زیرِ لب: صفیہ اختر کے خطوط منظوم ترجمہ :: محمد خلیل الرحمٰن

اسرار الحق مجاز کی بہن اور جاں نثار اختر کی شریکِ حیات کے خطوط اختر کے نام اب اردو ادب کا حصہ ہیں۔ ان کے دو مجموعے شائع ہوئے۔ حرفِ آشنا اور زیرِ لب۔ آج زیرِ لب درمیان سے کھولی اور ایک خط پڑھنا شروع کیا تو اسے نظم میں ڈھال دیا۔ اساتذہ اور محفلین سے درخواست ہے کہ نہ صرف اس کی اصلاح کریں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ہمارے حق میں دعا بھی فرمائیں کہ یہ ایک ترجمہ ایک نئے پراجیکٹ کا آغاز ثابت ہو۔ آمین

زیرِ لب
صفیہ اختر کا ایک خط جاں نثار اختر کے نام
منظوم : محمد خلیل الرحمٰن

پیارے اختر!،
کل ہی تُم کو خط لکھا ہے،
دل تمہاری خیریت میں ہی لگا ہے،
نظم پڑھ لی انجمن میں؟،
یہ غزل جو تُم نے لکھی ہےتمہارے دور سے دو سو برس پہلے کے شاعر کا تغزل لگ رہا ہے،
بیٹھے بیٹھے یہ تمہیں کیا سوجھتی ہے؟،
پھر بھی اس کے بعض شعروں کا ( کہوں گی) مجھکو جیسے چبھ گئے ہیں،
ایسا لگتا ہے کہ میرے ہی کہے کو تُم نے شعروں میں پرویا،

آج کل تو گھر بھرا ہے،
یوں نثار اور جاروے سے آیا لڑکا اور شمیم اپنے سبھی باہر کے کمرے کو سجا رکھے ہوئے ہیں،
اور اِدھر منی علیگڑھ جانے پر اصرار کرتی جارہی ہے،
چاہتی ہوں جس طرح ہو بس وہ بے فکری سے پڑھ لے،
دیکھو ( کیا ہو)۔۔۔،

سلسلہ بچوں کی بیماری کا چلتا ہی چلا جائے ہے اختر!،
میری ساری زندگی کیا یوں ہی ناکامی میں گزرے گی ہمیشہ؟،
خدمتیں میری تمہارے واسطے ہوں گی کبھی یا ،
دور ہی سے میں تمہیں پوجا کروں گی؟،
دور ہی سے تُم مجھے (آغوش میں اپنی) بُلانے کے اشارے ہی کرو گے؟،
آج پانی اس طرح برسا ہے گویا پھر نہ برسے گا کبھی بھی،
آگ برہا کی تو ایسے ہی بھڑک اُٹھتی ہے میرے دوست( پیارے)

بھوپال
۲۸ جولائی ۱۹۵۰

اختر عزیز!

کل ایک خط لکھ چکی ہوں، تمہاری خیریت میں دل لگا ہے۔ نظم پڑھی تُم نے انجمن میں؟ کیسی رہی؟

غزل جو تُم نے لکھی ہے، تمہارے زمانے سے کم سے کم دوسو برس پہلے والے شاعر کا رنگِ تغزل ہے۔ یہ بیٹھے بیٹھے تمہیں کیا سوجھتی ہے؟ پھر بھی اس کے بعض اشعار مجھے بہت چبھ گئے۔ ایسا معلوم ہوا کہ میری ہی کہی ہوئی بات کو تُم نے شعر میں پرودیا ہے۔

آج کل گھر پوری طرح بھرا ہوا ہے۔ نثار، شمیم اور جاورے سے آیا ہوا لڑکا سب باہر کے کمرے کو آباد رکھتے ہیں۔ منی علیگڑھ جانے کی تجویز پیش کرتی رہتی ہے۔ گوالیار کی ملازمت کے لیے بھی کوشاں ہے۔ غرضیکہ طرح طرح کی خلشیں پیدا کرلیتی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ جس طرح ہو ، وہ بے فکر ہوکر پڑھ سکے، دیکھو۔۔ نثار کا نتیجہ اکتیس کو نکلے گا۔

بچوں کی بیماری کا سلسلہ چلا ہی جاتا ہے۔ اختر! کیا میری تمام زندگی یونہی ناکام سی گزرے گی؟ میری خدمتیں تمہارے لیے کبھی وقف نہ ہوں گی؟ میں دور ہی سے تُم کو پوجا کروں گی اور دور ہی سے تُم مجھے پاس آنے کے اشارے کرتے رہو گے؟

آج پانی اِس طرح برس رہا ہے گویا پھر نہ برسے گا۔ برہ کی آگ تو ایسے میں بھی بھڑک اٹھتی ہے دوست!

تمہاری صفیہ
 
آخری تدوین:
بہت اعلیٰ !! کیا بات ہے خلیل بھائی ! بہت خوب!!!!!
یہ سلسلہ اچھا ایجاد کیا ہے آپ نے ۔ مجھے یاد ہے کہ اس سے پہلے غالب کےایک خط کو بھی منظوم کیا تھا آپ نے اور یہ شاید اس سلسلے کی دوسری نظم ہے ۔ صرف اتنا کہوں گا کہ منظوم کرنے کے لئے خط یا نثرپارے کے انتخاب میں بہت ہی ژرف نگاہی سے کام لیجئے ۔ نثر پارہ کوئی ایسا منتخب کیجئے کہ جس میں شاعرانہ سا پیرایہ ہو یا کوئی انوکھی دلچسپ سی بات ہو ۔ اس طرح سے نظم میں خودبخود جان پڑجائے گی ۔اس طرح کی نظم پر اصلاح دینا تو شاید ممکن ہی نہیں کہ نثر کو ایک سے زیادہ طریقوں پر منظوم کیا جاسکتا ہے ۔ اگرچہ خطوط کا منظوم ترجمہ اردو ادب میں ایک نئی ایجادہے اور اس کے پرکھنے کے لئے کوئی اصول یا معیار بنانا مشکل ہے ۔ لیکن نثر کو منظوم کرنے کے نظائر قرآن اور حدیث کی منظومات کی شکل میں پہلے سے موجود ہیں اور وہاں سے پرکھنے کے اصول لئے جاسکتے ہیں ۔ پہلا اصول یا معیار تو یہی ہے کہ منظوم کرتے وقت نثر کا اصل مدعا برقرار ہے ۔ مثلاً جو فعل یا زمانے نثر میں استعمال ہوئے ہیں انہیں نظم میں اس طرح نہ بدلا جائے کہ مفہوم بدل جائے ۔ دوسرا یہ کہ اپنی طرف سے کوئی ایسی کمی یا زیادتی نہ کی جائے کہ جس سے مدعا مجروح ہو یا اس پر کوئی زد پڑے ۔ وغیرہ وغیرہ۔
خط کی نثر کو سامنے رکھتے ہوئے ایک دو سطور پر (آپ کے حسبِ حکم ) اپنی ناقص رائے پیش کرتا ہوں ۔ رنگ زدہ الفاظ کا اصل نثر سے تقابل کیجئے گا ۔
آج پانی اس طرح برسا ہے گویا پھر نہ برسے گا کبھی بھی،
آگ برہا کی تو ایسے ہی بھڑک اُٹھتی ہے میرے دوست( پیارے)
یہاں مکتوب نگار نے صیغہء استمرار استعمال کیا ہے ۔ یعنی بتایا ہے کہ بارش مسلسل برس رہی ہے ۔ آپ نے اسے ماضی میں منظوم کردیا : ( آج پانی اس طرح برسا ہے گویا پھر نہ برسے گا کبھی بھی)
آج پانی یوں برستا جارہا ہے جیسے برسے گا نہ پھر سے اب کبھی
آگ برہا کی تو ایسے میں بھڑک اٹھتی ہے میرے پیارے دوست

سلسلہ بچوں کی بیماری کا چلتا ہی چلا جائے ہے اختر!،
میری ساری زندگی کیا یوں ہی ناکامی میں گزرے گی ہمیشہ؟،
خدمتیں میری تمہارے واسطے ہوں گی کبھی یا ،
دور ہی سے میں تمہیں پوجا کروں گی؟،
دور ہی سے تُم مجھے (آغوش میں اپنی) بُلانے کے اشارے ہی کرو گے؟،

سلسلہ بچوں کی بیماری کا چلتا ہی چلا جائے ہے اختر!
میری ساری زندگی کیا یونہی ناکام سی گزرے گی یہ ؟
خدمتیں میری تمہارے واسطے بھی وقف ہوں گی اب کبھی ؟
یا تمہیں بس دورسے پوجا کروں گی میں یونہی؟
اور تُم بس مجھ کو اپنے پاس آنے کے اشارے
دور سے کرتے رہو گے؟
خلیل بھائی میری ناقص رائے میں "آغوش میں اپنی" کے الفاظ کا اضافہ کرنا دیانتدارانہ ترجمہ نہیں ۔ مکتوب نگار نے تو ایسا نہیں لکھا اور نہ سیاق و سباق میں ایسا کوئی مطلب نظر آتا ہے ۔ دوسری بات یہ کہ مکتوب نگار اور مکتوب الیہ دو مختلف شہروں میں ہیں ۔ سو دور سے آغوش میں بلانے کا اشارہ یہاں بے محل ہے ۔ اگر دونوں ایک ہی مقام پر ہوتے تو پھر بھی کوئی بات تھی ۔ :)

خلیل بھائی ، ایک بار پھر بہت سی داد ۔ آپ یونہی جدتیں بکھیرتے رہیں اور بدعتیں جاری کرتے رہیں ۔ :):):)
 
بہت اعلیٰ !! کیا بات ہے خلیل بھائی ! بہت خوب!!!!!
یہ سلسلہ اچھا ایجاد کیا ہے آپ نے ۔ مجھے یاد ہے کہ اس سے پہلے غالب کےایک خط کو بھی منظوم کیا تھا آپ نے اور یہ شاید اس سلسلے کی دوسری نظم ہے ۔ صرف اتنا کہوں گا کہ منظوم کرنے کے لئے خط یا نثرپارے کے انتخاب میں بہت ہی ژرف نگاہی سے کام لیجئے ۔ نثر پارہ کوئی ایسا منتخب کیجئے کہ جس میں شاعرانہ سا پیرایہ ہو یا کوئی انوکھی دلچسپ سی بات ہو ۔ اس طرح سے نظم میں خودبخود جان پڑجائے گی ۔اس طرح کی نظم پر اصلاح دینا تو شاید ممکن ہی نہیں کہ نثر کو ایک سے زیادہ طریقوں پر منظوم کیا جاسکتا ہے ۔ اگرچہ خطوط کا منظوم ترجمہ اردو ادب میں ایک نئی ایجادہے اور اس کے پرکھنے کے لئے کوئی اصول یا معیار بنانا مشکل ہے ۔ لیکن نثر کو منظوم کرنے کے نظائر قرآن اور حدیث کی منظومات کی شکل میں پہلے سے موجود ہیں اور وہاں سے پرکھنے کے اصول لئے جاسکتے ہیں ۔ پہلا اصول یا معیار تو یہی ہے کہ منظوم کرتے وقت نثر کا اصل مدعا برقرار ہے ۔ مثلاً جو فعل یا زمانے نثر میں استعمال ہوئے ہیں انہیں نظم میں اس طرح نہ بدلا جائے کہ مفہوم بدل جائے ۔ دوسرا یہ کہ اپنی طرف سے کوئی ایسی کمی یا زیادتی نہ کی جائے کہ جس سے مدعا مجروح ہو یا اس پر کوئی زد پڑے ۔ وغیرہ وغیرہ۔
خط کی نثر کو سامنے رکھتے ہوئے ایک دو سطور پر (آپ کے حسبِ حکم ) اپنی ناقص رائے پیش کرتا ہوں ۔ رنگ زدہ الفاظ کا اصل نثر سے تقابل کیجئے گا ۔

یہاں مکتوب نگار نے صیغہء استمرار استعمال کیا ہے ۔ یعنی بتایا ہے کہ بارش مسلسل برس رہی ہے ۔ آپ نے اسے ماضی میں منظوم کردیا : ( آج پانی اس طرح برسا ہے گویا پھر نہ برسے گا کبھی بھی)
آج پانی یوں برستا جارہا ہے جیسے برسے گا نہ پھر سے اب کبھی
آگ برہا کی تو ایسے میں بھڑک اٹھتی ہے میرے پیارے دوست



سلسلہ بچوں کی بیماری کا چلتا ہی چلا جائے ہے اختر!
میری ساری زندگی کیا یونہی ناکام سی گزرے گی یہ ؟
خدمتیں میری تمہارے واسطے بھی وقف ہوں گی اب کبھی ؟
یا تمہیں بس دورسے پوجا کروں گی میں یونہی؟
اور تُم بس مجھ کو اپنے پاس آنے کے اشارے
دور سے کرتے رہو گے؟
خلیل بھائی میری ناقص رائے میں "آغوش میں اپنی" کے الفاظ کا اضافہ کرنا دیانتدارانہ ترجمہ نہیں ۔ مکتوب نگار نے تو ایسا نہیں لکھا اور نہ سیاق و سباق میں ایسا کوئی مطلب نظر آتا ہے ۔ دوسری بات یہ کہ مکتوب نگار اور مکتوب الیہ دو مختلف شہروں میں ہیں ۔ سو دور سے آغوش میں بلانے کا اشارہ یہاں بے محل ہے ۔ اگر دونوں ایک ہی مقام پر ہوتے تو پھر بھی کوئی بات تھی ۔ :)

خلیل بھائی ، ایک بار پھر بہت سی داد ۔ آپ یونہی جدتیں بکھیرتے رہیں اور بدعتیں جاری کرتے رہیں ۔ :):):)
جزاک اللہ ظہیر بھائی! آپ کے مشوروں کے بعد نظم میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ امید ہے بہتر لگے گی۔ نظرِ ثانی کی درخواست ہے۔

پیارے اختر!،

کل ہی تُم کو خط لکھا ہے،
دل تمہاری خیریت میں ہی لگا ہے،
نظم پڑھ لی انجمن میں؟،
یہ غزل جو تُم نے لکھی ہےتمہارے دور سے دو سو برس پہلے کے شاعر کا تغزل لگ رہا ہے،
بیٹھے بیٹھے یہ تمہیں کیا سوجھتی ہے؟،
پھر بھی اس کے بعض شعروں کا ( کہوں گی) مجھکو جیسے چبھ گئے ہیں،
ایسا لگتا ہے کہ میرے ہی کہے کو تُم نے شعروں میں پرویا،

آج کل تو گھر بھرا ہے،
یوں نثار اور جاروے سے آیا لڑکا اور شمیم اپنے سبھی باہر کے کمرے کو سجا رکھے ہوئے ہیں،
اور اِدھر منی علیگڑھ جانے پر اصرار کرتی جارہی ہے،
چاہتی ہوں جس طرح ہو بس وہ بے فکری سے پڑھ لے،
دیکھو ( کیا ہو)۔۔۔،

سلسلہ بچوں کی بیماری کا چلتا ہی چلا جائے ہے اب تو!،
کیا مری یہ زندگی ساری یونہی ناکام سی گزرے گی اختر!
خدمتیں میری تمہارے واسطے ہوں گی کبھی یا ،
دور ہی سے میں تمہیں پوجا کروں گی،
دور ہی سے پاس آنے کے اشارے تُم یونہی کرتے رہو گے
آج پانی یوں برستا جارہا ہے جیسے برسے گا نہ پھر سے اب کبھی بھی،
آگ برہا کی تو ایسے میں بھڑک اُٹھتی ہے میرے دوست( پیارے)
 

La Alma

لائبریرین
جزاک اللہ ظہیر بھائی! آپ کے مشوروں کے بعد نظم میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ امید ہے بہتر لگے گی۔ نظرِ ثانی کی درخواست ہے۔

پیارے اختر!،

کل ہی تُم کو خط لکھا ہے،
دل تمہاری خیریت میں ہی لگا ہے،
نظم پڑھ لی انجمن میں؟،
یہ غزل جو تُم نے لکھی ہےتمہارے دور سے دو سو برس پہلے کے شاعر کا تغزل لگ رہا ہے،
بیٹھے بیٹھے یہ تمہیں کیا سوجھتی ہے؟،
پھر بھی اس کے بعض شعروں کا ( کہوں گی) مجھکو جیسے چبھ گئے ہیں،
ایسا لگتا ہے کہ میرے ہی کہے کو تُم نے شعروں میں پرویا،

آج کل تو گھر بھرا ہے،
یوں نثار اور جاروے سے آیا لڑکا اور شمیم اپنے سبھی باہر کے کمرے کو سجا رکھے ہوئے ہیں،
اور اِدھر منی علیگڑھ جانے پر اصرار کرتی جارہی ہے،
چاہتی ہوں جس طرح ہو بس وہ بے فکری سے پڑھ لے،
دیکھو ( کیا ہو)۔۔۔،

سلسلہ بچوں کی بیماری کا چلتا ہی چلا جائے ہے اب تو!،
کیا مری یہ زندگی ساری یونہی ناکام سی گزرے گی اختر!
خدمتیں میری تمہارے واسطے ہوں گی کبھی یا ،
دور ہی سے میں تمہیں پوجا کروں گی،
دور ہی سے پاس آنے کے اشارے تُم یونہی کرتے رہو گے
آج پانی یوں برستا جارہا ہے جیسے برسے گا نہ پھر سے اب کبھی بھی،
آگ برہا کی تو ایسے میں بھڑک اُٹھتی ہے میرے دوست( پیارے)
خوب منظوم ترجمہ کیا ہے۔ آخر میں کسی طرح مکتوب نگار کا نام بھی لےکر آئیں تاکہ مکمل منظوم خط کی صورت بن سکے۔
ایک تجویز “ تیری صفیہ” ذہن میں آئی تھی لیکن شاید شتر گربہ بھی ہے اور خط کے لہجے سے میل بھی نہیں کھاتا۔
 
بہت خوب خلیل بھائی ! اچھا ہے !!
بس اس سطر کو اور دیکھ لیجئے : پھر بھی اس کے بعض شعروں کا ( کہوں گی) مجھکو جیسے چبھ گئے ہیں،
میری رائے میں یہاں شعروں کا (کہوں گی) کے بجائے شعروں پر (کہوں گی) زیادہ بہتر ہوگا ۔
لا المٰی کا مشورہ اچھا ہے ۔ اگر آخر میں کسی طرح نام بھی آجائے تو نظم مکمل ہوجائے گی ۔ وزن کے لحاظ سے تو صفیہ اختر چلے گا (افتخار عارف نے ایک نظم میں اپنے نام کا عین گرایا ہے) لیکن مناسب یوں نہیں ہوگا کہ شوہر کے نام ایسے خطوط کے آخر میں میں صرف پہلا نام ہی لکھا جاتا ہے ۔
پس نوشت: اب میں نے کوشش کی تو معلوم ہوا کہ آخر میں نام منظوم کرنا تقریباً ناممکن ہے ۔ :):):)
 
بہت خوب خلیل بھائی ! اچھا ہے !!
بس اس سطر کو اور دیکھ لیجئے : پھر بھی اس کے بعض شعروں کا ( کہوں گی) مجھکو جیسے چبھ گئے ہیں،
میری رائے میں یہاں شعروں کا (کہوں گی) کے بجائے شعروں پر (کہوں گی) زیادہ بہتر ہوگا ۔
لا المٰی کا مشورہ اچھا ہے ۔ اگر آخر میں کسی طرح نام بھی آجائے تو نظم مکمل ہوجائے گی ۔ وزن کے لحاظ سے تو صفیہ اختر چلے گا (افتخار عارف نے ایک نظم میں اپنے نام کا عین گرایا ہے) لیکن مناسب یوں نہیں ہوگا کہ شوہر کے نام ایسے خطوط کے آخر میں میں صرف پہلا نام ہی لکھا جاتا ہے ۔
پس نوشت: اب میں نے کوشش کی تو معلوم ہوا کہ آخر میں نام منظوم کرنا تقریباً ناممکن ہے ۔ :):):)
اگر یہاں صفیہ کی ہ گرائی جا سکتی ہے تو" صفیہ (اختر) " بھی ہو سکتا ہے۔

جزاک اللہ La Alma بٹیا اور ظہیراحمدظہیر بھائی۔
صفو اختر ہوسکتا ہے ف پر تشدید کے ساتھ۔ لکھاری نے اکثر صفو لکھا ہے اپنے خطوط کے آخر میں۔

ظہیر بھائی آپ کی مصرع میں تبدیلی بھی پسند آئی۔
 

بافقیہ

محفلین
یہ نثری نظمیں شاید انگریزی زبان سے در آئی ہیں۔ غالب کا منظوم ترجمہ بھی واقعی خوب تھا۔ مگر میں اب تک نثری نظم کی بنیادوں اور اس کے مروجہ اصول و قوانین سے واقف نہیں۔ کوئی اس سلسلے میں رہنمائی کرے۔ یا کم از کم لنک ہی پیش کردے۔۔۔
 
یہ نثری نظمیں شاید انگریزی زبان سے در آئی ہیں۔ غالب کا منظوم ترجمہ بھی واقعی خوب تھا۔ مگر میں اب تک نثری نظم کی بنیادوں اور اس کے مروجہ اصول و قوانین سے واقف نہیں۔ کوئی اس سلسلے میں رہنمائی کرے۔ یا کم از کم لنک ہی پیش کردے۔۔۔
بافقیہ بھائی یہ نثری نظم نہیں بلکہ آزاد نظم ہے جس میں قافیہ ردیف بحر کی پابندی نہیں کی جاتی بلکہ کسی ایک رکن یا اراکین کی تکرار ہوتی ہے۔ مثلاً اس نظم میں فاعلاتن کی تکرار ہے۔

اس کے برعکس نثری نظم ہماری رائے میں (جو یکسر غلط بھی ہوسکتی ہے) محض شاعرانہ خیالات کا نثر میں لائن بریکس کے ساتھ اظہار ہے۔
 
جناب عالی ! ویسے،،، آزاد نظم کی تاریخ کہاں سے شروع ہوتی ہے؟َ
حاشا و کلا ہم نے نہیں شروع کی۔بڑی سے بڑی قسم اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

ویسے ہم نہیں سمجھ پائے کہ آپ کا یہ سوال سنجیدہ ہے یا پھر آپ آزاد نظم کے معتبر ہونے پر سوال اٹھاتے ہیں۔

ذیل میں آزاد نظم کی تاریخ پر ایک مضمون کا لنک حاضر ہے۔

http://nyazamana.com/2016/01/noon-meem-rashid/
 

بافقیہ

محفلین
حاشا و کلا ہم نے نہیں شروع کی۔بڑی سے بڑی قسم اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

ویسے ہم نہیں سمجھ پائے کہ آپ کا یہ سوال سنجیدہ ہے یا پھر آپ آزاد نظم کے معتبر ہونے پر سوال اٹھاتے ہیں۔

ذیل میں آزاد نظم کی تاریخ پر ایک مضمون کا لنک حاضر ہے۔

ن۔م۔ راشد:جدید اردو نظم کا سالکِ اعظم – Niazamana
میری کم علمی کہ مجھے ابھی تک آزاد نظمیں کسی اعتبار سے بھی سمجھ میں نہ آسکیں۔ اور موزوں طبیعتیں موزوں کلام ہی کی طرف مائل ہوتی ہیں۔
 

محمد وارث

لائبریرین
میری کم علمی کہ مجھے ابھی تک آزاد نظمیں کسی اعتبار سے بھی سمجھ میں نہ آسکیں۔ اور موزوں طبیعتیں موزوں کلام ہی کی طرف مائل ہوتی ہیں۔
آپ شاید آزاد نظم اور نثری نظم کو خلط کر رہے ہیں:

آزاد نظم، باقاعدہ موزوں ہوتی ہے فقط قافیہ ردیف سے یا مصرعوں کے تناسب سے آزاد ہوتی ہے لیکن بہرحال کسی نہ کسی وزن میں ہوتی ہے اور باقاعدہ شاعری کی صنف ہے، پچھلی صدی کے آخری نصف کے ہر اچھے شاعر نے آزاد نظم کہہ رکھی ہے۔ مثال کے طور پر ن م راشد کی شہرہ آفاق آزاد نظم کے کچھ مصرعے دیکھیے:

زندگی سے ڈرتے ہو؟
زندگی تو تم بھی ہو، زندگی تو ہم بھی ہیں
آدمی سے ڈرتے ہو؟
آدمی تو تم بھی ہو، آدمی تو ہم بھی ہیں
آدمی زباں بھی ہے، آدمی بیاں بھی ہے
اس سے تم نہیں ڈرتے!

یہ ساری نظم 'فاعلن مفاعیلن' وزن میں ہے اور یہ معروف وزن ہے۔

اسی طرح خلیل صاحب کی یہ نظم 'فاعلاتن' وزن کی تکرار میں ہے۔ اور آزاد نظم ہے۔

نثری نظم: یہ مارد پدر آزاد ہوتی ہے، نہ وزن، نہ قافیہ، نہ ردیف، نہ بحر۔ اس کو بہت سے شاعر اور نقاد سرے سے شاعری ہی نہیں مانتے۔
 

بافقیہ

محفلین
آپ شاید آزاد نظم اور نثری نظم کو خلط کر رہے ہیں:

آزاد نظم، باقاعدہ موزوں ہوتی ہے فقط قافیہ ردیف سے یا مصرعوں کے تناسب سے آزاد ہوتی ہے لیکن بہرحال کسی نہ کسی وزن میں ہوتی ہے اور باقاعدہ شاعری کی صنف ہے، پچھلی صدی کے آخری نصف کے ہر اچھے شاعر نے آزاد نظم کہہ رکھی ہے۔ مثال کے طور پر ن م راشد کی شہرہ آفاق آزاد نظم کے کچھ مصرعے دیکھیے:

زندگی سے ڈرتے ہو؟
زندگی تو تم بھی ہو، زندگی تو ہم بھی ہیں
آدمی سے ڈرتے ہو؟
آدمی تو تم بھی ہو، آدمی تو ہم بھی ہیں
آدمی زباں بھی ہے، آدمی بیاں بھی ہے
اس سے تم نہیں ڈرتے!

یہ ساری نظم 'فاعلن مفاعیلن' وزن میں ہے اور یہ معروف وزن ہے۔

اسی طرح خلیل صاحب کی یہ نظم 'فاعلاتن' وزن کی تکرار میں ہے۔ اور آزاد نظم ہے۔

نثری نظم: یہ مارد پدر آزاد ہوتی ہے، نہ وزن، نہ قافیہ، نہ ردیف، نہ بحر۔ اس کو بہت سے شاعر اور نقاد سرے سے شاعری ہی نہیں مانتے۔
کیا اس میں بحر بدل بھی جاتی ہیں؟ جیسے کچھ مصرعوں میں ایک بحر اور کچھ مصرعوں میں کوئی اور؟
 

محمد وارث

لائبریرین
کیا اس میں بحر بدل بھی جاتی ہیں؟ جیسے کچھ مصرعوں میں ایک بحر اور کچھ مصرعوں میں کوئی اور؟
آزاد نظم کے اوزان میں کافی تنوع ہے اور شاعر عام طور پر غزل یا پابند نظم کی معروف بحروں کا تتبع نہیں کرتے بلکہ صرف اسے کسی خاص وزن میں رکھتے ہیں لیکن پھر اس سے باہر نہیں جاتے۔ مثال کے طور پر یہی خلیل صاحب کی نظم، ساری نظم فاعلاتن کی تکرار میں ہے۔ غزل یا پابند نظم میں ایسی کوئی بحر نہیں ہے۔
 
Top