دل کے جو چین سے نہیں واقف۔ ۔۔

توصیف یوسف مغل نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 28, 2016

  1. توصیف یوسف مغل

    توصیف یوسف مغل محفلین

    مراسلے:
    413
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    دل کے جو چین سے نہیں واقف
    ہجر مابین سے نہیں واقف

    عشق کا کاف پہنے پھرتے ہیں
    جو ابھی عین سے نہیں واقف

    حُسنِ یوسف پہ کٹ مرے تھے جو
    شاہ کونین سے نہیں واقف

    غیر کے ہم نشین ہو اشعر
    غیر کی غین سے نہیں واقف

    توصیف یوسف اشعر
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,219
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    عشق کیں تو کہیں کاف ہے ہی نہیں؟
    غزل درست ہے، بس شاہ کونین کا محل سمجھ میں نہیں آیا۔
    ردیف ایسی ہے کہ مزید اشعار مشکل سے ہی نکلیں گے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  3. توصیف یوسف مغل

    توصیف یوسف مغل محفلین

    مراسلے:
    413
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    [Qبہت شکریہ TE="الف عین, post: 1821702, member: 38"]عشق کیں تو کہیں کاف ہے ہی نہیں؟
    غزل درست ہے، بس شاہ کونین کا محل سمجھ میں نہیں آیا۔
    ردیف ایسی ہے کہ مزید اشعار مشکل سے ہی نکلیں گے۔[/QUOTE]

    بہت بہت شکریہ سر،
     
  4. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    3,151
    شاہ کونین کا حسن، یہ وہی مطلب لگتا ہے
    حسن یوسف، دم عیسی'، ید بیضہ داری
    آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
    املا کی اگر غلطی ہو تو معذرت
     
    • زبردست زبردست × 1
  5. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,353
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    اچھی کاوش ہے توصیف صاحب ! آ پ شاید عشق کا ’’قاف‘‘ لکھنا چاہ رہےتھے ۔ لیکن اس ٹائپو کی درستی کے بعد بھی یہ شعر میرے سر سے گزر گیا ۔ عشق کےقاف اور عین کیسے پہنے جاتے ہیں؟ کچھ سمجھ میں نہیں آیا ۔ اسی طرح غیر کی غین سے واقف ہونا بھی سمجھ میں نہیں آسکا ۔ کوئی مطلب یقینا آپ کے ذہن میں ہوگا لیکن قاری تک پہنچ نہیں پارہا ۔ آپ کو صرف ایک قاری کا نقطہء نظر بتانےکی غرض سے یہ سطور لکھی ہیں ۔ اسے ’’فیڈ بیک‘‘ سمجھ لیجئے ۔ :)
     

اس صفحے کی تشہیر