دھند (میرے کیمرے سے)

یوسف-2

محفلین
زیادہ تر تو یہاں شام اور رات میں دھند ہوتی ہے لیکن دو دن پہلے صبح بلائینڈز کھولتے ہیں جو خوشگوار حیرت ہوئی وہ یہ کہ دھند نے ہر چیز کو اپنے لپیٹے میں لے رکھا تھا۔سو لانگ واک اور تصویریں بنانے کا پروگرام بنایا ۔یہ تصاویر صبح ساڑھے آٹھ سے ساڑھے دس بجے کے درمیاں تک کی ہیں۔ ویسے بہت زبردست اور یادگار تجربہ تھا بہت کچھ نیا دیکھا اور دریافت کیا :):) :)
لیکن، آخر ”دیکھا“ کیسے ؟:)
بھئی، ہمارے گوٹھ میں تو اتنی دھند پڑتی ہے کہ بیس تیس گزسے آگے کچھ ”دکھائی“ ہی نہیں دیتا۔ :)
دھند میں ”دیکھنے اور دریافت کرنے“ کا ”نسخہ کیمیا“ ہمیں بھی بتلادیں نا :)
ہمیں تو سامنے سے فل ہیڈ لائٹس کے ساتھ آنے والی گاڑی بھی اندھیری رات میں شیر کی چمکدار آنکھیں جیسی ہی ”نظر“ آتی ہیں، یوں ہم فور وھیل پر بھی ”واک“ ہی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔:)
 

نیلم

محفلین
بہت اچھی تصاویر ہیں۔۔
اگر پنجاب کا کوئی بھائی یہاں دھند کی تصاویر شئیر کرے تو صرف دھند ہی دکھائی دے۔
جی ظاہرہےبھائی ،،دھند کےعلاوہ اور کچھ دیکھائی دیتاہی نہیں یہاں،،دھندکی وجہ سےموٹر وےبھی بند کردی جاتی ہے،،پچھلی فروری میں مجھےکراچی جاناتھاتومیں بھائی اور ابوکےساتھ ائیرپورٹ کےلیےنکلی 9'10 بجےاتنی دھند تھی موٹر وےبھی بندتھی جی ٹی روڈ سےجاناپڑا،،اور گاڑی بھی بہت سلو چلانی پڑی بھائی کو،،کچھ دیکھائی نہیں دےرہاتھا،اتنی زیادہ دھندتھی،گاڑی کی لائٹ بھی جلارکھی تھی،،
 

نیلم

محفلین
واؤ تعبیرآپی زبردست بہت ہی خوبصورت تصاویراور مناظر بھی،،مجھےبھی یہاں آناہےکون ساملک ہےیہ:)
 

قیصرانی

لائبریرین
یہ چرنوبل کیا ہے؟
بھری ہوئی سگریٹ کا دھواں تو نہیں۔۔۔ :laugh:
یوکرائن میں چرنوبل ایٹمی ری ایکٹر کا حادثہ ہوا تھا۔ اس سے پھیلنے والی تابکاری کی وجہ سے بہت سے ممالک میں درختوں اور دیگر نباتات پر اثر پڑا تھا۔ مثلاً فن لینڈ میں تقریباً تین چوتھائی رقبے پر اگنے والی کھمبیوں کی ایک خاص قسم اب بھی بین الاقوامی طور پر کھائے جانے کے قابل نہیں سمجھی جاتی۔ اسی طرح اگر آپ میری اوپر اقتباس شدہ پوسٹ دیکھیں تو درخت پر جگہ جگہ پرندوں کے گھونسلے نما چیزیں دکھائی دیں گی۔ یہ گھونسلے دراصل ان شاخوں کی میوٹیشن کے نتیجے میں دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ گھونسلے نہیں بلکہ شاخوں کی غیر معمولی شکل ہے۔ اسی طرح پولینڈ میں اس طرح کے درخت بہت عام دکھائی دیتے ہیں۔ فن لینڈ میں کہیں کہیں ایسا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن جب آپ جنوب کی طرف جاتے جائیں یعنی اسٹونیا، لٹویا، لتھوانیا اور پولینڈ، اسی حساب سے تابکاری کی سابقہ شدت بڑھتی جاتی ہے اور درختوں اور دیگر نباتات پر آپ کو اس کے اثرات دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جانوروں اور انسانوں پر بھی فرق پڑتا ہے لیکن وہ اتنی آسانی سے عام جگہوں پر نہیں دکھائی دیتا :)
 

قیصرانی

لائبریرین
لیکن، آخر ”دیکھا“ کیسے ؟:)
بھئی، ہمارے گوٹھ میں تو اتنی دھند پڑتی ہے کہ بیس تیس گزسے آگے کچھ ”دکھائی“ ہی نہیں دیتا۔ :)
دھند میں ”دیکھنے اور دریافت کرنے“ کا ”نسخہ کیمیا“ ہمیں بھی بتلادیں نا :)
ہمیں تو سامنے سے فل ہیڈ لائٹس کے ساتھ آنے والی گاڑی بھی اندھیری رات میں شیر کی چمکدار آنکھیں جیسی ہی ”نظر“ آتی ہیں، یوں ہم فور وھیل پر بھی ”واک“ ہی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔:)
دھند میں گاڑی چلانے کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ جتنا ہو سکے، ہلکی روشنی استعمال کریں۔ جتنی تیز روشنی ہوگی، اتنا ہی کم دکھائی دے گا۔ ابھی دو ہفتے قبل جب میں فرانس سے لوٹا تو دھند کی وجہ سے ہماری لینڈنگ کافی تاخیر کا شکار ہوئی (وہ تو شکر ہے کہ جہاز (ملنگو خوش مت ہو، یہ اصلی تے وڈا جہاز تھا) کافی تیز تھا، آدھا گھنٹا پہلے پہنچا اور ساری تیزی دھند کی وجہ سے ضائع ہو گئی)۔ جب میں ائیرپورٹ سے موٹر وے تک پہنچا تو حد نگاہ زیادہ تر 80 میٹر اور کئی جگہوں پر 20 سے 30 میٹر تک تھی۔ میری عادت ہے کہ میں عام طور پر گاڑی رات کو مدھم روشنی پر ہی چلاتا ہوں۔ اس لئے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوا اور آرام سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ (فن لینڈ میں سردیوں میں موٹر وے پر حد رفتار 120 سے کم کر کے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی جاتی ہے) سے ہی گاڑی چلاتے گھر تک پہنچا۔ بہت سارے لوگ جو تیز روشنیاں استعمال کر رہے تھے، وہ بہت آہستہ گاڑی چلاتے رہے

ایک احتیاط: جب آپ مدھم لائٹس پر گاڑی چلاتے ہیں تو عام طور پر آپ کو محض 30 سے 50 میٹر تک ہی دکھائی دیتا ہے۔ مین ہیڈ لائٹس کی صورت میں آپ کو 100 سے 120 میٹر دور تک دکھائی دے گا۔ میرا مشورہ ہے کہ جہاں ممکن ہو اور سامنے والی گاڑی متائثر نہ ہو، مین ہیڈ لائٹس یعنی ڈپرز ہی استعمال کریں۔ یا پھر میری طرح مہارتِ تامہ دکھائیں :ROFLMAO:
 

ساجد

محفلین
دھند میں گاڑی چلانے کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ جتنا ہو سکے، ہلکی روشنی استعمال کریں۔ جتنی تیز روشنی ہوگی، اتنا ہی کم دکھائی دے گا۔ ابھی دو ہفتے قبل جب میں فرانس سے لوٹا تو دھند کی وجہ سے ہماری لینڈنگ کافی تاخیر کا شکار ہوئی (وہ تو شکر ہے کہ جہاز (ملنگو خوش مت ہو، یہ اصلی تے وڈا جہاز تھا) کافی تیز تھا، آدھا گھنٹا پہلے پہنچا اور ساری تیزی دھند کی وجہ سے ضائع ہو گئی)۔ جب میں ائیرپورٹ سے موٹر وے تک پہنچا تو حد نگاہ زیادہ تر 80 میٹر اور کئی جگہوں پر 20 سے 30 میٹر تک تھی۔ میری عادت ہے کہ میں عام طور پر گاڑی رات کو مدھم روشنی پر ہی چلاتا ہوں۔ اس لئے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوا اور آرام سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ (فن لینڈ میں سردیوں میں موٹر وے پر حد رفتار 120 سے کم کر کے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی جاتی ہے) سے ہی گاڑی چلاتے گھر تک پہنچا۔ بہت سارے لوگ جو تیز روشنیاں استعمال کر رہے تھے، وہ بہت آہستہ گاڑی چلاتے رہے

ایک احتیاط: جب آپ مدھم لائٹس پر گاڑی چلاتے ہیں تو عام طور پر آپ کو محض 30 سے 50 میٹر تک ہی دکھائی دیتا ہے۔ مین ہیڈ لائٹس کی صورت میں آپ کو 100 سے 120 میٹر دور تک دکھائی دے گا۔ میرا مشورہ ہے کہ جہاں ممکن ہو اور سامنے والی گاڑی متائثر نہ ہو، مین ہیڈ لائٹس یعنی ڈپرز ہی استعمال کریں۔ یا پھر میری طرح مہارتِ تامہ دکھائیں :ROFLMAO:
یہ روشنی کا نہیں اپ کی جاسوس نگاہوں کا کمال تھا۔:)
 

عسکری

معطل
زبردست فوٹوگرافی اور مناظر کے عمدہ عکاسی- محفل کے تصاویر کے زمرے میں تو آپ اور عسکری چھائے ہوئے ہیں
ہمیشہ منفرد اور خوبصورت تصاویر پوسٹ کرنے میں آپ سے کوئی جیت نہیں سکتا :)
ارے بھائی شرمندہ نا کریں ہم کیا ہماری بساط کیا:rolleyes:
 

یوسف-2

محفلین
دھند میں گاڑی چلانے کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ جتنا ہو سکے، ہلکی روشنی استعمال کریں۔ جتنی تیز روشنی ہوگی، اتنا ہی کم دکھائی دے گا۔ ابھی دو ہفتے قبل جب میں فرانس سے لوٹا تو دھند کی وجہ سے ہماری لینڈنگ کافی تاخیر کا شکار ہوئی (وہ تو شکر ہے کہ جہاز (ملنگو خوش مت ہو، یہ اصلی تے وڈا جہاز تھا) کافی تیز تھا، آدھا گھنٹا پہلے پہنچا اور ساری تیزی دھند کی وجہ سے ضائع ہو گئی)۔ جب میں ائیرپورٹ سے موٹر وے تک پہنچا تو حد نگاہ زیادہ تر 80 میٹر اور کئی جگہوں پر 20 سے 30 میٹر تک تھی۔ میری عادت ہے کہ میں عام طور پر گاڑی رات کو مدھم روشنی پر ہی چلاتا ہوں۔ اس لئے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوا اور آرام سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ (فن لینڈ میں سردیوں میں موٹر وے پر حد رفتار 120 سے کم کر کے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی جاتی ہے) سے ہی گاڑی چلاتے گھر تک پہنچا۔ بہت سارے لوگ جو تیز روشنیاں استعمال کر رہے تھے، وہ بہت آہستہ گاڑی چلاتے رہے

ایک احتیاط: جب آپ مدھم لائٹس پر گاڑی چلاتے ہیں تو عام طور پر آپ کو محض 30 سے 50 میٹر تک ہی دکھائی دیتا ہے۔ مین ہیڈ لائٹس کی صورت میں آپ کو 100 سے 120 میٹر دور تک دکھائی دے گا۔ میرا مشورہ ہے کہ جہاں ممکن ہو اور سامنے والی گاڑی متائثر نہ ہو، مین ہیڈ لائٹس یعنی ڈپرز ہی استعمال کریں۔ یا پھر میری طرح مہارتِ تامہ دکھائیں :ROFLMAO:
بہت بہت شکریہ بھائی! اچھی ٹپس دی ہیں آپ نے۔ اللہ ہم سب کو دھند میں ڈرائیونگ کے متوقع حادثات سے محفوظ رکھے آمین
 

وجی

لائبریرین
IMG_5790.jpg

IMG_5759.jpg
ساری تصویریں اچھیں ہے
مجھےیہ دو تصویر بہت اچھیں لگیں
اوپر والی کچھ بلر ہے مگر اچھی تصویر ہے
 

شہزاد وحید

محفلین
واہ۔ بہت پیارا شہر ہے آپ کا۔ میں یہاں آوارہ بھوت بن کر گھومنا پسند کروں گا۔ لیکن یہاں کوئی بھتنی دکھائی نہیں دے رہی؟ اوہ سمجھ گیا وہ تو صرف بھوتوں کو ہی دکھائی دیتی ہو گی۔
 

محمدعمر

محفلین
سبھی تصاویر بہت عمدہ ہیں:thumbsup4:

یہ دھند تو کچھ بھی نہیں ہے، اور اس میں کم از کم چالیس میٹر دوری پر دیکھا جا سکتا ہے، پنجاب کے علاقوں میں جو دھند پڑتی ہے اسمیں تو بڑی مشکل سے دو تین میٹر تک نظر آتا ہے
 

محمدعمر

محفلین
واہ۔ بہت پیارا شہر ہے آپ کا۔ میں یہاں آوارہ بھوت بن کر گھومنا پسند کروں گا۔ لیکن یہاں کوئی بھتنی دکھائی نہیں دے رہی؟ اوہ سمجھ گیا وہ تو صرف بھوتوں کو ہی دکھائی دیتی ہو گی۔
بھائی خیال کرنا کہیں کوئی چڑیل ہی نہ گلے پڑ جائے
 
Top