زیرِ لب: صفیہ اختر کے خطوط منظوم ترجمہ :: محمد خلیل الرحمٰن

محمد خلیل الرحمٰن نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 5, 2019

  1. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,611
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    اسرار الحق مجاز کی بہن اور جاں نثار اختر کی شریکِ حیات کے خطوط اختر کے نام اب اردو ادب کا حصہ ہیں۔ ان کے دو مجموعے شائع ہوئے۔ حرفِ آشنا اور زیرِ لب۔ آج زیرِ لب درمیان سے کھولی اور ایک خط پڑھنا شروع کیا تو اسے نظم میں ڈھال دیا۔ اساتذہ اور محفلین سے درخواست ہے کہ نہ صرف اس کی اصلاح کریں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ہمارے حق میں دعا بھی فرمائیں کہ یہ ایک ترجمہ ایک نئے پراجیکٹ کا آغاز ثابت ہو۔ آمین

    زیرِ لب
    صفیہ اختر کا ایک خط جاں نثار اختر کے نام
    منظوم : محمد خلیل الرحمٰن

    پیارے اختر!،
    کل ہی تُم کو خط لکھا ہے،
    دل تمہاری خیریت میں ہی لگا ہے،
    نظم پڑھ لی انجمن میں؟،
    یہ غزل جو تُم نے لکھی ہےتمہارے دور سے دو سو برس پہلے کے شاعر کا تغزل لگ رہا ہے،
    بیٹھے بیٹھے یہ تمہیں کیا سوجھتی ہے؟،
    پھر بھی اس کے بعض شعروں کا ( کہوں گی) مجھکو جیسے چبھ گئے ہیں،
    ایسا لگتا ہے کہ میرے ہی کہے کو تُم نے شعروں میں پرویا،

    آج کل تو گھر بھرا ہے،
    یوں نثار اور جاروے سے آیا لڑکا اور شمیم اپنے سبھی باہر کے کمرے کو سجا رکھے ہوئے ہیں،
    اور اِدھر منی علیگڑھ جانے پر اصرار کرتی جارہی ہے،
    چاہتی ہوں جس طرح ہو بس وہ بے فکری سے پڑھ لے،
    دیکھو ( کیا ہو)۔۔۔،

    سلسلہ بچوں کی بیماری کا چلتا ہی چلا جائے ہے اختر!،
    میری ساری زندگی کیا یوں ہی ناکامی میں گزرے گی ہمیشہ؟،
    خدمتیں میری تمہارے واسطے ہوں گی کبھی یا ،
    دور ہی سے میں تمہیں پوجا کروں گی؟،
    دور ہی سے تُم مجھے (آغوش میں اپنی) بُلانے کے اشارے ہی کرو گے؟،
    آج پانی اس طرح برسا ہے گویا پھر نہ برسے گا کبھی بھی،
    آگ برہا کی تو ایسے ہی بھڑک اُٹھتی ہے میرے دوست( پیارے)

     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 5, 2019
    • زبردست زبردست × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,611
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    فاعلاتن کی تکرار کے ساتھ۔
     
  3. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,412
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بہت اعلیٰ !! کیا بات ہے خلیل بھائی ! بہت خوب!!!!!
    یہ سلسلہ اچھا ایجاد کیا ہے آپ نے ۔ مجھے یاد ہے کہ اس سے پہلے غالب کےایک خط کو بھی منظوم کیا تھا آپ نے اور یہ شاید اس سلسلے کی دوسری نظم ہے ۔ صرف اتنا کہوں گا کہ منظوم کرنے کے لئے خط یا نثرپارے کے انتخاب میں بہت ہی ژرف نگاہی سے کام لیجئے ۔ نثر پارہ کوئی ایسا منتخب کیجئے کہ جس میں شاعرانہ سا پیرایہ ہو یا کوئی انوکھی دلچسپ سی بات ہو ۔ اس طرح سے نظم میں خودبخود جان پڑجائے گی ۔اس طرح کی نظم پر اصلاح دینا تو شاید ممکن ہی نہیں کہ نثر کو ایک سے زیادہ طریقوں پر منظوم کیا جاسکتا ہے ۔ اگرچہ خطوط کا منظوم ترجمہ اردو ادب میں ایک نئی ایجادہے اور اس کے پرکھنے کے لئے کوئی اصول یا معیار بنانا مشکل ہے ۔ لیکن نثر کو منظوم کرنے کے نظائر قرآن اور حدیث کی منظومات کی شکل میں پہلے سے موجود ہیں اور وہاں سے پرکھنے کے اصول لئے جاسکتے ہیں ۔ پہلا اصول یا معیار تو یہی ہے کہ منظوم کرتے وقت نثر کا اصل مدعا برقرار ہے ۔ مثلاً جو فعل یا زمانے نثر میں استعمال ہوئے ہیں انہیں نظم میں اس طرح نہ بدلا جائے کہ مفہوم بدل جائے ۔ دوسرا یہ کہ اپنی طرف سے کوئی ایسی کمی یا زیادتی نہ کی جائے کہ جس سے مدعا مجروح ہو یا اس پر کوئی زد پڑے ۔ وغیرہ وغیرہ۔
    خط کی نثر کو سامنے رکھتے ہوئے ایک دو سطور پر (آپ کے حسبِ حکم ) اپنی ناقص رائے پیش کرتا ہوں ۔ رنگ زدہ الفاظ کا اصل نثر سے تقابل کیجئے گا ۔
    یہاں مکتوب نگار نے صیغہء استمرار استعمال کیا ہے ۔ یعنی بتایا ہے کہ بارش مسلسل برس رہی ہے ۔ آپ نے اسے ماضی میں منظوم کردیا : ( آج پانی اس طرح برسا ہے گویا پھر نہ برسے گا کبھی بھی)
    آج پانی یوں برستا جارہا ہے جیسے برسے گا نہ پھر سے اب کبھی
    آگ برہا کی تو ایسے میں بھڑک اٹھتی ہے میرے پیارے دوست

    سلسلہ بچوں کی بیماری کا چلتا ہی چلا جائے ہے اختر!
    میری ساری زندگی کیا یونہی ناکام سی گزرے گی یہ ؟
    خدمتیں میری تمہارے واسطے بھی وقف ہوں گی اب کبھی ؟
    یا تمہیں بس دورسے پوجا کروں گی میں یونہی؟
    اور تُم بس مجھ کو اپنے پاس آنے کے اشارے
    دور سے کرتے رہو گے؟
    خلیل بھائی میری ناقص رائے میں "آغوش میں اپنی" کے الفاظ کا اضافہ کرنا دیانتدارانہ ترجمہ نہیں ۔ مکتوب نگار نے تو ایسا نہیں لکھا اور نہ سیاق و سباق میں ایسا کوئی مطلب نظر آتا ہے ۔ دوسری بات یہ کہ مکتوب نگار اور مکتوب الیہ دو مختلف شہروں میں ہیں ۔ سو دور سے آغوش میں بلانے کا اشارہ یہاں بے محل ہے ۔ اگر دونوں ایک ہی مقام پر ہوتے تو پھر بھی کوئی بات تھی ۔ :)

    خلیل بھائی ، ایک بار پھر بہت سی داد ۔ آپ یونہی جدتیں بکھیرتے رہیں اور بدعتیں جاری کرتے رہیں ۔ :):):)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر