طالوت

محفلین
معذرت طالوت لیکن یزید کے ساتھ "امیر المؤمنین" کا لقب استعمال مت کیجئے نوازش ہوگی۔ اگر آپ کو بروز قیامت یزید کی صف میں کھڑا ہونے کا شوق ہے تو اللہ آپ کی خواہش کو پورا کرے، ہمیں حسین کے قدموں میں جگہ مل جائے تو ہماری خوش بختی۔ اس سے سوا کچھ نہ کہنا چاہوں‌گا۔
بات عقیدے کی ہے ، اور میرا یہی عقیدہ ہے ۔۔ بلاشبہ اگر مجھے مومنین کے امیروں کی صف میں جگہ ملے تو میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہو گی کہ ان میں ایسی ایسی ہستوں کے نام آتے ہیں کہ سوچوں تو میری روح کانپ اٹھتی ہے ۔۔

وسلام
 

خرم

محفلین
بات یزید کی ہے۔ آپ اگر اسے امیر المؤمنین مانتے ہیں تو پھر اس کے ساتھ کھڑے بھی ہوں گے۔ اور اگر وہی اس صف میں نہ ہوا تو پھر کہاں ہوں گے آپ؟

بخدا حسین کے قاتل پر اللہ کی جنت حرام ہے۔
 

خرم

محفلین
جس دھاگے مٰیں دیکھو، ہر جگہ اسلامی مناظرے چل رہے ہیں۔ تو تو ، میں میں۔ اسلام کا مطلب ہے امن اور سلامتی! ابھی ہم ایک دوسرے سے کوسوں ددور ہیں تو یہ حال ہے۔ حقیقت میں سامنے آگئے تو۔۔۔ واللہ اعلم!
وہ اس لئے کہ ہم سب کا علم ادھورا ہے۔ وہی ہاتھی اور اندھوں والی بات ہے۔ لیکن ہمارے ادھورے علم کی بنا پر ہاتھی کا وجود تو نہیں بدل جاتا۔ کوشش کرنا چاہئے کہ تمام ہاتھی کا علم ہو نا کہ ہاتھی کے وجود کا ہی انکار کر دیا جائے۔
 

طالوت

محفلین
بلاشبہ حسین کے قاتل پر جنت حرام ہے ۔۔ مگر امیر المومنین یزید بن معاویہ سے اس کا کیا تعلق ؟
ابھی تک میں نے آپ سے "فرمائش" نہیں کی کہ آپ بھی امیر کا نام عزت و احترام سے لیں ، اگرچہ میں بھی اس کا حق محفوظ رکھتا ہوں ، اور نہ ہی آپ کی اس جذباتیت کو چھیڑا ہے ، جس کا مظاہرہ اس وقت آپ خود کر رہے ہیں ۔۔ کیونکہ میں ہر شے سے زیادہ قیامت کو برحق مانتا ہوں اور وہاں فیصلہ ہو جائے گا کہ کس نے یہودی سبا کے پیروکاروں کی اندھی تقلید کی اور کون اس صف میں شامل ہوا ۔۔۔
(امید ہے اس کے بعد اس پر مزید بات کی ضرورت نہ رہے گی)
وسلام
 
طالوت مجھے یزید بن معاویہ کو امیر المومنین کہنے پر اعتراض ہے اور میں اس بات پر سخت ترین احتجاج کرتا ہوں ۔ مسلکی بحث میں میں نہیں پڑنا چاہتا البتہ یزید ملعون کو خلفاء الراشدین کی صفوں میں کھڑے ہونے کی بات کر آپ کی راح نہیں کانپتی ۔ کہ جو اپنی خلافت میں ایک بکری کے بچے کے حق کے بارے میں حساس ہوں انکی صفوں میں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل کے وقت کے امیر سلطنت (میں اسے خلیفہ بھی نہیں مانتا ) کو کھڑا کرنے کی بات کرتے ہوئے آپکی روح نہیں کانپتی ۔۔؟ میں صحابہ کرام رضوان اللی علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی کو بھی فعل ملعون سمجھتا ہوں اور یزید کو بھی اس لحاظ سے ملعون سمجھتا ہوں کہ نبی کے نواسے کا قتل ہوتا ہے اور ایسا امیر سلطنت لاعلم یا بے بس ہوتا ہے تو اسے خلیفہ کہنا انتہائی قابل مذمت فعل ہے
 

خرم

محفلین
بلاشبہ حسین کے قاتل پر جنت حرام ہے ۔۔ مگر امیر المومنین یزید بن معاویہ سے اس کا کیا تعلق ؟
ابھی تک میں نے آپ سے "فرمائش" نہیں کی کہ آپ بھی امیر کا نام عزت و احترام سے لیں ، اگرچہ میں بھی اس کا حق محفوظ رکھتا ہوں ، اور نہ ہی آپ کی اس جذباتیت کو چھیڑا ہے ، جس کا مظاہرہ اس وقت آپ خود کر رہے ہیں ۔۔ کیونکہ میں ہر شے سے زیادہ قیامت کو برحق مانتا ہوں اور وہاں فیصلہ ہو جائے گا کہ کس نے یہودی سبا کے پیروکاروں کی اندھی تقلید کی اور کون اس صف میں شامل ہوا ۔۔۔
(امید ہے اس کے بعد اس پر مزید بات کی ضرورت نہ رہے گی)
وسلام
چلئے بات اگر قیامت تک جائے گی تو وہیں سہی۔ آپ یزید کے ساتھ کھڑے ہونے کی دعا کیجئے ہم حسین کی قدم بوسی کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس پر تو راضی ہیں نا؟:grin: اور جذباتیت نہیں تھی، ایک حقیقت بیان کی تھی جس سے آپ نے بھی اتفاق کیا ہے۔ ;)
اللہ ہم سب پر اپنی رحمت فرمائے۔ آمین۔
 

زین

لائبریرین
برائے مہربانی یہاں‌بحث صرف رحمن بابا کے مزار تک محدود رکھی جائے۔
--------
کسی نئے موضوع پر بحث کرنی ہے تو نیا دھاگہ کھول لیجئے۔
 

طالوت

محفلین
زین بحث تو یوں بھی موضوع سے نکل چکی ، عرصہ ہوا !
-------
-----
---
آپ ضرور احتجاج کیجیے ، میں تو برہم نہیں جب آپ نے امیر یزید کو ملعون کہا ۔۔ آپ کس بنیاد پر امیر یزید کو حسین کا قاتل ٹھہراتے ہیں ؟ اس بے ہودہ تاریخ کی بنا پر جسے اسلامی تاریخ کہا جاتا ہے ؟ اگر وہی بنیاد ہے تو میرے بھائی مہوش علی کا وہ بیان بھی درست مان لیجیے جس میں انھوں نے بخاری کا حوالہ دیتے ہوئے صحابہ کو لڑتے بھڑتے دکھایا ہے ۔ طبری کی تاریخ کی وہ کہانیاں بھی درست مان لیجیے جس میں سیدنا عمر ، سیدنا سعد پر تلوار نکالتے ہیں ، سیدنا علی ، سیدنا ابوبکر کو ظالم اور دھوکے باز گردانتے ہیں ، ایک داڑھی دوسرے کے ہاتھ ۔ کس لیے حکومت کے لیے ؟ (معاذ اللہ معاذ اللہ) ۔۔
میں باز آیا ایسی باتوں سے ۔۔ آپ کو مبارک آپ کی تاریخ و ظالم و مظلومین ۔۔
وسلام
 

مہوش علی

لائبریرین
مہوش بہنا منافق صحابی نہیں ہوسکتا اگرچہ ظاہری طور پر اس نے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موافقت ہی اختیار کئے رکھی ہو۔ سو صحابیوں کا خوارج میں شامل ہونا غلط ہے۔ بات لفظوں کی ہے سو لفظوں‌میں ہی اگر آپ رجوع کر لیں تو اس جھگڑے کا قصہ تمام ہو۔ امید ہے غور فرمائیں گی۔

خرم بھائی، میں نے تو کب کے تمام الفاظ ہی واپس لے لیے ہیں۔

اور باخدا میں نے کسی صحابی کو کسی منافق سے تشبیہ دی ہے اور نہ ہی خوارجین کے متعلق میرا اتنا سخت نظریہ ہے [میں خوارج کو [یا 99 فیصد خوارج کو ہرگز منافق نہیں مانتی ہوں، بلکہ علی ابن ابی طالب اور عثمان ابن عفان کے قاتل ہونے کے باوجود میرا نظریہ انکے متعلق مسلمان ہونے کا ہی ہے اور ان کے اسلامی عقائد اور مسلمانوں کے اسلامی عقائد میں فرق نہ تھا، بلکہ فرق صرف سیاسی تھا یا پھر حکمرانی پر تھا] صحابہ تو ایک طرف، خوارج میں جو تابعین شامل تھے، میں تو اُن کو بھی اسلام سے خارج نہیں کرتی ہوں، مگر انکی حربی آفتوں کے باعث انہیں فتنہ و فساد ضرور سمجھتی ہوں۔

علی ابن ابی طالب نے انہیں مارنے سے پہلے اور انہیں مارنے کے بعد مسلمانوں والا سلوک ہی کیا تھا۔ اور بقیہ لوگوں کا مجھے علم نہیں، مگر یہ رسول اللہ ص کی علی ابن ابی طالب کو دعا تھی کہ اے اللہ حق کو پھیر دے اُس طرف جس طرف رخ کرے یہ علی۔

بات مختصر، آپ کو علم ہے ہی کہ میں علی ابن ابی طالب کے موقف کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی اور کے موقف کی پیروی نہیں کرتی ہوں۔ اور میری اللہ سے دعا بس یہی ہوتی ہے کہ میں علی سے کسی بھی معاملے میں ایک قدم آگے بڑھوں نہ ایک قدم پیچھے رہ جاؤں۔

اور خرم بھائی اگر آپ کو پھر بھی خارجی لفظ پر اعتراض ہے تو پھر سوچنے دیں کہ کونسا راستہ نکالا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹحی بھی نہ ٹوٹے۔ میرے لیے مسٗلہ یہ ہے کہ کسی چیز کا یقین ہو جانے کے بعد اس کا انکار کرنا ایمان کی بات نہیں۔ اور اگر انکار نہ کروں تو آپ جیسے احباب خوارج کے متعلق میرا نظریہ جانے بغیر ناراض ہیں۔ مجھے دونوں صورتیں منظور نہیں۔ مجھے سوچنے دیجئے کہ اللہ کوئی ایسا راستہ نکال دے جس سے سب کے شکوے شکایات دور ہو جائیں۔ امین۔

والسلام۔

آبی،
آپ نے ناموں کی فرمائش کی ہے۔
کیا یہ حل ہو سکتا ہے کہ میں یہ نام اس فورم پر دینے کی بجائے کسی اور فورم پر تفصیل اور ثبوتوں کے ساتھ آپ کے گوش گذار کر دوں اور یہاں پر یہ مسئلہ یہیں پر ختم ہو جائے؟
 

مہوش علی

لائبریرین
تاریخ پر مفصل بحث دلائل کے ساتھ مجھے بھی کرنی ہے۔ مگر ابھی مجھے اپنی فیملی کے ساتھ دوسرے شہر جانا ہے۔ انشاء اللہ وہاں پر بھی انٹرنیٹ ہے اور رابطہ رہے گا، مگر تاریخ پر مفصل مضمون میں واپس آ کر ہی بیان کروں گی۔ انشاء اللہ۔ اور یہ مفصل مضمون ان ڈبل سٹینڈرڈز کی جانب ہو گا جہاں خلفائے بنی امیہ کے کارنامے تو اسی تاریخ سے نکال کر گنگنائے جاتے ہیں، مگر جب انکی عیاشیاں و گناہ یہی تاریخ اور یہی رواۃ بیان کرتے ہیں تو یہی تاریخ ناقابل اعتبار ہو جاتی ہے۔ پھر عبداللہ ابن سبا کا دیو مالائی کرادر اور پراپیگنڈہ کو اسی تاریخ سے نکالا جاتا ہے اور اس پر امت پچھلے ساڑھے بارہ سو سال سے سر دھن رہی ہے، مگر جب اصل قاتلان عثمان ابن عفان کی طرف مودودی صاحب نے اسی تاریخ سے اشارہ کیا تو انہیں توہین صحابہ سے لیکر کافر اور شیعہ تک بنا دیا گیا۔ یہ ڈبل سٹینڈرڈز جس دن امت کے سامنے آ گئے اُس دن انشاء اللہ فرار کے راستے بند ہو جائیں گے۔
 

طالوت

محفلین
تو بھیا اصل تاریخ کہاں ہے؟ اس کا پتہ بتا دیجئے معہ مصنف :)

تاریخ کے معاملے میں ، میں پرویز احمد کے نظریہ سے متفق ہوں (اگرچہ ان کی شخصیت متنازعہ ہے اور وہ کس کی نہیں ؟) قران ہماری اصل تاریخ بھی ہے ۔۔ اور قران کی چھلنی سے ہی ہم تاریخ کو بھی چھانیں گے ۔۔
وسلام
 

arifkarim

معطل
تاریخ پر مفصل بحث دلائل کے ساتھ مجھے بھی کرنی ہے۔ مگر ابھی مجھے اپنی فیملی کے ساتھ دوسرے شہر جانا ہے۔ انشاء اللہ وہاں پر بھی انٹرنیٹ ہے اور رابطہ رہے گا، مگر تاریخ پر مفصل مضمون میں واپس آ کر ہی بیان کروں گی۔ انشاء اللہ۔ اور یہ مفصل مضمون ان ڈبل سٹینڈرڈز کی جانب ہو گا جہاں خلفائے بنی امیہ کے کارنامے تو اسی تاریخ سے نکال کر گنگنائے جاتے ہیں، مگر جب انکی عیاشیاں و گناہ یہی تاریخ اور یہی رواۃ بیان کرتے ہیں تو یہی تاریخ ناقابل اعتبار ہو جاتی ہے۔ پھر عبداللہ ابن سبا کا دیو مالائی کرادر اور پراپیگنڈہ کو اسی تاریخ سے نکالا جاتا ہے اور اس پر امت پچھلے ساڑھے بارہ سو سال سے سر دھن رہی ہے، مگر جب اصل قاتلان عثمان ابن عفان کی طرف مودودی صاحب نے اسی تاریخ سے اشارہ کیا تو انہیں توہین صحابہ سے لیکر کافر اور شیعہ تک بنا دیا گیا۔ یہ ڈبل سٹینڈرڈز جس دن امت کے سامنے آ گئے اُس دن انشاء اللہ فرار کے راستے بند ہو جائیں گے۔

10000000000000000000000000000000000000000 % متفق!
 

طالوت

محفلین
بنو امیہ کے دیوانو لنگوٹ کس لو !
(اپنی تو دو سطروں کی کہانی ہے ، اس پر فرار کا راستہ کھل جائے گا;) --
کہ
"وہ پکے سچے مومن ہیں" (القران) )
وسلام
 

آبی ٹوکول

محفلین
اور باخدا میں نے کسی صحابی کو کسی منافق سے تشبیہ دی ہے اور نہ ہی خوارجین کے متعلق میرا اتنا سخت نظریہ ہے [میں خوارج کو [یا 99 فیصد خوارج کو ہرگز منافق نہیں مانتی ہوں، بلکہ علی ابن ابی طالب اور عثمان ابن عفان کے قاتل ہونے کے باوجود میرا نظریہ انکے متعلق مسلمان ہونے کا ہی ہے اور ان کے اسلامی عقائد اور مسلمانوں کے اسلامی عقائد میں فرق نہ تھا، بلکہ فرق صرف سیاسی تھا یا پھر حکمرانی پر تھا] صحابہ تو ایک طرف، خوارج میں جو تابعین شامل تھے، میں تو اُن کو بھی اسلام سے خارج نہیں کرتی ہوں، مگر انکی حربی آفتوں کے باعث انہیں فتنہ و فساد ضرور سمجھتی ہوں۔
آپ بڑے ٹیکنیکل طریقے سے صحابہ کو خارجی ثابت کرنا چاہ رہی ہیں یہ کہہ کر کہ‌آپ خوارج کو اسلام سے خارج نہیں‌ سمجھتیں ۔۔اور آپ کا خوارج کہ بارے مین نظریہ اتنا متشدد نہیں ہے میرا تو آپ کہ فہم کو سلام کرنے کو جی چاہتا ہے کہ تاریخ پر بحث کرنے کا آپ کو بڑا شوق ہے مگر تاریخ میں جو اصطلاحی کردار فتنوں کی صورت میں رو نما ہوئے انکی حقیقت ، اصل اور محرکات کا آپ کو اندازہ نہیں کہ جس پر ہم نے پہلے بھی یہ کہہ کراشارہ کیا کہ اسلام میں سب سے پہلا فتنہ خارجیوں کا تھا کہ جن کی اصل نفاق تھی اور ہماری اس بات کی تائید میں بے شماراحادیث شاہد ہیں بلکہ خود خارجیوں پر خارجی کی اصطلاح کا اطلاق چیخ چیخ کر یہ بتارہا رہا کہ ان کا ایک مخصوص پس منظر ہے کہ جسکا دین کہ ساتھ کوئی تعلق نہیں مگر محترمہ آپ نہیں مانتی اور سمجھتی تو نہ سمجھیں اور مانے ہمارے لیے دین کی تفھیم آپکی سمجھ پر موقوف نہیں ہمارے لیے تو دین کی وہی تعبیر اولٰی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے اور جسکو خود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی بیان فرمایا ہے۔ خوارج کی تاریخ ،اسباب و محرکات کا اگر صحیح احادیث کی روشنی میں جائزہ لینا ہوتو محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی کتاب
۔۔ اَلاِنتِبَاہُ لِلْخَوَارِجِ وَالْحَرُوْرَاءِ .... گستاخان رسول کی علامات ۔۔۔ کا مطالعہ مفید رہے گا جو کہ انٹر نیٹ پر درج زیل ربط میں دستیاب ہے ۔ ۔ ۔
http://www.minhajbooks.com/books/index.php?mod=btext&cid=2&bid=237&btid=201&read=txt&lang=ur

اس کتاب کی پہلی متفق علیہ رویات درج زیل ہے
عَنْ أبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه يَقُولُ : بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أبِي طَالِبٍ رضی الله عنه إِلَی رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم مِنَ اليمن بِذُهَيْبَةٍ فِي أدِيْمٍ مَقْرُوْظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا. قَالَ : فَقَسَمَهَا بَيْنَ أرْبَعَةِ نَفَرٍ بَيْنَ عُيَيْنَةَ ابْنِ بَدْرٍ وَ أقْرَعَ بْنِ حَابِسٍ وَ زَيْدِ الْخَيْلِ وَ الرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ وَ إِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أصْحَابِهِ : کُنَّا نَحْنُ أحَقَّ بِهَذَا مِنْ هَؤُلَاءِ قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ : ألاَ تَأمَنُوْنِي وَ أنَا أمِيْنُ مَنْ فِي السَّمَاءِ يَأتِينِي خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَ مَسَاءً، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ العَيْنَيْنِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، نَاشِزُ الجَبْهَةِ، کَثُّ اللِّحْيَةِ، مَحْلُوقُ الرَّأسِ، مُشَمَّرُ الإِزَارِ. فَقَالَ : يَارَسُولَ اﷲِ، اتَّقِ اﷲَ، قَالَ : وَيْلَکَ أوَلَسْتُ أحَقَّ أهْلِ الأرْضِ أنْ يَتَّقِيَ اﷲَ؟ قَالَ : ثُمَّ وَلَّی الرَّجُلُ، قَالَ خَالِدُ بْنُ الوليد : يَا رَسُولَ اﷲِ! ألاَ أضْرِبُ عُنُقَهُ؟ قَالَ : لاَ، لَعَلَّهُ أنْ يَکُونَ يُصَلِّي. فَقَالَ خَالِدٌ : وَ کَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ، قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنِّي لَمْ أوْمَرْ أنْ أنْقُبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ، وَلاَ أشُقَّ بُطُونَهُمْ، قَالَ : ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُقَفٍّ، فَقَالَ : إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِيئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُوْنَ کِتَابَ اﷲِ رَطْبًا لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّيْنِ کَما يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ. وَ أظُنُّهُ قَالَ : لَئِنْ أدْرَکْتُهُمْ لَأقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُوْدَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ترجمہ حدیث :- ’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں چمڑے کے تھیلے میں بھر کر کچھ سونا بھیجا، جس سے ابھی تک مٹی بھی صاف نہیں کی گئی تھی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ سونا چار آدمیوں میں تقسیم فرما دیا، عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ یا عامر بن طفیل کے درمیان۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی نے کہا : ان لوگوں سے تو ہم زیادہ حقدار تھے۔ جب یہ بات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم مجھے امانت دار شمار نہیں کرتے؟ حالانکہ آسمان والوں کے نزدیک تو میں امین ہوں۔ اس کی خبریں تو میرے پاس صبح و شام آتی رہتی ہیں۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر ایک آدمی کھڑا ہو گیا جس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئیں، رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئیں، اونچی پیشانی، گھنی داڑھی، سر منڈا ہوا اور اونچا تہبند باندھے ہوئے تھا، وہ کہنے لگا : یا رسول اللہ! خدا سے ڈریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو ہلاک ہو، کیا میں تمام اہل زمین سے زیادہ خدا سے ڈرنے کا مستحق نہیں ہوں؟ سو جب وہ آدمی جانے کے لئے مڑا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایسا نہ کرو، شاید یہ نمازی ہو، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : بہت سے ایسے نمازی بھی تو ہیں کہ جو کچھ ان کی زبان پر ہے وہ دل میں نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ لوگوں کے دلوں میں نقب لگاؤں اور ان کے پیٹ چاک کروں۔ راوی کا بیان ہے کہ وہ پلٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اس کی جانب دیکھا تو فرمایا : اس کی پشت سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کی کتاب کی تلاوت سے زبان تر رکھیں گے، لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر میں ان لوگوں کو پاؤں تو قوم ثمود کی طرح انہیں قتل کر دوں۔
اور مسلم کی روایت میں درج زیل اضافہ ہے کہ ۔ ۔
وَ فِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ زَادَ : فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ رضي اﷲ عنه، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اﷲِ، ألاَ أضْرِبُ عُنُقَهُ؟ قَالَ : لاَ، قَالَ : ثُمَّ أدْبَرَ فَقَامَ إِلَيْهِ خَالِدٌ سَيْفُ اﷲِ. فَقَالَ : يَا رَسُولَ اﷲِ ألاَ أضْرِبُ عُنُقَهُ؟ قَالَ : لاَ، فَقَالَ : إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِی هَذَا قَوْمٌ، يَتْلُونَ کِتَابَ اﷲِ لَيِّنًا رَطْبًا، (وَ قَالَ : قَالَ عَمَّارَةُ : حَسِبْتُهُ) قَالَ : لَئِنْ أدْرَکْتُهُمْ لَأقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُوْدَ.
ترجمہ حدیث:-’’اور مسلم کی ایک روایت میں اضافہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ! کیا میں اس (منافق) کی گردن نہ اڑادوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں، پھر وہ شخص چلا گیا، پھر حضرت خالد سیف اللہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ! میں اس (منافق) کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن بہت ہی اچھا پڑھیں گے (راوی) عمارہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : اگر میں ان لوگوں کو پالیتا تو (قومِ) ثمود کی طرح ضرور انہیں قتل کر دیتا۔‘‘

محترمہ آپ خارجیوں کہ بارے میں غیر متشدد رویہ اور نظریہ رکھتی ہیں تو رکھتی رہیں ان کو مسلمان سمجھتی ہیں تو سمجھتی رہیں لیکن رسول اللہ کا فیصلہ تو ہمارے ساتھ ہے ۔ ۔ ۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خارجیوں کو دین سے خارج فرما چکے ہیں اوپر احادیث کہ عربی ورژن میں ہمارے سرخ رنگ سے نمایاں کردہ الفاظ ہی خارجیوں کہ لیے خوارج کی اصطلاح کا باعث بنے ہیں ۔ ۔۔
اب درج زیل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نظریہ بھی دیکھ لیتے ہیں کہ وہ آپ کہ ساتھ ہیں یا ہمارے ۔ ۔
عَنْ عَلِيٍّ رضی الله عنه قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُولُ : سَيَخْرُجُ قَومٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أحْدَاثُ الْأسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأحْلَامِ يَقُولُوْنَ مِنْ خَيْرِ قَولِ الْبَرِيَّةِ، لاَ يُجَاوِزُ إِيْمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّيْنِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَأيْنَمَا لَقِيْتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَومَ الْقِيَامَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

و أخرجه أبو عيسي الترمذي عن عبد اﷲ بن مسعود رضي الله عنه في سننه و قال : و في الباب عن علي و أبي سعيد و أبي ذرّ رضي الله عنهم و هذا حديث حسن صحيح و قد رُوي في غير هذا الحديث : عَنِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم حَيثُ وَ صَفَ هَؤُلَاءِ الْقَومَ الَّذِينَ يقرَءُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّيْنِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ. إنما هم الخوارج الحروريّة و غيرهم من الخوارج.
ترجمہ احادیث :- ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب آخری زمانے میں ایسے لوگ ظاہر ہوں گے یا نکلیں گے جو نوعمر اور عقل سے کورے ہوں گے وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث بیان کریں گے لیکن ایمان ان کے اپنے حلق سے نہیں اترے گا۔ دین سے وہ یوں خارج ہوں گے جیسے تیر شکار سے خارج ہو جاتا ہے پس تم انہیں جہاں کہیں پاؤ تو قتل کر دینا کیونکہ ان کو قتل کرنے والوں کو قیامت کے دن ثواب ملے گا۔‘‘

’’امام ابو عیسیٰ ترمذی نے بھی اپنی سنن میں اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد فرمایا : یہ روایت حضرت علی، حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنھم سے بھی مروی ہے اور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس حدیث کے علاوہ بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جبکہ ایک ایسی قوم ظاہر ہو گی جس میں یہ اوصاف ہوں گے جو قرآن مجید کو تلاوت کرتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلقوں سے نہیں اترے گا وہ لوگ دین سے اس طرح خارج ہوں گے جس طرح تیر شکار سے خارج ہو جاتا ہے۔ بیشک وہ خوارج حروریہ ہوں گے اور اس کے علاوہ خوارج میں سے لوگ ہوں گے۔‘‘
دیکھ لیا آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ خارجیوں کو کیا سمجھتے تھے ؟ ۔ ۔۔ اب آپ اپنے قول کہ مطابق حضرت علی کی پیروی اختیار کیجیئے نا کہ ان کہ قدم سے قدم ملا کر چلیئے اور نہ ہی ان سے تجاوز ۔ ۔ ۔ ۔۔


آبی،
آپ نے ناموں کی فرمائش کی ہے۔
کیا یہ حل ہو سکتا ہے کہ میں یہ نام اس فورم پر دینے کی بجائے کسی اور فورم پر تفصیل اور ثبوتوں کے ساتھ آپ کے گوش گذار کر دوں اور یہاں پر یہ مسئلہ یہیں پر ختم ہو جائے؟
جی آپ مجھے اسی فورم پر کسی ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خارجی ہونا ثابت کردیجئے لیکن اس سے پیشتر یاد رہے کہ کسی بھی لفظ پر جب کسی بھی معنٰی کا اطلاق کیا جائے تو اس ضمن اس کہ تینوں معنٰی ذہن میں رہنے چاہیں یعنی لغوی ،اصطلاحی و شرعی اور عُرفی ۔۔ یعنی جب ہم لفظ صحابی بولیں گے تو بیشک لغت میں اس کا ایک خاص معنٰی ہیں مگر عرف اور شرع میں یہ ایک مخصوص اصطلاح بن چکا ہے اسی لیے اب لغت میں بھی اس کا معنٰی کرتے وقت ان اصطلاحات کو مد نظر رکھا جاتا ہے بالکل یہی مثال لفظ خوارج کی بھی ہے والسلام ۔ ۔ ۔ ۔
 

خرم

محفلین
اور خرم بھائی اگر آپ کو پھر بھی خارجی لفظ پر اعتراض ہے تو پھر سوچنے دیں کہ کونسا راستہ نکالا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹحی بھی نہ ٹوٹے۔ میرے لیے مسٗلہ یہ ہے کہ کسی چیز کا یقین ہو جانے کے بعد اس کا انکار کرنا ایمان کی بات نہیں۔ اور اگر انکار نہ کروں تو آپ جیسے احباب خوارج کے متعلق میرا نظریہ جانے بغیر ناراض ہیں۔ مجھے دونوں صورتیں منظور نہیں۔ مجھے سوچنے دیجئے کہ اللہ کوئی ایسا راستہ نکال دے جس سے سب کے شکوے شکایات دور ہو جائیں۔ امین۔
نہیں پیاری بہنا۔ بس آپ نے کہہ دیا کہ اصحاب کبار میں سے کوئی بھی خوارج میں شامل نہ تھے بس یہی کافی ہے۔ خوارج ایک فتنہ تھا اور ہے۔ اس وقت جو لوگ ان میں شامل تھے انہوں نے اسلام کو نقصان پہنچایا اور آج بھی یہ فتنہ اور اس کے حوارین اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ آبی کو "صحابہ" کے خوارج دئے جانے پر درست اعتراض تھا جو آپ نے ختم کردیا۔ اب یہ بات ختم ہوجانی چاہئے اصولاَ۔

طالوت بھیا، یہ پرویز احمد کی تاریخ کب لکھی گئی؟
 

آبی ٹوکول

محفلین
نہیں پیاری بہنا۔ بس آپ نے کہہ دیا کہ اصحاب کبار میں سے کوئی بھی خوارج میں شامل نہ تھے بس یہی کافی ہے۔ خوارج ایک فتنہ تھا اور ہے۔ اس وقت جو لوگ ان میں شامل تھے انہوں نے اسلام کو نقصان پہنچایا اور آج بھی یہ فتنہ اور اس کے حوارین اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ آبی کو "صحابہ" کے خوارج دئے جانے پر درست اعتراض تھا جو آپ نے ختم کردیا۔ اب یہ بات ختم ہوجانی چاہئے اصولاَ۔

طالوت بھیا، یہ پرویز احمد کی تاریخ کب لکھی گئی؟
خرم بھائی آپ کو بات سمجھ میں نہیں آتی کیا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟' محترمہ بار بار خوارج پر صحابہ کا اطلاق فرما رہی ہیں اور آپ ہیں کہ سمجھ کہ نہیں دے رہے درج زیل پیرا کو بار بار پڑھیے کہ محترمہ صحابہ کہ خارجی ہونے کا انکار کیا ہے یا اقرار ؟ ۔ ۔
صحابہ تو ایک طرف، خوارج میں جو تابعین شامل تھے، میں تو اُن کو بھی اسلام سے خارج نہیں کرتی ہوں،
 
Top