رزاق پوستی سے روتھ فاؤ تک

جاسمن

مدیر
رزاق پوستی سے روتھ فاؤ تک
وسعت اللہ خان
20 اگست 2017

کچھ لوگوں کو تصویر میں رہنے کا فن آتا ہے۔ جیسے رزاق پوستی۔ محلے کی کوئی شادی ، عقیقہ ، ختنہ ، موت ، کارنر میٹنگ ایسی نہ تھی جس کی کوئی تصویر ہو اور اس میں رزاق پوستی کی منڈی نہ ابھری ہو۔ اللہ جانے اس کا نام پوستی کیسے پڑا حالانکہ تصویر کھچھوانے کے اعتبار سے وہ چیتا تھا۔

مشہور تھا کہ اگر آپ اپنے کمرے کے دروازے ، کھڑکیوں اور روشندان کو کالی ٹیپ سے سیل کر کے فیملی گروپ فوٹو بنوائیں تو جب فوٹو دھل کے آئے گا تو اس میں رزاق پوستی بھی دائیں بائیں یا درمیان میں ہوگا۔

رزاق پوستی مجھے یوں یاد آیا کہ آپ ٹی وی پر کوئی بھی پریس کانفرنس یا کسی بھی لیڈر کا خطاب دیکھیں۔ کچھ لوگ ہمیشہ سپاٹ چہرے لئے پیچھے کھڑے ہوں گے۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں ، نام کیا ہے ، عہدہ کیا ہے ، روزگار کیا ہے یا پریس کانفرنس کرنے والے وزیر ، افسر یا تقریر کرنے والے عالم ، سیاستداں یا وزیرِ اعلی و وزیرِ اعظم سے کیا تعلق ہے۔

رزاق پوستیوں کی ایک نسل سیلفی کی ایجاد نے پیدا کی اور اس کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ کسی بھی تقریب میں یہ نسل بکثرت پائی جاتی ہے اور عقاب کی نگاہ رکھتی ہے کہ کن کن کے ساتھ زیادہ لوگ سیلفی بنا رہے ہیں۔اور پھر سب لپک پڑتے ہیں۔ کئی تو سیلفی بنانے کے بعد یہ بھی پوچھ لیتے ہیں سر آپ کا نام کیا ہے، آپ کیا کرتے ہیں؟

کئی لاعلم بھولے سیلفی بنانے کے بعد خاموشی سے نکل جانے کے بجائے منہ کھولنے کے سبب پکڑے جاتے ہیں۔ مثلاً ایک پختہ عمر کے صاحب نے سیلفی بنانے کے بعد کہا ’سر میں آپ کو باقاعدگی سے پڑھتا ہوں آپ بہت اچھا لکھتے ہیں۔‘ میں نے جواباً شکریہ کہا۔ سر آپ کی دو کتابیں تو کمال ہیں شیر دریا اور جرنیلی سڑک۔ میں نے کہا بھائی یہ دونوں کتابیں رضا علی عابدی کی ہیں۔ اوہو ہو اچھا تو آپ رضا علی عابدی نہیں ہیں۔ سوری۔ ایک منٹ سر۔ مجھے بھی کچھ شک ہو رہا تھا۔۔ بالکل یاد آ گیا۔۔۔ آپ ڈیفینٹیلی محمد حنیف ہیں۔ ہیں ناں سر۔۔۔۔

ایک نسل وہ بھی ہے جو تصویر بازی پر نہیں خبربازی پر زندہ ہے۔ مگر ڈیجیٹل میڈیا اور سیلفی کے سیلاب میں یہ نسل بقائی خطرے سے دوچار ہے۔ایک صاحب کو میں جانتا ہوں جو کسی چھوٹی موٹی فلاحی انجمن کے سرپرست ، صدر ، سیکرٹری اور خزانچی ہیں۔ ان کی فلاحیت سنگل کالم خبر میں ہی نمایاں ہوتی ہے۔ وہ تب سے خبریں لگوا رہے ہیں جس زمانے میں سفینہ حجاج سے سعودی عرب جانے والے حاجیوں کو کیماڑی پر الوداع کہنے والوں کی تصویری خبریں چھپتی تھیں۔
مشہور شخصیات کے ساتھ سیلفی لینا ایک رواج بن گیا ہے۔
ان صاحب کی آخری تصویری خبر میں نے پرسوں ہی ایک اخبار کے صفحہ دو پر دیکھی ’ممتاز سماجی کارکن مسٹر فلاں فلاں شاہراہِ فیصل پر ایک فلائی اوور میں پڑنے والے شگاف کا معائنہ کرتے ہوئے۔‘

یہ نہ سمجھیے گا کہ ریاست اس خبرناک سیلفیانہ مرض میں مبتلا نہیں۔ ریاست بھی تصویر کھچوانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ بھاشا ڈیم کا پرویز مشرف سے نواز شریف تک ہر حکمران سنگِ بنیاد رکھ چکا ہے۔

ایدھی زندگی بھر ون مین آرمی بنا رہا ، ڈاکٹر روتھ فاؤ ریاستی تعاون سے بے نیاز جذامیوں کی تعداد کم کرتی رہیں مگر دونوں کی آخری تصویر میں ریاست بھی دائیں سے بائیں تیسرے نمایاں ہے۔

روتھ فاؤ والی تصویر میں حکومتِ سندھ کچھ دبی دبی سے نظر آ رہی تھی لہذا اس نے حساب برابر کرنے کے لیے سول اسپتال کراچی کا نام ڈاکٹر روتھ فاؤ سول ہسپتال رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا اور خود ہی بھول گئی کہ دو برس پہلے سندھ اسمبلی نے اسی سول اسپتال کا نام ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کے نام پر رکھنے کی متفقہ قرار داد منظور کی تھی کیونکہ اسی ہسپتال کے ایک وارڈ سے ادیب صاحب نے اپنی فلاحی جدوجہد شروع کی تھی۔

چلو خیر ہے ۔ادیب صاحب ماشااللہ حیات ہیں۔ وقت آنے پر لیاری جنرل ہسپتال کو ان کے نام کردیں گے۔ایک اور تصویر ہو جائے گی۔
(کاپی)
رزاق پوستی سے روتھ فاؤ تک
 

سید عمران

محفلین
ویسے یہ روتھ فاؤ کون ہے
ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ (جرمن: Ruth Katherina Martha Pfau) المعروف رتھ فاؤ (1929ء تا 10 اگست 2017ء) ایک جرمن ڈاکٹر، سرجن اور سوسائیٹی آؤ ڈاٹرز آف دی ہارٹ آؤ میری نامی تنظیم کی رکن تھیں۔ انہوں نے 1962ء سے اپنی زندگی پاکستان میں کوڑھیوں کے علاج کے لیے وقف کی ہوئی تھی۔ 1996ء میں عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان میں کوڑھ کے مرض کو قابو میں قرار دے دیا۔ پاکستان اس ضمن میں ایشیا کے اولین ملکوں میں سے تھا۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ کا انتقال 10 اگست 2017ء کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں ہوا۔
(وکی پیڈیا)
 
ویسے یہ روتھ فاؤ کون ہے
نو ستمبر انیس صد انتیس کو جرمنی کے شہر لیپزگ میں پیدا ہونے والی ڈاکٹر روتھ فاؤ پاکستان کے محسنوں میں سے ایک ہیں ۔ دس اگست دو ہزار سترہ کو کراچی میں وفات پانے والی اس خاتون کی جذام کے خلاف جدوجہد کی وجہ سے حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام ان کے احسان مند ہیں۔ بے شک ہم احسان فراموش نہیں ہیں مزید تفصیلات ان کے متعلق وکی پیڈیا کے اس صفحے سے حاصل کی جا سکتی ہیں
 
نو ستمبر انیس صد انتیس کو جرمنی کے شہر لیپزگ میں پیدا ہونے والی ڈاکٹر روتھ فاؤ پاکستان کے محسنوں میں سے ایک ہیں ۔ دس اگست دو ہزار سترہ کو کراچی میں وفات پانے والی اس خاتون کی جذام کے خلاف جدوجہد کی وجہ سے حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام ان کے احسان مند ہیں۔ بے شک ہم احسان فراموش نہیں ہیں مزید تفصیلات ان کے متعلق وکی پیڈیا کے اس صفحے سے حاصل کی جا سکتی ہیں
شکریہ معلومات میں اضافے کے لیے

ایک کام ہے مجھ کو ذاتی طور پر کیا آپ کچھ مدد کر سکتے ہیں
 
ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ (جرمن: Ruth Katherina Martha Pfau) المعروف رتھ فاؤ (1929ء تا 10 اگست 2017ء) ایک جرمن ڈاکٹر، سرجن اور سوسائیٹی آؤ ڈاٹرز آف دی ہارٹ آؤ میری نامی تنظیم کی رکن تھیں۔ انہوں نے 1962ء سے اپنی زندگی پاکستان میں کوڑھیوں کے علاج کے لیے وقف کی ہوئی تھی۔ 1996ء میں عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان میں کوڑھ کے مرض کو قابو میں قرار دے دیا۔ پاکستان اس ضمن میں ایشیا کے اولین ملکوں میں سے تھا۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ کا انتقال 10 اگست 2017ء کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں ہوا۔
(وکی پیڈیا)
شکریہ جناب اتنی اہم معلومات کے لیے مشکور ہوں

ایک کام ہے مجھ کو ذاتی طور پر کیا آپ کچھ مدد کر سکتے ہیں
 

محمداحمد

لائبریرین
سخت کوفت ہوتی ہے مجھے جب کسی پرانی چیز کا نام بدل کر اُسے کسی کے نام سے موسوم کر دیا جاتا ہے۔

ارے اگر کسی کی خدمات کا اعتراف کرنا ہی مقصود ہے تو پھر نیا پروجیکٹ بناؤ اُن کے نام پر تاکہ پتہ چلے کے آپ واقعی قدردان ہو اور صرف ہوا کے رُخ پر نہیں بہہ رہے۔
 
ایک کتاب ہے جو کہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں ہے اس کو ٹیکسٹ فارمیٹ میں تبدیل کروانا ہے کیا آپ ٹائپ کر دیں گے
پبلک فورمز پر ذاتی کام دینا عام بات نہیں ہے اس لیئے معذرت اگر کسی اجتماعی کام کا ارادہ ہے تو اس کے لیئے ایک تھریڈ کھولیئے وہاں وہ فائل پیش کیجئے پھر اس فائل کے اردو ٹیکسٹ میں کنورژن کا اردو ادب یا لسانیات کو کیا فائدہ ہے یہ بیان کیجئے اور ساتھیوں سے مدد طلب کیجئے۔ اگر کوئی ایسا کرنا چاہتا ہوگا تو کام ہو جائے گا ورنہ دوسری صورت آپ کو خود ہی تکلیف کرنا پڑے گی
 
پبلک فورمز پر ذاتی کام دینا عام بات نہیں ہے اس لیئے معذرت اگر کسی اجتماعی کام کا ارادہ ہے تو اس کے لیئے ایک تھریڈ کھولیئے وہاں وہ فائل پیش کیجئے پھر اس فائل کے اردو ٹیکسٹ میں کنورژن کا اردو ادب یا لسانیات کو کیا فائدہ ہے یہ بیان کیجئے اور ساتھیوں سے مدد طلب کیجئے۔ اگر کوئی ایسا کرنا چاہتا ہوگا تو کام ہو جائے گا ورنہ دوسری صورت آپ کو خود ہی تکلیف کرنا پڑے گی

اردو ادب یا لسانیات کو اس کیا فائدہ ہو گا اس بارے میں میں کچھ نہیں کہ سکتا البتہ کتاب دینی ہے تو اس لحاظ سے دین سے محبت رکھنے والوں کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے
 

محمداحمد

لائبریرین
خود اس لیے نہیں کر سکتا کیونکہ میرے پاس اس وقت کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ نہیں ہے بس ایک نارمل سا سمارٹ فون ہے اس لیے محفلین سے درخواست کی ہے

اچھا!

ویسے بہتر ہوتا ہے کہ ایسی درخواست پیغام میں کی جائے۔

اردو ادب یا لسانیات کو اس کیا فائدہ ہو گا اس بارے میں میں کچھ نہیں کہ سکتا البتہ کتاب دینی ہے تو اس لحاظ سے دین سے محبت رکھنے والوں کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے

ویسے تو عمران بھائی بھی مصروف ہی ہوتے ہیں ۔ لیکن آپ اُن سے ذاتی مکالمے میں گفتگو کر لیجے اور کتاب کی تفصیل شامل کیجے ممکن ہے کہ وہ کچھ دلچسپی لیں۔ چاہیں تو کتاب کا نام یہیں پبلک فورم پر شئر کر دیں۔
 
Top