دل کی دنیا کا سکندر ہو جاؤں گا--برائے اصلاح

کاشف سعید

محفلین
اسلام و علیکم،

احباب سے اصلاح کی درخواست ہے۔

دل کی دنیا کا سکندر ہو جاؤں گا
سب میں تیاگ کے قلندر ہو جاؤں گا

قطرہ قطرہ پیتا جاؤں گا زندگی
اور پھر اک دن سمندر ہو جاؤں گا

ہاں میرا سچ آپ اپنی طاقت ہو گا
میں اکیلا رہ کے لشکر ہو جاؤں گا

میں ہی اس جانب ہوں، میں ہوں اُس طرف بھی
میں ہی درماں، میں ہی خنجر ہو جاؤں گا

یوں جتن سے ہے اُٹھایا پہلا قدم
مڑ کے جو دیکھا تو پتھر ہو جاؤں گا

پہلے کھِنچوں گا کسی پیغمبر کی طرف
خود ہی اپنا پھر میں رہبر ہو جاؤں گا

تیرا ملنا عارضی، ایسا ہی سہی
یہ تو ہو گا میں معطر ہو جاؤں گا

تب بھی تیرے قدموں میں عزت ہو گی ماں
جب میں سورج کے برابر ہو جاؤں گا

مانگے کی روشنی سےدیکھا جہاں
اور گماں یہ تھا سخن ور ہو جاؤں گا

شکریہ۔
 
دل کی دنیا کا سکندر ہو جاؤں گا
سب میں تیاگ کے قلندر ہو جاؤں گا


مانگے کی روشنی سےدیکھا جہاں
اور گماں یہ تھا سخن ور ہو جاؤں گا

شکریہ۔

کاشف سعید بھائی، ہماری دانست میں ’’جدید مسدس سالم‘‘ بحر اس غزل کے لیے موزوں نہ ہوگی۔
اس غزل کو مندرجہ ذیل بحر میں تبدیل کرکے کوشش کیجیے
’’دُم دُڑم دُم، دُم دُڑم دُم، دُم دُڑم دُم، دُم دُڑم‘‘

یعنی

’’فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلات
ایک تھپڑ ایک گھونسا، ایک تھپڑ ایک لات‘‘

پہلا شعر کچھ یوں ہو سکتا ہے

دل کی دنیا کا سکندر میں بنوں گا ایک دن
تیاگ کر سب کچھ قلند میں بنوں گا ایک دن

آخری شعر کچھ یوں ہوسکتا ہے

روشنی مانگے کی تھی جس سے جہاں دیکھا کیا
اور گماں یہ تھا سخن ور میں بنوں گا ایک دن

اسی طرح باقی اشعار کو بھی تبدیل کرکے دیکھیے
 

شوکت پرویز

محفلین
بحرِ جدید مسدس سالم: فاعلاتن فاعلاتن مس تفع لن
۔۔۔۔
درج ذیل مصرعے اس پر درست تقطیع نہیں ہو رہے :sad:
سب میں تیاگ کے قلندر ہو جاؤں گا
ایک ممکن شکل یہ ہو سکتی ہے
تیاگ کر سب میں قلندر ہو جاؤں گا
۔۔۔۔
ہاں میرا سچ آپ اپنی طاقت ہو گا
میرا: یہاں 'مِرا' وزن میں آئے گا۔
طاقت ہوگا: یہاں ہو کی 'و' ساقط کرنا درست نہیں۔
۔۔۔
میں ہی اس جانب ہوں، میں ہوں اُس طرف بھی
ایک ممکن شکل یہ ہو سکتی ہے
میں ہی اس جانب ہوں، میں ہوں اُس سمت بھی
۔۔۔۔
پہلے کھِنچوں گا کسی پیغمبر کی طرف
کِھنچوں: اس میں 'ن' غنّہ ہے، اس کا وزن شمار نہیں ہو گا، آپ نے اِسے 'فعلن' باندھا ہے، لیکن اس کا درست وزن 'فعو' ہے۔
۔۔۔
مانگے کی روشنی سےدیکھا جہاں
مانگے: اس میں بھی 'ن' غنّہ ہے، اس کا وزن شمار نہیں ہوگا۔
:)
 
اصلاح تو اساتذہ کا کام ہے اور وہ خوب کر رہے ہیں ۔۔ خیالات کی زرخیزی کا کوئی جواب نہیں جناب ۔۔۔

قطرہ قطرہ پیتا جاؤں گا زندگی
اور پھر اک دن سمندر ہو جاؤں گا
 

کاشف سعید

محفلین
کاشف سعید بھائی، ہماری دانست میں ’’جدید مسدس سالم‘‘ بحر اس غزل کے لیے موزوں نہ ہوگی۔
اس غزل کو مندرجہ ذیل بحر میں تبدیل کرکے کوشش کیجیے
’’دُم دُڑم دُم، دُم دُڑم دُم، دُم دُڑم دُم، دُم دُڑم‘‘

یعنی

’’فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلات
ایک تھپڑ ایک گھونسا، ایک تھپڑ ایک لات‘‘

پہلا شعر کچھ یوں ہو سکتا ہے

دل کی دنیا کا سکندر میں بنوں گا ایک دن
تیاگ کر سب کچھ قلند میں بنوں گا ایک دن

آخری شعر کچھ یوں ہوسکتا ہے

روشنی مانگے کی تھی جس سے جہاں دیکھا کیا
اور گماں یہ تھا سخن ور میں بنوں گا ایک دن

اسی طرح باقی اشعار کو بھی تبدیل کرکے دیکھیے

خلیل صاحب۔ بہت شکریہ۔ کیا آپ اس کی کچھ وضاحت کریں گے کہ جدید مسدس سالم کیوں مناسب نہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر زیادہ تر اشعار اس میں فٹ ہو جائیں تو اسی میں رہنے دوں۔
 

الف عین

لائبریرین
مانوس بحروں میں شاعری اچھی بھی لگتی ہے، مترنم بھی۔ اور اشعار کے مفہوم سمجھنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ نامانوس بحروں کی تو تقطیع ہی کی جا سکے گی، اور اسی میں وقت صرف کیا جائے گا۔ خاص کر مبتدی شعراءکو تو نا مانوس بحروں سے اجتناب بہتر ہے
 
مدیر کی آخری تدوین:

کاشف سعید

محفلین
بحرِ جدید مسدس سالم: فاعلاتن فاعلاتن مس تفع لن
۔۔۔۔
درج ذیل مصرعے اس پر درست تقطیع نہیں ہو رہے :sad:

ایک ممکن شکل یہ ہو سکتی ہے
تیاگ کر سب میں قلندر ہو جاؤں گا
۔۔۔۔

میرا: یہاں 'مِرا' وزن میں آئے گا۔
طاقت ہوگا: یہاں ہو کی 'و' ساقط کرنا درست نہیں۔
۔۔۔

ایک ممکن شکل یہ ہو سکتی ہے
میں ہی اس جانب ہوں، میں ہوں اُس سمت بھی
۔۔۔۔

کِھنچوں: اس میں 'ن' غنّہ ہے، اس کا وزن شمار نہیں ہو گا، آپ نے اِسے 'فعلن' باندھا ہے، لیکن اس کا درست وزن 'فعو' ہے۔
۔۔۔

مانگے: اس میں بھی 'ن' غنّہ ہے، اس کا وزن شمار نہیں ہوگا۔
:)

شوکت پرویز صاحب، جس توجہ سے آپ نے رہنمائی کی ہے، خصوصا" جو متبادل اشکال تجویز کی ہیں، اُس کے لیے ممنون ہوں۔
 
Top