دونوں سرے ہی کھوگئے ، بس یہ سرا ملا

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
دونوں سرے ہی کھوگئے ، بس یہ سرا ملا
اپنی خبر ملی ہے نہ اُس کا پتہ ملا

رو رو کے مٹ گیا ہوں تو مجھ پرنظر ہوئی
بینائی کھو گئی تو مجھے آئنہ ملا

اُس کو کمالِ ضبط ملا ، مجھ کو دشتِ ہجر
لیکن سوال یہ ہے کہ دنیا کو کیا ملا

آنے لگے نظر غم و آلامِ دو جہاں
بالغ نظر ہوئے تو اِن آنکھوں کو کیا ملا

سادہ سمجھ رہا تھا محبت کے باب کو
لیکن متن سے بڑھ کے مجھے حاشیہ ملا

گم دشتِ شوق میں جو ہوئے ، پا گئے مراد
منزل نہ پاسکے وہ جنہیں رہنما ملا

مخلوق ہوں میں اُس کی مرا ہاتھ تھام لیں
دیکھیں مجھے بھی کاش وہ جن کو خدا ملا​

دیکھا نکل کے خود سے تو منظر کھلا ظہیرؔ
ہمت بڑھی ہے میری ، مجھے حوصلہ ملا


ظہیر احمد ۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۴​
 
سادہ سمجھ رہا تھا محبت کے باب کو
لیکن متن سے بڑھ کے مجھے حاشیہ ملا

گم دشتِ شوق میں جو ہوئے ، پا گئے مراد
منزل نہ پاسکے وہ جنہیں رہنما ملا

دیکھا نکل کے خود سے تو منظر کھلا ظہیرؔ
ہمت بڑھی ہے میری ، مجھے حوصلہ ملا
بہت خوب ظہیر بھائی۔
مقطع تو "آؤٹ آف دا باکس" ہے۔ :)
 

فاخر رضا

محفلین
گم دشتِ شوق میں جو ہوئے ، پا گئے مراد
منزل نہ پاسکے وہ جنہیں رہنما ملا

مخلوق ہوں میں اُس کی مرا ہاتھ تھام لیں
دیکھیں مجھے بھی کاش وہ جن کو خدا ملا

یہ دونوں شعر ایک دوسرے کا جواب لگے

بہت زبردست
 

فاخر رضا

محفلین
دوامِ ماز سوزِ ناتمام است
چو ماہی جز تپش بر ما حرام است
مجو ساحل کہ در آغوشِ ساحل
تپیدِ یک دم و مرگِ دوام است
 
Top