دھُن کا پکا مکوڑا

از محمد خلیل الرحمٰن

چھوٹا سا یہ ایک مکوڑا
دوڑا دوڑا دوڑا دوڑا

اپنی دھن کا پکا ہے یہ
اپنے رستے چلتا ہے یہ

دانا رستے میں اِک پایا
اُس کو اپنے سر پہ اُٹھایا

جونہی میرے سامنے آیا
میں نے پھونک سے دور ہٹایا

گِر کر اُٹھا، اُٹھ کر سنبھلا
اپنے رستے چلنا چاہا

میں نے ہاتھ سے اس کو روکا
اُس نے میرے ہاتھ پہ کاٹا

درد سے چیخا، میں گھبرایا
میں نے اُس کا رستہ چھوڑا

اُس نےجونہی موقع پایا
اپنے رستے وہ لوٹ آیا​
 
آخری تدوین:
یہ تو بہت بہترین نظم ہوگئی سر جی۔۔۔
اب آپ سے ایک ’’مکوڑے‘‘ پر بھی نظم لکھنے کی فرمائش ہے۔۔۔
اگر مکوڑا برا نہ مانے تو!!!
اگر مان جائے تو عنوان رکھیے گا۔۔۔
سرکش مکوڑا!!
لیجیے آپ کی فرمائش پر نظم پیشِ خدمت ہے!
 
ماشاء اللہ خلیل بھائی بہت خوب ۔

اس مصرع میں کچھ کسر ابھی باقی ہے۔چار بار" دوڑا" کچھ جچ نہیں رہا۔
پسندیدگی پر شکریہ قبول کیجیے۔

اس مصرع کو یوں کردیں تو؟

میرے سامنے آیا دوڑا/ میرے سامنے چلتا آیا

نیز یہ مشورہ بھی دیجیے کہ کیا یہ مندرجہ ذیل شعر کا اضافہ کیا جائے؟

میں اک دن دالان میں بیٹھا
جانے کیا کچھ سوچ رہا تھا
 

یاسر شاہ

محفلین
ہ مشورہ بھی دیجیے کہ کیا یہ مندرجہ ذیل شعر کا اضافہ کیا جائے؟

میں اک دن دالان میں بیٹھا
جانے کیا کچھ سوچ رہا تھا
خوب رہے گا اضافہ بلکہ ایک اور شعر اضافہ کر دیں جس میں یہ نظم ایک سبق آموز واقعہ ہو جائے:
میں اک دن دالان میں بیٹھا
جانے کیا کچھ سوچ رہا تھا

دل تھا میرا یاس میں ڈوبا
سوچتے سوچتے میں نے دیکھا

ننھا منا ایک مکوڑا
جاتا تھا کہیں دوڑا دوڑا

اپنی دھن کا پکا تھا وہ
اپنے رستے چلتا تھا وہ

باقی سب یوں ہی رکھیں۔
 

سید عمران

محفلین
دھُن کا پکا مکوڑا

از محمد خلیل الرحمٰن

چھوٹا سا یہ ایک مکوڑا
دوڑا دوڑا دوڑا دوڑا

اپنی دھن کا پکا ہے یہ
اپنے رستے چلتا ہے یہ

دانا رستے میں اِک پایا
اُس کو اپنے سر پہ اُٹھایا

جونہی میرے سامنے آیا
میں نے پھونک سے دور ہٹایا

گِر کر اُٹھا، اُٹھ کر سنبھلا
اپنے رستے چلنا چاہا

میں نے ہاتھ سے اس کو روکا
اُس نے میرے ہاتھ پہ کاٹا

درد سے چیخا، میں گھبرایا
میں نے اُس کا رستہ چھوڑا

اُس نےجونہی موقع پایا
اپنے رستے وہ لوٹ آیا​
بہت بہت بہت اچھی نظم ہے سر جی۔۔۔
البتہ ایک کمی شدت سے محسوس ہوئی۔۔۔
مکوڑے کے گٹکے کا ذکر تو کیاہی نہیں!!!
:unsure: :unsure: :unsure:
 
گویا اب اس نظم کی کچھ یہ صورت بنی!

دھن کا پکا مکوڑا

از محمد خلیل الرحمٰن


میں اک دن دالان میں بیٹھا
جانے کیا کچھ سوچ رہا تھا

دل تھا میرا یاس میں ڈوبا
سوچتے سوچتے میں نے دیکھا

ننھا منا ایک مکوڑا
جاتا تھا کہیں دوڑا دوڑا

اپنی دھن کا پکا تھا وہ
اپنے رستے چلتا تھا وہ

جونہی میرے سامنے آیا
میں نے پھونک سے دور ہٹایا

گِر کر اُٹھا، اُٹھ کر سنبھلا
اپنے رستے چلنا چاہا

میں نے ہاتھ سے اس کو روکا
اُس نے میرے ہاتھ پہ کاٹا

درد سے چیخا، میں گھبرایا
میں نے اُس کا رستہ چھوڑا

اُس نےجونہی موقع پایا
اپنے رستے وہ لوٹ آیا​
 

سید عمران

محفلین
گٹکا۔۔۔
کھانے والا۔۔۔
جو ننھا سا مکوڑا بڑے شوق سے کھاتا ہے!!!
image.jpg

آپ کو سمجھانے کے لیے ہمیں کتنی محنت کرنی پڑی!!!
 
Top