دیئے گئے لفظ پر شاعری - دوسرا دور

جاسمن

لائبریرین
اس حوالے سے یاد تو مجھے بھی کچھ نہیں۔ سوائے "بے وفائی کی مشکلیں" کے :)

بے وفائی کی مشکلیں

جو تم نے تھان ہی لی ہے
ہمارے دل سے نکلو گے
تو اتنا جان لو پیارے
وفا کی سیڑھیوں پر ہر قدم پھیلا ہوا
یہ آرزؤں کا لہو ضائع نہ جائے گا
سمندر سامنے ہوگا اگر ساحل سے نکلوگے!
ستارے، جن کی آنکھوں نے ہمیں اک ساتھ دیکھا تھا،
گواہی دینے آئیں گے!
پرانے کاغذوں کی بالکونی سے بہت سے لفظ جھانکیں گے
تمہیں واپس بلائیں گے،
کئی وعدے، فسادی قرض خواہوں کی طرح رستے میں روکیں گے
تمہیں دامن سے پکڑیں گے
تمہاری جان کھائیں گے!
چھپا کر کس طرح چہرہ
پھری محفل سے نکلوگے!
ذرا پھر سوچ لو جاناں!
نکل تو جاؤ گے شائد
مگر مشکل سے نکلو گے!

امجد اسلام امجد

واہ بھئی واہ۔
خوب انتخاب!
 

اعوان جی

محفلین
اسلام و علیکم
کیسے ہیں سب امید کرتا ہوں آپ سب خیریت سے ہوں گے آپ نے لفظ نہیں دیا خود سے لفظ شہر لے رہا ہوں
ڈھونڈتا پھرتا ہوں اک شہر تخیل میں تجھے
اور میرے پاس تیرے گھر کی نشانی بھی نہیں
اگلا لفظ تخیل
 

فلسفی

محفلین
میرا اپنا ہی شعر ہے۔

لفظوں سے ہو گئی ہے تخیل کی دوستی
بے اختیار کرنے لگا ہوں میں شاعری

اگلا لفظ دوستی
 

جان

محفلین
دشمنوں سے پیار ہوتا جائے گا
دوستوں کو آزماتے جائیے
خمارؔ بارہ بنکوی

اگلا لفظ آزمائش
 

جان

محفلین
پرکھنا مت، پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا
کسی بھی آئینے میں دیر تک چہرہ نہیں رہتا
بشیر بدر

اگلا لفظ چہرہ
 

جان

محفلین
چشم ِخوش گماں گرچہ تیرگی میں الجھی تھی
خواب دیکھنا لیکن ہم کبھی نہیں بھولے
ظہیر احمد ظہیر

اگلا لفظ خواب
 

فلسفی

محفلین
کسی بھی طور پر ظاہر پرستوں کو نہیں بھاتے
ہماری جستجو نے جو انوکھے خواب دیکھے تھے

اگلا لفظ انوکھے
 

جان

محفلین
وہ رابطے بھی انوکھے جو دوریاں برتیں
وہ قربتیں بھی نرالی جو لمس کو ترسیں
پرکاش فکری

اگلا لفظ قربتیں
 

اعوان جی

محفلین
  1. مرحلے شوق کے دُشوار ہُوا کرتے ہیں
    سائے بھی راہ کی دیوار ہُوا کرتے ہیں
    وہ جو سچ بولتے رہنے کی قسم کھاتے ہیں
    وہ عدالت میں گُنہگار ہُوا کرتے ہیں
    صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو
    کبھی آنکھیں بھی پڑھو
    کچھ سوالی بڑے خودار ہُوا کرتے ہیں
    وہ جو پتھر یونہی رستے میں پڑے رہتے ہیں
    اُن کے سینے میں بھی شہکار ہُوا کرتے ہیں
    صبح کی پہلی کرن جن کو رُلا دیتی ہے
    وہ ستاروں کے عزادار ہُوا کرتے ہیں
    جن کی آنکھوں میں سدا پیاس کے صحرا چمکیں
    در حقیقت وہی فنکار ہُوا کرتے ہیں
    شرم آتی ہے کہ دُشمن کِسے سمجھیں
    دُشمنی کے بھی تو معیار ہُوا کرتے ہیں
    محسن نقوی
    اگلا لفظ خوددار
 
Top