زیرک کے پسندیدہ اشعار

زیرک

محفلین
سنا ہے اہلِ ہوس اب وفا کے گاہک ہیں
یہ کاروبار نہ ہم سے ہوا، نہ آگے تھا
احمد فراز​
 

زیرک

محفلین
فراز! اس کو کوئی قاتل کہے، کوئی مسیحا
جدا اک دوسرے سے ہر کسی کے تجربے ہیں
احمد فراز​
 

زیرک

محفلین
یہ قوم کا اعلیٰ طبقہ ہے، کہتے ہیں انہیں سردار سبھی
یہ جاہل ہیں، یہ وحشی ہیں، ہوئیں گے نہ یہ بیدار کبھی
گل خان نصیر​
 

زیرک

محفلین
کیسے مانوں کہ بدل جائیں گے ان کے انداز
جبکہ ہے نعرۂ لا دینی و مستانہ وہی
گل خان نصیر​
 

زیرک

محفلین
انا للہ و اناالیہ راجعون

کیسا ماتم، کیسا رونا مٹی کا
ٹوٹ گیا ہے ایک کھلونا مٹی کا
عارف شفیق​
 

زیرک

محفلین
ہم نے سردی میں بھی مزدور کے ماتھے پہ پسینہ دیکھا
تُو نے اے امیر رشوت کی کمائی سے مکہ و مدینہ دیکھا​
 

زیرک

محفلین
آساں نہیں ہیں میری اذیت کے داؤ پیچ
مرتا ہوں اور جان سے جاتا نہیں ہوں میں
اکبر معصوم​
 

زیرک

محفلین
وہ اور ہوں گے جو کارِ ہوس پہ زندہ ہیں
میں اس کی دھوپ سے سایہ بدل کے آیا ہوں
اکبر معصوم​
 

زیرک

محفلین
توڑی جو اس نے مجھ سے تو جوڑی رقیب سے
انشاء تُو میرے یار کے بس توڑ جوڑ دیکھ

انشاء اللہ خان انشاء​
 

زیرک

محفلین
تخریب محبت آسان ہے، تعمیر محبت مشکل ہے
تم آگ لگانا سیکھ گئے، تم آگ بجھانا کیا جانو
رضی اختر شوق​
 

زیرک

محفلین
جامِ سفال و جامِ جم، کچھ بھی تو ہم نہ بن سکے
اور بکھر بکھر گئے، کُوزہ گروں کے درمیاں
رضی اختر شوق​
 

زیرک

محفلین
ہم اتنے پریشاں تھے کہ حالِ دلِ سوزاں
ان کو بھی سنایا کہ جو غم خوار نہیں تھے
رضی اختر شوق​
 
Top