مصطفیٰ زیدی زخمِ سفر از مصطفیٰ زیدی

شاہ حسین

محفلین
زخمِ سفر

ہزار راہِ مُغیلاں ہے کارواں کے لِی۔ے
لہو کا رنگ ہے تزئین ِ داستاں کے لِی۔ے
قدم قدم پہ بڑی سختیاں ہیں جاں کے لِی۔ے
کئی فریب کے عشِوے ہیں امتحاں کے لِی۔ے

زمانہ یوں تو ہر اِک پر نظر نہیں کرتا
قلم کی بے ادبی درگزر نہیں کرتا



قلم میں لرزش ِ مژگاں ، قلم میں رِشتئہ جاں
قَلم میں زمزمہ و رم ، قلم میں شور و فغاں
قلم میں جشنِ عروسی ، قلم میں بیوگیاں
قلم میں کوہ و بیاباں ، قلم میں کاہکشاں

قلم میں حِلم بھی ہے ناز اور وقار بھی ہے
اذانِ صُبح بھی ہے ، شامِ بادہ خوار بھی ہے


اِسی کے دم سے گھٹاؤں کے سُرمئی آنچل
اِسی سے ہونٹ بہاراں ، اِسی سے آنکھ کنول
یہی کُلاہ کا ہیرا ، یہی کسان کا ہَل
یہی ہے صُبح ِ گُلِستاں ، یہی شبِ مقتل

بغیر اِس کے رہِ سروری نہیں مِلتی
کسی کو دولتِ پیغمبری نہیں مِلتی



چمن ہزار ہیں ، لیکن گُلاب اِس کا ہے
خُدا کا عرش ہے لیکن سَحاب اس کا ہے
کبھی جو ڈھل نہ سکے وہ شباب اِس کا ہے
ہر ایک عہد کی آنکھوں میں خواب اِس کا ہے

دیارِ عشق میں مجروح و بے وطن یہ ہے
حریمِ حسن میں خوشبوئے پیرہن یہ ہے



دِنوں میں ہَمہمئہ کارساز اِس کا ہے
شبوں میں زمزمئہ دِل نواز اِس کا ہے
بطُون میں ابَدیّت کے راز اِس کا ہے
سرِشک وقت کے ہیں اور گُداز اِس کا ہے

مثال ِ حضرتِ آدم گُناہ گار بھی ہے
حریمِ عصمتِ مریم کا پَردہ دار بھی ہے



ہر اِک سے بےخبری بھی ، ہراک کا محرم بھی
شرر بسینہ بھی ہے اور لب بشبنم بھی
محِلّ زخم بھی ہے اور مَقامِ مرہم بھی
ہلالِ عید بھی ہے عَشرۃ مُحرّم بھی

بغاوتوں کے درخشاں عَلَم اُٹھائے ہُوئے
جگر کے طاق میں شمع ِ مُبیں جلائے ہُوئے



قلم کی راہ میں جو آئے دِل کو مار کے آئے
شبِ دراز ِ غمِ بے کراں گُزار کے آئے
گلے سے طوق ِ زماں و مکاں اُتار کے آئے
بڑے بڑوں کو ببانگِ دُہل پُکار کے آئے

بہت جہاد طلب ہے رہِ وفا اِس کی
کہ انتہائے جنوں سے ہے ابتدا اِس کی



اِدھر بلاؤں پہ جو مُسکرا سکے وُہ آئے
جو تاج و تخت پہ ٹھوکر لگا سکے وُہ آئے
جو آسمان کو نِیچا دِکھا سکے وُہ آئے
جو اپنے آپ سے آنکھیں لڑا سکے وہ آئے

ردائے زر کا نہیں جو کفن کا شیدا ہو
اِدھر وُہ آئے جو دار و رسن کا شیدا ہو



جسے خبر ہو کہ کس نے نقاب اُٹھائی ہے
یہ عہدِ گُرز ہے یا عصر ِ مومیائی ہے
یہ عادِلی ہے کہ نمرود کی خدائی ہے
یہ خونِ دل ہے قلم میں کہ روشنائی ہے

جو نقش و رنگ سے آدابِ سادگی پُوچھے
جو خُسرَوی سے مزاج ِ جفا کشی پُوچھے



جو خِشتِ حرف سے دیوار و در بناتا ہو
نفس کے لوچ سے تیغ و تبر بناتا ہو
جو آندھیوں میں ستاروں کے گھر بناتا ہو
جو خود طِلسِمِ قضا و قدر بناتا ہو

جو ایک سانس میں طے راہِ کائنات کرے
خُدا سے بھی نہ سرِ حَشر، دب کے بات کرے



کہاں مقامِ سخن کہاں سیاستِ شب
کہاں یہ اشک کہاں تاجران ِ جشن ِ طَرب
کہاں رَجز کی بلندی کہاں سِلے ہُوئے لَب
کہاں زماں و مکاں اور کہاں عِراق و عرب

حُدودِ شام و سحر سے نکل گئے کچھ لوگ
ذرا سی دھوپ میں آکر پگھل گئے کچھ لوگ



کسی نے دولتِ فانی کو دیوتا جانا
اَدب کو رزق کمانے کا مشغلا جانا
جگر کے خون کو رنگینئی حنا جانا
بُتان ِ ہیکل ِ اوہام کو خُدا جانا

غمِ حیات کو بے مُدّعا بنا ڈالا
ہُنر کو ، کاسئہ دستِ گدا بنا ڈالا



اب ان میں ذہن کی بازی گری کے قصّے ہیں
عبائے اطلس و تاج ِ زری کے قصّے ہیں
رئیس ِ وقت کی پیغمبری کے قصّے ہیں
طِلسمِ ہوشرُبا کی پری کے قصّے ہیں

دُھواں دُھواں ہے فَضا سِحرِ سامری کی طرح
ضعیف آنکھوں کی دُھندلی سی روشنی کی طرح



خُمِ شکستئہ تاج و نگیں کے چرچے ہیں
ادائے لیلئی جنّت نشیں کے چرچے ہیں
مُجاہداتِ فریب آفریں کے چرچے ہیں
مُکاشفاتِ بُزرگان ِ دیں کے چرچے ہیں

کوئی رکوع میں ہے خانقاہ کے آگے
کوئی سجود میں ہے کج کُلاہ کے آگے



سُنو قلم کے مُہِمّات جاننے والو
دل ِ حیات کے ضربات جاننے والو
مِزاج ِ ارض و سماوات جاننے والو
ادب کے جُملہ مقامات جاننے والو

تمھیں نہ صرف شبستاں میں جاکے لکھنا ہے
ہر ایک عہد کے زنداں میں جاکے لکھنا ہے



پلک ہی ایک حقیقت نہیں کمان بھی ہے
زمیں بھی ہے ، فضا بھی ہے ، آسمان بھی ہے
جو کاٹ دی ہے حکومت نے وہ زبان بھی ہے
حکومتوں پہ جو گزری وہ داستان بھی ہے

عتاب و لُطف و سزا و جزا کا قصّہ ہے
رقم کرو کہ یہ قصّہ وفا کا قصّہ ہے



لِکھو کہ تابع ِ شاہی نہیں مزاج ِ عوام
شکست کھا کے رہے گی چراغ سے ہر شام
ہر ایک عہد میں ہوں گے ہزار گُل اندام
ہر ایک عہد میں آئے گا عِشق پر الزام

جہاں بھی مطلع حق پر سحاب اُٹھے گا
کسی قلم سے کوئی آفتاب اُٹھے گا





[size=4"]مصطفیٰ زیدی
(قبائے ساز )[/size]
 

فرخ منظور

لائبریرین
بہت شکریہ شاہ صاحب! بہت خوبصورت نظم ہے۔ امید ہے مصطفیٰ زیدی کے کلام سے یونہی نوازتے رہیں گے۔ :)
 

مغزل

محفلین
دُھواں دُھواں ہے فَضا سِحرِ سامری کی طرح
ضعیف آنکھوں کی دُھندلی سی روشنی کی طرح

سبحان اللہ سبحان اللہ ، واہ واہ شاہ جی واہ۔۔ بہت خوب کلا م پیش کیاہے ،۔ خؤش رہیں صاحب
 

فرخ منظور

لائبریرین
زخمِ سفر

ہزار راہِ مُغیلاں ہے کارواں کے لِیے
لہو کا رنگ ہے تزئینِ داستاں کے لِیے
قدم قدم پہ بڑی سختیاں ہیں جاں کے لِیے
کئی فریب کے عشِوے ہیں امتحاں کے لِیے
زمانہ یوں تو ہر اِک پر نظر نہیں کرتا
قلم کی بے ادبی درگزر نہیں کرتا

قلم میں لرزشِ مژگاں ، قلم میں رِشتۂ جاں
قَلم میں زمزمہ و رم ، قلم میں شور و فغاں
قلم میں جشنِ عروسی ، قلم میں بیوگیاں
قلم میں کوہ و بیاباں ، قلم میں کاہکشاں
قلم میں حِلم بھی ہے ناز اور وقار بھی ہے
اذانِ صُبح بھی ہے ، شامِ بادہ خوار بھی ہے

اِسی کے دم سے گھٹاؤں کے سُرمئی آنچل
اِسی سے ہونٹ بہاراں ، اِسی سے آنکھ کنول
یہی کُلاہ کا ہیرا ، یہی کسان کا ہَل
یہی ہے صُبح ِ گُلِستاں ، یہی شبِ مقتل
بغیر اِس کے رہِ سروری نہیں مِلتی
کسی کو دولتِ پیغمبری نہیں مِلتی

چمن ہزار ہیں ، لیکن گُلاب اِس کا ہے
خدا کا عرش ہے لیکن سَحاب اس کا ہے
کبھی جو ڈھل نہ سکے وہ شباب اِس کا ہے
ہر ایک عہد کی آنکھوں میں خواب اِس کا ہے
دیارِ عشق میں مجروح و بے وطن یہ ہے
حریمِ حسن میں خوشبوئے پیرہن یہ ہے

دِنوں میں ہَمہمۂ کارساز اِس کا ہے
شبوں میں زمزمۂ دِل نواز اِس کا ہے
بطُون میں ابَدیّت کا راز اِس کا ہے
سرِشک وقت کے ہیں اور گُداز اِس کا ہے
مثالِ حضرتِ آدم گُناہ گار بھی ہے
حریمِ عصمتِ مریم کا پَردہ دار بھی ہے

ہر اِک سے بےخبری بھی ، ہراک کا محرم بھی
شرر بسینہ بھی ہے اور لب بشبنم بھی
محلِ زخم بھی ہے اور مَقامِ مرہم بھی
ہلالِ عید بھی ہے عَشرۂ مُحرّم بھی
بغاوتوں کے درخشاں عَلَم اُٹھائے ہُوئے
جگر کے طاق میں شمعِ مُبیں جلائے ہُوئے

قلم کی راہ میں جو آئے دِل کو مار کے آئے
شبِ دراز، غمِ بے کراں گُزار کے آئے
گلے سے طوقِ زمان و مکاں اُتار کے آئے
بڑے بڑوں کو ببانگِ دُہل پُکار کے آئے
بہت جہاد طلب ہے رہِ وفا اِس کی
کہ انتہائے جنوں سے ہے ابتدا اِس کی

اِدھر بلاؤں پہ جو مُسکرا سکے وُہ آئے
جو تاج و تخت پہ ٹھوکر لگا سکے وُہ آئے
جو آسمان کو نِیچا دِکھا سکے وُہ آئے
جو اپنے آپ سے آنکھیں لڑا سکے وہ آئے
ردائے زر کا نہیں جو کفن کا شیدا ہو
اِدھر وُہ آئے جو دار و رسن کا شیدا ہو

جسے خبر ہو کہ کس نے نقاب اُٹھائی ہے
یہ عہدِ گُرز ہے یا عصرِ مومیائی ہے
یہ عادِلی ہے کہ نمرود کی خدائی ہے
یہ خونِ دل ہے قلم میں کہ روشنائی ہے
جو نقش و رنگ سے آدابِ سادگی پُوچھے
جو خُسرَوی سے مزاجِ جفا کشی پُوچھے

جو خِشتِ حرف سے دیوار و در بناتا ہو
نفس کے لوچ سے تیغ و تبر بناتا ہو
جو آندھیوں میں ستاروں کے گھر بناتا ہو
جو خود طِلسِمِ قضا و قدر بناتا ہو
جو ایک سانس میں طے راہِ کائنات کرے
خُدا سے بھی نہ سرِ حَشر، دب کے بات کرے

کہاں مقامِ سخن اور کہاں سیاستِ شب
کہاں یہ اشک کہاں تاجرانِ جشنِ طَرب
کہاں رَجز کی بلندی کہاں سِلے ہُوئے لَب
کہاں زمان و مکاں اور کہاں عِراق و عرب
حُدودِ شام و سحر سے نکل گئے کچھ لوگ
ذرا سی دھوپ میں آکر پگھل گئے کچھ لوگ

کسی نے دولتِ فانی کو دیوتا جانا
اَدب کو رزق کمانے کا مشغلا جانا
جگر کے خون کو رنگینئی حنا جانا
بُتانِ ہیکلِ اوہام کو خُدا جانا
غمِ حیات کو بے مُدّعا بنا ڈالا
ہُنر کو ، کاسئہ دستِ گدا بنا ڈالا

اب ان میں ذہن کی بازی گری کے قصّے ہیں
عبائے اطلس و تاجِ زری کے قصّے ہیں
رئیسِ وقت کی پیغمبری کے قصّے ہیں
طِلسمِ ہوشرُبا کی پری کے قصّے ہیں
دُھواں دُھواں ہے فَضا سِحرِ سامری کی طرح
ضعیف آنکھوں کی دُھندلی سی روشنی کی طرح

خُمِ شکستۂ تاج و نگیں کے چرچے ہیں
ادائے لیلیِٰ جنّت نشیں کے چرچے ہیں
مُجاہداتِ فریب آفریں کے چرچے ہیں
مُکاشفاتِ بُزرگانِ دیں کے چرچے ہیں
کوئی رکوع میں ہے خانقاہ کے آگے
کوئی سجود میں ہے کج کُلاہ کے آگے

سُنو قلم کے مُہِمّات جاننے والو
دلِ حیات کے ضربات جاننے والو
مِزاجِ ارض و سماوات جاننے والو
ادب کے جُملہ مقامات جاننے والو
تمھیں نہ صرف شبستاں میں جا کے لکھنا ہے
ہر ایک عہد کے زنداں میں جا کے لکھنا ہے

پلک ہی ایک حقیقت نہیں کمان بھی ہے
زمیں بھی ہے ، فضا بھی ہے ، آسمان بھی ہے
جو کاٹ دی ہے حکومت نے وہ زبان بھی ہے
حکومتوں پہ جو گزری وہ داستان بھی ہے
عتاب و لُطف و سزا و جزا کا قصّہ ہے
رقم کرو کہ یہ قصّہ وفا کا قصّہ ہے

لکھو کہ تابعِ شاہی نہیں مزاجِ عوام
شکست کھا کے رہے گی چراغ سے ہر شام
ہر ایک عہد میں ہوں گے ہزار گُل اندام
ہر ایک عہد میں آئے گا عِشق پر الزام
جہاں بھی مطلعِ حق پر سحاب اُٹھے گا
کسی قلم سے کوئی آفتاب اُٹھے گا

(مصطفیٰ زیدی، قبائے ساز)
 
Top