1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

ریشم سا بدن اس کا کمخواب سی ہیں آنکھیں

طالش طور نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 3, 2021

  1. طالش طور

    طالش طور محفلین

    مراسلے:
    94
    سر الف عین
    اور دیگر احباب سے اصلاح کی درخواست ہے

    اک شخص کے چہرے پر نایاب سی ہیں آنکھیں
    ہے حسن سمندر سا گرداب سی ہیں آنکھیں

    کچھ روز ہوئے اس کو میں دیکھ نہیں پایا
    دل ہے مرا افسردہ بے تاب سی ہیں آنکھیں

    معصوم سی ہیں باتیں اس شخص کی سب باتیں
    ہیں ہونٹ بھی پاکیزہ محراب سی ہیں آنکھیں

    چہرے پہ سکوں اس کے ہے چاند کی کرنوں سا
    بپھری ہوئی لہروں کے سیلاب سی ہیں آنکھیں

    مسکاں ترے ہونٹوں کی کلیوں کی چٹک جیسی
    چنچل سی جوانی ہے شاداب سی ہیں آنکھیں

    مسحور سا ہوں طالش جب سے ہے اسے دیکھا
    ریشم سا بدن اس کا کمخواب سی ہیں آنکھیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. طالش طور

    طالش طور محفلین

    مراسلے:
    94
    سر الف عین
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,452
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اس کی بحر میں گڑبڑ لگ رہی ہے
    کہیں مفعول مفاعیلن کے ارکان ہیں، کہیں مفعول فاعلاتن کے
     
  4. طالش طور

    طالش طور محفلین

    مراسلے:
    94
    سر کیسے میری سمجھ میں بات آ نہیں رہی کیونکہ غزل مکمل مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن پر ہے سر مہربانی فرما کر نشاندہی کریں کسی ایسے سکتے کی جس کا وزن آپ کے خیال سے قابلِ اعتراض ہے
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,452
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ردیف میں مناسب تبدیلی کر ہی دیں تو بہتر ہے۔ 'سی ہیں' کو 'سی ہ' ( جو زیادہ رواں ہے اور جس طرح میں پڑھ گیا تھا) یعنی فاعلاتن کا فاع بھی پڑھا جا سکتا ہے اور 'سِہے' مفاعیلن کا مفا بھی۔ میرے خیال میں 'سی آنکھیں ہیں' بہتر رواں ردیف ہو گی۔ حالانکہ اس میں بھی اسے صرف س کے طور پر باندھا گیا ہے۔ اگرچہ 'سی' کو مثال کے لئے مکمل فع باندھنا ہی بہتر ہے۔
    مسکان ہندی لفظ ہے، اسے فارسی کی طرح مسکاں نہیں بنایا جا سکتا
     
  6. طالش طور

    طالش طور محفلین

    مراسلے:
    94
    اک شخص کے چہرے پر نایاب سی آنکھیں ہیں
    ہے حسن سمندر سا گرداب سی آنکھیں ہیں

    کچھ روز ہوئے اس کو میں دیکھ نہیں پایا
    دل ہے مرا افسردہ بے تاب سی آنکھیں ہیں

    معصوم سی ہیں باتیں اس شخص کی سب باتیں
    ہیں ہونٹ بھی پاکیزہ محراب سی آنکھیں ہیں

    چہرے پہ سکوں اس کے ہے چاند کی کرنوں سا
    بپھری ہوئی لہروں کے سیلاب سی آنکھیں ہیں

    مسکان ترے لب کی کلیوں کی چٹک جیسی
    چنچل سی جوانی ہے شاداب سی آنکھیں ہیں

    مسحور سا ہوں طالش جب سے ہے اسے دیکھا
    ریشم سا بدن اس کا کمخواب سی آنکھیں ہیں
     
  7. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    2,703
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    آنکھوں کو کمخواب سے تشبیہ دینا کچھ عجیب سا لگتا ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,452
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    درست ہے غزل اب
     
  9. طالش طور

    طالش طور محفلین

    مراسلے:
    94
    جی بہت شکریہ جناب
     

اس صفحے کی تشہیر