دیئے گئے شعر کی دھنائی کریں

شمشاد خان

محفلین
:ROFLMAO:
یہ شعر اپنی مدد آپ کے تحت دھن چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ محبوب کی بھی عالی شان دھنائی ہوچکی ہے. :rolleyes:

اگلا شعر:
میں نے پھولوں کی آرزو کی تھی
آنکھ میں موتیا اتر آیا
شاعر ہر وقت کچھ نہ کچھ مانگتا ہی رہتا ہے۔ اس دفعہ اس نے سہرے میں لگانے کے لیے پھول مانگے تھے۔ پھول تو اسے مل گئے لیکن صرف موتیا کے، وہ بھی اس کی آنکھوں میں۔

مرغے چُرا کے لائے تھے جو چار پاپولر
دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں
(پاپولر میرٹھی)
 
آخری تدوین:

شمشاد خان

محفلین
کُو با کُو پھیل گئی بیٹی تھی حلوائی کی
اس نے لڈو کیطرح میری پذیرائی کی

وہ جہاں بھی گئی، لوٹی تو میرے پاس آئی
بس یہی بات اچھی ہے میری ہمسائی کی
 
وہ جہاں بھی گئی، لوٹی تو میرے پاس آئی
بس یہی بات اچھی ہے میری ہمسائی کی
شاعر کی ہمسائی COVID انفیکٹڈ ہے اور شاعر کو معلوم نہیں. تبھی تو ہر جگہ سے نکال دیے جانے پر وہ شاعر کے پاس آ جاتی ہے مگر شاعر کیا سے کیا سمجھ بیٹھا ہے. :) :)

اگلا شعر

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
 

شمشاد خان

محفلین
اصل میں شاعر نے اس شعر میں ایک خودکُش دھماکے کی روداد منظوم کی ہے۔ وہ کیا ہے کہ کہیں لنگر بٹ رہا تھا جس میں اور بندوں کے ساتھ محمود اور اس کا دوست ایاز بھی لائن میں اپنی باری کے انتظار میں کھڑے تھے کہ ایک خودکُش دھماکہ ہوا اور سب کے سب اللہ کو پیارے ہو گئے، اسی لیے شاعر کہہ رہا ہے کہ وہاں پر نہ تو کوئی بندہ بچا اور نہ ہی لنگر بانٹنے والے۔

تم گرانے میں لگے تھے تم نے سوچا ہی نہیں
میں گرا تو مسئلہ بن کر کھڑا ہو جاؤں گا
(وسیم بریلوی)
 
آخری تدوین:

شمشاد

لائبریرین
تیز اتنا ہی اگر چلنا ہے تنہا جاؤ تم
بات پوری بھی نہ ہوگی اور گھر آ جائے گا

عاؤم واسطی (شاعر) کہتا ہے کہ بھائی اتنا تیز نہ چلو، اگر اتنا تیز چلو گے تو میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا۔ مزید یہ کہ ابھی میری بات پوری بھی نہ ہو گی اور تمہارا بھر آ جائے گا اور تم میری پوری بات سنے بغیر گھر کے اندر چلے جاؤ گے اور میں اپنی بات مکمل کرنے کے چکر میں گھر کے باہر ہی رات گزارنی پڑے گی۔
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
کسی نے اگلا شعر نہیں دیا ہے دھنائی کے لئے۔ ہم ہی ایک شعر پیش کئے دیتے ہیں دھلائی کے لئے

کر کر کے منتیں تیری عادت بگاڑ دی
دانستہ ہم نے تجھے ستم گر بنا دیا
 

شمشاد

لائبریرین
تیری منتیں کر کر کے ہم نے تیری عادت بگاڑ دی ہے، اب ہم تو چلے، اور تجھے تیری عادت کے عوض اب دھکے ہی کھانے کو ملیں گے۔ اور یہ ہم نے بے خبری میں نہیں کیا، بلکہ جان بوجھ کر کیا ہے اور تیرے ہی پرانے حربوں کا بدلہ چکایا ہے۔

اگلا شعر

شعر کچھ میں نے کہے بالوں کی اس کے یاد میں
سو غزل پڑھتے پھرے ہیں لوگ فیض آباد میں
میر تقی میر
 
Top