arifkarim

معطل
غلط فرمایا آپ نے ۔ پاکستان میں ہونے والے مغرب کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کے لئے لوگ کرائے پر نہیں لائے جاتے بلکہ اپنے آپ کو ان سے الگ قومیت دکھانے کے لئے اور اپنے نالائق حکمرانوں کو یہ کہنے کے لئے کرتی ہے کہ مغرب کی تقلید چھوڑ کر پاکستانی عوام کے امنگوں کے مطابق فیصلے کئے جائیں۔
رہی بات تو پاکستانی قوم میں ایک آپ ہی ہیں جو احساس کمتری کا شکر ہونگے۔

یاد رہے کہ یہ نالائق حکمران ہمارے نہیں ، مغرب کیلئے کام کرتے ہیں‌ہمارے ملک میں!:grin:
 
خصوصی طور پر سی آئی اے ، موساد، راء اور ساواک یہ چار ایجنسیاں ہی ہمارے ملک میں تخریب کاری کرواتی ہیں۔
یہی بات تو میں سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کب سے
ہاہااہاہاہا، پا جی!
یہ چاروں اور انسے زائد ایجنسیاں بشمول مغرب پوری دنیا میں کام کرتی ہیں، پھر صرف پاکستان ہی کیوں زیادہ اثر انداز ہوتا ہے انسے؟!
شاید اسلئے کہ ہمارے ہاں غدار زیادہ ہیں!
نیز کیا ہماری ایجنسی آئی ایس آئی کیا سوئی ہوئی ہے؟

ہمارے نہیں، سب مسلمان ملکوں میں غدار ہیں، اس بات سے انکار نہیں
اور یہ سازشیں صرف پاکستان میں اثر انداز نہیں ہوتین، بلکہ تمام اسلامی ممالک ان کا شکار ہیں، عراق میں حالت اس سے بھی بری ہے، ایران والوں نے اچھا کنٹرول رکھا ہے، لیکن پھر بھی صدارتی انتخابات پر بہت شور اٹھا، لیبیا کو دیکھ لیں جو تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے ،افغانستان بیچارے کا حال دیکھ لیں، اور یہ سازشیں صرف مسلم ممالک کے خلاف ہو رہی‌ہیں، اور انکی شدت پاکستان میں کچھ زیادہ ہے، جو اس لیے ہے کہ پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے
 
آپ نے بالکل درست کہا ہے کہ امريکی سفارت کار پاکستان کی سياسی قيادت سے مسلسل رابطے ميں رہتے ہيں ليکن اس حقيقت کا اطلاق پاکستان ميں موجود تمام غير ملکی سفارت خانوں پر ہوتا ہے۔ مسلسل روابط کے يہ سلسلے ان کی ذمہ داريوں کا حصہ ہيں اور اسی مناسبت سے ان کی تعنياتی کی جاتی ہے۔

مختلف سفارتی اہلکار ملکی قائدين، رائے عامہ سے متعلق اکابرين اور سول سوسائٹی کے ساتھ مسلسل ملاقاتوں کے ذريعے دو طرفہ امور پر خيالات اور نظريات سے ايک دوسرے کو آگاہ رکھتے ہيں۔ يہ معمول کی ملاقاتيں خفيہ نہيں بلکہ پہلے سے طے شدہ ايجنڈے کی بنياد پر ہوتی ہيں۔ يہ نقطہ بھی اہم ہے کہ ان ملاقاتوں کا دائرہ کسی ايشو کے حوالے سے ايک مخصوص نقطہ نظر رکھنے والے سياسی قائدين تک محدود نہيں ہوتا۔ عام طور پر امريکی اہلکار ملک ميں حکومت اور اپوزيشن سميت تمام اہم قائدين سے ملاقاتيں کرتے ہيں۔ اس کے علاوہ پاکستانی سفارت کار بھی واشنگٹن ميں سفارت کاری کے اس مسلسل عمل کا حصہ ہوتے ہيں۔

دنيا کے ہر ملک کی حکومت اپنے مفادات اور علاقائ اور جغرافيائ تقاضوں کے تحت اپنی خارجہ پاليسی بناتی ہے اور حکومتی سفير مختلف ممالک میں اسی خارجہ پاليسی کا اعادہ کرتے ہيں۔ امريکی سفارت کاروں کی پاکستانی سياست دانوں سے ملاقاتيں اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ ليکن اس کا يہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ امريکہ پاکستان کے انتظامی معاملات ميں دخل اندازی کر رہا ہے اور مختلف فيصلوں پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ پاکستان ميں ايک مضبوط حکومتی ڈھانچہ خود امريکہ کے مفاد ميں ہے۔ ليکن اس ضمن ميں کيے جانے والے فيصلے بہرحال پاکستان کے حکمران سياست دانوں کی ذمہ داری ہے۔


امريکی سفارت کاروں کی پاکستانی سياست دانوں سے ملاقاتيں اور اس کے نتيجے ميں پاکستان کے اندرونی سياسی معاملات ميں مداخلت کے غلط تاثر کے حوالے سے ميں آپ کو ياد دلانا چاہتا ہوں کہ کہ امريکہ ميں صدارتی انتخابات سے قبل پاکستان کے سفير حسين حقانی نے تينوں امريکی صدارتی اميدواروں سے عليحدہ ملاقاتيں کی اور مستقبل ميں پاکستان اور امريکہ کے مابين تعلقات کے حوالے سے تپادلہ خيال کيا۔ ليکن کسی امريکی اخبار نے يہ الزام نہيں لگايا کہ پاکستان امريکہ کے اندرونی معاملات ميں مداخلت کر رہا ہے يا پاکستان امريکہ کی مستقبل کی خارجہ پاليسيوں پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس واشنگٹن پوسٹ نے حسين حقانی کے بارے میں ايک اداريہ لکھا تھا جس ميں واشنگٹن ميں مختلف امریکی اہلکاروں سے ان کی مسلسل ملاقاتوں اور پاکستان کے موقف کے ليے ان کی لابنگ کی تعريف کی گئ ۔ سفارت کاروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مسلسل رابطے اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھيں۔

http://www.washingtonpost.com/wp-dyn/content/article/2008/05/15/ar2008051503401.html?tid=informbox

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
جناب فواد صاحب ،بہت بہت شکریہ معلومات میں اضافہ کرنے کا
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اگر امريکی حکومت اور امريکی اينٹيلی جينس ادارے اتنے بااثر اور طاقتور ہيں کہ ہزاروں ميل دور 199 ممالک کے سياسی اور فوجی معاملات پر اثرانداز ہو سکتے ہيں تو پھر اس منطق کے اعتبار سے تو خود اپنے ملک ميں اس انتظاميہ اور اداروں کا اثرورسوخ اور اختيار ناقابل تسخير ہونا چاہيے۔ ظاہر ہے کہ طاقت اور اثرورسوخ آپ کے اپنے گھر سے شروع ہوتا ہے۔

ليکن حقيقت يہ ہے کہ کئ امريکی صدور ماضی ميں برسراقتدار ہونے کے باوجود نا صرف يہ کہ اليکشن ہار چکے ہیں بلکہ مختلف معاملات ميں قانونی عدالتوں ميں پيش بھی ہو چکے ہيں۔ اس ضمن ميں آپ کو ماضی قريب ميں جارج بش سينير کی مثال دوں گا جو 1992ميں صدارت کا اليکشن ہار گئے تھے۔ يہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جارج بش سينير 70 کی دہائ ميں سی – آئ – اے کے چيف رہ چکے تھے۔ آپ کی منطق کے اعتبار سے ان کی طاقت اور اختيار لامتناہی ہونا چاہيے تھا اور ان کو بآسانی اليکشن جيت لينا چاہيے تھا۔

يہ ايک غير منطقی مفروضہ ہے کہ کوئ حکومت يا اس کی ايجنسياں ہزاروں ميل دور کسی بھی ملک کے لوگوں کے سياسی رجحانات اور خيالات پر اثرانداز ہونے کی صلاحيت رکھتی ہوں مگر خود اپنے ملک کی حدود کے اندر لوگوں کے سياسی فيصلے پر اثرانداز نہ ہوسکيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
 

dxbgraphics

محفلین
اگر امريکی حکومت اور امريکی اينٹيلی جينس ادارے اتنے بااثر اور طاقتور ہيں کہ ہزاروں ميل دور 199 ممالک کے سياسی اور فوجی معاملات پر اثرانداز ہو سکتے ہيں تو پھر اس منطق کے اعتبار سے تو خود اپنے ملک ميں اس انتظاميہ اور اداروں کا اثرورسوخ اور اختيار ناقابل تسخير ہونا چاہيے۔ ظاہر ہے کہ طاقت اور اثرورسوخ آپ کے اپنے گھر سے شروع ہوتا ہے۔

ليکن حقيقت يہ ہے کہ کئ امريکی صدور ماضی ميں برسراقتدار ہونے کے باوجود نا صرف يہ کہ اليکشن ہار چکے ہیں بلکہ مختلف معاملات ميں قانونی عدالتوں ميں پيش بھی ہو چکے ہيں۔ اس ضمن ميں آپ کو ماضی قريب ميں جارج بش سينير کی مثال دوں گا جو 1992ميں صدارت کا اليکشن ہار گئے تھے۔ يہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جارج بش سينير 70 کی دہائ ميں سی – آئ – اے کے چيف رہ چکے تھے۔ آپ کی منطق کے اعتبار سے ان کی طاقت اور اختيار لامتناہی ہونا چاہيے تھا اور ان کو بآسانی اليکشن جيت لينا چاہيے تھا۔

يہ ايک غير منطقی مفروضہ ہے کہ کوئ حکومت يا اس کی ايجنسياں ہزاروں ميل دور کسی بھی ملک کے لوگوں کے سياسی رجحانات اور خيالات پر اثرانداز ہونے کی صلاحيت رکھتی ہوں مگر خود اپنے ملک کی حدود کے اندر لوگوں کے سياسی فيصلے پر اثرانداز نہ ہوسکيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov

اسلام آباد براستہ واشنگٹن اس میں کوئی شک نہیں
آپ ٹھیک کہتے ہیں اور ہمارے ملک کے دانشور غلط
 

arifkarim

معطل
فواد: New World Order میں جو سامنے دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں ہے اور جو ہوتا ہے اسکا اثبوت نہیں ہوتا! :grin:
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

فواد: New World Order میں جو سامنے دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں ہے اور جو ہوتا ہے اسکا اثبوت نہیں ہوتا! :grin:

نيوورلڈ آرڈر اور مسلم ممالک کو کمزور کرنے کے ليےامريکہ کے سازشی منصوبے۔ اس حوالے سے انٹرنيٹ اور ديگر ميڈيا پر بہت کچھ لکھا گيا ہے۔ ليکن ايک بات جو اس طرح کے مواد ميں ہميشہ مشترک ہوتی ہے وہ ہے جذباتيت کا عنصر۔ تمام تر زمينی حقائق اور اعدادوشمار بالائے طاق رکھ کر صرف اس منطق پر زور ديا جاتا ہے کہ مسلم ممالک کو درپيش تمام مسائل کا پيش خيمہ بھی امريکہ ہے اور ان تمام مسائل کا حل بھی امریکہ ہی کے پاس ہے۔ اس حوالے سے دلائل کبھی بھی اعداد وشمار پر مبنی نہيں ہوتے۔

اگر امريکہ مسلمانوں کو کمزور کرنے کے درپے ہے تو پھر آپ ان حقائق کو کيسے جھٹلائيں گے

اس وقت امريکہ ميں سب سے زيادہ تيزی سے پيھلنے والا مذہب اسلام ہے۔ امريکہ ميں قائم 1200 سےزائد مساجد ميں لاکھوں کی تعداد ميں مسلمان ديگر شہريوں کی طرح اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کا پورا حق رکھتے ہيں۔ يہی نہيں بلکہ مسلمانوں کو يہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ غير مذہب کے لوگوں کو مساجد ميں بلوا کر ان سے مذہب کے معاملات ميں ڈائيلاگ کر سکتے ہيں۔ مسلمانوں کو مساجد تعمير کرنے اور اسلامی تنظيموں کے قيام جيسے معاملات ميں مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے۔ اس کے علاوہ سياست، تجارت اور زندگی کے دوسرے شعبہ جات ميں مسلمانوں کو مکمل نمايندگی حاصل ہے۔

يہ کيسی منطق ہے کہ امريکہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ہے اور اس کے باوجود مسلمانوں کو امريکہ کے اندر ترقی کرنے کے تمام تر مواقع ميسر ہيں۔

اگر امريکہ پاکستان اور مسلمانوں کو کمزور کرنے کے درپے ہے تو اکتوبر 2005 کے زلزلے کے بعد 267 ملين اور 1951 سے لے کر اب تک يو – ايس – ايڈ کے ادارے کی جانب سے دی جانے والی 7 بلين ڈالرز کی امداد کو آپ کيسے فراموش کريں گے۔

امريکہ فلسطين کی امداد کرنے والے ممالک کی فہرست ميں پہلے نمبر پر ہے۔ پچھلے دس سالوں ميں امريکہ کی جانب سے فلسطين کو 8۔1 بلين ڈالرزسے زائد کی امداد دی جا چکی ہے۔

اگر امريکہ مسلمانوں کے خلاف ہے تو پھرايک آزاد فلسطينی رياست کے قيام کا مطالبہ کيوں کر رہا ہے؟

اگر امريکہ مسلمانوں کو کمزور کرنے کے درپے ہے تو بوسنيا اور کوسوو کی مدد کو کيوں پہنچا۔

انڈونيشيا کے مسلمانوں کو سونامی کی تباہکاريوں کے بعد سب سے زيادہ امداد امريکی حکومت کی جانب سے ہی ملی تھی۔ اس ميں صرف امريکی حکومت ہی شامل نہيں تھی بلکہ امريکہ کی بےشمار نجی تنظيموں نے بھی اس ميں حصہ ليا تھا۔

سال 2006 ميں ايران ميں زلزلے کی تباہی کے بعد امداد دينے والے ممالک ميں امريکہ سرفہرست تھا۔

سال 2006 ميں صحت، تعليم اور ديگر ترقياتی کاموں کے ضمن ميں امريکی حکومت کے توسط سے يو – ايس – ايڈ اور ايم – سی – سی کے اداروں کو جو امداد دی گئ اس کا تخمينہ 12 بلين ڈالرز ہے۔ يہ سارے ترقياتی منصوبے يو – ايس – ايڈ کے زير نگرانی پايہ تکميل تک پہنچے اور ان کی تفصيل آپ اس ويب سائٹ پر ديکھ سکتے ہيں۔

http://www.usaid.gov

حقيقت يہ ہے کہ امريکہ مسلمان ممالک کو ہر سال کئ بلين ڈالرز کی امداد ديتا ہے۔ صرف يہی نہيں بلکہ ہر سال ہزاروں کی تعداد ميں مسلمانوں کو امريکہ ميں شہريت دی جاتی ہے۔ عرب دنيا اور ديگر مسلم ممالک سے ہر سال ہزاروں طالب علم امريکہ کے تعليمی اداروں ميں اعلی تعليم کے حصول کے ليے آتے ہيں ان پر اس حوالے سے کسی قسم کی کوئ پابندی نہيں ہے۔ اس کے علاوہ ہر سال لاتعداد مسلمان پناہ گزين امریکہ ميں آ کر بستے ہيں اور انہيں امريکی شہريوں کے مساوی بنيادی انسانی اور آئينی حقوق ديے جاتے ہيں۔

امريکہ نہ ہی اپنی جغرافيائ حدود ميں اضافے کا خواہ ہے اور نہ ہی کسی قوم، مذہب يا گروہ کو ختم کرنے کے درپے ہے اور اس کا ثبوت يہ ہے امريکی آئين کے مطابق امريکی شہريوں کو بغير کسی تفريق کے اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ دنيا ميں کتنے ممالک ايسے ہيں جو يہ دعوی کر سکتے ہيں کہ وہاں پر ہر قوم اور مذہب کے لوگوں کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ جب امريکی حکومت نے اپنے ملک ميں کسی مذہب يا قوم پر پابندی نہيں لگائ تو پھر يہ الزام کيسے لگايا جا سکتا ہے کہ امريکہ پوری دنيا پر ايک خاص نظام، مذہب يا اقدار مسلط کرنے کا خواہش مند ہے ؟

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
 
Top