ذمہ داری یا ذمے داری۔۔۔؟؟

جناب فاتح صاحب کی اجازت سے ۔۔۔۔۔۔
ایک واحد اسم الف یا ہاے پر ختم ہوتا ہے۔ لڑکا، بچہ؛ وغیرہ۔ جملے میں اس الف یا ہاے کو یائے مجہول (بڑی یے سے بدل دیتے ہیں)۔
لڑکا سو رہا ہے، لڑکے کو جگا دیجئے۔ بچہ بھوکا تھا، بچے کو بھوک لگی تھی۔ خاص بات! کہ یہاں وحدت و جمع کی کوئی تبدیلی نہیں ہو رہی۔
اسی طرح: آپ گوجرانوالے سے کب آئے؟ (اصل: گوجرانوالا یا گوجرانوالہ)۔ وہ تھانے سے ہو آیا۔ (اصل: تھانہ)۔

یہ امالہ ہے۔
جناب نیرنگ خیال
 
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں ایک بات نوٹ فرما لیجئے: تھانے دار، پتھارے دار، ٹھیکے دار یہ سب درست مانے جاتے ہیں تو پھر ’’ذمے دار‘‘ پر رد و کد کیوں؟ سوال تو ہے نا! اس کا جواب یہ ہے کہ: تھانہ، پتھارا، ٹھیکا ’’غیرفارسی، غیرعربی‘‘ ہیں۔ ’’دار‘‘ مصدر داشتن سے (رکھنے والا) فارسی ہے۔ غیرفارسی، غیرعربی کو فارسی سے مرکب بنانا ہے تو وہ سیدھا سیدھا نہیں بنے گا، کچھ الٹ پھیر کرنا پڑے گا۔ ’’ذمہ‘‘ عربی ہے، کسی الٹ پھیر کی ضرورت نہیں۔ سو، یہ تھانے دار، پتھارے دار، ٹھیکے دار کی نہج پر نہیں آتا۔
ہونے کو تو بہت کچھ ہو رہا ہے۔ اسی لئے میں نے ’’اغلاط العوام‘‘ کہا تھا۔
بہت شکریہ۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
جناب فاتح صاحب کی اجازت سے ۔۔۔ ۔۔۔
ایک واحد اسم الف یا ہاے پر ختم ہوتا ہے۔ لڑکا، بچہ؛ وغیرہ۔ جملے میں اس الف یا ہاے کو یائے مجہول (بڑی یے سے بدل دیتے ہیں)۔
لڑکا سو رہا ہے، لڑکے کو جگا دیجئے۔ بچہ بھوکا تھا، بچے کو بھوک لگی تھی۔ خاص بات! کہ یہاں وحدت و جمع کی کوئی تبدیلی نہیں ہو رہی۔
اسی طرح: آپ گوجرانوالے سے کب آئے؟ (اصل: گوجرانوالا یا گوجرانوالہ)۔ وہ تھانے سے ہو آیا۔ (اصل: تھانہ)۔

یہ امالہ ہے۔
جناب نیرنگ خیال
اس قدر مفصل جواب پر ازحد ممنون و مشکور ہوں۔ جزاک اللہ۔
یہ تو معلوم تھا کہ اس طرح کی تبدیلی روا ہے۔ مگر کیوں روا ہے اور کس رمز سے جانی مانی جاتی ہے۔ آج معلوم ہوا۔ آپ کا بہت مشکور ہوں استاد محترم۔
 

فارقلیط رحمانی

لائبریرین
یہ امالہ کی تعریف مجھ پر واضح نہیں ہو پا رہی۔​
جدید گرامر تعریفوں کی مدد سے نہیں پڑھائی جاتی۔ گرامر میں جدید رجحان استعمال کا ہے۔ یعنی موجودہ دور ایپلائڈ گریمر کا ہے۔اُستاد محترم محمد یعقوب صاحب آسی نے بجا فرمایا:
’’میں اس کا ذمہ نہیں لیتا‘‘۔’’یہ میرے ذمے کیوں؟‘‘ ۔۔۔ ۔۔۔ یہ امالہ ہے۔​
مدینہ منورہ کا قدیم نام یثرِب تھا۔حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ کو ہجرت کی۔ مکہ سے مدینے کی مسافت تقریبا 500 کلو میٹر ہے۔(بجائے مدینہ مدینے لکھنے یا پڑھنے کا عمل ہی اِمالہ ہے)
مکتبہ صبح دس بجے کھلتا ہے۔ ہمارے مکتبے میں دیوانِ غالب نہیں ہے۔(بجائے مکتبہ کے مکتبےیہی اِمالہ ہے)
اُستاد محترم محمد یعقوب صاحب آسی نے بجا فرمایا:
تاہم میرے نزدیک امالہ اسم کے آخر میں واقع ہوتا ہے۔​
البتہ ایک جگہ اُستاد محترم محمد یعقوب صاحب آسی سے قدرے اختلاف کی گنجائش ہے اور وہ یہ کہ
سو، درست ترکیب ’’ذمہ دار‘‘ ہے۔ اغلاط العوام کا عنصر اپنی جگ​
لفظ ذمہ دار میں ذمہ ہی اسم ہے۔ دار اور داری تو لاحقے ہیں۔ لہذا اِمالے سے ذمہ ہی متاثر ہوگا۔ محل اِمالہ پر اُسے ہر صورت میں ذمے ہی پڑھا جائے گا، خواہ ذمہ ہی کیوں نہ لکھا ہو۔
اُردو ئے قدیم میں اِمالہ محض پڑھنے کی چیز تھی اسے یائے مجہول سےلکھنا ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا۔ البتہ قومی کونسل برائے فروغِ اُردو کی املا سفارِشات کمیٹی کی سفارِشات کے مطابق اب جہاں کہیں محل اِمالہ ہو وہاں اِمالہ والے اسم کو یائے مجہول سے لکھنا چاہیے۔
 
لفظ ذمہ دار میں ذمہ ہی اسم ہے۔ دار اور داری تو لاحقے ہیں۔ لہذا اِمالے سے ذمہ ہی متاثر ہوگا۔ محل اِمالہ پر اُسے ہر صورت میں ذمے ہی پڑھا جائے گا، خواہ ذمہ ہی کیوں نہ لکھا ہو۔​

ع: ۔۔۔ جو مزاجِ یار میں آئے
جناب فارقلیط رحمانی صاحب۔

یہاں ہائے ہوز کی فارسی قرات والی بات آتی ہے۔ وہ بھی عرض کئے دیتا ہوں۔
 
ایک اسم ہ (ہائے ہوز) پر ختم ہوتا ہے۔ بچہ، شگوفہ، دریچہ، شہزادہ؛ فارسی گفتاری میں حرف ماقبل ہ کو مکسور کرتے ہیں اور اس کی صوتیت بچِہ، شگوفِہ، شہزادِہ کے مصداق کی جاتی ہے۔
مستثنیات بہر حال موجود ہیں اور ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی منطق ضرور ہوتی ہے۔ شاہ کا مخفف شَہ فارسی میں بھی زبر کے ساتھ ہے، وجہ؟ یہاں الف کی تخفیف ہو گی تو وہ زبر بنے گا، زیر نہیں۔ اسی نہج پر کاہ سے کَہ ،کوہ سے کُہ بنتا ہے، کِہ نہیں بنتا۔ لاش سے لاشہ بنائیں تو فارسی گفتاری میں ش مکسور ہے لاشِہ۔ اردو میں ہم ان سب میں (ماسوائے نُہ، کُہ وغیرہ کے) ہم حرف ماقبل ہ پر زبر لکھتے بھی ہیں اور بولتے بھی ہیں، اور قافیہ بھی کرتے ہیں۔ اُتارا کا قافیہ بچارہ، ستارہ وغیرہ سے اردو میں بہت عام ہے۔
 
اردو میں مقامی لفظیاتی مزاج کا اثر فارسی سے آئے ہوئے اسماء ( دیگچہ اور دیگچی، پیالہ اور پیالی، شیشہ اور شیشی، تختہ اور تختی، وغیرہ) کی تذکیر و تانیث پر کچھ اس طرح ظاہر ہوا کہ:
فارسی میں بچِہ مذکر مؤنث دونوں کے لئے ہے، اردو میں ہم نے بچہ اور بچی کی تخصیص کر لی۔ شاہزادِہ یا شہزادِہ اصلاً مرد یا عورت دونوں پر ہے اردو میں ہم نے شہزادہ اور شہزادی کی تخصیص کر لی۔ جیسا کہ جناب فارقلیط رحمانی نے وضاحت فرمائی ہے، یہ صورتِ حال بعینہ امالہ صغرٰی یا کبرٰی تو نہیں تاہم اس کے بہت قریب چلی جاتی ہے۔ دیگچی، پیالی، شیشی اور تختی کی یائے آخر فارسی قواعد میں نہیں آتی۔ بلکہ یہ ہمارے مقامی لفظیاتی مزاج کا اثر ہے: بڑا اور بڑی، چھوٹا اور چھوٹی، پھاہا اور پھاہی، کیڑا اور کیڑی، گچھا اور گچھی ۔۔ وغیرہ وغیرہ۔
 
لغوی معنیٰ: مائل کرنا۔
اِصطلاحی معنٰی:زَبر کو زِیر کی طرف اوراَلف کو یا کی طرف مائل کرکے پڑھنا۔
روایتِ حفص میں سارے قرآن مجید میں صرف ایک جگہ لفظ مَجْرِیْھَا میں امالہ ہوا ہے یہ اصل میں مَجْرٰھَا تھا ۔الف کو یا کی طرف مائل کیاتو مَجْرَیْھَا بن گیا پھر زبر کو زیر کی طرف مائل کیا تو مَجْرِیْھَا (
مَجْرٖھا) بن گیا ۔
مَجْرَیْھَا امالہ صغرٰی اورمَجْرِیْھَا امالہ کبرٰی ہے ۔
روایتِ حفص میں اِمالہ کبرٰی ہی ہوتاہے ۔
نوٹ :اِمالہ کی را کو قطرے کی را کی طر ح پڑھتے ہیں ۔اِمالہ صغرٰی میں آواز کا جھکاؤ زبر اورالف کے قریب ہوتاہے اوراِمالہ کبرٰی میں آواز کا جھکاؤ زیر اوریا کے قریب ہوتاہے جو کہ ماہر اُستاد پڑھ کر فرق بتاسکتاہے۔
ماشاءاللہ آپ کا علمی جواب پڑھ کر خوشی ہوئی۔
 
Top