اردو کے بہت بڑے افسانہ نگاروں میں انتظار حسین کا نام یقیناً شامل ہوتا ہے۔ ان کا اپنا ایک خاص اندازِ تحریر ہے جو ہمیں بے حد پسند ہے۔ گزشتہ دنوں محمد خالد اختر کی کتاب ’’ مکاتیبِ خضر ‘‘ خریدی اور اس میں انتظار حسین کے نام حضرتِ خضر کا خط پڑھ کر طبیعت باغ باغ ہوگئی۔ انتظار حسین کی تحریر کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے۔ خالد نے انہیں ’’ رِپ وین ونکل ‘‘ سے تشبیہہ دی ہے کہ ’’ اس بستار صدی کے شہر لاہور میں حضرت جانِ عالم واجد علی شاہ کے لکھنئو میں جیتے ہو‘‘۔عین مین ان کی تحریرکا نقشہ کھینچ دیا ہے۔ خوب ۔ حال ہی میں انتظار حسین کا مشہور افسانہ ’’ شہرزاد کی موت‘‘ پڑھا۔ کیا خوبصورت افسانہ ہے۔ جب تک شہرزاد موت کے ڈر سے کہانیاں سوچتی رہی، اس کے اندر کی تخلیق کار زندہ رہی۔ جوں ہی موت کا خوف ختم ہوا، کہانیاں تخلیق کرنا ختم۔ شہرزاد گویا مرگئی۔ ہمیں ان کا یہ نکتہ بہت خوب صورت لگا۔ کب تک انسان سوچنے کے قابل ہے ، تخلیق کرنے کے قابل ہے۔ جب سوچنا چھوڑدیا گویا موت سے پہلے ہی مرگئے۔


سرِ دست انتظار حسین کی کتاب’’ علامتوں کا زوال‘‘ سے ایک مضمون ’’ رسم الخط اور پھول‘‘ پر بات کرنے کو جی چاہتا ہے۔ لکھتے ہیں۔

’’بات ہے رسم الخط کی لیکن معاف کیجیے مجھے ایک اشتہاری اعلان یاد آرہا ہے جو سنلائیٹ صابون والوں کی طرف سے ہوا ہے۔ سنلائیٹ کی کسی ٹکیا میں انہوں نے ایک چابی چھپاکر رکھ دی ہے۔ جس کسی خریدار کی ٹکیا سے یہ چابی نکلے گی، اسے وہ ایک موٗثر انعام دیں گے۔ اس اعلان کے بعد سے پاکستان کے شہروں میں سنلائیٹ صابون بہت بکتا شروع ہوگیا ہے اور مولانا محمد حسین آزاد نے یہ بتایا تھا کہ نئے انداز کی خلعتیں اور زیور جو آج مناسبِ حال ہیں انگریزی صندوقوں میں بند ہیں ، ان صبدوقوں کی کنجی انگریزی دانوں کے پاس ہے۔‘‘

یہاں تک تو ولے بخیر گزشت کہ علومِ جدید حاصل کرکے دنیا کی برابری کرنے کا شوق کچھ برا بھی نہیں۔ جب تک مسلمانوں کے پاس علم تھا، دوسری قومیں ان کی زبان سیکھ کر ان سے علم حاصل کرنے کو بھی جائز سمجھتی تھیں۔ آج مغرب کے پاس علم ہے جسے ہم ان کی زبان کے ذریعے حاصل کریں تو اس میں کوئی حرج نہین۔ آگے چل کر اسی سے ایک ایسا نکتہ نکالتے ہیں جسے پڑھ کر انسان جھوم جائے۔


’’اصل میں ہم پچھلے سو سال سے مغرب سے صابون کی ٹکیاں خرید رہے ہیں اور ان صندوقوں کی کنجی کی تلاش میں ہیں جن میں نئے علوم بند ہیں، تازہ خبر یہ ہے کہ یہ کنجی رومن رسم الخط کی ٹکیا میں بند ہے۔

لاٹری کے ذریعے دولت تو حاصل کی جاسکتی ہے ۔ مگر ہم علم بھی لاٹری ہی کے ذریعے حاصل کرنے کی فکر میں ہیں۔‘‘


ہم نے اردو میڈیم سے میٹرک کیا تھا لہٰذا اردو ہی سے شغل رہا اور فارسی رسم الخط ہی میں اردو پڑھی اور لکھی۔ فارسی رسم الخط جیسے ہمارے خون میں رچی بسی ہے۔ نیا زمانہ آیا ، انگریزی زبان ذریعہٗ تعلیم بنا تو ہم نے اپنے ہی بچوں کو رومن میں اردو لکھتے دیکھا۔ پھر کمپیئوٹر اور موبائل آئے تو تب بھی اردو لکھنے کے لیے رومن رسم الخط ہی کو استعمال کیا جاتا۔ یہی زمانہ تھا جب رسم الخط تبدیل کرنے کی باتیں شروع ہوئیں۔یوں دو طبقہ ھائے خیال بن گئے۔ ایک وہ جو فارسی رسم الخط ہی کو بہتر سمجھتے تھے۔ دوسرا گروہ رومن رسم الخط کو اپنا کر دنیا کے ساتھ چلنا چاہتا تھا۔

انتظار حسین کیا چھا لکھتے ہیں۔’’ آدمی نے پہلی پہل براہِ راست چیزوں کی تصویریں بناکر صرف مطلب کا اظہار کیا۔ یہ تصویریں تجریدی رنگ میں ڈھلتے ڈھلتے رسم الخط بن گئیں۔ اب یہ تصویریں رسم الخطوں کی تہوں میں اسی طرح پیوست ہیں جس طرح اجتماعی لاشعور میں قدیم شکلیں اور تشبیہیں مدفون رہتی ہیں۔‘‘

آگے لکھتے ہیں؛

’’فارسی رسم الخط ہماری تہذیب کی وہ شکل ہے جو اس کی بنیادی وحدت کے نشان کا مرتبہ رکھتا ہے۔ لیکن اگر ہماری تہذیب کی دوسری شکلیں جارہی ہیں تو یہ نشان کب تک کھڑا رہے گا۔ اور اگر یہ نشان گرگیا تو تہذیب کی باقی شکلیں کتنے دن کی مہمان ہیں۔‘‘


یہ وہ زمانہ تھا جب یار لوگ ترکی کی مثالیں دیا کرتے تھے کہ جوں ہی ترکی نے اپنا رسم الخط بدلا، ترقی کی راہ پر گامزن ہوگیا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ فوراً اردو کا رسم الخط فارسی سے تبدیل کرکے رومن رسم الخط اپنا لیں، یوں وہ بچے جو انگریزی میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، کم از کم اپنی زبان سے تعلق رکھ پائیں گے۔ نیز سونے پر سہاگہ یہ کہ کپئیوٹر پر اردو لکھنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ گوروں سے کوئی امید نہیں تھی کہ ہندی اور چائینیز کی طرح کمپئیوٹر پر اردو بھی لے آئیں گے۔ مائیکروسوفٹ نے کچھ ہمت کرکے شاید ونڈوز اردو میں بنالی تھی لیکن پاکستان میں کوئی اسے خریدنے پر تیار نہ ہوا۔ ہم تو مفت سوفٹ وئیر اپنے کمپئیوٹر پر انسٹال کرنے کے ہمیشہ سے عادی ہیں۔ ایک زمانے میں کراچی میں پر قسم کا سوفٹ وئیر ڈسک پر کاپی کرکے بیچا جاتا ۔ یہ سستا حل ہم پاکستانیوں کو بہت بھاتا۔


انتظار حسین نے رسم الخط کو پھولوں سے تشبیہہ دی ہے، فارسی رسم الخط جو ہماری رگوں میں دوڑ رہا تھا ، اسے دیسی پھولوں اور رومن رسم الخط کو بدیسی پھولوں سے ۔ کہتے ہیں؛

’’جب باغیچوں سے ان کے اپنے پھول رخصت ہوجائیں اور پرائے پھول کھلنے لگیں تو یہ وقت اس زمین کی پوری تہذیب پر بھاری ہوتا ہے۔ رسم الخط اپنی جگہ کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ تہذیب کا حصہ ہوتا ہے۔ ۔ یہ تہذیب شکلوں کے ایک سلسلے کو جنم دیتی ہے۔ یا پہلے سے موجود شکلوں کو ایک نئی معنویت دے دیتی ہے۔‘‘


آگے اپنی بحث کے اختتام پر لکھتے ہیں؛

’’انگریزی پھول اور رومن حروف اجنبی زمینوں سے آئے ہیں۔ہمیں ان سے مہک نہیں آتی‘‘


قریب تھا کہ ان لوگوں کی کوششیں رنگ لے آئیں جو رومن رسم الخط اپنانا چاہتے تھے۔ اسی اثنا میں ایک نہایت عجیب واقعہ رونما ہوا۔ اردو کے جیالوں نے پہلے شاہکار اور ان پیج بنایا اور پھر یونی کوڈ کے ذریعے اردو کے خوبصورت فونٹ ایجاد کرڈالے۔ یہ آج سے کوئی دس سال پہلے کا واقعہ ہے۔ ہم نے یونی کوڈ سے واقفیت حاصل کی اور بہت مسرور ہوئے۔ نیٹ پر جاکر ہر جگہ اردو لکھنے کی کوششوں میں اردو محفل سے شناسائی ہوئی اور فوراً ممبر بن گئے۔ یہ واقعہ ۲۳ دسمبر ۲۰۱۰ کا ہے۔ جنوری ۲۰۱۱ تک ہم اردو محفل کے سرگرم رکن بن چکے تھے۔

یونی کوڈ کی ایجاد کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ہم انگریزی ونڈوز ہی میں رہتے ہوئے ورڈ، ایکسل ، اردو محفل، فیس بک اور دیگر ویب سائیٹس پر اردو لکھنے کے قابل ہوگئے۔ اردو سے محبت کرنے والوں نے ہر قسم کی کتابوں کو ڈیجیٹائز کرکے ویب پر ڈالنا شروع کردیا۔


آج موبائل کے تقریباً ہر سسٹم اور سوفڑ ویر پر اردو کی بورڈ کی سہولت موجود ہے۔ آج بچہ بچہ اردو لکھ اور پڑھ سکتا ہے۔ اردو میں میسج اور واٹس ایپ میسج لکھنا ایک عام ہی بات ہوگئی ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم اس خوفناک دور سے کوسوں نہیں میلوں اور صدیوں دور نکل آئے ہیں جب رومن رسم الخط کو اپنانے کی بات ہوتی تھی۔اب اردو کا فارسی رسم الخط ہی زندہ رہنے والا ہے۔اب ہمیں نہ آرٹ بیسڈ ان پیج چاہیئے نہ ہی اردو ونڈوز ۔ اب اسی سسٹم میں رہتے ہوئے ہم کمپئیوٹر ، اور موبائل ہر جگہ اردو لکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ انتظار حسین زندہ ہوتے تو اس صورت حال پر بہت خوش ہوتے۔

ٹیگ الف عین ، ظہیراحمدظہیر سید عاطف علی ، محمد تابش صدیقی ، سیما علی
محمداحمد
 
آخری تدوین:
مکاتیبِ خضر
از:: محمد خالد اختر

انتظار حسین کے نام۔۔۔۔

نور چشم، راحتِ جان انتظار حسین۔۔۔۔!

پہلے ایک حکایت سنو!۔۔۔ غدرِ اوّلین سے پہلے کی بات ہے، چچا سام زاد الطافیم کی سلطنت میں ایک شخص تھا، رپ وین ونکل، یہ صاحب تھے بالکل نکھٹو!ایک ہی کاہل، لال بھجکڑ، تگ و دوئے روزگار سے گریزاں، گویا کہ ان کی طبیعت قدرے فقیر خضڑ کی طرح آزاد تھی۔ سب ذمہ داریاں گھر کی اپنی زوجہ کے سر ڈال رکھی تھیں۔ خود قصبےکے بے کار لوگوں و فاتر العقل اصحاب کے ساتھسارا دن گپ بازی کرتے اور ایک پہر دن ڈھلے سے وہاں کے میخانے میں ڈیرہ جماتے تھے۔ نیک سیرت، خوش طبع، دوستوں پر جان چھڑکنے والے، ہر ایک کی مدد کو تیار، اطفال ان کے شیدا اور عاشق یوں تھے کہ ان کے کھلونے ٹوٹتے تو یہ رپ وین ونکل ان کی مرمت و درستی کردیتے۔ زوجہ میاں ونکل کی اسے نکما سمجھتی۔ صبح سے لیکر شام تک اسے لعن طعن کرتی رہتی۔ لیکن بگڑے کہیں سنورتے ہیں۔ وہ اپنے کان لپیٹ ، چپ چاپ اپنے کتے کو ہمراہی میں لیے، بندوق کندھے پر ڈال، خرگوش اور تیتر پکڑنے نکل جاتے۔ ایک دن وہ معمول سے کچھ دور نکل گئے کہ کسی نے پکارا: رپ وین ونکل ، اجی رپ وین ونکل! کلہ کوہ سے نیچے دیکھا تو آواز دینے والے کو ایک باریش مردِ بزرگ کوتاہ قد پایا۔ پشت پر ایک پیپا لادے، وہ متکلم ہوئے؛ ’’جی رپ! ذرا مدد کیجیے گا!’’رپ وین ونکل تو ہر کسی کی مدد پر تیار ہوجاتے تھے،،

انہوں نے پیپے کو اپنی پشت پر منتقل کیا اور کہنے لگے، ’’ کہاں جائیے گا؟‘‘ ۔ ’’پیچھے پیچھے چلتے آؤ۔‘‘ وہ پہنچے ایک وادی میں گھاس جہاں چھوٹی اور گھنی تھی۔ وہاں بسیار اور ویسے ہی باریش مردانِ بزرگ بیٹحے تھے۔

سر پر کلاہِ سرخ، بے بٹنوں کے کوٹ اور چڑھے ہوئے پاجامے تن پر پاؤں میں نقرئی ہکمونے لگے جوتے ، وہ فائن پنز کھیلتے تھے۔ گویا اہلِ ولایت کا گلی ڈنڈا۔ رپ وین ونکل قریب آیا، تو انہوں نے کھیل روکا۔ اور ایک مردِ بزرگ نے بڑے بڑے آبخوروں کو پیپے میں سے بھرا اور رپ کو اشارہ کیا اس معنی کا کہ ان سب کو دے۔ مردانِ بزرگ خاموشی اور سنجیدگی سے آب خورے چڑھا پھر منہمک ہوئے اپنے کھیل میں۔ رپ وین ونکل نے جو ایک آب خورے سے چکھا تو اس سے رہا نہ گیا۔ پیاس بھی لگی تھی، سو بہت سے آبخورے خالی کرڈالے۔ اب آنکھیں ہوئیں بوجھل مارے نیند کے ہوش و حواس قائم رکھنے کی سعیٗ بے حاصل کی۔ مگر پھر نیند نے غلبہ کرلیا۔ نیچے لڑھے، خرانٹے لینے لگے۔۔۔ آنکھ کھلی تو ایک بڑ کے نیچے اپنے کو پایا۔ مردانِ بزرگ اور ان کا فاٹن پن کا کھیل غائب! دن چڑھا ہوا تھا اور طائرانِ خوش الحان پیڑوں میں نغمہ ریز تھے۔ سوچا ساری رات سویا رہا ہوں۔ کتے کو ڈھونڈا، وہ غائب، بندوق اوزارِ کہنہ و زنگ آلودہ بنی تھی۔ کوہ سے اترے ، قصبے میں آئے۔ وہاں لوگوں کے لباس بدلے ہوئے۔ کسی کو جانتے نہیں۔ خود کو ملاحظہ کیا تو حیران ہوئے کہ داڑھی گز بھر لمبی زمین کو بوسہ دیتی ہے۔ ۔۔۔ قصہ مختصر ، بیس برس تک سوئے رہے اور جاگے تو ایسی دنیا میں کہ اس کی بوالعجبی ونیرنگی میں کھو گئے۔۔۔!



صاحب! یہ رپ وین ونکل کی واردات ایک طرح تم پر بھی گزری کہ اس بستادصدی کے شہر لاہور میں حضرت جانِ عالم واجد علی شاہ کے لکھنئو میں جیتے ہو۔ نثر تمہاری پڑھو تو میر امن دہلوی اور رجب علی سرور کی نثر آمیختہ کا مزہ لو۔ لاہور نامے کو ملاحظہ کرو تو گویا قدیم لکھنئو کے گلی کوچوں، ملیوں ٹھیلوں ، عاشوروں اور مجالس کی سیر کرو۔ راوی پر لے چلو تو وہ گومتی لگے۔ روایت کا دامن مضبوطی سے تھامے ہو، بلکہ تحفظِ تمدنِ قدیم کے علمبردارِ خشمناک ہو۔ آپ کو کون سمجھائے کہ لاہور لکھنئو نہیں ہے اور لکھنئو بھی اب اس ڈھنگ سے نہیں بستا جس کا تم خیال کرتے ہو۔ جس ازمنہ وسطیٰ کی تمہاری تحریر غماز ہے اور اب فلک کے دوران سے فکر و نظرِ انسانی میں تغیراتِ انقلاب آفریں رونما ہوئے ، تمدن و معاشرت و تہذیب کچھ کی کچھ ہوئی، اب زمانہ کے طور دوسرے ہیں۔ نگارشِ نثر و نظم کے رنگ بدلے آہنگ بدلے۔ تصور عالم و کائینات و متقاضاتِ نشری اب اور ہیں۔
 

جاسمن

مدیر
بہت خوبصورت مضمون/کہانی ہے۔ کیسے موڑ لیا کہ قاری کا دل (فارسی رسم الخط لکھنے پڑھنے کے شوقین قاری) دھک دھک کرنے لگتا ہے۔ لو جی اب رومن رسم الخط اختیار کر لیا جائے گا۔۔۔ پھر موڑ آتا ہے اور کہانی کا ہیرو فارسی رسم الخط بہت شاندار طریقہ سے جیت جاتا ہے۔
شاندار لکھا ہے خلیل بھائی۔ ڈھیر ساری شاباش۔:)
 
عربی رسم الخط کو صحیح طور پر رینڈر کرنے کے لیے کسی بھی پروگریم میں ٹیکسٹ شیپنگ اینجنز کا موجود ہونا لازم ہے۔ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ صرف یونیکوڈ کے رائج ہونے سے عربی رسم الخط کے تمام مسائل دور ہو گئے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
عربی رسم الخط کو صحیح طور پر رینڈر کرنے کے لیے کسی بھی پروگریم میں ٹیکسٹ شیپنگ اینجنز کا موجود ہونا لازم ہے۔ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ صرف یونیکوڈ کے رائج ہونے سے عربی رسم الخط کے تمام مسائل دور ہو گئے۔
مشترکہ لے آوٹ انجن:حرف باز HarfBuzz
کمپلیکس ٹیکسٹ لے آوٹ

 
آخری تدوین:
بہت خوبصورت مضمون/کہانی ہے۔ کیسے موڑ لیا کہ قاری کا دل (فارسی رسم الخط لکھنے پڑھنے کے شوقین قاری) دھک دھک کرنے لگتا ہے۔ لو جی اب رومن رسم الخط اختیار کر لیا جائے گا۔۔۔ پھر موڑ آتا ہے اور کہانی کا ہیرو فارسی رسم الخط بہت شاندار طریقہ سے جیت جاتا ہے۔
شاندار لکھا ہے خلیل بھائی۔ ڈھیر ساری شاباش۔:)
آداب عرض ہے بٹیا! پسندیدگی پر ڈھیروں شکریے قبول فرمائیے۔
 
عربی رسم الخط کو صحیح طور پر رینڈر کرنے کے لیے کسی بھی پروگریم میں ٹیکسٹ شیپنگ اینجنز کا موجود ہونا لازم ہے۔ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ صرف یونیکوڈ کے رائج ہونے سے عربی رسم الخط کے تمام مسائل دور ہو گئے۔
ریحان بھائی ادبی کالم ہے جس میں راقم الحروف کمپیوٹر کی تکنیکی باریکیوں سے کما حقہ آگاہی نہیں رکھتا۔ اس کے لیے اور اس کے پڑھنے والوں کے لیے یہ بات باعثِ مسرت ہے کہ ہم کمپیوٹر ثکسی بھی پروگرام میں ، اور سوشل میڈیا کے کسی بھی پلیٹ فارم پر فارسی رسم الخط میں اردو لکھ سکتے ہیں۔ اب اس صورتحال میں رسم الخط بدلنے اور رومن رسم الخط اپنانے کا خطرہ ٹل گیا ہے۔
 
خلیل بھائی خاص چیز کے لیے کوئی مکالمہ لکھ بھیجا کیجیے ۔ یہ ٹیگ تو کبھی کبھی مس ہی ہو جاتے ہیں ۔ لائبریری کے پیغامات میں بھی ایسا ہو تا رہتا ہے۔
جزاک اللہ خیرا عاطف بھائی آئیندہ یوں ہی کریں گے۔ خوش رہیے۔
 

عمار نقوی

محفلین
اردو کے بہت بڑے افسانہ نگاروں میں انتظار حسین کا نام یقیناً شامل ہوتا ہے۔ ان کا اپنا ایک خاص اندازِ تحریر ہے جو ہمیں بے حد پسند ہے۔ گزشتہ دنوں محمد خالد اختر کی کتاب ’’ مکاتیبِ خضر ‘‘ خریدی اور اس میں انتظار حسین کے نام حضرتِ خضر کا خط پڑھ کر طبیعت باغ باغ ہوگئی۔ انتظار حسین کی تحریر کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے۔ خالد نے انہیں ’’ رِپ وین ونکل ‘‘ سے تشبیہہ دی ہے کہ ’’ اس بستار صدی کے شہر لاہور میں حضرت جانِ عالم واجد علی شاہ کے لکھنئو میں جیتے ہو‘‘۔عین مین ان کی تحریرکا نقشہ کھینچ دیا ہے۔ خوب ۔ حال ہی میں انتظار حسین کا مشہور افسانہ ’’ شہرزاد کی موت‘‘ پڑھا۔ کیا خوبصورت افسانہ ہے۔ جب تک شہرزاد موت کے ڈر سے کہانیاں سوچتی رہی، اس کے اندر کی تخلیق کار زندہ رہی۔ جوں ہی موت کا خوف ختم ہوا، کہانیاں تخلیق کرنا ختم۔ شہرزاد گویا مرگئی۔ ہمیں ان کا یہ نکتہ بہت خوب صورت لگا۔ کب تک انسان سوچنے کے قابل ہے ، تخلیق کرنے کے قابل ہے۔ جب سوچنا چھوڑدیا گویا موت سے پہلے ہی مرگئے۔


سرِ دست انتظار حسین کی کتاب’’ علامتوں کا زوال‘‘ سے ایک مضمون ’’ رسم الخط اور پھول‘‘ پر بات کرنے کو جی چاہتا ہے۔ لکھتے ہیں۔

’’بات ہے رسم الخط کی لیکن معاف کیجیے مجھے ایک اشتہاری اعلان یاد آرہا ہے جو سنلائیٹ صابون والوں کی طرف سے ہوا ہے۔ سنلائیٹ کی کسی ٹکیا میں انہوں نے ایک چابی چھپاکر رکھ دی ہے۔ جس کسی خریدار کی ٹکیا سے یہ چابی نکلے گی، اسے وہ ایک موٗثر انعام دیں گے۔ اس اعلان کے بعد سے پاکستان کے شہروں میں سنلائیٹ صابون بہت بکتا شروع ہوگیا ہے اور مولانا محمد حسین آزاد نے یہ بتایا تھا کہ نئے انداز کی خلعتیں اور زیور جو آج مناسبِ حال ہیں انگریزی صندوقوں میں بند ہیں ، ان صبدوقوں کی کنجی انگریزی دانوں کے پاس ہے۔‘‘

یہاں تک تو ولے بخیر گزشت کہ علومِ جدید حاصل کرکے دنیا کی برابری کرنے کا شوق کچھ برا بھی نہیں۔ جب تک مسلمانوں کے پاس علم تھا، دوسری قومیں ان کی زبان سیکھ کر ان سے علم حاصل کرنے کو بھی جائز سمجھتی تھیں۔ آج مغرب کے پاس علم ہے جسے ہم ان کی زبان کے ذریعے حاصل کریں تو اس میں کوئی حرج نہین۔ آگے چل کر اسی سے ایک ایسا نکتہ نکالتے ہیں جسے پڑھ کر انسان جھوم جائے۔


’’اصل میں ہم پچھلے سو سال سے مغرب سے صابون کی ٹکیاں خرید رہے ہیں اور ان صندوقوں کی کنجی کی تلاش میں ہیں جن میں نئے علوم بند ہیں، تازہ خبر یہ ہے کہ یہ کنجی رومن رسم الخط کی ٹکیا میں بند ہے۔

لاٹری کے ذریعے دولت تو حاصل کی جاسکتی ہے ۔ مگر ہم علم بھی لاٹری ہی کے ذریعے حاصل کرنے کی فکر میں ہیں۔‘‘


ہم نے اردو میڈیم سے میٹرک کیا تھا لہٰذا اردو ہی سے شغل رہا اور فارسی رسم الخط ہی میں اردو پڑھی اور لکھی۔ فارسی رسم الخط جیسے ہمارے خون میں رچی بسی ہے۔ نیا زمانہ آیا ، انگریزی زبان ذریعہٗ تعلیم بنا تو ہم نے اپنے ہی بچوں کو رومن میں اردو لکھتے دیکھا۔ پھر کمپیئوٹر اور موبائل آئے تو تب بھی اردو لکھنے کے لیے رومن رسم الخط ہی کو استعمال کیا جاتا۔ یہی زمانہ تھا جب رسم الخط تبدیل کرنے کی باتیں شروع ہوئیں۔یوں دو طبقہ ھائے خیال بن گئے۔ ایک وہ جو فارسی رسم الخط ہی کو بہتر سمجھتے تھے۔ دوسرا گروہ رومن رسم الخط کو اپنا کر دنیا کے ساتھ چلنا چاہتا تھا۔

انتظار حسین کیا چھا لکھتے ہیں۔’’ آدمی نے پہلی پہل براہِ راست چیزوں کی تصویریں بناکر صرف مطلب کا اظہار کیا۔ یہ تصویریں تجریدی رنگ میں ڈھلتے ڈھلتے رسم الخط بن گئیں۔ اب یہ تصویریں رسم الخطوں کی تہوں میں اسی طرح پیوست ہیں جس طرح اجتماعی لاشعور میں قدیم شکلیں اور تشبیہیں مدفون رہتی ہیں۔‘‘

آگے لکھتے ہیں؛

’’فارسی رسم الخط ہماری تہذیب کی وہ شکل ہے جو اس کی بنیادی وحدت کے نشان کا مرتبہ رکھتا ہے۔ لیکن اگر ہماری تہذیب کی دوسری شکلیں جارہی ہیں تو یہ نشان کب تک کھڑا رہے گا۔ اور اگر یہ نشان گرگیا تو تہذیب کی باقی شکلیں کتنے دن کی مہمان ہیں۔‘‘


یہ وہ زمانہ تھا جب یار لوگ ترکی کی مثالیں دیا کرتے تھے کہ جوں ہی ترکی نے اپنا رسم الخط بدلا، ترقی کی راہ پر گامزن ہوگیا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ فوراً اردو کا رسم الخط فارسی سے تبدیل کرکے رومن رسم الخط اپنا لیں، یوں وہ بچے جو انگریزی میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، کم از کم اپنی زبان سے تعلق رکھ پائیں گے۔ نیز سونے پر سہاگہ یہ کہ کپئیوٹر پر اردو لکھنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ گوروں سے کوئی امید نہیں تھی کہ ہندی اور چائینیز کی طرح کمپئیوٹر پر اردو بھی لے آئیں گے۔ مائیکروسوفٹ نے کچھ ہمت کرکے شاید ونڈوز اردو میں بنالی تھی لیکن پاکستان میں کوئی اسے خریدنے پر تیار نہ ہوا۔ ہم تو مفت سوفٹ وئیر اپنے کمپئیوٹر پر انسٹال کرنے کے ہمیشہ سے عادی ہیں۔ ایک زمانے میں کراچی میں پر قسم کا سوفٹ وئیر ڈسک پر کاپی کرکے بیچا جاتا ۔ یہ سستا حل ہم پاکستانیوں کو بہت بھاتا۔


انتظار حسین نے رسم الخط کو پھولوں سے تشبیہہ دی ہے، فارسی رسم الخط جو ہماری رگوں میں دوڑ رہا تھا ، اسے دیسی پھولوں اور رومن رسم الخط کو بدیسی پھولوں سے ۔ کہتے ہیں؛

’’جب باغیچوں سے ان کے اپنے پھول رخصت ہوجائیں اور پرائے پھول کھلنے لگیں تو یہ وقت اس زمین کی پوری تہذیب پر بھاری ہوتا ہے۔ رسم الخط اپنی جگہ کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ تہذیب کا حصہ ہوتا ہے۔ ۔ یہ تہذیب شکلوں کے ایک سلسلے کو جنم دیتی ہے۔ یا پہلے سے موجود شکلوں کو ایک نئی معنویت دے دیتی ہے۔‘‘


آگے اپنی بحث کے اختتام پر لکھتے ہیں؛

’’انگریزی پھول اور رومن حروف اجنبی زمینوں سے آئے ہیں۔ہمیں ان سے مہک نہیں آتی‘‘


قریب تھا کہ ان لوگوں کی کوششیں رنگ لے آئیں جو رومن رسم الخط اپنانا چاہتے تھے۔ اسی اثنا میں ایک نہایت عجیب واقعہ رونما ہوا۔ اردو کے جیالوں نے پہلے شاہکار اور ان پیج بنایا اور پھر یونی کوڈ کے ذریعے اردو کے خوبصورت فونٹ ایجاد کرڈالے۔ یہ آج سے کوئی دس سال پہلے کا واقعہ ہے۔ ہم نے یونی کوڈ سے واقفیت حاصل کی اور بہت مسرور ہوئے۔ نیٹ پر جاکر ہر جگہ اردو لکھنے کی کوششوں میں اردو محفل سے شناسائی ہوئی اور فوراً ممبر بن گئے۔ یہ واقعہ ۲۳ دسمبر ۲۰۱۰ کا ہے۔ جنوری ۲۰۱۱ تک ہم اردو محفل کے سرگرم رکن بن چکے تھے۔

یونی کوڈ کی ایجاد کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ہم انگریزی ونڈوز ہی میں رہتے ہوئے ورڈ، ایکسل ، اردو محفل، فیس بک اور دیگر ویب سائیٹس پر اردو لکھنے کے قابل ہوگئے۔ اردو سے محبت کرنے والوں نے ہر قسم کی کتابوں کو ڈیجیٹائز کرکے ویب پر ڈالنا شروع کردیا۔


آج موبائل کے تقریباً ہر سسٹم اور سوفڑ ویر پر اردو کی بورڈ کی سہولت موجود ہے۔ آج بچہ بچہ اردو لکھ اور پڑھ سکتا ہے۔ اردو میں میسج اور واٹس ایپ میسج لکھنا ایک عام ہی بات ہوگئی ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم اس خوفناک دور سے کوسوں نہیں میلوں اور صدیوں دور نکل آئے ہیں جب رومن رسم الخط کو اپنانے کی بات ہوتی تھی۔اب اردو کا فارسی رسم الخط ہی زندہ رہنے والا ہے۔اب ہمیں نہ آرٹ بیسڈ ان پیج چاہیئے نہ ہی اردو ونڈوز ۔ اب اسی سسٹم میں رہتے ہوئے ہم کمپئیوٹر ، اور موبائل ہر جگہ اردو لکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ انتظار حسین زندہ ہوتے تو اس صورت حال پر بہت خوش ہوتے۔

ٹیگ الف عین ، ظہیراحمدظہیر سید عاطف علی ، محمد تابش صدیقی ، سیما علی
محمداحمد
علی الصباح اس طرح کی خوبصورت تحریر کا پڑھنا قند مکرر کا مزہ دیتا ہے۔
خلیل صاحب سلامت رہیں !!
 
انتظار حسین کیا چھا لکھتے ہیں۔’’ آدمی نے پہلی پہل براہِ راست چیزوں کی تصویریں بناکر صرف مطلب کا اظہار کیا۔ یہ تصویریں تجریدی رنگ میں ڈھلتے ڈھلتے رسم الخط بن گئیں۔ اب یہ تصویریں رسم الخطوں کی تہوں میں اسی طرح پیوست ہیں جس طرح اجتماعی لاشعور میں قدیم شکلیں اور تشبیہیں مدفون رہتی ہیں۔‘‘
خوبصورت اور لطیف بات لکھی ہے انتظار حسین نے!
 
بہت عمدہ خلیل بھائی
انتظار حسین نے رسم الخط کو پھولوں سے تشبیہہ دی ہے، فارسی رسم الخط جو ہماری رگوں میں دوڑ رہا تھا ، اسے دیسی پھولوں اور رومن رسم الخط کو بدیسی پھولوں سے ۔ کہتے ہیں؛

’’جب باغیچوں سے ان کے اپنے پھول رخصت ہوجائیں اور پرائے پھول کھلنے لگیں تو یہ وقت اس زمین کی پوری تہذیب پر بھاری ہوتا ہے۔ رسم الخط اپنی جگہ کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ تہذیب کا حصہ ہوتا ہے۔ ۔ یہ تہذیب شکلوں کے ایک سلسلے کو جنم دیتی ہے۔ یا پہلے سے موجود شکلوں کو ایک نئی معنویت دے دیتی ہے۔‘‘
کیا بات ہے۔
 

سیما علی

لائبریرین
’’اصل میں ہم پچھلے سو سال سے مغرب سے صابون کی ٹکیاں خرید رہے ہیں اور ان صندوقوں کی کنجی کی تلاش میں ہیں جن میں نئے علوم بند ہیں، تازہ خبر یہ ہے کہ یہ کنجی رومن رسم الخط کی ٹکیا میں بند ہے۔

لاٹری کے ذریعے دولت تو حاصل کی جاسکتی ہے ۔ مگر ہم علم بھی لاٹری ہی کے ذریعے حاصل کرنے کی فکر میں ہیں۔‘
بھیا ! !
بہت بہترین بالکل ہمارے بھیا کی طر ح بیش قیمت ۔
ڈھیر ساری دعائیں
 
Top