں ایسا انٹرسٹ نہیں ہے۔ کمپیوٹر انٹر نیٹ نے تو بچوں کو ایسی ایکٹیویٹیز سے دور کردیا ہے۔
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
زبردست چھوٹا غالب بھائی! واقعی آپ نے بچپن میں پہنچا دیا۔ جس کھیل کو آپ نے شیدن لکھا ہے اسے ہم سٹاپو کہتے ہیں۔

آجکل کے بچوں میں ایسا انٹرسٹ نہیں ہے۔ کمپیوٹر انٹر نیٹ نے تو بچوں کو ایسی ایکٹیویٹیز سے دور کردیا ہے۔
بہت شکریہ جناب، اظہار خیال کا اور پسند کرنے کا

واقعی اس کھیل کا اردو نام "شٹاپو" ہے

دیہاتوں میں تو اب بھی انٹرسٹ باقی ہے، کیونکہ یہ خرافات ابھی تک دیہاتوں میں اتنی عام نہیں ہوئی ہیں
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
کنچوں کا بھی سیزن ہوتا تھا۔
جی بالکل۔۔۔
ٹک پل
یسو پنجو
چور سپاہی
بادشاہ کا وزیر کون
سکے
وانجھو
وغیرہ وغیرہ
سرکاری سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے یہ کھیل اب ماضی بنتے جا رہے ہیں
حالانکہ اب تو جیو سوپر، پی ٹی وی سپورٹس وغیرہ بھی ہیں، مگر کوئی ان کو کوریج ہی نہیں دیتا
 
جی بالکل۔۔۔
ٹک پل
یسو پنجو
چور سپاہی
بادشاہ کا وزیر کون
سکے
وانجھو
وغیرہ وغیرہ
سرکاری سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے یہ کھیل اب ماضی بنتے جا رہے ہیں
حالانکہ اب تو جیو سوپر، پی ٹی وی سپورٹس وغیرہ بھی ہیں، مگر کوئی ان کو کوریج ہی نہیں دیتا
کیوں نا ہم مل کر اردو محفل پر اس کی کوریج دیں۔۔۔۔:computer:
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
کیوں نا ہم مل کر اردو محفل پر اس کی کوریج دیں۔۔۔ ۔:computer:
زبردست آئیڈیا۔۔۔۔۔۔۔
مگر
ایک بار میں نے اردو ٹی وی کا آغاز کیا تھا
مگر وہ منصوبہ فلاپ ہو گیا تھا ، اب آپ ساتھ دیں تو ہم اردو ٹی وی کا دوبارہ آغاز کرتے ہیں
اور باقی پروگرامز کے سات ساتھ ان کھیلوں کے میچز کی لائیو کوریج بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
 
زبردست آئیڈیا۔۔۔ ۔۔۔ ۔
مگر
ایک بار میں نے اردو ٹی وی کا آغاز کیا تھا
مگر وہ منصوبہ فلاپ ہو گیا تھا ، اب آپ ساتھ دیں تو ہم اردو ٹی وی کا دوبارہ آغاز کرتے ہیں
اور باقی پروگرامز کے سات ساتھ ان کھیلوں کے میچز کی لائیو کوریج بھی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
اوکے۔
تو آپ شیڈول بنانے کی تیاری کریں۔
 
گو کہ یہاں پر محترم محمد بلال اعظم کے بعد میں ہی سب سے کم عمر ہوں لیکن میں نے ان میں سے اکثر کھیل کھیلتا رہا ہوں۔جیسے گلی ڈنڈا،سٹاپو(شیدن)،باندر کلہ اورلک چھپ۔
اس کے علاوہ جیسا کہ مہ جبین خالہ نے چند کھیلوں کا ذکر کیا جیسے برف پانی اور پٹھو گرم وغیرہ۔
انڈور گیمز کافی ساری کھیلی ہیں۔
ویسے میرا بچپن اتنا پرانا نہیں کہ میں کہوں شکریہ بچپن میں پہنچانے کا:)
 

عاطف بٹ

محفلین
واہ غالب میاں، آج تو آپ نے کمال کردیا۔
آپ نے واقعی بچپن یاد دلا دیا۔ میں نے ان میں سے باندر کِلہ، ڈیٹی ڈنڈا (گلی ڈنڈا)، لاٹو (لٹو)، لُک چھپ، نوڑا وٹ /کوکلا چھپاکی کھیلے ہوئے ہیں۔
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
گو کہ یہاں پر محترم محمد بلال اعظم کے بعد میں ہی سب سے کم عمر ہوں
:)
ریختے کے تمہی استاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

نہ میاں نہ
یہاں ایک تراب کاظمی بھی ہے، اور اس سے بھی چھوٹا وارث بھائی کا صاحبزادہ بھی ہے
 
ریختے کے تمہی استاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

نہ میاں نہ
یہاں ایک تراب کاظمی بھی ہے، اور اس سے بھی چھوٹا وارث بھائی کا صاحبزادہ بھی ہے
میں اس دھاگے کی بات کر رہا ہوں غالب جی
 
ریختے کے تمہی استاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

نہ میاں نہ
یہاں ایک تراب کاظمی بھی ہے، اور اس سے بھی چھوٹا وارث بھائی کا صاحبزادہ بھی ہے
ویسے تراب صاحب ہو سکتا ہے مجھ سے کچھ بڑے ہوں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
 
Top