فارسی شاعری رباعیاتِ سرمد شہید مع اردو ترجمہ

کیا
سرمد غمِ عشق بوالہوس را نہ دہند
سوزِ دلِ پروانہ مگس را نہ دہند
عمرے باید کہ یار آید بہ کنار
ایں دولتِ سرمد ہمہ کس را نہ دہند


اے سرمد، غمِ عشق کسی بوالہوس کو نہیں دیا جاتا۔ پروانے کے دل کا سوز کسی شہد کی مکھی کو نہیں دیا جاتا۔ عمریں گزر جاتی ہیں اور پھر کہیں جا کر یار کا وصال نصیب ہوتا ہے، یہ سرمدی اور دائمی دولت ہر کسی کو نہیں دی جاتی۔
کیا بات ہے وارث صاحب کی۔ گوگل سے کچھ پوچھتے ہیں تو اکثر آپ کے آستانہ پر چھوڑ جاتا ہے۔ سلام ہے سر جی!
 
Top