دیکھا ہے تجھے اور کو دیکھا نہیں جاتا

الف عین
عظیم
شکیل احمد خان23
محمد عبدالرؤوف
-----------
دیکھا ہے تجھے اور کو دیکھا نہیں جاتا
کچھ تیرے سوا رب سے بھی مانگا نہیں جاتا
----------
مانا کہ حسیں اور بھی دنیا میں ہیں لاکھوں
چاہا ہے تجھے اور کو چاہا نہیں جاتا
-------
کوشش سے ہی بدلیں گے یہ حالات ہمارے
سونے سے تو حالات کو بدلا نہیں جاتا
---------
مرنے سے جو ڈرتے ہیں وہ کیا مرتے نہیں ہیں
ڈرنے سے کبھی موت کو ٹالا نہیں جاتا
----------
تصویر تمہاری ہے نگاہوں میں ہماری
یادوں کو تری دل سے نکالا نہیں جاتا
---------
انسان خطاکار سے ہوتی ہیں خطائیں
لوگوں کی خطاؤں کو اچھالا نہیں جاتا
-------
آتا ہے انہیں کام نغاہوں سے چلانا
ہر کام زباں سے تو بتایا نہیں جاتا
------
حق بات کے کہنے پہ لگائی ہے جو قدغن
ایسے تو حکومت کو چلایا نہیں جاتا
--------
کرتا ہے ترے پیار پہ ارشد تو بھروسہ
کیوں تجھ سے محبّت کو نبھایا نہیں جاتا
--------
 

عظیم

محفلین
دیکھا ہے تجھے اور کو دیکھا نہیں جاتا
کچھ تیرے سوا رب سے بھی مانگا نہیں جاتا
----------یہ غزل مجھے پہلی غزلوں کی نسبت بہت بہتر معلوم ہو رہی ہے، بہت معمولی سی خامیاں نظر آئی ہیں ، پہلے مصرع میں 'دیکھا ہے' کی جگہ 'دیکھا جو' پر بھی غور کریں کہ کیا بہتر ہو سکتا ہے، باقی مجھے درست لگتا ہے مطلع اگر اسی طرح بھی رہنے دیں تو

مانا کہ حسیں اور بھی دنیا میں ہیں لاکھوں
چاہا ہے تجھے اور کو چاہا نہیں جاتا
-------یہاں بھی مطلع والی ہی بات ہے کہ 'چاہا ہے' کی جگہ 'چاہا جو' پر بھی غور کریں

کوشش سے ہی بدلیں گے یہ حالات ہمارے
سونے سے تو حالات کو بدلا نہیں جاتا
---------سونے عجیب لگتا ہے، سونا چاندی والا سونا ہے یا نیند یہ واضح نہیں اگرچہ سمجھ میں تو آ جاتا ہے، بہتر ہے کہ کچھ اور لفظ لایا جائے، 'چپ رہ کے تو' وغیرہ

مرنے سے جو ڈرتے ہیں وہ کیا مرتے نہیں ہیں
ڈرنے سے کبھی موت کو ٹالا نہیں جاتا
----------یہاں بھی دوسرے میں کمی رہ گئی ہے، ڈر ڈر کے کبھی... کیا جا سکتا ہے مگر 'کے کبھی' میں تنافر پیدا ہو رہا ہے

تصویر تمہاری ہے نگاہوں میں ہماری
یادوں کو تری دل سے نکالا نہیں جاتا
---------شترگربہ اب بھی؟

انسان خطاکار سے ہوتی ہیں خطائیں
لوگوں کی خطاؤں کو اچھالا نہیں جاتا
-------دوسرا مصرع کمزور ہے، لیکن یوں خطاؤں... میرا خیال ہے کہ ٹھیک رہے گا

آتا ہے انہیں کام نغاہوں سے چلانا
ہر کام زباں سے تو بتایا نہیں جاتا
------دوسرا مصرع اس کا بھی کمزور ہے، زبان سے کام بتانا اچھا نہیں لگ رہا

حق بات کے کہنے پہ لگائی ہے جو قدغن
ایسے تو حکومت کو چلایا نہیں جاتا
--------ٹھیک

کرتا ہے ترے پیار پہ ارشد تو بھروسہ
کیوں تجھ سے محبّت کو نبھایا نہیں جاتا
--------'تو' بھرتی کا لگتا ہے، مفہوم بھی کیا نکل رہا ہے یہ میں سمجھ نہیں پا رہا
 
عظیم
(اصلاح کے بعد) رٓٓٓٓ
-----------۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھا جو تجھے اور کو دیکھا نہیں جاتا
کچھ تیرے سوا رب سے بھی مانگا نہیں جاتا
------------
مانا کہ حسیں اور بھی دنیا میں ہیں لاکھوں
چاہا جو تجھے اور کو چاہا نہیں جاتا
------
کوشش سے ہی بدلیں گے یہ حالات ہمارے
چپ رہ کے تو حالات کو بدلا نہیں جاتا
----------
ڈرتے ہیں جو مرنے سے وہ کیا مرتے نہیں ہیں
جب موت ہی آئی ہو تو ٹالا نہیں جاتا
-----------یا
اس موت کے لمحے کو تو ٹالا نہیں جاتا
----------
تصویر تری جب سے مرے دل میں بسی ہے
-------
تیرا ہی تصوّر ہے مرے دل میں سدا سے
یادوں کو تری دل سے نکالا نہیں جاتا
----------
انسان خطاکار سے ہوتی ہیں خطائیں
لیکن یوں خطاؤں کو اچھالا نہیں جاتا
-----------
آتا ہے انہیں کام نگاہوں سے چلانا
ہر کام زباں سے تو چلایا نہیں جاتا
-------یا
باتوں سے ہر کام چلایا نہیں جاتا
--------
حق بات کے کہنے پہ لگائی ہے جو قدغن
ایسے تو حکومت کو چلایا نہیں جاتا
--------
ارشد نے سدا تم سے ہے الفت کو نبھایا
کیوں تم سے محبّت کو نبھایا نہیں جاتا
-----------
 

الف عین

لائبریرین
مطلع اور دوسرے شعر میں" جو "سے بھی بات نہیں بنتی، جس طرح یا جیسے کا محل ہے
اک تیرا تصور ہی مرے دل میں رہا ہے
اک تیری ہی تصویر مرے دل میں بسی ہے
یادوں کو تری....
بہتر ہو گا
خطا کا بھی دہرایا جانا چھٹے شعر میں اچھا نہیں
باقی عظیم بھی دیکھ لیں
 
عظیم
-----------
اب تیری طرح اور کو دیکھا نہیں جاتا
کچھ تیرے سوا رب سے بھی مانگا نہیں جاتا
----------
مانا کہ حسیں اور بھی دنیا میں ہیں لاکھوں
یوں تیری طرح اور کو چاہا نہیں جاتا
-----------
اک تیرا ہی تصوّر مرے دل میں رہا ہے
یادوں کو تری دل سے نکالا نہیں جاتا
-----------
---------
 

عظیم

محفلین
اب تیری طرح اور کو دیکھا نہیں جاتا
کچھ تیرے سوا رب سے بھی مانگا نہیں جاتا
----------"تیری طرح" سے ایسا بھی لگتا ہے کہ جیسے تو دیکھتا ہے کسی اور کو اس طرح مجھ سے نہیں دیکھا جاتا، میرا خیال ہے کہ "دیکھوں جو تجھے" چل سکتا ہے

مانا کہ حسیں اور بھی دنیا میں ہیں لاکھوں
یوں تیری طرح اور کو چاہا نہیں جاتا
-----------"یوں تیری طرح" کا ٹکڑا عجیب لگتا ہے، تجھ سا تو کسی... کیا جا سکتا ہے، ایک متبادل "تیرے سا" بھی ذہن میں آتا ہے اگر قبول کر لیا جائے تو

اک تیرا ہی تصوّر مرے دل میں رہا ہے
یادوں کو تری دل سے نکالا نہیں جاتا
-----------اس کے بارے میں تو بابا ( الف عین ) فرما چکے ہیں
 
Top