دیئے گئے لفظ پر شاعری - دوسرا دور

طاہر شیخ

محفلین
خود سے ہی لفظ ناؤ لے رہا ہے

اتر کے ناؤ سے بھی کب سفر تمام ہوا
زمیں پہ پاؤں دھرا تو زمین چلنے لگی
شکیب جلالی

اب '' سفر'' سے
 
جا رہی تھی تو چلی جاتی بھلا میکے ضرور
پھر یہ بچے چھوڑ کر جانے ضد کیوں جان جاں
آٹھ بچے اور گھر کی ہر ضرورت الحفیظ
بن کے بارش آرزو پر خوب برسے و الاماں

بس موڈ بنا لکھ دیا ... الحفیظ کا عنوان ابھی جاری ہے
 

Dure najaf

محفلین
دست بستہ ہیں جہاں سارے زمانے والے
کتنے اعلیٰ ہیں محمّد کے گھرانے والے
۔
مجھکو دنیا کے سہاروں کی ضرورت کیا ہے
میرے آقا ہیں میری بات بنانے والے
۔
کٹ کے شبیر نے کربل میں کیا ہے ثابت
اس طرح وعدہ نبھاتے ہیں نبھانے والے
۔
ہم گناہگاروں کو محشر کا ہو کیوں ڈر فیضان
آپ ہیں دامن رحمت میں چھپانے والے۔۔۔۔!
۔
"صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم "
 
Top