داتا نظم کی دوسری قسط۔۔۔برائے اصلاح

شیرازخان

محفلین
داتا

سنو اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو
مرا تو مستوی ہے عرش پر داتا
کہاں ہے مستوی تیرا؟
سنے گا دور سے بھی کیا
کہ جانا پاس ہوتا ہے
اگر تو پاس جانا ہے
تو رکھیں فاصلہ کتنا

مگر اک اور نقطہ ہے
اگر تم غور کرتے ہو

زبانیں کون سی پہلے
ترے داتا کو آتی تھیں
زباں میں کون سی بولوں
کوئی گر غیر ملکی ہو
زباں آتی نہ ہو اس کو
کہے وہ جو
سمجھ لے گا؟ترا داتا؟؟
چلو چھوڑو

اسے بھی چھوڑ دیتے ہیں
اگر تم غور کرتے ہو
ہو بیچارہ کوئی ،گونگا زباں سے ہی
گلہ ہی بند ہو اس کا
کرے وہ دل میں نیت تو
اُسے بھی کیا وہ سن لے گا؟

مگر پھر بھی جو سنتے ہو
تو میں اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو

گھڑی بھر میں اگر ان سے
ہزاروں مانگتے ہوں تو
سُنے گا وہ سبھی کی اور
سبھی کی وہ سمجھ لے گا

چلو یہ مان کربھی تو
گزارش ایک پھر بھی ہے
اگر تم غور کرتے ہو

کبھی کیا نیند کی اسکو
طلب محسوس ہوتی ہے
کہ ہر دم جاگتا ہی ہے
اگر سوتا بھی ہو تو پھر
مقرر وقت کر دو تم
کہ سوتا جاگتا کب ہے
کہ اٹھتا بیٹھتا کب ہے

سنو اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو

تمہارا یہ جو داتا ہے
یہ کتنے سال داتا ہے
قیامت تک یہ داتا ہے
کہ اس کے بعد داتا ہے
سنو اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو
حقیقت سے جو چھپتے ہو
سراسر ظلم کرتے ہو۔۔

الف عین
محمد اسامہ سَرسَری
محمد یعقوب آسی
@ شاہد شاہنواز
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
کیا کوئی تیسری قسط بھی آنے والی ہے؟؟؟
اس کو اسی نظم میں شامل کر دیں۔
مگر اک اور نقطہ ہے
یہاں ’نکتہ‘ کا محل بہتر ہے۔
باقی ذرا فرصت میں
 

شیرازخان

محفلین
کیا کوئی تیسری قسط بھی آنے والی ہے؟؟؟
اس کو اسی نظم میں شامل کر دیں۔
مگر اک اور نقطہ ہے
یہاں ’نکتہ‘ کا محل بہتر ہے۔
باقی ذرا فرصت میں
جی استاد صاحب چونکہ یہ ایک وسیع مضمون ہے اس لئے آپ کی فرصت کع پیش نظر یکے بعد دیگرے پوسٹ کروں گااس کی اصلاح کے بعد تیسری قسط پیش کروں گا۔۔۔بہت شکریہ۔۔۔۔!!!
 

شیرازخان

محفلین
استاد جی الف عین تیسری قسط حاضر ہے بائے مہربانی وقت نکالئیے گا کہ چوتھی قسط بھی تیار ہے۔۔۔!!۔؟؟



سنو اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو

مرا داتا تو دیتا ہے
وہی پھر چھین سکتا ہے
مگر جو کچھ وہ دیتا ہے
اسے پھر کون لیتا ہے
ترا داتا جو دیتا ہے
اسے کیا لے بھی لیتا ہے
اسے کوئی لے بھی سکتا ہے؟؟

مرا داتا تو وہ ہے جو
مصیبت بھیجتا ہے اور
وہی پھر دور کرتا ہے
مگر داتا ترا ہے جو
یہ مشکل بھیجتا بھی ہے؟
کہ بس یہ دور کرتا ہے
اگر بس دورکرتا ہے
تو مشکل بھیجنے والا
بتا دو کون ہے آخر

ہو گر یہ کشمکش پیدا
لے گا کون ان میں سے
بتا دو فیصلہ واپس

سنو اک بات کہتا ہوں
مقابل جس کے کرتے ہو
سرا سر ظلم کرتے ہو

سنو اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو

کہو داتا انہیں یا کہو تم دیوتا
یہ جتنے نام ہیں سن لو
تمہارے ہی بنائے ہیں
مرے داتا نے ان کی تو
نہیں ہے سند دی تم کو

میں جس داتا کا کھاتا ہوں
اسی کا صرف گاتا ہوں
مرے داتا سے جلتے ہو
سرا سر ظلم کرتے ہو
سرا سر ظلم کرتے ہو

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
چلو دونوں حصے ایک ساتھ نمٹا دیتا ہوں۔
پہلی بات۔۔۔۔ پہلے حصے میں بھی ایک بات کا ذکر چھوڑ دیا تھا، بلکہ اصلاح بھی نہیں کی تھی۔ وہاں ’ترا داتا‘ کے ساتھ بھی تخاطب ’تم‘ ہو رہا ہے، یاں بھی کہیں کہیں ’تیرا داتا ہے کہیں تمہارا۔۔۔ پوری نظم میں ایک ہی ہونا چاہئے۔ مشورہ۔۔ تم کو بدل کر ’تو‘ کر دو۔ جیسے
اگر تو غور کرتا ہے
ذرا سن لے
کہ میں اک بات کہتا ہوں۔

سنو اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو
مرا تو مستوی ہے عرش پر داتا
کہاں ہے مستوی تیرا؟
÷÷÷÷÷ یہاں مستوی کے بدلے اور کوئی اردو فارسی کا آسان لفظ آ سکتا ہے؟

سنے گا دور سے بھی کیا
کہ جانا پاس ہوتا ہے
اگر تو پاس جانا ہے
تو رکھیں فاصلہ کتنا
÷÷÷ سنے گا دور سے بھی وہ
کہ قربت ہی ضروری ہے؟
اگر نزدیک جانا ہو
تو کتنا فاصلہ رکھیں
÷÷÷÷ بہتر ہو گا

مگر اک اور نقطہ ہے
اگر تم غور کرتے ہو

زبانیں کون سی پہلے
ترے داتا کو آتی تھیں
÷÷زبانیں کون سی ہیں جو
ترئے داتا کو آتی ہیں

زباں میں کون سی بولوں
کوئی گر غیر ملکی ہو
زباں آتی نہ ہو اس کو

کہے وہ جو
سمجھ لے گا؟ترا داتا؟؟

÷÷کہے اپنی زباں میں وہ سمجھ لے گا ترا داتا؟

چلو چھوڑو

اسے بھی چھوڑ دیتے ہیں
اگر تم غور کرتے ہو
ہو بیچارہ کوئی ،گونگا زباں سے ہی
گلہ ہی بند ہو اس کا
÷÷÷ہو بے چارہ کوئی گونگا
ہی کافی ہے

کرے وہ دل میں نیت تو
اُسے بھی کیا وہ سن لے گا؟
÷÷داتا سے کوئی دل میں نیت کرتا ہے؟
اگر وہ دل میں کچھ مانگے

مگر پھر بھی جو سنتے ہو
تو میں اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو

گھڑی بھر میں اگر ان سے
ہزاروں مانگتے ہوں تو
سُنے گا وہ سبھی کی اور
سبھی کی وہ سمجھ لے گا
÷÷ یہاں بھی روانی اور وضاحت بہتر بنائی جا سکتی ہے
۔اگر ان سے ہزاروں مانگتے ہوں
ا یک ہی پل میں
تو کیا وہ سب کی سُن لے گا؟
سبھی کی وہ سمجھ لے گا

چلو یہ مان کربھی تو
گزارش ایک پھر بھی ہے
÷÷چلو یہ مان بھی جاؤں
تو تم سے اک گزارش ہے

اگر تم غور کرتے ہو

کبھی کیا نیند کی اسکو
طلب محسوس ہوتی ہے
کہ ہر دم جاگتا ہی ہے

اگر سوتا بھی ہو تو پھر
مقرر وقت کر دو تم
کہ سوتا جاگتا کب ہے
کہ اٹھتا بیٹھتا کب ہے
÷÷مقرر کروانے کی کیا ضرورت ہے؟
اگر سوتا بھی ہو تو یہ تو بتلا دے
کہ سوتا جاگتا۔۔۔۔

سنو اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو

تمہارا یہ جو داتا ہے
یہ کتنے سال داتا ہے
قیامت تک یہ داتا ہے
کہ اس کے بعد داتا ہے
۔۔اس بات کو بھی واضح کیا جا سکتا ہے
ترے داتا کی مدت کس قدر ہے
قیامت تک یہ داتا ہے کہ اس کے بعد بھی ہو گا؟

سنو اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو
حقیقت سے جو چھپتے ہو
سراسر ظلم کرتے ہو۔۔


سنو اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو

مرا داتا تو دیتا ہے
وہی پھر چھین سکتا ہے
مگر جو کچھ وہ دیتا ہے
اسے پھر کون لیتا ہے
÷÷پہلے دونوں مصرعے تو ٹھیک ہیں، لیکن اگلے دو؟

ترا داتا جو دیتا ہے
اسے کیا لے بھی لیتا ہے
اسے کوئی لے بھی سکتا ہے؟؟
÷÷اوپر ولی سطر کی ضرورت نہیں

مرا داتا تو وہ ہے جو
مصیبت بھیجتا ہے اور
وہی پھر دور کرتا ہے
÷÷مصیبت بھیجتا ہے پھر
خود اس کو دور کرتا ہے

مگر داتا ترا ہے جو
÷÷مگر داتا جو تیرا ہے

یہ مشکل بھیجتا بھی ہے؟
کہ بس یہ دور کرتا ہے
اگر بس دورکرتا ہے
تو مشکل بھیجنے والا
بتا دو کون ہے آخر
÷÷ہے آخر کون، یہ بتلا


ہو گر یہ کشمکش پیدا
لے گا کون ان میں سے
بتا دو فیصلہ واپس
÷÷واضح نہیں۔ واضح کہو

سنو اک بات کہتا ہوں
مقابل جس کے کرتے ہو
سرا سر ظلم کرتے ہو

سنو اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو

کہو داتا انہیں یا کہو تم دیوتا
÷÷انہیں داتا کہو، یا دیوتا کہہ لو

یہ جتنے نام ہیں سن لو
تمہارے ہی بنائے ہیں
مرے داتا نے ان کی تو
نہیں ہے سند دی تم کو
÷÷مرے داتا نے کچھ ان کی
سند تم کو نہیں دی ہے

میں جس داتا کا کھاتا ہوں
اسی کا صرف گاتا ہوں
مرے داتا سے جلتے ہو
سرا سر ظلم کرتے ہو
سرا سر ظلم کرتے ہو

مزید یہ کہ چار بار فاعیلن کی بجائے کہیں پانچ یا چھ لے آؤ تو بات واضح کی جا سکتی ہے۔ آئندہ قسطوں میں خیال رکھو
 

شیرازخان

محفلین
چلو دونوں حصے ایک ساتھ نمٹا دیتا ہوں۔
پہلی بات۔۔۔ ۔ پہلے حصے میں بھی ایک بات کا ذکر چھوڑ دیا تھا، بلکہ اصلاح بھی نہیں کی تھی۔ وہاں ’ترا داتا‘ کے ساتھ بھی تخاطب ’تم‘ ہو رہا ہے، یاں بھی کہیں کہیں ’تیرا داتا ہے کہیں تمہارا۔۔۔ پوری نظم میں ایک ہی ہونا چاہئے۔ مشورہ۔۔ تم کو بدل کر ’تو‘ کر دو۔ جیسے
اگر تو غور کرتا ہے
ذرا سن لے
کہ میں اک بات کہتا ہوں۔

سنو اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو
مرا تو مستوی ہے عرش پر داتا
کہاں ہے مستوی تیرا؟
÷÷÷÷÷ یہاں مستوی کے بدلے اور کوئی اردو فارسی کا آسان لفظ آ سکتا ہے؟

سنے گا دور سے بھی کیا
کہ جانا پاس ہوتا ہے
اگر تو پاس جانا ہے
تو رکھیں فاصلہ کتنا
÷÷÷ سنے گا دور سے بھی وہ
کہ قربت ہی ضروری ہے؟
اگر نزدیک جانا ہو
تو کتنا فاصلہ رکھیں
÷÷÷÷ بہتر ہو گا

مگر اک اور نقطہ ہے
اگر تم غور کرتے ہو

زبانیں کون سی پہلے
ترے داتا کو آتی تھیں
÷÷زبانیں کون سی ہیں جو
ترئے داتا کو آتی ہیں

زباں میں کون سی بولوں
کوئی گر غیر ملکی ہو
زباں آتی نہ ہو اس کو

کہے وہ جو
سمجھ لے گا؟ترا داتا؟؟

÷÷کہے اپنی زباں میں وہ سمجھ لے گا ترا داتا؟

چلو چھوڑو

اسے بھی چھوڑ دیتے ہیں
اگر تم غور کرتے ہو
ہو بیچارہ کوئی ،گونگا زباں سے ہی
گلہ ہی بند ہو اس کا
÷÷÷ہو بے چارہ کوئی گونگا
ہی کافی ہے

کرے وہ دل میں نیت تو
اُسے بھی کیا وہ سن لے گا؟
÷÷داتا سے کوئی دل میں نیت کرتا ہے؟
اگر وہ دل میں کچھ مانگے

مگر پھر بھی جو سنتے ہو
تو میں اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو

گھڑی بھر میں اگر ان سے
ہزاروں مانگتے ہوں تو
سُنے گا وہ سبھی کی اور
سبھی کی وہ سمجھ لے گا
÷÷ یہاں بھی روانی اور وضاحت بہتر بنائی جا سکتی ہے
۔اگر ان سے ہزاروں مانگتے ہوں
ا یک ہی پل میں
تو کیا وہ سب کی سُن لے گا؟
سبھی کی وہ سمجھ لے گا

چلو یہ مان کربھی تو
گزارش ایک پھر بھی ہے
÷÷چلو یہ مان بھی جاؤں
تو تم سے اک گزارش ہے

اگر تم غور کرتے ہو

کبھی کیا نیند کی اسکو
طلب محسوس ہوتی ہے
کہ ہر دم جاگتا ہی ہے

اگر سوتا بھی ہو تو پھر
مقرر وقت کر دو تم
کہ سوتا جاگتا کب ہے
کہ اٹھتا بیٹھتا کب ہے
÷÷مقرر کروانے کی کیا ضرورت ہے؟
اگر سوتا بھی ہو تو یہ تو بتلا دے
کہ سوتا جاگتا۔۔۔ ۔

سنو اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو

تمہارا یہ جو داتا ہے
یہ کتنے سال داتا ہے
قیامت تک یہ داتا ہے
کہ اس کے بعد داتا ہے
۔۔اس بات کو بھی واضح کیا جا سکتا ہے
ترے داتا کی مدت کس قدر ہے
قیامت تک یہ داتا ہے کہ اس کے بعد بھی ہو گا؟

سنو اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو
حقیقت سے جو چھپتے ہو
سراسر ظلم کرتے ہو۔۔


سنو اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو

مرا داتا تو دیتا ہے
وہی پھر چھین سکتا ہے
مگر جو کچھ وہ دیتا ہے
اسے پھر کون لیتا ہے
÷÷پہلے دونوں مصرعے تو ٹھیک ہیں، لیکن اگلے دو؟

ترا داتا جو دیتا ہے
اسے کیا لے بھی لیتا ہے
اسے کوئی لے بھی سکتا ہے؟؟
÷÷اوپر ولی سطر کی ضرورت نہیں

مرا داتا تو وہ ہے جو
مصیبت بھیجتا ہے اور
وہی پھر دور کرتا ہے
÷÷مصیبت بھیجتا ہے پھر
خود اس کو دور کرتا ہے

مگر داتا ترا ہے جو
÷÷مگر داتا جو تیرا ہے

یہ مشکل بھیجتا بھی ہے؟
کہ بس یہ دور کرتا ہے
اگر بس دورکرتا ہے
تو مشکل بھیجنے والا
بتا دو کون ہے آخر
÷÷ہے آخر کون، یہ بتلا


ہو گر یہ کشمکش پیدا
لے گا کون ان میں سے
بتا دو فیصلہ واپس
÷÷واضح نہیں۔ واضح کہو

سنو اک بات کہتا ہوں
مقابل جس کے کرتے ہو
سرا سر ظلم کرتے ہو

سنو اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو

کہو داتا انہیں یا کہو تم دیوتا
÷÷انہیں داتا کہو، یا دیوتا کہہ لو

یہ جتنے نام ہیں سن لو
تمہارے ہی بنائے ہیں
مرے داتا نے ان کی تو
نہیں ہے سند دی تم کو
÷÷مرے داتا نے کچھ ان کی
سند تم کو نہیں دی ہے

میں جس داتا کا کھاتا ہوں
اسی کا صرف گاتا ہوں
مرے داتا سے جلتے ہو
سرا سر ظلم کرتے ہو
سرا سر ظلم کرتے ہو

مزید یہ کہ چار بار فاعیلن کی بجائے کہیں پانچ یا چھ لے آؤ تو بات واضح کی جا سکتی ہے۔ آئندہ قسطوں میں خیال رکھو
بہت خوب استاد جی عین نوازش بہت تفصیلی اورمتاثر کن اصلاح کی ہے ساری اصلاح تو آپ نے کر دی ہے پانچ فیصد رہ گئی ہو گی سو وہ تبدیلی پیش خدمت ہے۔۔۔کمی بیشی دور فرما دیجیے گا اور اس کے بعد چوتھا حصہ۔۔۔!!!

اگر تو غور کرتا ہے
ذرا سن لے
کہ میں اک بات کہتا ہوں۔
مرا داتا ہے عرشوں پر
ترا داتا ہے فرشوں پر
بتا اب کس طرح سے میں
ترے داتا سے کچھ مانگوں

سنے گا دور سے بھی وہ
کہ قربت ہی ضروری ہے؟
اگر نزدیک جانا ہو
تو کتنا فاصلہ رکھیں

مگر اک اور نکتہ ہے
اگر تو غور کرتا ہے
زبانیں کون سی ہیں جو
ترئے داتا کو آتی ہیں
زباں میں کون سی بولوں
کوئی گر غیر ملکی ہو
زباں آتی نہ ہو اس کو
کہے اپنی زباں میں وہ سمجھ لے گا ترا داتا؟
چلو چھوڑو
اسے بھی چھوڑ دیتے ہیں
اگر تو غور کرتا ہے
ہو بے چارہ کوئی گونگا
اگر وہ دل میں کچھ مانگے؟؟؟

مگر پھر بھی جو سنتا ہے
تو میں اک بات کہتا ہوں
اگر تو غور کرتا ہے
اگر ان سے ہزاروں مانگتے ہوں ا یک ہی پل میں
تو کیا وہ سب کی سُن لے گا؟
سبھی کی وہ سمجھ لے گا؟؟
اگر ایسا نہیں تو پھر
قطاریں ہی بنا دو تم
مقرر وقت ہی کر دو( یاں پھر مقرر آ گیا۔۔)
کوئی اندر رہے کتنا
لگا دو باریاں سب کی
مگر دیکھو
اسے بھی چھوڑتے ہوئے
گزارش ایک ہے تجھ سے

اگر تو غور کرتا ہے
کبھی کیا نیند کی اسکو
طلب محسوس ہوتی ہے
کہ ہر دم جاگتا ہی ہے
اگر سوتا بھی ہو تو یہ تو بتلا دے
کہ سوتا جاگتا کب ہے
کہ اٹھتا بیٹھتا کب ہے
اگر تو غور کرتا ہے
ذرا سن لے
کہ میں اک بات کہتا ہوں۔
ترے داتا کی مدت کس قدر ہے
قیامت تک یہ داتا ہے کہ اس کے بعد بھی ہو گا؟
سنو اک بات کہتا ہوں
اگر تو غور کرتا ہے
حقیقت سے جو چھپتا ہے
بڑا ہی ظلم کرتا ہے۔۔۔

اگر تو غور کرتا ہے
ذرا سن لے
کہ میں اک بات کہتا ہوں۔
مرا داتا تو دیتا ہے
وہی پھر چھین سکتا ہے
ترا داتا جو دیتا ہے
اسے کوئی لے بھی سکتا ہے؟؟
مرا داتا تو وہ ہے جو
مصیبت بھیجتا ہے پھر
خود اس کو دور کرتا ہے
مگر داتا جو تیرا ہے
یہ مشکل بھیجتا بھی ہے؟
کہ بس یہ دور کرتا ہے
اگر بس دورکرتا ہے
تو مشکل بھیجنے والا
ہے آخر کون، یہ بتلا
مرا داتا اگر بیجھے کوئی مشکل
ترا چاہے اسے پھر دور کرنا تو

لے گا کون ان میں سے
بتا دو فیصلہ واپس؟؟

ذرا سن لے
کہ میں اک بات کہتا ہوں۔
مقابل جس کے کرتا ہے
بڑا ہی ظلم کرتا ہے۔۔۔

اگر تو غور کرتا ہے
ذرا سن لے
کہ میں اک بات کہتا ہوں۔
انہیں داتا کہو، یا دیوتا کہہ لو
یہ جتنے نام ہیں سن لو
تمہارے ہی بنائے ہیں
مرے داتا نے کچھ ان کی
سند تم کو نہیں دی ہے
میں جس داتا کا کھاتا ہوں
اسی کا صرف گاتا ہوں
مرے داتا سے جلتے ہو
سرا سر ظلم کرتے ہو
سرا سر ظلم کرتے ہو
 

الف عین

لائبریرین
ان اضافی سطروں کی ضرورت میں نہیں سمجھتا

مرا داتا ہے عرشوں پر
ترا داتا ہے فرشوں پر
بتا اب کس طرح سے میں
ترے داتا سے کچھ مانگوں

ترمیم شدہ صورت

مرا داتا اگر بیجھے کوئی مشکل
ترا داتا اسے پھر دور کرنا چاہتا ہو
تو لے گا کون ان میں سے
بتا دو فیصلہ واپس؟؟
یا
بتا دو فیصلہ پھر کون دونوں میں سے لے گا

اگر ایسا نہیں تو پھر
قطاریں ہی بنا دو تم
لگا دو باریاں سب کی
مقرر وقت ہی کر دو۔
کوئی اندر رہے کتنا
مگر دیکھو
اسے بھی چھوڑ دیتے ہیں
گزارش ایک ہے تم سے
 

شیرازخان

محفلین
وہ تم اور تو کا جھگڑا اس وقت نظر انداز کر دیا ہے۔ کوشش کرو کہ ایک ہی صیغہ استعمال کرو
استادجی میں دراصل'' تو ''اور ''تم'' میں پھسا ہوا تھا۔۔۔ذرا سن لے اگر تو غور کرتا ہے۔۔۔۔اس میں واقعی دھاک زیادہ ہے لیکن مجموعی ترتیب متاثر ہو رہی ہے۔۔۔اس لئے نظم کے اختتام تک اس کوابھی رہنے دیا ہے ۔۔۔جب مجموعی ترتیب دوں گا تو شاید اس کا کوئی موثر حل نکل آئے۔۔۔۔چوتھا حصہ برائے رہنمائی حاضر ہے۔۔۔



(یہ کچھ پہلی قسط سے منسوب چندتمہیدی کلمات اور ایک خیال جو پہلے پیش نہیں کیا)

ذرا سن لے

کہ میں اک بات کہتا ہوں

اگر تم غور کرتے ہو (''سن لے'' کے ساتھ '' تم غور کرتے ہو'' میں کوئی قباحت تو نہیں؟یا سن لو ہونا چاہیے؟)

بڑا پریشان ہوتا ہوں

عقیدہ میں ترا سن کر

کوئی مخلوق کو کیسے

برابر رب کے کرتا ہے

وہی داتا ازل سے ہے

نئی کیوں بات کرتا ہے

یہ اب دم کس کا بھرتا ہے

تو کس داتا سے ڈرتا ہے

مجھے کو اسکی حقیقت سے

ذرا تم آشنا کر دو

(اور ایک خیال)

چلو یہ بات بھی چھوڑو

بتا دو صرف اتنا ہی

عقیدے کے مطابق تم

ترا داتا ہوا جب فوت تو اس دن

اسے داتا ترا بن جانے میں آخر

لگا کل وقت کتنا تھا؟

(یا اس صورت میں)

چلو یہ بات بھی چھوڑو

بتا دو صرف اتنا ہی

عقیدے کے مطابق تم

ترا داتا مرا تھا جب

تو کتنی دیر میں آخر

ترا یہ بن گیا داتا؟



چوتھا حصّہ



سنو میں اک بات کہتا ہوں

اگر تم غور کرتے ہو

میں نے اکثر سنا ہے تم

مرے د اتا کو کہتے ہو

کہ ان تک پہنچنا ہو تو

وسیلے کی ضرورت ہے

مگر اپنے تو داتا سے

ہمیشہ المدد کہہ کر

مدد تم مانگ لیتے ہو

یہ حیلہ کس کا ہوتا ہے

وسیلہ کس کا ہوتا ہے

یہ دھوکہ کس کو دیتے ہو

ترا داتا بہت جلدی

مرے داتا سے سنتا ہے

مرے داتا کی عظمت کو

کیوں ضربیں لگاتے ہو

یہ جن باتوں پہ لڑتے ہو

سرا سر ظلم کرتے ہو



سنو میں اک بات کہتا ہوں

اگر تم غور کرتے ہو

ہوئے پیدا تھے جس دن تم

تو شامل تھی

ترے داتا کی مرضی بھی

مرو گے جب

شامل ہو گی مرضی بھی

نہ مرضی تب تھی شامل اور

نہ مرضی اب ہے شامل تو

ہوا یہ معاہدہ کب تھا

کہ یہ ہو گا ترا داتا؟

ترا پھر کیوں پھرا ہے سر

مسلسل بھول کرتے ہو

سرا سر ظلم کرتے ہو



ذرا ٹھہرو ابھی میرے

ذہن میں بات آئی ہے

کہ ابراہیم نے جیسے

وہ بت توڑ کر پوچھا

کرو یہ فرض ہم میں سے

ْقبر پر جو بنائے ہیں

وہ گنبد توڑ دیتے ہیں

خبر پھر تم کو ہوتی ہے

لگو جب پوچھنے اس کا

کہیں ہم پوچھ لو ان سے

اگر یہ بولتے ہیں تو

کہو پھر کیا

کہو گے تم

رہو گے دیکھتے ہی تم

میں اتنا جانتا ہون تم

یہ سب کچھ بھی سمجھتے ہو

کیوں پھر بھی نہیں ڑرتے

سرا سر ظلم کرتے ہو



جاری ہے۔۔۔۔
 

الف عین

لائبریرین
پہلے حصے میں
’پریشان‘ وزن میں نہیں آتا۔ یہ کہہ چکا ہوں کہ آزاد نظم میں ضروری نہیں کہ دو بار مفاعیلن استعمال کرنے کی پابندی بھی ہو۔ اس کو یوں کر سکتے ہو
مری تو کچھ سمجھ میں ہی نہین آتا۔
اور طاہر ہے کہ ’سن لے‘ کی بجائے ’سن لو‘ زیادہ صحیح ہو گا۔

برابر رب کے کرتا ہے
۔۔یہاں ’ر‘ مسئلہ کر رہی ہے تکرار کی وجہ سے
اگر برابر کی بجائے ’مساوی‘ کہو تو درست ہو

مجھے کو اسکی حقیقت سے
۔۔’کو‘ شاید تائپو ہے، اس کی ضرورت نہیں
متبادل دونوں صورتیں درست ہیں، جو چاہو رکھو۔
چوتھا حصہ بعد میں
 

الف عین

لائبریرین
اب تیسرا حصہ بھی لے لیا ہے، اور اس میں ’تم‘ استعمال کیا ہے ہر جگہ

سنو میں اک بات کہتا ہوں

//سنو میں یہ بھی کہتا ہوں

اگر تم غور کرتے ہو

میں نے اکثر سنا ہے تم

//سنا ہے میں نے تم اکثر

(‘میں نے‘ کو ’منے‘ تقطیع کرنا غلط ہے)


مرے د اتا کو کہتے ہو

کہ ان تک پہنچنا ہو تو

//یہ کہتے ہو کہ جب تم کو

مرے داتا کے گر نزدیک جانا ہو

(پہنچنا کا تلفظ؟)


وسیلے کی ضرورت ہے

مگر اپنے تو داتا سے

//مگر تم اپنے داتا سے


ہمیشہ المدد کہہ کر

مدد تم مانگ لیتے ہو

یہ حیلہ کس کا ہوتا ہے

وسیلہ کس کا ہوتا ہے

یہ دھوکہ کس کو دیتے ہو

ترا داتا بہت جلدی

مرے داتا سے سنتا ہے

//مرا داتا تو سن لیتا ہے

اس داتا سے بھی پہلے

جسے تم اپنا کہتے ہو


مرے داتا کی عظمت کو

کیوں ضربیں لگاتے ہو

// مرے داتا کی عظمت پر

یہ ضربیں کیوں لگاتے ہو

(’کیوں ‘بحر میں اس طرح نہیں آتا)


یہ جن باتوں پہ لڑتے ہو

سرا سر ظلم کرتے ہو

//یہ کن باتوں پہ لڑتے ہو؟؟، کیسا رہے گا؟؟)


سنو میں اک بات کہتا ہوں

//(وزن سے خارج

سنو !!اک بات کہتا ہوں


اگر تم غور کرتے ہو

ہوئے پیدا تھے جس دن تم

تو شامل تھی


ترے داتا کی مرضی بھی

مرو گے جب

شامل ہو گی مرضی بھی

//تمہارے داتا کی مرضی

مرو گے جب تو اس میں بھی

اسی کی کچھ رضا ہوگی


نہ مرضی تب تھی شامل اور

نہ مرضی اب ہے شامل تو

ہوا یہ معاہدہ کب تھا

کہ یہ ہو گا ترا داتا؟

// نہ مرضی تب ہی شامل تھی

نہ مرضی اب بھی شامل ہے

بھلا یہ عہد کب کا تھا (معاہدہ وزن میں نہیں آتا)

کہ یہ داتا تمہارا اپنا داتا ہے


ترا پھر کیوں پھرا ہے سر

//تو پھر کیوں پھر گیا ہے سر تمہارا

کہ الٹی بات کرتے ہو


مسلسل بھول کرتے ہو

سرا سر ظلم کرتے ہو


ذرا ٹھہرو ابھی میرے

ذہن میں بات آئی ہے

۔۔خیالوں میں نئی اک بات آئی ہے (ذہن کا تلفظ غلط ہے)


کہ ابراہیم نے جیسے

وہ بت توڑ کر پوچھا

//صرف ایک مصرع سے بات واضح نہیں ہوتی، مکمل واقعہ بیان کیا جائے مختصراً، مثلاً

کہ ابراہیم نے جیسے

جو بت کعبے میں رکھے تھے

تو ان سب کو

خود اپنے ہاتھ سے توڑا

مگر بس۔ اک بڑے بت کو

اور اس کے ہاتھ میں حربہ تھمایا

کہ جس سے دوسروں کو توڑ دالا تھا

یہ جب کفار نے دیکھا

تو ابراہیم سے پوچھا

کہ یہ سب کیا ہوا، کس نے کیا ہے۔

تب ابراہیم نے اس سمت اشارہ کر دیا

جہاں پر وہ بڑا بت تھا

’اسے معلوم ہو گا، اس سے پوچھو تم‘


کرو یہ فرض ہم میں سے

قبر پر جو بنائے ہیں

(قبر کا تلفظ غلط ہے،

کرو یہ فرض۔۔ یہ گنبد

جو تم نے مقبروں پر خود بنائے ہیں


وہ گنبد توڑ دیتے ہیں

خبر پھر تم کو ہوتی ہے


لگو جب پوچھنے اس کا

کہیں ہم پوچھ لو ان سے

//بیانیہ واضح اور رواں نہیں، یوں کہا جائے۔۔۔۔

تو جب تم ہم سے پوچھو گے

کہ کس نے یہ شرارت کی؟

تو ہم کہہ دیں

کہ پوچھو اپنے داتا سے


اگر یہ بولتے ہیں تو

کہو پھر کیا

کہو گے تم

رہو گے دیکھتے ہی تم

میں اتنا جانتا ہون تم

یہ سب کچھ بھی سمجھتے ہو

کیوں پھر بھی نہیں ڑرتے

//یوں ہی بس دیکھتے رہ جاؤ گے

یہ جانتا ہون میں

یہ سب تم بھی سمجھتے ہو

تو پھر تم کیوں نہیں ڈرتے


سرا سر ظلم کرتے ہو
 

شیرازخان

محفلین
واہ واہ استاد جی یقین جانیے میں ابراہیم علیہ اسلام کا واقعہ ہی لکھنا چاہتا تھا مگر اسے مشکل جان کر سوچا کے ڈنکی ہی مارو۔۔۔ویسے بھی پوری نظم مین اس مثال جیسی چوٹ کسی میں نہیں ہے۔۔۔میں لفظ کعبے سے بھی پریشان تھا ک یس کا وزن تو تینوں ساقط حروف ہیں۔۔۔بار حال اس واقعہ کو چار چاند لگ گئے۔۔۔۔اصلاح تو ہو ہی گئی ہے میں ترتیب دے دوں گا ۔۔۔باقی دو حصے مزیدباقی رہ گئے ہیں۔۔۔۔یہاں تک کے لئے بہت مشکور ہوں۔۔۔!!!
 

شیرازخان

محفلین
الف عین
محترم استاد صاحب یہ پانچواں حصہ اصلاح کے لیےُپیش کررہاہوں رہنمائی سے ہمکنار کیجیے؟


سنو اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو
ترا داتا تو داتا ہے
مگر میں سوچتا ہوں جب
ترا داتا یہ کیسا ہے
کہ لنگر جس کا چلتا ہے
انہی منگتوں کے چندوں سے
اگر چندہ نہ دیں سارے
یہ لنگر چل نہیں سکتا
غریبوں کی کمائی ہے
جو داتا کی بناتے ہو
دبا کر تم جو کھاتے ہو
اِسی کے گیت گاتے ہو
اگر تم غور کرتے ہو
ترا داتا اگر سب کچھ ہی دیتا ہے
تو کیا چندہ نہیں دیتا؟
ذرا لو ہوش کے ناخن
جہاں جوتے بھی رکھتے ہو
تو دیتے ہو کوئی قیمت
اگر تم غور کرتے ہو
مجھے خود ہی بتا دو تم
تمیں تعجب نہیں ہوتا
کہ رکھا ہے جو چندوں کا
وہ اک صندوق سا باہر
لگا اس پر بھی تالا ہے
عقل پر یوں تمہارے بھی
لگا ایسا ہی تالا ہے
تمہی نے خود لکھا اس پر
کہ یاں نزرانہ اپنے ہاتھ سے ڈالیں
پتا ہے کیوں؟
کہ گر یہ لگ گیا مستوں کے ہاتھوں تو
ہڑپ جائیں گے سارا اور
نہیں کچھ کر سکے گا تب، ترا داتا
ذرا سوچو۔۔
حفاظت کر نہ پائےجو یہاں اپنے خزانوں کی
خزانے کیا تمہیں دے گا
حفاظت کیا کرے گا وہ
اگر تم غور کرتے ہو

یہ چندے تم جو دیتے ہو
یہ بکرے جو چڑھاتے ہو
یہ کس کا مال ہوتا ہو
نذر یہ کس کی کرتے ہو
اجر ملتا ہے اس کا تم کو کس داتا سے بتلاؤ؟
ترا داتا اجر بھی کیا دیتا ہے ان سب کا؟
چڑھاتے ہو یہ جس کے نام پر اُس سے
اجر تم کیوں نہیں لیتے
اگر تم غور کرتے ہو
فقط منگتوں کے منگتے ہو
فخرجو اس پہ کرتے ہو
سرا سر ظلم کرتے ہو
 

الف عین

لائبریرین
فی الحال صرف تعجب اور نذر، اجر، فخر وغیہ کے تلفظ کی نشان دہی کرتا ہوں۔ نذر فخر وغیرہ میں درمیان حرف ساکن ہوتا ہے۔ تعجب بر وزن گعولن ہے۔ باقی بعد میں
 

شیرازخان

محفلین
الف عین استاد صاحب آخرکار اس نظم کی پہلی اقساط کو فیس بک پہ شائع کیا ہے اور توقع سے کئی گنا زیادہ پذیرائی ملی ہے جس کا اول کریڈٹ آپ کو جاتا ہے ورنہ یہ ممکن نہیں تھا اس کے لئیے مشکور ہوں ۔۔۔اور اسی کو دیکھتے ہوئے اس نظم کو اور طویل کرنے کا شوق پیدا ہو گیا ہے اس قسط کو ملا کر پانچ حصے ترتیب دیے ہیں۔۔۔اب آپ کی مزید رہنمائی و برداشت درکار ہے۔۔۔؟؟
 

شیرازخان

محفلین
سنو اک بات کہتا ہوں
اگر تم غور کرتے ہو
ترا داتا تو داتا ہے
مگر میں سوچتا ہوں جب
ترا داتا یہ کیسا ہے
کہ لنگر جس کا چلتا ہے
انہی منگتوں کے چندوں سے
اگر چندہ نہ دیں سارے
یہ لنگر چل نہیں سکتا
غریبوں کی کمائی ہے
جو داتا کی بناتے ہو
دبا کر تم جو کھاتے ہو
اِسی کے گیت گاتے ہو
اگر تم غور کرتے ہو
ترا داتا اگر سب کچھ ہی دیتا ہے
تو کیا چندہ نہیں دیتا؟
ذرا لو ہوش کے ناخن
جہاں جوتے بھی رکھتے ہو
تو دیتے ہو کوئی قیمت
اگر تم غور کرتے ہو
مجھے خود ہی بتا دو تم
تمیں تعجب نہیں ہوتا
کہ رکھا ہے جو چندوں کا
وہ اک صندوق سا باہر
لگا اس پر بھی تالا ہے
عقل پر یوں تمہارے بھی
لگا ایسا ہی تالا ہے
تمہی نے خود لکھا اس پر
کہ یاں نزرانہ اپنے ہاتھ سے ڈالیں
پتا ہے کیوں؟
کہ گر یہ لگ گیا مستوں کے ہاتھوں تو
ہڑپ جائیں گے سارا اور
نہیں کچھ کر سکے گا تب، ترا داتا
ذرا سوچو۔۔
حفاظت کر نہ پائےجو یہاں اپنے خزانوں کی
خزانے کیا تمہیں دے گا
حفاظت کیا کرے گا وہ
اگر تم غور کرتے ہو

یہ چندے تم جو دیتے ہو
یہ بکرے جو چڑھاتے ہو
یہ کس کا مال ہوتا ہو
عطا یہ کس کو کرتے ہو
صلہ ملتا ہے اس کا تم کو کس داتا سے بتلاؤ؟

ترا داتا صلہ بھی کیا دیتا ہے ان سب کا؟
چڑھاتے ہو یہ جس کے نام پر اُس سے
صلہ تم کیوں نہیں لیتے
اگر تم غور کرتے ہو
فقط منگتوں کے منگتے ہو
اسی پر نازکرتے ہو
سرا سر ظلم کرتے ہو
 

الف عین

لائبریرین
غلطیاں اور مجوزہ ترمیمات

مجھے خود ہی بتا دو تم
تمیں تعجب نہیں ہوتا
۔۔کہو مجھ سے کہ خود تم کو
تعجب کیوں نہیں ہوتا

لگا اس پر بھی تالا ہے
عقل پر یوں تمہارے بھی
لگا ایسا ہی تالا ہے
۔۔
لگا ہے اس پہ بھی تالا
تمہاری عقل پر بھی کیا لگا ایسا ہی تالا ہے؟

تمہی نے خود لکھا اس پر
کہ یاں نزرانہ اپنے ہاتھ سے ڈالیں
پتا ہے کیوں؟
کہ گر یہ لگ گیا مستوں کے ہاتھوں تو
ہڑپ جائیں گے سارا اور
نہیں کچھ کر سکے گا تب، ترا داتا
ذرا سوچو۔۔
۔۔
تمہی نے خود لکھا ہے رقم کے صندوق پر
’نذرانہ اپنے ہاتھ سے ڈالیں‘
پتا ہے کیوں؟
اگر یہ لگ گیا چوروں کے ہاتھوں
توہڑپ جائیں گے سارا
اور کچھ بھی کر نہ پائے گا ترا داتا
ذرا سوچو۔۔

ترا داتا صلہ بھی کیا دیتا ہے ان سب کا؟
÷÷تمہیں داتا سے اپنے
کیا صلہ ملتا بھی ہے اس کا؟

باقی وہ تم اور تو کے مسئلے پر خود ہی دوبارہ غور کرو۔
 
Top