دیوانِ غالب ۔۔۔ تماشا میرے آگے

جیہ نے 'غالبیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 9, 2006

  1. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    واہ جی جوجو نے تو کمال کر دیا ہے۔بہت عمدہ جوجو۔۔۔جاری رکھیں۔ اس معاملے میں‌میں‌مدد تو نہیں کر سکتا کہ غالب شناس نہیں۔ پھر بھی اگر کسی قابل سمجھیں تو بتا دیں۔ :wink:
    بے بی ہاتھی
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,667
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کچھ کلام تو جو مجھے ملا تھا مروجہ دیوان کے علاوہ، اسے میں نے تو ہر ردیف کے آخر میں پہلے ہی شامل کر دیا ہے۔ میرا مشورہ تو یہی ہے کہ جو بھی مزید کلام دستیاب ہو حمیدیہ یا دوسرے کسی اور نسخے یا ماخذ سے، اسے ردیف وار ہی آخر میں دے دیا جائے۔ اور اسی اصول کے مطابق بیشتر نسخوں کے متفرق اشعار بھی میں نے ردیف کے حساب سے ہی ترتیب دئے ہیں۔ اگر ارکان کا یہی مشورہ ہے کہ انھیں ضمیمے کے طور پر دیا جائے تو پھر یہ بھی محنت کرنی ہوگی کہ ہر مروجہ دیوان کے علاوہ جو اشعار میں نے شامل کئے ہیں انھیں بھی الگ کر کے حمیدیہ کے تحت حمیدیہ کے، اور اس کے علاوہ کو متفرّق اشعار کے تحت دیا جائے۔ اگرچہ میری رائے اب بھی وہی ہے کہ سارا کلام ایک جگہ جمع ہو جائے اس کی اہمیت زیادہ ہے تاکہ قارئین کو ڈھونڈھنے میں بھی آسانی ہو۔ بلکہ ایک بار تو میں نے یہ بھی سوچا تھا کہ ردیفوں کو بھی لغت کی ترتیب سے کریں تو کیسا رہے۔ یعنی نومید نہیں۔ کے بعد تاثیر نہیں اور پھر گماں نہیں والی غزلیں۔ اگرچہ کام محنت طلب ہے۔
     
  3. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    السلام علیکم

    یہی خیال مجھے بھی تھا آپ کی بھیجی ہوئی فائل دیکھنے سے پہلے لیکن آپ کی فائل دیکھنے کے بعد اس خیال پر عمل کرنا آپ کی محنت کو ضائع کرنے کے مترادف لگا ۔ اگر ضمیمہ کا خیال چھوڑ دیں تو آپ کی ترتیب میں یہ نشاندہی کر دی جائے کہ فلاں شعر یا قطعہ یا غزل فلاں نسخہ سے یہاں شامل کی گئی ہے ۔

    آپ کی اردو ویب کے نسخے کی تجویز کے حوالے سے شروع سے ہی مجھے یہی خیال رہا ہے کہ اس میں چند ایک خصوصیات ایسی ضرور ہوں جو اسے دوسرے نسخوں سے ممتاز کر سکیں ۔ ردیف کو لغت وار ترتیب سے پیش کرنے کی تجویز بہت اچھی ہے میں امتحانات کے زمانہ میں اسی طریقے سے تیاری کرتی رہی ہوں ۔ کام محنت طلب اور وقت طلب بھی ہے لیکن غالب خود بھی جدت پسند تھے اور معیار پر کڑی نظر رکھتے تھے ایسے میں میری گذارش یہی ہے کہ ہم کچھ وقت لے کر اس نسخے کو ممکن حد تک معیاری بناسکیں تو اچھا ہے۔
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,667
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دراصل شگفتہ۔ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔ یعنی کچھ کلام غیر مستند دیوانوں سے بھی ملا ہے۔ یندوستان میں پاکٹ بکس کے سلسلے کی ایک کتاب دیوانِ غالب بھی ہے اس کی ترتیب و تحقیق کس کی ہے، یہ کچھ پتہ نہیں۔ اسی طرح ماہ نامہ سب رس حیدر آباد کے فروری کے شمارے جو غالب کی برسی کا ماہ ہے، میں ادارے کی طرف سے کچھ غیر مروجہ اشعار دئے گئے ہیں۔ اس کے لئے پھر ان لوگوں کو ربط کرنا پڑے گا کہ کس شعر کی کیا سند ہے۔ اور جیسا کہ میں نے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ ہم محقّق نہیں ہیں۔ اور نہ اس کا دعویٰ کرتے ہیں۔ چناں چہ میرا ذاتی خیال یہی ہے کہ ان سب کلام کو یکجا کر ہی دیا جائے۔ جیسا میں نے جویریہ کو لکھا تھا ’چپکے سے‘۔ اگر چہ اب اسے منظرِ عام پر لکھ رہا ہوں۔
     
  5. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439

    السلام علیکم

    تمام کلام کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی آپ کی تجویز مناسب ہے ۔ جہاں تک غیر مستند ہونے کی بات ہے تو اگر اس بارے میں سند حاصل کی جا سکتی ہے تو خوب ، بصورتِ دیگر ایسے (غیر مستند) کلام کی ہر اس جگہ نشاندہی کر دی جائے جہاں جہاں اسے شامل کیا جائے ۔ اس طرح ایک جانب نسخہ کا معیار برقرار رہے گا اور اور دوسری جانب نسخے میں تحقیقی زاویہ بھی شامل ہو جائے گا اور عین ممکن ہے کہ کچھ وقت بعد کوئی فرد یا افراد اس کلام کے مستند یا غیر مستند ہونے کی حقیقت جاننے کی سعی کر ڈالیں ۔
     
  6. زیف سید

    زیف سید محفلین

    مراسلے:
    224
    کلامِ غالب کو مرتب کرنےکی کوشش پر میری طرف سے مبارکباد!

    بارے ایک دو باتیں کلام کے استسناد کی بابت ہو جائیں۔ عرض ہے کہ اس سلسلے میں‌مولاناامتیاز علی عرشی کے مرتب کردہ “نسخہ عرشی“ کو سب سے مستند مانا جاتا ہے۔ اس نسخے کو مجلسِ ترقیِ ادب لاہورنے شائع کیا ہے اور یہ آسانی سے دستیاب ہے۔اس کے تین حصے ہیں،حصہء اول میں نسخہء حمیدیہ، حصہء دوم میں متداول دیوان اور حصہء سوم میں ادھر ادھر سے ملنے والا کلام ہے۔ بدقسمتی سےآخری حصے میں کچھ الحاقی کلام بھی شامل ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ مجھےنسخہء عرشی کی ایک اور بات پر بھی اعتراض ہے اور وہ یہ کہ مولانا نے اس میں بڑی عرق ریزی سے کام لیتے ہوئے علاماتِ اوقاف (punctuation) بھی شامل کر دی ہیں جس کی کلاسیکی شاعری میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

    اس کے علاوہ کراچی کی انجمنِ ترقیِ اردو کے زیرِ اہتمام دیوانِ غالب کامل شائع ہوا ہے۔ اس کتاب کو زبردست ماہرِ غالبیات جناب کالی داس گپتا رضا نے مرتب کیا ہےاور اس میں غالب کا تمام مطبوعہ و غیر مطبوعہ کلام زمانی ترتیب (chronological order) سے موجود ہے۔اس نسخے کے مستند ہونے میں کسی کو کلام نہیں! اگر عیب جوئی (proof reading) کے لیے مذکورہ بالا نسخوں سے مدد لی جائے تو پھر غلطی کا احتمال نہیں‌رہے گا۔

    جہاں تک غزلیات کی ترتیب کی بات ہے تو میری ناقص رائے یہ ہے کہ غالب کی ترتیب ہی کو برقرار رکھا جائےتو بہتر ہے۔ آخر غالب کااپنی کتاب کی ترتیب پر اتنا حق تو ہونا چاہیے!
    ۔۔۔
    زیف‌
     

اس صفحے کی تشہیر