دیوان (ناصر کاظمی)

وہاب اعجاز خان نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 24, 2006

  1. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    سو گئی شہر کی ہر ایک گلی
    اب تو آجا کہ رات بھیگ چلی

    کوئی جھونکا چلا تو دل دھڑکا
    دل دھڑکتے ہی تیری یاد آئی

    کون ہے تو کہاں سے آیا ہے
    کہیں‌ دیکھا ہ تجھ کو پہلے بھی

    تو بتا کیا تجھے ثواب ملا
    خیر میں نے تو رات کاٹ ہی لی

    مجھ سے کیا پوچھتا ہے میرا حال
    سامنے ہے ترے کتاب کھلی

    میرے دل سے نہ جا خدا کے لیے
    ایسی بستی نہ پھر بسے کبھی

    میں اسی غم میں گھلتا جاتا ہوں
    کیا مجھے چھوڑ جائیگا تو بھی

    ایسی جلدی بھی کیا ، چلے جانا
    مجھے اک بات پوچھنی ہے ابھی

    آبھی جامیرے دل کے صدر نشیں
    کب سے خالی پڑی ہے یہ کرسی

    میں تو ہلکان ہو گیا ناصر
    مدتِ ہجر کتنی پھیل گئی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  2. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    شعاعِ حسن ترے حسن کو چھپاتی تھی
    وہ روشنی تھی کہ صورت نظر نہ آتی تھی

    کسے ملیں کہاں جائیں کہ رات کالی ہے
    وہ شکل ہی نہ رہی جو دیے جلاتی تھی

    وہ تو دن تھے حقیقت میں عمر کا حاصل
    خوشا وہ دن کہ ہمیں روز موت آتی تھی

    ذرا سی بات سہی تیرا یاد آجانا
    ذرا سی بات بہت دیر تک رلاتی تھی

    اداس بیٹھے ہو کیوں ہاتھ توڑ کر ناصر
    وہ نَے کہاں ہے جو تاروں کی نیند اڑاتی تھی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  3. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    برف گرتی رہے آگ جلتی رہے
    آگ جلتی رہے رات ڈھلتی رہے

    رات بھر ہم یونہی رقص کرتے رہیں
    نیند تنہا کھڑی ہاتھ ملتی رہے

    برف کے ہاتھ پیانو بجاتے رہیں
    جام چلتے رہیں مے اچھلتی رہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  4. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    کُنج کُنج نغمہ زن بسنت آگئی
    اب سجے گی انجمن بسنت آگئی

    اُڑ رہے ہیں شہر میں پتنگ رنگ رنگ
    جگمگا اٹھا گگن بسنت آگئی

    موہنے لبھانے والے پیارے پیارے لوگ
    دیکھنا چمن چمن بسنت آگئی

    سبز کھیتوں پہ پھر نکھار آگیا
    لے کے زرد پیرہن بسنت آگئی

    بچھلے سال کے ملال دل سے مٹ گئے
    لے کے پھر نئی چھبن بسنت آگئی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  5. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    کہاں گئے وہ سخنور جو میرِ محفل تھے
    ہمارا کیا ہے بھلا ہم کہاں کے کامل تھے

    بھلا ہوا کہ ہمیں یوں بھی کوئی کام نہ تھا
    جو ہاتھ ٹوٹ گئے ٹوٹنے کے قابل تھے

    حرام ہے جو صراحی کو منہ لگایا ہو
    یہ اور بات کہ ہم بھی شریکِ محفل تھے

    گزر گئے ہیں جو خوشبوئے رائگاں کی طرح
    وہ چند روز مری زندگی کا حاصل تھے

    پڑے ہیں سایہء گل میں جو سرخرو ہو کر
    وہ جاں نثار ہی اے شمع تیرے قاتل تھے

    اب اُن سے دور کا بھی واسطہ نہیں ناصر
    وہ ہم نوا جو مرے رتجگوں میں شامل تھے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  6. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    شوق کیا کیا دکھائے جاتا ہے
    دل تجھے بھی بھلائے جاتا ہے

    اگلے وقتوں کی یادگاروں کو
    آسماں کیوں مٹائے جاتا ہے

    سوکھتے جارہے ہیں گل بوٹے
    باغ کانٹے اگائے جاتا ہے

    جاتے موسم کو کس طرح روکوں
    پتہ پتہ اڑائے جاتا ہے

    حال کس سے کہوں کہ ہر کوئی
    اپنی اپنی سنائےجاتا ہے

    کیا خبر کون سی خوشی کے لیے
    دل یونہی دن گنوائے جاتا ہے

    رنگ پیلا ہے تیرا کیوں ناصر
    تجھے کیا رنج کھائے جاتا ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  7. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    کیا لگے آنکھ پھر دل میں سمایا کوئی
    رات بھر پھرتا ہے اس شہر میں سایا کوئی

    فکر یہ تھی شبِ ہجر کٹے گی کیوں کر
    لطف یہ ہے کہ ہمیں یاد نہ آیا کوئی

    شوق یہ تھا کہ محبت میں جلیں گے چپ چاپ
    رنج یہ ہے کہ تماشا نہ دکھایا کوئی

    شہر میں ہمدمِ دیرینہ بہت تھے ناصر
    وقت پڑنے پہ مرے کام نہ آیا کوئی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  8. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    چند گھرانوں نے مل جل کر
    کتنے گھروں کا حق چھینا ہے

    باہر کی مٹی کے بدلے
    گھر کا سونا بیچ دیا ہے

    سب کا بوجھ اٹھانے والے
    تو اس دنیا میں تنہا ہے

    میلی چادر اڑھنے والے
    تیرے پاوں تلے سونا ہے

    گہری نیند میں جاگو ناصر
    وہ دیکھو سورج نکلا ہے​
     
  9. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    بنے بنائے ہوئے راستوں پہ جانکلے
    یہ ہمسفر مرے کتنے گریز پا نکلے

    چلے تھے اور کسی راستے کی دھن میں مگر
    ہم اتفاق سے تیری گلی میں‌ آ نکلے

    غمِ فراق میں‌کچھ دیر رو ہی لینے دو
    بخار کچھ تو دلِ بے قرار کا نکلے

    نصحیتیں ہمیں‌کرتے ہیں ترکِ الفت کے
    یہ خیر خواہ ہمارے کدھر سے آنکلے

    یہ خامشی تو رگ پے میں رچ گئی ناصر
    وہ نالہ کر کہ دلِ سنگ سے صدا نکلے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  10. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    شکوہ بہ طرزِ عام نہیں آپ سے مجھے
    ناکام ہوں کہ کام نہیں آپ سے مجھے

    کہتا، سلوک آپ کے ایک ایک سے مگر
    مطلوب انتقام نہیں آپ سے مجھے

    اے منصفو حقائق و حالات سے الگ
    کچھ بحث خاص و عام نہیں آپ سے مجھے

    یہ شہرِ دل ہے شوق سے رہیئے یہاں مگر
    امیدِ انتظام نہیں آپ سے مجھے

    فرصت ہے اور شام بھی گہری ہے کس قدر
    اس وقت کچھ کلام نہیں آپ سے مجھے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  11. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    جنت ماہی گیروں کی
    ٹھنڈی رات جزیروں کی

    سبز سنہرے کھیتوں پر
    پھواریں سرخ لکیروں کی

    اس بستی سے آتی ہیں
    آوازیں زنجیروں کی

    کڑوے خواب غریبوں کے
    میٹھی نیند امیروں کی

    رات گئے تیری یادیں
    جیسے بارش تیروں کی

    مجھ سے باتیں کرتی ہیں
    خاموشی تصویروں کی

    ان ویرانوں میں ناصر
    کان دبی ہے ہیروں کی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  12. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    کوئی اور ہے نہیں تو نہیں مرے روبرو کوئی اور ہے
    بڑی دیر میں تجھے دیکھ کر یہ لگا کہ تو کوئی اور ہے

    یہ گناہگاروں کی سرزمیں ہے بہشت سے بھی سوا حسیں
    مگر اس دیار کی خاک میں سببِ نمو کوئی اور ہے

    جسے ڈھونڈتا ہوں گلی گلی وہ ہے میرے جیسا ہی آدمی
    مگر آدمی کے لباس میں وہ فرشتہ خو کوئی اور ہے

    کوئی اور شے ہے وہ بے خبر جو شراب سے بھی ہے تیز تر
    مرا میکدہ کہیں اور ہے مرا ہم سبو کوئی اور ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  13. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    غم ہے یا خوشی ہے تو
    میری زندگی ہے تو

    آفتوں کے دور میں
    چین کی گھڑی ہے تو

    میری رات کا چراغ
    میری نیند بھی ہے تو

    میں خزاں کی شام ہوں
    رُت بہار کی ہے تو

    دوستوں کے درمیاں
    وجہِ دوستی ہے تو

    میری ساری عمر میں
    ایک ہی کمی ہے تو

    میں تو وہ نہیں رہا
    ہاں مگر وہی ہے تو

    ناصر اس دیار میں
    کتنا اجنبی ہے تو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  14. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    دیس سبز جھلیوں کا
    یہ سفر ہے میلوں کا

    راہ میں جزیروں کی
    سلسلہ ہے ٹیلوں کا

    کشتیوں کی لاشوں پر
    جمگھٹا ہے چیلوں کا

    رنگ اڑتا جاتا ہے
    شہر کی فصیلوں کا

    دیکھ کر چلو ناصر
    دشت ہے یہ فیلوں کا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  15. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    دھواں سا ہے جو یہ آکاش کے کنارے پر
    لگی ہے آگ کہیں رات سے کنارے پر

    یہ کالے کوس کی پرہول رات ہے ساتھی
    کہیں اماں نہ ملے گی تجھے کنارے پر

    صدائیں آتی ہیں اُجڑے ہوئے جزیروں سے
    کہ آج رات نہ کوئی رہے کنارے پر

    یہاں تک آئے ہیں چھینٹے لہو کی بارش کے
    وہ رن پڑا ہے کہیں دوسرے کنارے پر

    یہ ڈھونڈتا ہے کسے چاند سبز جھیلوں میں
    پکارتی ہے ہوا اب کسے کنارے پر

    اس انقلاب کی شاید خبر نہ تھی اُن کو
    جو ناو باندھ کے سوتے رہے کنارے پر

    ہیں گھات میں ابھی کچھ قافلے لٹیروں کے
    ابھی جمائے رہو مورچے کنارے پر

    بچھڑ گئے تھے جو طوفاں کی رات میں ناصر
    سنا ہے اُن میں سے کچھ آملے کنارے پر

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  16. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    کچھ یادگارِ شہر ستمگر ہی لے چلیں
    آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں

    یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر
    سر پر خیالِ یار کی چادر ہی لے چلیں

    رنجِ سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو
    تھوڑی سی خاکِ کوچہء دلبر ہی چلیں

    یہ کہہ کے چھیٹرتی ہے ہمیں دل گرفتگی
    گھبرا گئے ہیں آپ تو باہر ہی لے چلیں

    اس شہرِ بے چراغ میں جائے تو کہاں
    آ اے شبِ فراق تجھے گھر ہی لے چلیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  17. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    رقم کریں گے ترا نام انتسابوں میں
    کہ انتخابِ سخن ہے یہ انتخابوں میں

    مری بھری ہوئی آنکھوں کو چشمِ کم سے نہ دیکھ
    کہ آسمان مقید ہیں ان حبابوں میں

    ہر آن دل سے الجھتے ہیں دو جہان کے غم
    گھرا ہے ایک کبوتر کئی عقابوں میں

    ذرا سنو تو سہی کان دھر کے نالہء دل
    یہ داستاں نہ ملے گی تمہیں کتابوں میں

    نئی بہار دکھاتے ہیں داغِ دل ہر روز
    یہی تو وصف ہے اس باغ کے گلابوں میں

    پون چلی تو گل و برگ دف بجانے لگے
    اداس خوشبو ئیں لو دے اٹھیں نقابوں میں

    ہوا چلی تو کھلے بادبانِ طبع رسا
    سفینے چلنے لگے یاد کے سرابوں میں

    کچھ اس ادا سے اُڑا جا رہا ہے ابلقِ رنگ
    صبا کے پاوں ٹھہرتے نہیں رکابوں میں

    بدلتا وقت یہ کہتا ہے ہر گھڑی ناصر
    کہ یادگار ہے یہ وقت انقلابوں میں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  18. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
    عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ

    بس ایک موتی سی چھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
    ستارہء شام بن کے آیا برنگِ خوابِ سحر گیا وہ

    خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم نظر اُسے ڈھونڈتی ہے ہردم
    وہ بوئے گل تھا کہ نغمہ ء جاں مرے تو دل میں اتر گیا وہ

    نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
    یونہی ذرا کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ

    کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دورِ آسماں بھی
    جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے جو دن کڑا تھا گزر گیا وہ

    بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہلِ دل کے
    یہی تو ہے فرق مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ

    شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں
    جو قافلہ میرا ہمسفر تھا مثالِ گردِ سفر گیا وہ

    مرا تو خوں ہو گیا ہے پانی ستمگروں کی پلک نہ بھیگی
    جو نالہ اٹھا تھا رات دِل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ

    وہ میکدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اڑانے والا
    یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ

    وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا
    سدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ

    وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تو نے منزلوں کا
    تری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ

    وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصر
    تری گلی تک تو ہم نے دیکھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  19. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    زباں سخن کو سخن بانکپن کو ترسے گا
    سخن کدہ مری طرز سخن کو ترسے گا

    نئے پیالےسہی تیرے دور میں ساقی
    یہ دور میری شرابِ کہن کو ترسے گا

    مجھے تو خیر وطن چھوڑ کر اماں نہ ملی
    وطن بھی مجھ سے غریب الوطن کو ترسے گا

    انہی کے دم سے فروزاں ہیں ملتوں‌کے چراغ
    زمانہ صحبتِ اربابِ فن کو ترسے گا

    بدل سکو تو بدل دو یہ باغباں‌ورنہ
    یہ باغ سایہء سرو سمن کو ترسے گا

    ہوئے ظلم یہی ہے تو دیکھنا اک دن
    زمین پانی ک، سورج کرن کو ترسے گا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  20. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے
    وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے

    وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں
    جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے

    میں اُن کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر
    وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے

    یہ کون لوگ ہیں مرے ادھر اُدھر
    وہ دوستی نبھانے والے کیاہوئے

    وہ دل میں کھبنے والی آنکھیں کیا ہوئیں
    وہ ہونٹ مسکرانے والے کیا ہوئے

    عمارتیں تو جل کے راکھ ہو گئیں
    عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے

    اکیلے گھر سے پوچھتی ہے بے کسی
    ترا دیا جلانے والے کیا ہوئے

    یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا
    زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر