زمیں کا راستہ دریاؤں کے سفر سے ملا۔غزل رؤف خلش (حیدرآباد دکن)

عندلیب

محفلین
غزل
رؤف خلش: حیدرآباد دکن

زمیں کا راستہ دریاؤں کے سفر سے ملا
نئے جہاں کا کولمبس نئی ڈگر سے ملا

یہاں بدن ہی بدن ہیں مگر ہیں سر غائب
تجھے ملانا ہی ٹہرا تو میرے سر سے ملا

رکھی تھی ہاتھوں میں مٹی کو گوندھنے کی صفت
جو فن تھا کوزہ گری کا وہ کوزہ گر سے ملا

مکیں مکان کے کیسے تھے اس کا علم نہیں
مگر مزاج کا اندازہ بام و در سے ملا

وہ راہداری، وہ دالان، وہ درو دیوار
نشاں اجڑتی حویلی کا اس کھنڈر سے ملا

وہ شہر بھول بھلیوں کا شہر تھا جس میں
نہ جانے کس کا پتہ کس کی رہگزر سے ملا

تری نظر کی چبھن نے دئیے کچوکے مگر
کچھ اور بھی تیری چبھتی ہوئی نظر سے ملا

پنہ ملی بھی تو مجھ کو کہاں سمندر میں
دھکیلتا رہا ساحل تو میں بھنور سے ملا

چراغ بجھنے لگا دل کا، رت جگا ٹوٹا
"تمام شب کا ستایا ہوا سحر سے ملا"

ہوا کے شور میں سب بھاگے جا رہے تھے خلش
جو تھا ہوا کے مقابل، میں اس شجر سے ملا
 
Top