1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

فراز ذکرِ جاناں سے جو شہرِ سخن آراستہ ہے ...احمد فراز...اے عشق جنوں پیشہ

محمد بلال اعظم نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 4, 2012

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,665
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جی با لکل ہو سکتے ہیں، یہ قوافی شرط توجیہ پر پورے اترتے ہیں
    کیونکہ اِن میں حرف روی ا (الف) ہے
    اوراِس قافیوں کے ساکن الف (حرف روی ) سے قبل کے تمام حرف پر ایک جیسے اعراب (زبر ) ہیں

    بس یہ خیال رہے کہ سا کن حرفِ روی سے قبل آئے حرف پر، اعراب (حرکت ) جسے توجیہ کہتے ہے ایک سے ہوں

    اِن یا اِس طرح کی قوافی میں روی سے قبل کے حروف پر، اعراب کا اختلاف درست نہیں (معیوب ہے اور اس عیب کو سناد کہتے ہیں)
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    آپ کا مضمون اچھی طرح سے پڑھا ہے حضور ایک ایک لفظ کو :) ہوا میں تیر چلانا میری عادت نہیں۔ جس چیز کا علم نہ ہو اس کی طرف رخ تو کیا نگاہ بھی نہیں کرتا۔


    جی حضور درست فرمایا۔ چلیں تشفی کے لئے کے لئے آپ کی کتاب کا نام بھی بتائے دیتا ہوں حدائق البلاغت جو اصل میں تو شمس الدین فقیر مرحوم نے لکھی تھی لیکن خدیجہ شجاعت علی نے اس کا ترجمہ کیا ہے سہل حدائق البلاغت کے نام سے اور لاہور میں شیخ محمد بشیر اینڈ سنز ناشر ہیں۔ :)
    اس کے ص نمبر 180 پر قافیہ کا بیان شروع ہوتا جو اس کتاب کا باب ہشتم ہے۔:)
    روی کے بعد کے حروف کا تو آپ نے ذکر کر ہی دیا ہے مگر پہلے والوں کا ذکر میں کر دیتا ہوں جو: ردف، قید، تاسیس اور دخیل ہیں۔




    بحث علمی تھی۔ نہ کہ ذاتیات پر انگلی اٹھانا مقصود تھا۔ تو اس میں مخاطب کرنے یا نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟


    مقصد یہ کہ یہ کسی لفظ کا الف نہیں بلکہ تقطیع اور آہنگ کی صورت میں سخن یا انجمن سے مل کر انجمنا اور سخنا بن گیا ہے۔ قافیہ میں روی سمیت سارے حرف قافیہ ایک لفظ کا حصہ ہوتے ہیں۔ عروض کی غرض سے ادھار لئے ہوئے حرف جیسے سخنا کا الف حرف قافیہ کا حصہ نہیں بن سکتا۔ :)


    توجیہ کی بات یہاں کرنا بے مقصد ہے کہ یہاں توجیہ کا مسئلہ نہیں ہے۔
    پہلی بات یہ ہے کے روی کے بعد کے سارے حروفِ قافیہ کی تکرار بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی ردیف کی۔
    اور آپ کے اور آپ کی کتاب حدائق البلاغت کے ترجمے کے مطابق وصل کے علاوہ کوئی حرف زائد مستعمل نہیں ہے تو محترم میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اگر میں شعر کے ایک مصرعے میں ”نہیں“ اور دوسرے میں ”یہیں“ یا کسی دوسرے شعر میں ایک مصرعے میں ”جلانا“ اور دوسرے میں ”بجھانا“ قافیہ کروں تو روی کونسا ہوگا؟ ذرا تفصیل کے ساتھ بتائیں۔
    مزید یہ کہ ”رہونگا“ اور” کہونگا“ میں بھی روی اور دیگر قافیہ کا حرف یا حروف زائد کی نشاندہی کریں (اگر ہوں تو) :)


    جی ضرور۔ کوئی مستند کتاب پڑھونگا اگر کبھی مل گئی تو۔ :) یا آپ کسی دو چار کتابوں کے نام بتا دیں جو مستند ہوں آپ کے نزدیک اگر طبیعت پر گراں نہ گزرے تو۔ :) کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ فراز سے پہلے جتنی بھی کتابیں لکھی گئی ہیں وہ مستند تھیں مگر اب ضرور ایک مستند کتاب لکھنی چاہئے کسی استاد کو۔ :)



    جی جناب قافیہ کے علم سے ہی رجوع کرنا پڑیگا۔ میں نے تو واللہ کبھی یہ نہیں کہا کہ قافیہ کے علم کے لئے علم بدیع یا بیان سے رجوع کرنا پڑے گا۔ :surprise:
    اور قسم لے لیجئے اگر کسی پر غیر متفق کا بٹن دبایا ہو تو۔ یا بے وجہ متفق کا بٹن دبایا ہو۔
    غیر متفق تو وجہ کے باوجود بھی نہیں دباتا کہ مجھے پسند نہیں ایسی حرکت۔ خصوصا بڑوں کے ساتھ۔ :)



    جی حضور ضرور۔ کوئی مستند کتاب لکھی جائے گی تو ضرور پڑھونگا۔ ابھی تک تو روی اور حروف قافیہ کی خود ساختہ تعریف سناتا رہا ہوں جس پر سخت معذرت خواہ ہوں :)



    واللہ 1 2 اور 2 1 والی گردان میں نے کبھی غلطی سے بھی کرلی ہو تو میں مجرم۔ :)
    میں تو سرسری بحریں بھی نہیں جانتا۔ :)


    جناب میں تو شروع سے فراز پر ہی اٹکا ہوا ہوں اور اب بھی وہیں قائم ہوں۔ :)
    اور وہ یہ کہ روی کسی بھی با معنی لفظ کا آخری حرف ہوا کرتا ہے۔
    روی کسی بھی اصل لفظ کے کسی درمیان والے حرف کو نہیں بنایا جاسکتا اور نہ ہی اس صورت میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہاں حروفِ زائد کو قافیہ کی مناسبت سے روی بنایا جاسکتا ہے۔ مگر اصل حروف کو کسی صورت قافیہ کرنا درست نہیں۔ اور یہی میرا موقف ہے کے لفظ ”فنا“ میں نون حرف اصل ہے حرف زائد نہیں اسے روی بنانا ممکن نہیں۔


     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    ہاں بلکل ہو سکتے ہیں کہ روی میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
    سارے روی الف ہیں۔
    اس کے برعکس اگر ایک شعر میں قافیہ
    ”ٹوٹا“ اور ”سمجھا“ ہو تو وہ قافیہ درست نہیں ہوگا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,665
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ٹوٹا اور سمجھا بھی درست ہے، یعنی ہم قافیہ لفظ ہیں
    ان کی قافیہ بستگی بالکل صحیح ہوگی
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    ایک شعر میں یعنی مطعے میں نہیں ہو سکتے حضور۔ یہیں تو آپ غلطی کر رہے ہیں۔ ان میں حرف روی کیا ہے؟
    ہاں اگر غزل کے مطلعے میں تمنا اور مداوا۔ یا تمنا اور سنورنا ہو تو غزل کے باقی اشعار میں ٹوٹا، چھوٹا، سمجھا، جانا سب آسکتے ہیں۔ مگر مطلعے میں ایک مصرعے میں ٹوٹا اور دوسرے میں سمجھا نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ایطا ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  6. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,489
    موڈ:
    Asleep
    بہت اچھی بحث ہو رہی ہے جس سے کافی کچھ سیکھنے کو ملا۔ میرا ایک سوال ہے کہ غالب کی غزل کے ان اشعار میں کافیہ اور ردیف کیا ہوگا؟

    حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیاز
    دعا قبول ہو یا رب کہ عمرِ خضر دراز

    نہ ہو بہ ہرزہ، بیاباں نوردِ وہمِ وجود
    ہنوز تیرے تصوّر میں ہے نشیب و فراز

     
  7. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    اس میں میرے خیال میں تو کوئی ردیف نہیں ہے، یہ غیر مردف غزل ہے جبکہ قافیہ "نیاز، دراز، فراز" ہو گا۔
    جیسے اقبال کی اس غزل میں
    اثر کرے نہ کرے ، سن تو لے مری فریاد
    نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد
    یہ مشت خاک ، یہ صرصر ، یہ وسعت افلاک
    کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد!
    ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گل
    یہی ہے فصل بہاری ، یہی ہے باد مراد؟
    قصور وار ، غریب الدیار ہوں لیکن
    ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد
    مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے
    وہ دشت سادہ ، وہ تیرا جہان بے بنیاد
    خطر پسند طبیعت کو ساز گار نہیں
    وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد
    مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
    انھی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 1
  8. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,665
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بلال میاں!
    صرف اقبال لکھنے یا کہنے سے نہ تو ذہن علامہ سے رجوع کرتا ہے، اور نہ ہمیں زیب دیتا ہے
    آپکا یہ انداز تخاطب بالکل نہیں بھایا
    ہمارے قدما، علما، اساتذہ شعرا کو اس طرح بلانے یا لکھنےسے اُن پر تو کچھ فرق نہیں پڑتا، لیکن ہماری شخصیت
    دوسروں پر غلط پہلو لئے وضع ہوتی ہے
    کہ ہم اپنی گفتگو سے ہی پہچانے جاتے ہیں

    امید ہے میری باتیں برادرانہ مشورہ یا خیال ہی جانیں گے ، اور کوئی بات ناگوار نہیں لگی ہوگی
    بصورت دگر معذرت خواہ ہوں
    بہت خوش رہیں اور لکھتے رہیں
     
    • متفق متفق × 1
  9. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    طارق صاحب!
    صرف غالب لکھنے یا کہنے سے نہ تو ذہن قبلہ نجم الدولہ، دبیر الملک، نظام جنگ، حضرت میرزا اسد اللہ بیگ خاں غالبؔ رحمۃ اللہ علیہ سے رجوع کرتا ہے، اور نہ ہمیں زیب دیتا ہے
    آپکا یہ انداز تخاطب بالکل نہیں بھایا
    ہمارے قدما، علما، اساتذہ شعرا کو اس طرح بلانے یا لکھنےسے اُن پر تو کچھ فرق نہیں پڑتا، لیکن ہماری شخصیت
    دوسروں پر غلط پہلو لئے وضع ہوتی ہے
    کہ ہم اپنی گفتگو سے ہی پہچانے جاتے ہیں

    امید ہے میری باتیں برادرانہ مشورہ یا خیال ہی جانیں گے ، اور کوئی بات ناگوار نہیں لگی ہوگی
    بصورت دگر معذرت خواہ ہوں
    بہت خوش رہیں اور لکھتے رہی
    :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
    • زبردست زبردست × 1
  10. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    متفق۔ بلکہ غالب کے حوالے سے محمد وارث بھائی کا انداز تو مجھے انتہائی خوب پسند آیا تھا جسے آج تک سیو کر کے رکھا ہے میں نے۔

    خوب!!!!!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  11. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    ویسے متفق کی جگہ پر مزاح پر اس لئے کر دیا تاکہ بعد میں ڈانٹ نہ پڑ جائے کہ متفق پر کیوں کلک کرتے ہو؟؟؟ :(
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  12. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    سبحان اللہ! سبحان اللہ! یہ ہوئی نا ادب واحترام کی روایت۔ اسے کہتے ہیں گفتگو سے پہچانا جانا، پس ثابت ہوا کہ انتہائی نجیب الطرفین شخصیت ہے جناب قبلہ و کعبہ محمد وارث صاحب مد ظلہ کی۔
    پیتا ہوں دھو کے وارثِ شیریں سخن کے پاؤں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  13. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,665
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ؟
    جناب فاتح صاحب
    یہ سب کیا، اور کیوں؟
    کچھ سمجھ نہیں پایا میں
     
  14. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    طارق صاحب! اس میں نہ سمجھنے والی تو بات ہی کوئی نہیں تھی۔۔۔ اگر آپ اقبال کو صرف اقبال لکھنا بد تمیزی قرار دیتے ہیں تو غالب نے کیا بگاڑا ہے؟ ہم نے آپ ہی کے الفاظ میں آپ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی ہے کہ غالب کو صرف غالب لکھنا بھی بد تمیزی میں شمار ہوتا ہے کہ "ہمارے قدما، علما، اساتذہ شعرا کو اس طرح بلانے یا لکھنےسے اُن پر تو کچھ فرق نہیں پڑتا، لیکن ہماری شخصیت دوسروں پر غلط پہلو لئے وضع ہوتی ہے"۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,665
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    فاتح صاحب!
    آپ ماشاللہ خود بھی شاعر ہیں اور الفاظ کے معنی اور استعمال سے ہماری طرح کسی حد تک واقف بھی ۔
    آپ کے یوں جواباََ لکھنے یا کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ ہم بلال اعظم صاحب (جو اِسی قلم قبیلہ کے ہیں اور ہم سب سے چھوٹے بھی ہیں ) کی تصحیح ، سرزنش، یا اصلاح محض اس لئے نہ کریں، کہ ہم سے بھی ایک غلطی ہوئی ہے۔ ۔۔۔ یہی نا
    تو فاتح صاحب کوئی مخبوط الحواس شخص ہی ہوگا جو اپنے گھر میں، یا اپنے بھائی، بہن، بیٹے، دوست یا وہ جس کی فلاح چاہتا ہے کو کسی غلط یا مضرعادت، یا حرکت
    پر تنبیہ نہ کرے یا اس کی توجہ نہ دلائے۔ شرابی یا کسی بھی بری addiction میں مبتلا بھی (اگر حواس میں ہے ) یہ نہ چاہے گا کہ اُس کا کوئی عزیز یا گھر کا فرد، اُس سا ہو

    اس چیز میں کسی قسم کی بھی tolerance ،مدافعت سے در گزری دوستی نہیں دشمنی ہے

    شاعر، علم و تہذیب کا منبع اور شاعری اسی چیز کی متقاضی ہوتی ہے

    امید ہے آئندہ اپنی سوچ مثبت ہی رکھیں گے ، اور بندہ یا کسی کی بھی، اخلاقی ، تہذیبی غلطی پر فوراََ توجہ دلائیں گے

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو تمام ذہنی پریشانیوں، الجھنوں سے اور امراض سے دور رکھے، ہم سب کو خوش اور توانا رکھے
    اور ہمیشہ بڑوں اور ایک دوسرے کی عزت کی توفیق عطا رکھے۔

    بہت خوش رہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  16. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    طارق صاحب! ہم نے بھی محض توجہ دلانے (بلکہ وہ بھی سو فیصد آپ ہی کے الفاظ میں) کے سوا تو کچھ بھی نہیں کیا۔
    رہی بات شعرا کو نام اور القابات ہٹا کر محض ان کے تخلص سے مخاطب کرنے کی تو ہماری نظر میں کسی اہلِ قلم کے لیے یہ سب سے بڑا رتبہ ہوتا ہے کہ اس کا ذکر صرف اس کے قلمی نام یا تخلص سے کیا جائے اور تمام قارئین کا ذہن براہ راست اس شاعر یا ادیب تک ہی پہنچے۔۔۔ مثلاً میرؔ کے تخلص کے ساتھ ہی دسیوں شعرا مل جائیں گے اردو ادب میں لیکن آج اگر کوئی صرف میر کہے تو ہمارا ذہن سوائے میر تقی میر کے کسی کو نہیں سوچتا اور یہی حال اقبال کا ہے کہ اقبال نام کے تو شاید دسیوں کی بجائے سینکڑوں ادیب اور بلا شبہ لاکھوں انسان مل جائیں گے ہمارے ادب اور معاشرے لیکن آج آپ اگر صرف "اقبال" کہیں گے تو سامع یا قاری کا ذہن براہ راست علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کو ہی سوچے گا۔۔۔
    کیا حاتمؔ، قائمؔ، سوداؔ، غالبؔ، ذوقؔ، مومنؔ، حسرتؔ، فیضؔ، وغیرہ کے ناموں اور تخلص کے کئی شعرا و ادیب نہ گزرے ہوں گے اردو ادب میں؟ لیکن بغیر کسی اضافت کے یہ نام پڑھ کر آپ سو فیصد یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس جملے میں ہماری مراد کن اساتذہ سے ہے۔
    اس سے بڑھ کر شناخت اور رتبہ کیا ہو گا کسی ادیب کے لیے؟ہماری رائے میں تو علامہ، سر، ڈاکٹر، نجم الدولہ، دبیر الملک، نظام جنگ، ملک الشعرا خاقانیِ ہند وغیرہ لکھ کر ہم ان اساتذہ کی لاثانی شناخت اور رتبے کو کم کریں گے۔
    امید ہے اس جانب بھی غور فرمائیں گے۔
    اگر ہماری کوئی بات بری لگی ہو تو معذرت خواہ ہیں۔
     
    • متفق متفق × 4
  17. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed

    حضور آپ یہاں بھی غلطی کر گئے ہیں.
    سناد دوسری چیز ہے. جو عیب آپ نے بیان کیا وہ سناد نہیں ہے. تصدیق فرما کر صحیح اصطلاح سے آگاہ فرمائیں. اور ساتھ ہی سناد کی صحیح تعریف سے بھی آگاہ فرمائیں.
    مزید اگر گراں نہ گذرے تو سناد اور مذکورہ عیب کی اصطلاح کے ساتھ دونوں کا فرق بھی واضح فرمائیں شکر گذار رہوں گا.

    رفیق :
    بسمل
     

اس صفحے کی تشہیر