درست محاورہ کیا ہے؟؟

یوسف-2

محفلین
بہت آداب جناب یوسف-2 صاحب۔
ایک بات اور واضح کر دیجئے، کہ ’’زبان میں تصرف‘‘ سے کیا مراد ہے؟ اگر کچھ مثالیں بھی مل سکیں تو آداب مزید۔

توجہ: جناب الف عین


سر جی! اس احقر نے تو آپ ہی کے ذیل کے جملے سے ”استفادہ“ کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ تصرف کا حق ”دونوں“ کو حاصل ہے۔ اور سند کا درجہ اسی ”تصرف“ کو حاصل ہوگا، جسے ”قبولیت عام“ حاصل ہوجائے۔ :)

اہلِ زبان کا حقِ تصرف زبان، محاورے وغیرہ میں: اس کی حقیقت کیا ہے؟​
تصرف کوئی اہلِ زبان کرے تو بجا، وہی یا اس سے ملتا جلتا تصرف کوئی ’’غیر اہلِ زبان‘‘ کرے تو بے جا؟​
اہلِ زبان سے کیا مراد ہے؟ اور غیر اہلِ زبان کون ہیں؟​
 
میرے ذہن میں تصرف کی مثال کچھ یوں تھی۔ یا میرے سوال کا پس منظر یہ ہے کہ:

نواب مرزا خان داغ کی ایک غزل پڑھی، اس پر یہاں محفل میں گپ شپ بھی ہوئی۔ اس کے قوافی ہیں: حق، ادَق، فق وغیرہ، اور ایک قافیہ مستحَق بھی ہے جو اپنے مقام پر مستحِق کے معانی دے رہا ہے۔ قواعد کی رو سے مستحِق (اسم فاعل) اور مستحَق (اسم مفعول) باب استِفعال سے بالترتیب مستفعِل اور مستفعَل۔ ایک صاحب نے اس پر یہ حکم صادر کر دیا کہ: اہلِ زبان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی لفظ کو جیسے چاہے، استعمال کریں۔ اسی نکتے کو ایک اور بحث میں تصرف بھی کہا گیا، اور اہلِ زبان کو تصرف کا حق دار گردانا گیا۔

ادھر یہی بحث فیس بک پر بھی چل رہی تھی۔ ایک صاحب نے دو معروف لغاتوں کے متعلقہ صفحوں کی نقل (تصویر) لگا دی، ایک میں لکھا تھا کہ یہ اسمِ فاعل ہے اور دوسری میں لکھا تھا کہ یہ اسمِ مفعول ہے۔ اب اردو کا قاری کیا کرے۔ عربی قواعد میں تو مستحَق اسم مفعول ہے اور مستحِق کے معانی نہیں دیتا۔

اگر اس طرح الفاظ کو اپنی مرضی کے معانی (خلافِ ضابطہ) عطا کرنا تصرف کہلاتا ہے اور اہلِ زبان (یا چلئے: زبان دان) کو اس کا حق دیا جاتا ہے تو زبان کا کیا بنے گا؟ اردو تو بے چاری پہلے ہی دوست نما دشمنوں میں گھری ہوئی ہے۔

جناب یوسف-2
جناب الف عین
 

فارقلیط رحمانی

لائبریرین
اتفاق سے ایک بات پھر سامنے آ گئی۔
"لیکن اگر اہلِ زبان نے کچھ تصرف کر لیا ہو تو جائز ہے۔"
فارقلیط رحمانی صاحب: جواب نمبر 15

اہلِ زبان کا حقِ تصرف زبان، محاورے وغیرہ میں: اس کی حقیقت کیا ہے؟
تصرف کوئی اہلِ زبان کرے تو بجا، وہی یا اس سے ملتا جلتا تصرف کوئی ’’غیر اہلِ زبان‘‘ کرے تو بے جا؟
اہلِ زبان سے کیا مراد ہے؟ اور غیر اہلِ زبان کون ہیں؟

الف عین ، محمد وارث ، محمد خلیل الرحمٰن ، فاتح ، یوسف-2
براہِ کرم میرے ان سوالوں کو کسی بھی انداز میں طنز وغیرہ پر محمول نہ کیجئے گا۔
گزشتہ دنوں ایک ہی لفظ کے دو معروف لغاتوں میں دو مختلف معانی میں پائے گئے، ایسے میں اردو کا طالب علم کیا کرے؟

السلام علیکم!
عالی جناب!
یہ جملہ (معترضہ) میرا نہیں ہے۔
"
لیکن اگر اہلِ زبان نے کچھ تصرف کر لیا ہو تو جائز ہے۔
"
یہ مؤلف نوراللغات کا جملہ ہے۔ میں نے وہیں سے اقتباس پیش کیا ہے،
براہِ کرم اسے فارقلیط رحمانی کے نام سے مت جوڑیے۔
 

یوسف-2

محفلین
اگر اس طرح الفاظ کو اپنی مرضی کے معانی (خلافِ ضابطہ) عطا کرنا تصرف کہلاتا ہے اور اہلِ زبان (یا چلئے: زبان دان) کو اس کا حق دیا جاتا ہے تو زبان کا کیا بنے گا؟ اردو تو بے چاری پہلے ہی دوست نما دشمنوں میں گھری ہوئی ہے۔

میری ناقص رائے میں زبان کوئی منجمد شئے نہیں ہے کہ اس کی ہیئت (قواعد و ضوابط) سدا یکساں رہے۔ زبان وہی زندہ رہتی ہے، جس میں نمو ہوتی رہے اور وہ تغیر زمانہ کا ساتھ دیتی رہے۔ میر امن کی اردو اور آج کی اردو میں بڑا فرق ہے۔ اردو میں دیگر زبانوں سے ”درآمد“ ہونے والے بہت سے الفاظ ”مشرف بہ اردو“ ہوکر اپنے اصل مفہوم و معانی کھو چکے ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ زبان پہلے ”وجود“ میں آتی ہے، اس کے قواعد و ضوابط بعد میں تشکیل پاتے ہیں۔ ادباء و شعراء چونکہ زبان کی ”تخلیق“ میں اہم کردار ادا کرتےہیں لہٰذا وہ مروجہ اسلوب میں ”تجربات“ کرتے رہتے ہیں۔ ایک طرح سے ادباء و شعراء کو زبان و ادب میں ”خود مختاری“ حاصل ہوتی ہے کہ وہ ادب کی تخلیق میں جس طرح چاہیں زبان کو برتیں، یا زبان میں تصرف کریں۔ ایسے تمام ”تصرفات“ کو مسترد یا قبول کرنے کا فیصلہ ”آنے والا وقت“ ہی کرتاہے۔ اگر اسے ”قبول عام“ کا درجہ حاصل ہوجائے تو مستقبل کے لغت نویس، نقاد اور اساتذہ از خود اسے تسلیم کرلیتے ہیں۔ بصورت دیگر اسے مسترد ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اردو زبان کے ”فطری ارتقاء“ کو نہ روکا جائے نہ ہی لکھنے والوں کو ”پابند“ کردیا جائے کہ وہ لغت اور تادم تحریر منضبط قواعد کے اندر ہی اپنی تخلیقات پیش کریں۔ لکھاری کو اپنے انداز سے لکھنے کی آزادی ہونی چاہئیے اور ہر نئی طرز، اصطلاح، تصرف، یا نئے لفظ کو قبول یا مسترد کرنے کا فیصلہ مستقبل پر چھوڑ دینا چائیے، جیسا کہ اب تک ہوتا آرہا ہے کہ
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ​
جس دیئے میں جان ہوگی، وہ دیا رہ جائے گا​
یہ تشویش اپنی جگہ بجا ہے کہ اردو دشمنوں میں گھری ہوئی ہے۔ لیکن اردو کے ”اصل دشمن“ وہ لکھاری ہرگز نہیں ہیں، جو اردو بہ ”انداز دِگر“ لکھنے پر مصر ہیں یا لکھنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اردو کے اصل دشمن وہ سیاستدان ہیں، جو آئین پاکستان کی مخالفت کرتے ہوئے، اسے پاکستان کی سرکاری زبان بنانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ پاکستان کی ترقی کی راہ کی بنیادی رکاوٹوں میں سے ایک بنیادی رکاوٹ یہی ہے کہ اردو بولنے اور سمجھنے والی پاکستانی قوم کو بزور قوت و سامراج، ایک بدیسی انگریزی زبان میں دفتری امور نمٹانے پر مجبور کردیا جائے۔ :(

 

یوسف-2

محفلین
میری ناقص رائے میں زبان کوئی منجمد شئے نہیں ہے کہ اس کی ہیئت (قواعد و ضوابط) سدا یکساں رہے۔ زبان وہی زندہ رہتی ہے، جس میں نمو ہوتی رہے اور وہ تغیر زمانہ کا ساتھ دیتی رہے۔ میر امن کی اردو اور آج کی اردو میں بڑا فرق ہے۔ اردو میں دیگر زبانوں سے ”درآمد“ ہونے والے بہت سے الفاظ ”مشرف بہ اردو“ ہوکر اپنے اصل مفہوم و معانی کھو چکے ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ زبان پہلے ”وجود“ میں آتی ہے، اس کے قواعد و ضوابط بعد میں تشکیل پاتے ہیں۔ ادباء و شعراء چونکہ زبان کی ”تخلیق“ میں اہم کردار ادا کرتےہیں لہٰذا وہ مروجہ اسلوب میں ”تجربات“ کرتے رہتے ہیں۔ ایک طرح سے ادباء و شعراء کو زبان و ادب میں ”خود مختاری“ حاصل ہوتی ہے کہ وہ ادب کی تخلیق میں جس طرح چاہیں زبان کو برتیں، یا زبان میں تصرف کریں۔ ایسے تمام ”تصرفات“ کو مسترد یا قبول کرنے کا فیصلہ ”آنے والا وقت“ ہی کرتاہے۔ اگر اسے ”قبول عام“ کا درجہ حاصل ہوجائے تو مستقبل کے لغت نویس، نقاد اور اساتذہ از خود اسے تسلیم کرلیتے ہیں۔ بصورت دیگر اسے مسترد ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اردو زبان کے ”فطری ارتقاء“ کو نہ روکا جائے نہ ہی لکھنے والوں کو ”پابند“ کردیا جائے کہ وہ لغت اور تادم تحریر منضبط قواعد کے اندر ہی اپنی تخلیقات پیش کریں۔ لکھاری کو اپنے انداز سے لکھنے کی آزادی ہونی چاہئیے اور ہر نئی طرز، اصطلاح، تصرف، یا نئے لفظ کو قبول یا مسترد کرنے کا فیصلہ مستقبل پر چھوڑ دینا چائیے، جیسا کہ اب تک ہوتا آرہا ہے کہ
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ​
جس دیئے میں جان ہوگی، وہ دیا رہ جائے گا​

اسی سے ملتی جلتی بات محترم محمد وارث نے یہاں کہی ہے
 

شوکت پرویز

محفلین
محترم محمد یعقوب آسی صاحب !
استاد ناسخ کی اس رباعی کے آخری مصرع کی تقطیع کیا ہو گی؟؟؟

تصویر صنم میں کمر اے کلک ازل
پنہاں ہے نگہ سے یا نگہ کا ہے خلل
جز عالم غیب کون جانے یہ راز
لکھے موسیٰ پڑھے خدا سچ ہے یہ مثل

ریفرینس: مراسلہ نمبر 6 اور 7
 
یہ جملہ (معترضہ) میرا نہیں ہے۔
"
لیکن اگر اہلِ زبان نے کچھ تصرف کر لیا ہو تو جائز ہے۔
"
یہ مؤلف نوراللغات کا جملہ ہے۔ میں نے وہیں سے اقتباس پیش کیا ہے،
براہِ کرم اسے فارقلیط رحمانی کے نام سے مت جوڑیے۔

والسلام، جناب فارقلیط رحمانی صاحب۔ اس فقیر نے کب جوڑا ہے، وہ تو جواب نمبر 15 میں شامل تھا۔

اور میرا مقصد اس جملے پر کوئی اعتراض کرنا بھی نہیں تھا، جیسا آپ نے دیکھ بھی لیا کہ میں نے تو کچھ سوال اٹھائے اور بہت اچھا ہوا، کہ احباب نے پورے خلوص سے ان کے جواب بھی دئے۔ میں آپ سمیت جملہ احباب کا ممنون ہوں۔
 
محترم​
محمد یعقوب آسی​
صاحب !​
استاد ناسخ کی اس رباعی کے آخری مصرع کی تقطیع کیا ہو گی؟؟؟​

تصویر صنم میں کمر اے کلک ازل​
پنہاں ہے نگہ سے یا نگہ کا ہے خلل​
جز عالم غیب کون جانے یہ راز​
لکھے موسیٰ پڑھے خدا​
سچ ہے یہ مثل​

میرا خیال ہے آخری مصرعے کی کتاب میں ’’یہ‘‘ زائد داخل ہو گیا۔ ہو سکتا ہے کتابت کا سہو ہو۔

شوکت پرویز صاحب
 
Top