ردائف ب تا چ - غزلیں 61 تا 69

تفسیر نے 'غالبیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 29, 2006

  1. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088
    .
    صفحہ اول​


    فہرست تبصرہ غزلیات
    ردیف ب تا چ - غزلیں 61 تا 69


    ب
    61 ۔پھر ہوا وقت کہ ہو بال کُشا موجِ شراب
    62 ۔ افسوس کہ دنداں* کا کیا رزق فلک نے
    ت
    63 ۔ رہا گر کوئی تا قیامت سلامت
    64 ۔ آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست
    ق
    غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں
    65 ۔مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالب
    ج
    66 ۔ گلشن میں بند وبست بہ رنگِ دگر ہے آج
    67 ۔معزولئ تپش ہوئی افرازِ انتظار
    68 ۔ لو ہم مریضِ عشق کے بیماردار ہیں
    چ
    69 ۔ نفَس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ

    صفحہ اول​


    ردیف الف - غزل 1 تا 15

    ردیف الف ۔ غزل 16 تا 30

    ردیف الف ۔ غزل 31 تا 45

    ردیف الف ۔ غزل 46 تا 60

    ردیف ب تا چ - غزل 61 تا 69

    ردیف د تا ز - غزل 70 تا 87

    ردیف س تا گ - غزل 88 تا 97

    ردیف ل تا م - غزل 98 تا 102

    ردیف ن حصہ اول - غزل103 تا 118

    ردیف ن حصہ دوئم - غزل 119 تا 131

    ردیف ن حصہ سوئم - غزل 132 تا 142

    ردیف و - غزل 143 تا 155

    ردیف ھ - غزل 156 تا 160

    ردیف ے اول - غزل 161 تا 175

    ردیف ے دوئم - غزل 176 تا 190

    ردیف ے سوئم - غزل 191 تا 205

    ردیف ے چہارم - غزل 206 تا 220

    ردیف ے پنجم- غزل221 تا 235

    ردیف ے ششم ۔غزل 236 تا 250

    ردیف ے ہفتم - غزل 251 تا 265

    ردیف ے ہشتم - غزل 266 تا 274

    .
     
  2. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088
    .

    - 60 -
    پھر ہوا وقت کہ ہو بال کُشا موجِ شراب
    دے بطِ مے کو دل و دستِ شنا موجِ شراب

    پوچھ مت وجہ سیہ مستئِ اربابِ چمن
    سایۂ تاک میں ہوتی ہے ہَوا موجِ شراب

    جو ہوا غرقۂ مے بختِ رسا رکھتا ہے
    سر پہ گزرے پہ بھی ہے بالِ ہما موجِ شراب

    ہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگر
    موجِ ہستی کو کرے فیضِ ہوا موجِ شراب

    چار موج اٹھتی ہے طوفانِ طرب سے ہر سو
    موجِ گل، موجِ شفق، موجِ صبا، موجِ شراب

    جس قدر روح نباتی ہے جگر تشنۂ ناز
    دے ہے تسکیں بَدَمِ آبِ بقا موجِ شراب

    بس کہ دوڑے ہے رگِ تاک میں خوں ہوہوکر
    شہپرِ رنگ سے ہے بال کشا موجِ شراب

    موجۂ گل سے چراغاں ہے گزرگاہِ خیال
    ہے تصوّر میں ز بس جلوہ نما موجِ شراب

    نشّے کے پردے میں ہے محوِ تماشائے دماغ
    بس کہ رکھتی ہے سرِ نشو و نما موجِ شراب

    ایک عالم پہ ہیں طوفانئِ کیفیّتِ فصل
    موجۂ سبزۂ نوخیز سے تا موجِ شراب

    شرحِ ہنگامۂ مستی ہے، زہے! موسمِ گل
    رہبرِ قطرہ بہ دریا ہے، خوشا موجِ شراب

    ہوش اڑتے ہیں مرے، جلوۂ گل دیکھ، اسد
    پھر ہوا وقت، کہ ہو بال کُشا موجِ شراب​

    .
     
  3. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088
    .
    پہلا شعر ​



    پھر ہوا وقت کہ ہو بال کُشا موجِ شراب
    دے بطِ مَے کو دل و دستِ شنا موجِ شراب

    فرہنگ

    وقت = گھڑی۔ ساعت۔ دم۔ عرصہ۔ مدت۔ معیاد۔ وقفہ۔ زمانہ۔ عہد۔ دور۔ فرصت۔ باری۔ حلت۔ عمر۔ موت کی گھڑی۔ مصیبت
    بال = جوار یا باجرہ یا گیہوں وغیرہ کا خوشہ۔ بالی۔ بچہ پالک۔ مُو۔ رُواں۔ رونگٹا۔بہت باریک شگاف یا دراڑ۔ مصری کا تاگہ
    کُشا = کھولنے یا حل کرنے والا
    مُوج = لہر۔ ترنگ۔ طلاطم۔ اُمنگ۔ جوش۔ ولولہ۔ طبیعت کی خوشی۔خیال۔ وہم۔کثرت۔ افراط۔ بہتاب۔ فراغ
    شراب = رقیق چیز کو پی جائے۔ نشہ دار عرق۔ دارو
    بط = شراب۔ صہبا۔ مے ۔ایک آبی جانور۔ بطخ
    مَے = شراب۔ خُمر۔ بادہ۔ دارو۔ دختِ زر۔ صہبا۔ مُل
    بطِ مَے = شراب کی صراحی۔ جو بطخ کی شکل کی ہوتی ہے
    دل = ایک اندرونی عُضو جس کا کام رگوں کو خون پہنچانا ہے۔ قلب۔ حوصلہ۔ جرات ۔ خواہش۔ توجہ۔
    دست = ہاتھ۔ پنجہ۔ قدرت۔ طاقت۔ قابو۔ قلبہ۔ نصرت۔ فتح۔ پتلا پے خانہ۔ عدد۔ تعداد۔ مُرغان۔ پوری شے۔
    شنا = پانی میں تیرنا


    غالب کہتے ہیں

    اب وہی وقت لوٹا ہے کہ جب کہ شراب کی لہر اُٹھےگی اور شراب کی صراحی کو تیرنےوالوں ( لہر ) کے دست و دل ملیں گے۔

    تبصرہ


    وہ وقت آگیا ہے جب شراب کی لہر اپنے پروں کو اُڑنے کے لیے کھولےگی۔اور یہ لہر شراب کی صراحی کوایک دل دے گی جس کو تیرنے کی خواہش ہو گی۔اس شعر کا مطلب ہے کہ موسم بہار آگیا ہے۔اور مے کی خوشبو ہوا میں ہے۔اورشراب کی صراحی ( جو بطخ کی طرح ہے ) پانی میں بطخوں کے ساتھ تیرے گی۔

    شراب کے پینےسے جو مستی حاصل ہوتی ہے۔ ( بال کُشا ) بڑے پروں کا اُ ڑنا۔ اس کے لیے ایک استعارہ ہے۔

    یہ بہار کا موسم جس میں شراب کا پیالہ شرارتوں سے لبریز ہوجاتا ہے ، شراب کی صراحی کو دست و دل دینا، شریرشراب کو دل دینے کے برابر ہے۔ ایسا کرنے اے یہ دل پھر ساقی کے ہاتھ میں ہوگا (تشبیہ )جو کہ خود بھی ایک جام لے لے گا۔

    اس غزل میں بہت لمبی اور خاص ردیف “ موج شراب“ ہے۔ اس نے غزل کوتقریباً ایک قطعہ بنا دیتا ہے۔ مطلع کی پہلی سطر مقطع میں دوہرائ گئی ہے۔مگر یہ حقیقت کہ یہ تذکرہ نگاری نہیں بلکہ زمین ہے اس کی وجہ سے یہ غزل ہے۔

    شاعری کی مصطلحات

    مقطع۔
    لفظاً اس کا مطلب “ جہاں کاٹا جائے“ ۔ غزل کا آخری یا آخری سے پہلا شعر جس میں شاعر کا تخلص ہو، خاص طور پر قطعہ کے شروع میں۔
    زمین۔
    ردیف ، قافیہ کی مناسبت سے غزل ایک ہی زمین میں کہلائ جاتی ہے مگر ہم طرح نہیں۔
    طرح۔
    دو غزل ایک جیسی ہونے کے لیے ردیف ، قافیہ ، بحر اور وزن ایک جسے ہوں اگر اشعار ملا دئیے جائیں تو یہ بتانا مشکل ہو کہ وہ کس غزل کے ہیں۔
    تشبیہ۔
    مشابہت دینا۔
    تمثیل۔
    ایک چیز کو دوسری چیز کے مانند ٹھہرانا۔
    اِستعارہ۔
    مجاز کی ایک قسم جس میں کسی لفظ کے مجازی اور حقیقی معنی کے درمیان تشبیہ کا علاقہ ہوتا ہے۔اور بغیرحروف تشبیہ کےحقیقی معنی کو مجازی معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔
    ساقی۔
    شراب پلانے والی۔

    .
     
  4. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088
    .
    دوسرا شعر ​


    پوچھ مت وجہ سیہ مستیِ اربابِ چمن
    سایۂ تاک میں ہوتی ہے ہَوا موجِ شراب

    فرہنگ

    سیہ = سیاہ کا مخفف۔ کالا۔ نحس۔ بد
    مستئ = نشہ۔ خمار۔ کیف۔ مدھ۔ مدہوشی۔ جوش شہوت۔ غرور۔ متوالا پن
    ارباب = رب کی جمع۔ صاحب۔ خداوند۔ مالک۔ والی۔ پالنے والا
    چمن = وہ جکہ جہاں سبزہ پھول وغیرہ بوئیں۔ باغ کے قطعات۔ گلزار۔ پھلواری
    سایۂ = پرچائیں۔ چھاؤں۔ پرتَو۔ جن بھوت کا اثر۔ آسیب۔ پناہ۔ خفاظت۔ سرپرستی۔ حمایت
    تاک = انگور کی بیل ۔ نگاہ۔ ٹکٹکی۔ گھات۔ انتظار۔ نشانہ۔ دیکھ بھال۔ نگرانی
    ہَوا = خلا اور زمین کے درمیان کی جکہ۔ باد۔ پون۔ ریح۔ حرص۔ ہوس۔ لالچ۔ آرزو۔ دوستی۔ وبا۔ رخ۔ چرچا۔ فنا
    شراب = رقیق چیز کو پی جائے۔ نشہ دار عرق۔ دارو
    مُوج = لہر۔ ترنگ۔ طلاطم۔ اُمنگ۔ جوش۔ ولولہ۔ طبیعت کی خوشی۔خیال۔ وہم۔کثرت۔ افراط۔ بہتاب۔ فراغ


    غالب کہتے ہیں

    شراب کی ہوا انگوروں کی بیل کے نیچے سے گرز کر آئ ہے۔ مجھ سے باغوں کے والیوں کی کالی مستی کے متعلق مت دریافت کر۔

    تبصرہ

    باغ میں درخت نشہ میں جھوم رہے ہیں ان کی اس خوشی کی وجہ ہے کہ وہی ہوا جو انگوروں کی بیلوں سےگزر کر نشہ ور ہوئ اور اب شراب کی لہر بن گئی ہے اور ان درختوں کوگلے لگا رہی ہے۔
    سیہ ہستی ِارباب کی خوشی اور سایہ میں مناسبت ہے۔ پھول اور پرندے ، باغ کے والی ہیں۔ انسانوں کےمست ہونے کی طرح وہ موسم بہار سےمدہوش ہیں۔
    غالب سایہ اور سیہ لے لفظوں سے کھیلتے ہیں۔


    شاعری کی مصطلحات

    مناسبت۔
    باہم تعلق۔ موزونیت اور نسبت

    مراعت ان نظیر۔
    دو لفظ جو معنی میں ملے ہو۔مگر ایک دوسرے کے تضاد اور بہ مقابلہ نہ ہوں
    .
     
  5. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088
    .
    تیسرا شعر ​


    جوہوا غرقۂ مے بختِ رسا رکھتا ہے
    سر پہ گزرے پہ بھی ہے بالِ ہما موجِ شراب

    فرہنگ

    غرقۂ = ڈوبا ہوا۔ بالا خانہ۔ برآمدہ۔ کھڑکی۔ دریچہ۔ خلوت۔گوشہ تنہائ
    مَے = شراب۔ خُمر۔ بادہ۔ دارو۔ دختِ زر۔ صہبا۔ مُل
    بخت = حصہ۔ نصیب ۔ بھاگ۔ قسمت
    رَسَا = پہنچنے والا۔ اثر کرنا۔
    بال = جوار یا باجرہ یاگیہوں وغیرہ کا خوشہ۔ بالی۔ بچہ پالک۔ مُو۔ رُواں۔ رونگٹا۔بہت باریک شگاف یا دراڑ۔ مصری کا تاگہ
    ہما = ایک مشہور خیالی پرندہ جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ جس کےسر پر سےگزرجائے وہ شخص بادشاہ ہوجاتا ہے
    شراب = رقیق چیز کو پی جائے۔ نشہ دار عرق۔ دارو
    مُوج = لہر۔ ترنگ۔ طلاطم۔ اُمنگ۔ جوش۔ ولولہ۔ طبیعت کی خوشی۔ خیال۔ وہم۔کثرت۔ افراط۔ بہتاب۔ فراغ


    غالب کہتے ہیں

    شراب کی لہر وہی اثر رکھتی جو ہما کے بازو میں ہے۔ شراب پینے والا بھی نشہ ور ہوکر ذہن کی اونچائیوں پر پہنچ جاتا ہے۔

    تبصرہ

    اگر شراب نوشی حد سےگزر جائے تب بھی وہ بادشاہت کے برابر ہے۔ جس طرح بادشاہ فکروں سےآذاد ہے۔ اسی طرح شراب کے نشہ میں چور انسان ، خیالوں کی قید اور پریشانیوں سے آذاد ہے۔اور اگر ایسا شخص پیتے پیتے مرجائے تو یہ بھی اس کے لےاچھا ہے۔ کیونکہ مزہ لیتے ہوئے مرنا بغیرخوشی کی زندگی سے بہتر ہے۔
    .
     
  6. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088
    .
    چوتھا شعر ​


    ہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگر
    موجِ ہستی کو کرے فیضِ ہوا موجِ شراب

    فرہنگ

    برسات = بارش کا موسم۔ برکھات
    موسم = وقت۔ سما۔ موقع۔ دن۔ زمانہ
    عجب = تجب۔ حیرت۔ انوکھا۔ نادر۔ نیا۔ عمدہ۔ طُرفہ
    مُوج = لہر۔ ترنگ۔ طلاطم۔ اُمنگ۔ جوش۔ ولولہ۔ طبیعت کی خوشی۔خیال۔ وہم۔کثرت۔ افراط۔ بہتاب۔ فراغ
    ہستی = وجود۔ قیام۔ موجودگی۔ مخلوقات و کائنات۔ حیات۔ زندگی۔ حقیقت۔ مجال۔دنیا۔ خود پسندی
    فیض = فائدہ۔ نفع۔ سخاوت۔ نیکی۔ بھلائ
    شراب = رقیق چیز کو پی جائے۔ نشہ دار عرق۔ دارو
    مُوج = لہر۔ ترنگ۔ طلاطم۔ اُمنگ۔ جوش۔ ولولہ۔ طبیعت کی خوشی۔خیال۔ وہم۔کثرت۔ افراط۔ بہتاب۔ فراغ


    غالب کہتے ہیں

    یہ کوئ عجیب بات نہیں کہ اس دفعہ برسات کے موسم میں ہوا کی سخاوت لہرِحیات کو شراب کی لہر بنا دے

    تبصرہ

    انڈیا اور ایران کے موسم مختلف ہیں۔ ایران میں بارش اور بہار کا موسم ساتھ ساتھ آتےہیں۔ جنوبی ایشیا میں دسمبر کے درمیان سے مارچ تک موسمِ سرما، اپریل سےجون موسمِ گرما ، جولائ سےستمبر مانسون اور اکتوبر سےدسمبر کے درمیان مانسون کا آخیر ہے۔ شرح نگاروں نے اس حقیقت کو نطر انداز کر کے بارش کےساتھ ہوا کےذکر کرتےہوئے اس ہوا کوہوائے بہار یا بادِ بہاری تصور کیاہے۔
    بحرحال اگر گلاب ہنسیں اور پرندے بولیں اور معشوق آنکھوں کےتیر ماریں اور عاشق اپنی خستہ حالت کا ذکر کریں تو میرا خیال ہے کہ جنوبی ایشیا کےبارش کےموسم کوایران کے موسم بہار سے جوڑنےمیں کوئ مُضایقہ نہیں۔

    ۔
     
  7. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088
    پانچواں شعر ​


    چار موج اٹھتی ہے طوفانِ طرب سے ہر سُو
    موجِ گل، موجِ شفق، موجِ صبا، موجِ شراب

    فرہنگ

    طوفان = غرق کردینے والی رو۔ سیلاب۔ شدید بارش۔ آندگی۔ تیزوتند ہوا۔ سانحہ عظیم۔ شور و غُل۔ بہتان۔ آفت
    طرب = خوشی۔ شادمانی۔ انبساط
    سُو = جانب۔ طرف
    گُل = پھول۔ جسم کو داغنے کا نشان۔ چراغ کی بتی کا جلا ہوا یا جلتا ہوا سرا۔ معشوق ۔ وہ سفیددھبا جو آنکھوں میں پڑجاتا ہے۔
    شفق = سُرخی جو طلوع آفتاب سے پیشتر صبع کو اور غروب آفتاب کے بعد شام کو نمودار ہوتی ہے۔
    صَبا = جوہوا مشرق سےچلے۔ وہ پُروا ہوا جو موسمِ بہار میں چلتی ہے۔ صبح کی ہوا۔ مشرقی ہوا
    شراب = رقیق چیز کو پی جائے۔ نشہ دار عرق۔ دارو
    مُوج = لہر۔ ترنگ۔ طلاطم۔ اُمنگ۔ جوش۔ ولولہ۔ طبیعت کی خوشی۔خیال۔ وہم۔کثرت۔ افراط۔ بہتاب۔ فراغ
    چارمُوج =گرداب - بھنور


    غالب کہتے ہیں

    گلاب کے پھول کی ایک لہر ، سورج کے ڈوبنے کا ایک وقت ، صبا کی ایک لہر اور شراب کی لہر ، ان چار لہروں نےخوشی کے جذبات کےطو فان اُٹھا دیے ہیں۔

    تبصرہ

    کیا غالب کا اشارہ کائناتی اربعہ عناصر کی طرف ہے؟ زمین (گلاب) ، ہوا ( صبا) ، پانی (شراب) ، اور آگ ( شفق ) ، یہاں پر یہ عناصر فطری قوتوں سے نہیں بلکہ عاشق کی روح اور اس کے دلی جوش ولولہ اور جذبہ سے اُبرتے ہیں۔
    بھنور ہے کو چار موج بھی کہلاتا ہے۔ یہاں موج کا استعمال واحد ہے ۔ ظفر نے بھی اپنی ایک غزل میں چار کو واحد سمجھا ہے۔ “ کوئ چار پھول چڑھائے کیوں“۔

    .
     

اس صفحے کی تشہیر