دیوان (ناصر کاظمی)

وہاب اعجاز خان نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 24, 2006

  1. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    ناصر کاظمی کی غزل میں دکھ کی ہلکی سی سلگتی ہوئی آنچ نظر آتی ہے۔ دکھ میں چھلبلاہٹ ہوتی ہے غصہ ہوتا ہے لیکن ناصر کے ہاں یہ چیزیں نہیں بلکہ دبی دبی کیفیت موجود ہے جو کہ میر کا خاصہ ہے۔ لیکن ناصر میر کی تقلید نہیں کرتا بلکہ صرف متاثر نظرآتے ہیں ۔ ناصر نے جو دکھ بیان کیے ہیں وہ سارے دکھ ہمارے جدید دور کے دکھ ہیں ناصر نے استعارے لفظیات کے پیمانے عشقیہ رکھے لیکن اس کے باطن میں اسے ہم آسانی سے محسوس کرسکتے ہیں۔ محض عشق نہیں بلکہ ہجرت ، جدید دور کے مسائل ،اور دوسری بہت سی چیزیں ان کی غزلوں میں ملتی ہیں۔ مثلاً

    کہاں تک تاب لائے ناتواں دل
    کہ صدمے اب مسلسل ہو گئے ہیں

    جنہیں ہم دیکھے کر جیتے تھے ناصر
    وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں

    دل تو میرا اداس ہے ناصر
    شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

    ان کی غزلوں کا مجموعہ دیوان پیش خدمت ہے
     
    • زبردست زبردست × 1
  2. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل


    آرائشِ خیال بھی ہو دل کشا بھی ہو
    وہ درد اب کہاں جسے جی چاہتا بھی ہو

    یہ کیا کہ روز ایک سا غم ایک سی امید
    اس رنجِ بے خمار کی اب انتہا بھی ہو

    یہ کہ ایک طور سے گزرے تمام عمر
    جی چاہتا ہے اب کوئی تیرے سوا بھی ہو

    ٹوٹے کبھی تو خوابِ شب و روز کا طلسم
    اتنے ہجوم میں کوئی چہرہ نیا بھی ہو

    دیوانگیء شوق کو یہ دھن ہے کہ ان دِنوں
    گھر بھی ہو اور بے درودیوارسا بھی ہو

    جز دل کوئی مکان نہیں دہر میں جہاں
    رہزن کا خوف بھی نہ رہے درکھلا بھی ہو

    ہر ذرہ ایک محملِ عبرت ہے دشت کا
    لیکن کسے دکھاوں کوئی دیکھتا بھی ہو

    ہر شے پکارتی ہے پس پردہء سکوت
    لیکن کسے سناوں کوئی ہم نوا بھی ہو

    فرصت میں سن شگفتگیء غنچہ کی صدا
    یہ وہ سخن نہیں جو کسی نے کہا بھی ہو

    بیٹھا ہے ایک شخص مرے پاس دیر سے
    کوئی بھلا سا ہو تو ہمیں دیکھتا بھی ہو

    بزم سخن بھی ہو سخنِ گرم کے لیے
    طاوس بولتا ہو تو جنگل ہرا بھی ہو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  3. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل


    نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں
    تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں

    آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
    آج کا دن گزر نہ جائے کہیں

    نہ ملا کر اداس لوگوں سے
    حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں

    آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
    اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں

    جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں
    رائیگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں

    آو کچھ دیر رو ہی لیں ناصر
    پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  4. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587

    غزل



    ممکن نہیں متاعِ سخن مجھ سے چھین لے
    گو باغباں یہ کنجِ چمن مجھ سے سے چھین لے

    گر احترام رسمِ وفا ہے تو اے خدا
    یہ احترامِ رسمِ کہن مجھ سے چھین لے

    منظر و دل نگاہ کے جب ہو گئے اداس
    یہ بے فضا علاقہء تن مجھ سے چھین لے

    گل ریز میری نالہ کشی سے ہے شاخ شاخ
    گل چیں کا بس چلے تو یہ فن مجھ سے چھین لے

    سینچی ہیں دل کے خون سے میں نے یہ کیاریاں
    کس کی مجال میرا چمن مجھ سے چھین لے!​
     
  5. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے
    پھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئے

    پھر کونجیں بولیں گھاس کے ہرے سمندر میں
    رت آئی پیلے پھولوں کی تم یاد آئے

    پھر کاگا بولا گھر کے سونے آنگن میں
    پھر امرت رس کی بوند پڑی تم یاد آئے

    پہلے تو میں چیخ کے دویا اور پھر ہنسنے لگا
    بادل گرجا بجلی چمکی تم یاد آئے

    دن بھر تو میں دنیا کے دھندوں میں کھویا رہا
    جب دیواروں سے دھوپ ڈھلی تم یاد آئے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  6. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    مسلسل بے کلی دل کو رہی ہے
    مگر جینے کی صورت تو رہی ہے

    میں کیوں پھرتا ہوں تنہا مارا مارا
    یہ بستی چین سے کیوں سور رہی ہے

    چلے دل سے امیدوں کے مسافر
    یہ نگری آج خالی ہو رہی ہے

    نہ سمجھو تم اسے شور ِبہاراں
    خزاں پتوں میں چھپ کے رو رہی ہے

    ہمارے گھر کی دیواروں پر ناصر
    اداسی بال کھولے سور رہی ہے​
     
  7. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    ناصر کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے
    دیوانہ ہے دیوانے کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے

    کل جو تھا وہ آج نہیں جو آج ہے وہ کل مٹ جائے گا
    روکھی سوکھی جو مل جائے شکر کرو تو بہتر ہے

    کل یہ تاب و تواں نہ رہیگی ٹھنڈ ہو جائے گا لہو
    نامِ خدا ہو جوان ابھی کچھ کر گزرو تو بہتر ہے

    کیا جانے کیا رت بدلے حالات کا کوئی ٹھیک نہیں
    اب کے سفر میں تم بھی ہمارے ساتھ چلو تو بہتر ہے

    کپڑے بدل کر بال بنا کر کہاں چلے ہو کس کے لیے
    رات بہت کالی ہے ناصر گھر میں رہو تو بہتر ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  8. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    سناتا ہے کوئی بھولی کہانی
    مہکتے میٹھے دریاوں کا پانی

    یہاں جنگل تھے آبادی سے پہلے
    سنا ہے میں نے لوگوں‌کی زبانی

    یہاں اک شہر تھا شہرِ نگاراں
    نہ چھوڑی وقت نے اس کی نشانی

    میں وہ دل ہوں دبستانِ الم کا
    جسے روئے گی صدیوں شادمانی

    تصور نے اُسے دیکھا ہے اکثر
    خرد کہتی ہے جس کو لا مکانی

    خیالوں ہی میں‌اکثر بیٹھے بیٹھے
    بسا لیتا ہوں اک دنیا سہانی

    ہجومِ نشہء فکرِ سخن میں
    بدل جاتے ہیں لفظوں کے معانی

    بتا اے ظلمتِ صحرائے امکاں
    کہاں ہوگا مرے خوابوں‌کا ثانی

    اندھیری شام کے پردوں میں‌ چھپ کر
    کسے روتی ہے چشموں کی روانی

    کرن پریاں اترتی ہیں کہاں سے
    کہاں جاتے ہیں رستے کہکشانی

    پہاڑوں سے چلی پھر کوئی آندھی
    اُڑے جائے ہیں اوراقِ خزانی

    نئی دنیا کے ھنگاموں میں‌ ناصر
    دبی جاتی ہیں آوازیں پرانی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  9. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    رہ نوردِ بیابانِ غم صبر کر صبر کر
    کارواں پھر ملیں گے بہم صبر کر صبر کر

    بے نشاں ہے سفر رات ساری پڑی ہے مگر
    آرہی ہے صدا دم بدم صبر کر صبر کر

    تیری فریاد گونجے گی دھرتی سے آکاش تک
    کوئی دن اور سہہ لے ستم صبر کر صبر کر

    تیرے قدموں سے جاگیں گے اُجڑے دلوں کے ختن
    پا شکستہ غزالِ حرم صبر کر صبر کر

    شہر اجڑے تو کیا ہے کشادہ زمینِ خدا
    اک نیا گھر بنائیں گے ہم صبر کر صبر کر

    یہ محلاتِ شاہی تباہی کے ہیں منتظر
    گرنے والے ہیں ان کے علم صبر کر صبر

    دف بجائیں گے برگ و شجر صف بہ صف ہر طرف
    خشک مٹی سے پھوٹے گا نم صبر کر صبر کر

    لہلہا ئیں گی پھر کھیتیاں کارواں کارواں
    کھل کے برسے گا ابر کم صبر کر صبر کر

    کیوں پٹکتا ہے سر سنگ سے جی جلا ڈھنگ سے
    دل ہی بن جائے گا خود صنم صبر کر صبر کر

    پہلے کھل جائے دل کا کنول پھر لکھیں گے غزل
    کوئی دم اے صریر قلم صبر کر صبر کر

    درد کے تار ملنے تو دے ہونٹ ہلنے تو دے
    ساری باتیں کریں گے رقم صبر کر صبر کر

    دیکھ ناصر زمانے میں کوئی کسی کا نہیں
    بھول جا اُس کے قول و قسم صبر کر صبر کر​
     
  10. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا
    یاد نے کنکر پھینکا ہوگا

    آج تو مرا دل کہتا ہے
    تو اس وقت اکیلا ہوگا

    میرے چومے ہوئے ہاتھوں سے
    اوروں کو خط لکھتا ہوگا

    بھیگ چلیں اب رات کی پلکیں
    تو اب تھک کے سویا ہوگا

    ریل کی گہری سیٹی سن کر
    رات کا جنگل گونجا ہوگا

    شہر کے خالی اسٹیشن پر
    کوئی مسافر اترا ہوگا

    آنگن میں پھر چڑیاں بولیں
    تو اب سو کر اٹھا ہوگا

    یادوں کی جلتی شبنم سے
    پھول سا مکھڑا دھویا ہوگا

    موتی جیسی شکل بنا کر
    آئینے کو تکتا ہوگا

    شام ہوئی اب تو بھی شاید
    اپنے گھر کو لوٹا ہوگا

    نیلی دھندلی خاموشی میں
    تاروں کی دھن سنتا ہوگا

    میرا ساتھی شام کا تارا
    تجھ سے آنکھ ملاتا ہوگا

    شام کے چلتے ہاتھ نے تجھ کو
    میرا سلام تو بھیجا ہوگا

    پیاسی کرلاتی کونجوں نے
    میرا دکھ تو سنایا ہوگا

    میں تو آج بہت رویا ہوں
    تو بھی شاید رویا ہوگا

    ناصر تیرا میت پرانا
    تجھ کو یاد تو آتا ہوگا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  11. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    گل نہیں مے نہیں پیالہ نہیں
    کوئی بھی یادگارِ رفتہ نہیں

    فرصتِ شوق بن گئی دیوار
    اب کہیں بھاگنے کا رستہ نہیں

    ہوش کی تلخیاں مٹیں کیسے
    جتنی پیتا ہوں اتنا نشہ نہیں

    دل کی گہرائیوں میں ڈوب کے دیکھ
    کوئی نغمہ خوشی کا نغمہ نہیں

    غم بہر رنگ دل کشا ہے مگر
    سننے والوں کو تابِ نالہ نہیں

    مجھ سے کہتی ہے موجِ صبح نشاط
    پھول خیمہ ہے پیش خیمہ نہیں

    ابھی وہ رنگ دلِ میں پیچاں ہیں
    جنہیں آواز سے علاقہ نہیں

    ابھی وہ دشت منتظر ہیں مرے
    جن پرتحریر پائے ناقہ نہیں

    یہ اندھیرے سلگ بھی سکتے ہیں
    تیرے دل میں مگر وہ شعلہ نہیں

    راکھ کا ڈھیر ہے وہ دل ناصر
    جس کی دھڑکن صدائے تیشہ نہیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  12. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    ان سہمے ہوئے شہروں کی فضا کچھ کہتی ہے
    کبھی تم بھی سنو یہ دھرتی کیا کچھ کہتی ہے

    یہ ٹھٹھری ہوئی لمبی راتیں کچھ کہتی ہیں
    یہ خامشی ء آواز نما کچھ کہتی ہے

    سب اپنے گھر وں میں لمبی تان کے سوئے ہیں
    اور دور کہیں کوئل کی صدا کچھ کہتی ہے

    جب صبح کو چڑیاں باری باری بولتی ہیں
    کوئی نامانوس اداس نوا کچھ کہتی ہے

    جب رات کو تارے باری باری جاگتے ہیں
    کئی ڈوبے ہوئے تاروں کی ندا کچھ کہتی ہے

    کبھی بھور بھئے کبھی شام پڑے کبھی رات گئے
    ہر آن بدلتی رت کی ہوا کچھ کہتی ہے

    مہان ہیں ہم مہمان سرائے یہ نگری
    مہمانوں کو مہمان سرا کچھ کہتی ہے

    بیدار رہو بیدار رہو بیدار رہو
    اے ہم سفرو آوازِ درا کچھ کہتی ہے

    ناصر آشوبِ زمانہ سے غافل نہ رہو
    کچھ ہوتا ہے جب خلقِ خدا کچھ کہتی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  13. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    اپنی دھن میں رہتا ہوں
    میں بھی تیرے جیسا ہوں

    او پچھلی رت کے ساتھی
    اب کے برس میں تنہا ہوں

    تیری گلی میں سارادن
    دکھ کر کنکر چنتا ہوں

    مجھ سے آنکھ ملائے کون
    میں تیرا آئینہ ہوں

    میرا دل جلائے کون
    میں ترا خالی کمرہ ہوں

    تیرے سوا مجھے پہنے کون
    میں ترے تن کا کپڑا ہوں

    تو جیون کی بھری گلی
    میں جنگل کا رستہ ہوں

    آتی رت مجھے روئے گی
    جاتی رت کا جھونکا ہوں

    اپنی لہر ہے اپنا روگ
    دریا ہوں اور پیاسا ہوں

    ۔۔۔۔۔۔۔​
     
  14. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل
    مجھ سے اتنی وحشت ہے تو میری حدوں سے دور نکل

    ایک سمے ترا پھول سا نازک ہاتھ تھا میرے شانوں پر
    ایک یہ وقت کہ میں تنہا اور دکھ کے کانٹوں کا جنگل

    یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے
    تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتاتھا کاجل

    میں تو ایک نئی دنیا کی دھن میں بھٹکتا پھرتا ہوں
    میری تجھ سے کیسے نبھے گی ایک ہیں تیرے فکرو عمل

    میرا منہ کیا دیکھ رہا ہے، دیکھ اس کالی رات کو دیکھ
    میں وہی تیرا ہمراہی ہوں ساتھ مرے چلنا ہو تو چل

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  15. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے
    کیسی سنسان فضا ہوتی ہے

    ہم نے دیکھے ہیں وہ سناٹے بھی
    جب ہر اک سانس صدا ہوتی ہے

    دل کا یہ حال ہوا تیرے بعد
    جیسے ویران سرا ہوتی ہے

    رونا آتا ہے ہمیں بھی لیکن
    اس میں توہینِ وفا ہوتی ہے

    منہ اندھیرے کبھی اُٹھ کردیکھو
    کیا تروتازہ ہوا ہوتی ہے

    اجنبی دھیان کی ہر موج کے ساتھ
    کس قدر تیز ہوا ہوتی ہے

    غم کے بے نور گزر گاہوں میں
    اک کرن ذوق فزا ہوتی ہے

    غمگسارِ سفرِ راہِ وفا
    مژہء آبلہ پا ہوتی ہے

    گلشنِ فکر کی منہ بند کلی
    شبِ مہتاب میں وا ہوتی ہے

    جب نکلتی ہے نگارِ شبِ غم
    منہ پہ شبنم کی ردا ہوتی ہے

    حادثہ ہے کہ خزاں سے پہلے
    بوئے گل ، گل سے جدا ہوتی ہے

    اک نیا دور جنم لیتا ہے
    ایک تہذیب فنا ہوتی ہے

    جب کوئی غم نہیں‌ہوتا ناصر
    بے کلی دل کی سوا ہوتی ہے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    شہر سنسان ہے کدھر جائیں
    خاک ہو کر کہیں بکھر جائیں

    رات کتنی گزر گئی لیکن
    اتنی ہمت نہیں کہ گھر جائیں

    یوں ترے دھیان سے لرزتا ہوں
    جیسے پتے ہوا سے ڈر جائیں

    اُن اجالوں کی دھن میں‌پھرتا ہوں
    چھب دکھاتے ہی جو گزر جائیں

    رین اندھیری ہے اور کنارہ دور
    چاند نکلے تو پار اتر جائیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  17. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    دل میں اک لہر سے اٹھی ہے ابھی
    کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی

    شور برپا ہے خانہء دل میں
    کوئی دیوار سی گری ہے ابھی

    بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
    جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی

    تو شریکِ سخن نہیں ہے تو کیا
    ہم سخن تیری خامشی ہے ابھی

    یاد کے بے نشاں جزیروں سے
    تیری آواز آرہی ہے ابھی

    شہر کی بے چراغ گلیوں میں
    زندگی تجھ کو ڈھونڈتی ہے ابھی

    سو گئے لوگ اس حویلی کے
    ایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی

    تم تو یارو ابھی سے اٹھ بیٹھے
    شہر کی رات جاگتی ہے ابھی

    وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
    غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  18. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی
    میں اپنے ہاتھ کاٹ لوں تو اپنے ہونٹ سی

    کن بے دلوں میں پھینک دیا حادثات نے
    آنکھوں میں جن کی نور نہ باتوں میں‌تازگی

    بول اے مرے دیار کی سوئی ہوئی زمیں
    میں جن کو ڈھونڈتا ہوں کہاں ہیں وہ آدمی

    وہ شاعروں کا شہر وہ لاہور بجھ گیا
    اگتے تھے جس میں شعر وہ کھیتی ہی جل گئی

    میٹھے تھے جن کے پھل وہ شجر کٹ کٹا گئے
    ٹھنڈی تھی جس کی چھاوں وہ دیوار گر گئی

    بازار بند راستے سنسان بے چراغ
    وہ رات ہے کہ گھر سے نکلتا نہیں‌کوئی

    گلیوں میں‌ اب تو شام سے پھرتے ہیں‌ پہرہ دار
    ہے کوئی کوئی شمع سو وہ بھی بجھی بجھی

    اے روشنیء دیدہ و دل اب نظر بھی آ
    دنیا ترے فراق میں‌اندھیر ہو گئی

    القصہ جیب چاک ہی کرنی پڑی ہمیں
    گو ابتدائے غم میں‌بڑی احتیاط کی

    اب جی میں ہے کہ سرکشی پتھر سے پھوڑیے
    ممکن ہے قلبِ سنگ سے نکلے کوئی پری

    بیکار بیٹھے رہنے سے بہتر ہے کوئی دن
    تصویر کھینچیے کسی موجِ خیال کی

    ناصر بہت سی خواہشیں دل میں ہیں بے قرار
    لیکن کہاں سے لاوں وہ بے فکر زندگی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  19. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    پھول خوشبو سے جدا ہے اب کے
    یارو یہ کیسی ہوا ہے اب کے

    دوست بچھڑے ہیں کئی بار مگر
    یہ نیا داغ کھلا ہے اب کے

    پتیاں روتی ہیں سر پیٹتی ہیں
    قتلِ گل عام ہوا ہے اب کے

    شفقی ہو گئی دیوارِ خیال
    کس قدر خون بہا ہے اب کے

    منظرِ زخمِ وفا کس کو دکھائیں
    شہر میں قحطِ وفا ہے اب کے

    وہ تو پھر غیر تھے لیکن یارو
    کام اپنوں سے پڑا ہے اب کے

    کیا سنیں شورِ بہاراں ناصر
    ہم نے کچھ اور سنا ہے اب کے​
     
  20. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    غزل

    دفعتہ دل میں کسی یاد نے لی انگڑائی
    اس خرابے میں یہ دیوار کہاں سے آئی

    آج کھلنے ہی کو تھا دردِ محبت کا بھرم
    وہ تو کہیے کہ اچانک ہی تری یاد آئی

    نشہء تلخیء ایام اترتا ہی نہیں
    تیری نظروں نے گلابی بہت چھلکائی

    یوں تو ہر شخص اکیلا ہے بھری دنیا میں
    پھر بھی ہر دل کے مقدر میں نہیں تنہائی

    یوں تو ملنے کو وہ ہر روز ہی ملتا ہے مگر
    دیکھ کر آج اُسے آنکھ بہت للچائی

    ڈوبتے چاند پہ روئی ہیں ہزاروں آنکھیں
    میں تو رویا بھی نہیں تم کو ہنسی کیوں آئی

    رات بھر جاگتے رہتے ہو بھلا کیوں ناصر
    تم نے یہ دولتِ بیدار کہاں سے پائی​
     

اس صفحے کی تشہیر