جاسمن

مدیر
جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں بھوک اگنے لگی
مرے کسانوں نے شہروں میں نوکری کر لی

عارف شفیق
 

ام اویس

محفلین
یہ تنگ و تار جھونپڑیاں گھاس پھوس کی

اب تک جنھیں ہوا نہ تمدن کی چھو سکی

ان جھونپڑوں سے دور اور اس پار کھیت کے

یہ جھاڑیوں کے جھنڈ یہ انبار ریت کے

یہ سادگی کے رنگ میں ڈوبا ہوا جہاں

ہنگامۂ جہاں ہے سکوں آشنا جہاں

یہ دوپہر کو کیکروں کی چھاؤں کے تلے

گرمی سے ہانپتی ہوئی بھینسوں کے سلسلے

ریوڑ یہ بھیڑ بکریوں کے اونگھتے ہوئے

جھک کر ہر ایک چیز کی بو سونگھتے ہوئے

یہ آندھیوں کے خوف سے سہمی ہوئی فضا

جنگل کی جھاڑیوں سے سنکتی ہوئی ہوا

یہ شام کے مناظرِ رنگیں کی خامشی

اور اس میں گونجتی ہوئی جھینگر کی راگنی

بچے غبارِ راہگزر پھانکتے ہوئے

میدان میں مویشیوں کو ہانکتے ہوئے

برفاب کے دفینے اگلتا ہوا کنواں

یہ گھنگھروؤں کی تال پہ چلتا ہوا کنواں

یہ کھیت، یہ درخت، یہ شاداب گرد و پیش

سیلابِ رنگ و بو سے یہ سیراب گرد و پیش

مستِ شباب کھیتیوں کی گلفشانیاں

دوشیزۂ بہار کی اٹھتی جوانیاں

یہ نزہتِ مظاہرِ قدرت کی جلوہ گہ

ہاں ہاں یہ حسنِ شاہدِ فطرت کی جلوہ گہ

دنیا میں جس کو کہتے ہیں گاؤں یہی تو ہے

طوبیٰ کی شاخِ سبز کی چھاؤں یہی تو ہے

مجید امجد
 

شمشاد

لائبریرین
لاکھ خشکی کھیت میں کھلیان میں موجود ہے
آس بارش کی دل دہقان میں موجود ہے
شاداب انجم
 

شمشاد

لائبریرین
میرے دل میں اگتی پیار کی فصل کو
جب لوگوں کی نفرت کے فضلے کی کھاد ملی
تو سٹے چمک کر سونا ہو گئے
پھر وہی فصل کاٹنے کا وقت آیا تو میرے خلوص کی درانتی کند ہو گئی
اور دل شکم کے آنسوؤں سے بھر آیا

درانتی خوب چلائی گئی لیکن فصل نہ کٹی
میرے ہاتھوں پر کیچڑ لگا ہوا تھا
سٹے نیلے ہو چکے تھے

محبت نے خلوص کے ساتھ نیت کو اٹھا کر نفرت کے فضلے پہ پٹخ ڈالا
اور درد نے محبت کے اپلے ناف پر تھاپنا شروع کر دیے
(تبسم ضیا)
 

شمشاد

لائبریرین
گلاب سوکھ گئے ہیں ہوئے ہیں خار ہرے
ہوس نے پیار میں ڈالی ہے کھاد نفرت کی
محمد مبشر میو
 

شمشاد

لائبریرین
اک فصل گل کو لے کے تہی دست کیا کریں
آئی ہے فصل گل تو گریباں بھی چاہئے
حبیب احمد صدیقی
 

جاسمن

مدیر
بھوک سے رشتہ ٹوٹ گیا تو ہم بے حس ہو جائیں گے
اب کے جب بھی قحط پڑے تو فصلیں پیدا مت کرنا

شہریار
 
Top