خود کلامی - من کی باتیں

جب آپ بچے کو چلنا سکھا رہے ہوتے ہیں تو اسے ایک جگہ کھڑا کردیتے ہیں
اور آپ تھوڑے سے فاصلے پر خود جا کر بیٹھ جاتے ہیں
بچہ اس وقت بہت ڈر رہا ہوتا ہے۔
خود کو تنہا محسوس کر رہا ہوتا ہے
پریشانی محسوس کر رہا ہوتا ہے
وہ جلد از جلد اپ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے
اور آپ کی گود تک پہنچتے ہی آپ کی بانہوں میں سما جاتا ہے۔
اور آپ کو بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر بچے کو اس مرحلہ سے نہ گزارا جائے تو بچہ کبھی چلنا نہ سیکھ سکے۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچہ راستے میں ڈگمگا جاتا ہے اور گرنے کے قریب ہوجاتا ہے
لیکن مستقل توجہ کی وجہ سے وہ گِر نہیں پاتا بلکہ آپ فورا اسے سنبھال لیتے ہیں اور دوبارہ کھڑا کردیتے ہیں۔

بالکل اسی طرح جب اللہ کسی بندے کو اپنا دوست بنانا چاہ رہے ہوتے ہیں
تو اسے پریشانی میں مبتلا کردیتے ہیں۔
وہ پریشان ہوکر اپنے معبود حقیقی کی طرف لوٹتا ہے۔
جو کہ مستقل اسکی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
راستے میں کئی مواقع ایسے بھی آتے ہیں جب بندہ اپنے آپ کو تنہا محسوس کر رہا ہوتا ہے
لیکن درحقیقت وہ تنہا نہیں ہوتا
بلکہ اللہ کی تربیت میں ہوتا ہے۔
تو بھول جایئے اس بات کو کہ آپ اللہ کی طرف بڑھنے کی کوشش میں گرنے لگیں اور اللہ آپ کو نہ سنبھالے۔
کیونکہ حدیث کے مطابق جب انسان اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو اللہ اسکی طرف دوگنا متوجہ ہوتے ہیں۔

تحریر:
قاضی محمد حارث
 
سمندر کا پورا پانی ، کشتی کو نہیں ڈبو سکتا جب تک کہ کشتی میں داخل نہ ہو جائے، اسی طرح پوری دنیا کی برائی جہالت آپ کو نقصان نہیں دے سکتی جب تک کہ آپ کے ذہن اور روح پر اپنا اثر نہ جما دے
اصل عبارت انگلش میں ہے تو
Entire water of sea cannot sink a ship until it gets inside it. Similarly the negativity of the entire world cannot pull you down unless you allow it to enter your soul
Maryam Iftikhar
 
حضرت خواجہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ھیں..خود کو اچھی طرح ٹٹول لو اور تین مواقع پر اپنے ذہن کی کیفیت نوٹ کرلیا کرو..نماز پڑھنے کے دوران..قرآن پڑھتے وقت..اور اللہ کا ذکر کرتے وقت..ان تین مواقع پر اگر تم لطف و کیف محسوس کرو تو ٹھیک ورنہ جان لو کہ "دروازہ" بند ھے..!!
 
آخری تدوین:
اگر مساجدمیں عبادت جاری ہے اور اہل محلہ کی معاشرتی زندگی میں اصلاح کا عمل نہیں پیدا ہوتا تو ایسی عبادت قابل غور ہے!!
واصف علی واصف
 
آخری تدوین:
میری تھیوری یہ ہے کہ جس وقت حرام رزق جسم میں داخل ہوتا ہے وہ انسانی جینز کو متاثر کرتا ہے – رزق حرام سے ایک خاص قسم کی میوٹیشن ہوتی ہے جو خطرناک ادویات،شراب اور ریڈیشن سے بھی زیادہ مہلک ہے – رزق حرام سے جو جینز تغیر پذیر ہوتے ہیں وہ لولے لنگڑے یا اندھے ہی نہیں ہوتے بلکہ نا امید بھی ہوتے ہیں – نسل انسانی سے جو جینز جب نسل در نسل ہم میں سفر کرتے ہیں تو ان جینز کے اندر ایسی ذہنی پراندگی پیدا ہوتی ہے جس کو ہم پاگل پن کہتے ہیں – یقین کر لو رزق حرام سے ہی ہماری آنے والی نسلوں کو پاگل پن وراثت میں ملتا ہے – وہ جن قوموں میں من حیث القوم حرام کھانے کا چسکا پڑ جاتا ہے – وہ من حیث القوم دیوانی ہونے لگتی ہیں
بانو قدسیہ
 

arifkarim

معطل
میری تھیوری یہ ہے کہ جس وقت حرام رزق جسم میں داخل ہوتا ہے وہ انسانی جینز کو متاثر کرتا ہے – رزق حرام سے ایک خاص قسم کی میوٹیشن ہوتی ہے جو خطرناک ادویات،شراب اور ریڈیشن سے بھی زیادہ مہلک ہے – رزق حرام سے جو جینز تغیر پذیر ہوتے ہیں وہ لولے لنگڑے یا اندھے ہی نہیں ہوتے بلکہ نا امید بھی ہوتے ہیں – نسل انسانی سے جو جینز جب نسل در نسل ہم میں سفر کرتے ہیں تو ان جینز کے اندر ایسی ذہنی پراندگی پیدا ہوتی ہے جس کو ہم پاگل پن کہتے ہیں – یقین کر لو رزق حرام سے ہی ہماری آنے والی نسلوں کو پاگل پن وراثت میں ملتا ہے – وہ جن قوموں میں من حیث القوم حرام کھانے کا چسکا پڑ جاتا ہے – وہ من حیث القوم دیوانی ہونے لگتی ہیں
بانو قدسیہ

میرے پاس یہاں ریٹنگ کے بٹنز کام نہیں کرتے وگرنہ سو بار اسپر پر مزاح کی ریٹنگ دیتا۔ :)
 
ایک شخص نے لوگوں کو کسی درخت کی پوجا کرتے دیکھا تو غصہ سے بے قابو ہوگیا اور گھر سے کلہاڑی لی اور گدھے پر سوار ہوکر اس درخت کو کاٹنے کی نیت سے روانہ ہوا.
راستے میں شیطان سے ملاقات ہوگئی شیطان پوچھنے لگا حضرت کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟ ان صاحب نے جواب دیا لوگ ایک درخت کی پوجا کرتے ہیں اور میں نے اس کو جڑ سے کاٹنے کا اراد٥ کرلیا ہے
شیطان نے کہا آپ کہاں جھگڑے میں پڑتے ہیں جو مردود اس کی پوجا کرتے ہیں خودہی بھگتیں گے.
بڑھتے بڑھتے دونوں میں جھگڑا ہونے لگا اور تین مرتبہ مار پیٹ ہوئی لیکن شیطان پر و٥ شخص ہر مرتبہ غالب آیا اور جب شیطان نے سمجھ لیا کہ یہ شخص یوں قابو میں آنے والا نہیں تو ایک دوسری چال چلی اور کہنے لگا آپ اس کام کو رہنے دیں اس کے بدلے میں روزانہ آپ کو چار درہم دیا کروں گا جو ہر روز صبح کے وقت آپ کے بستر کے نیچے سے ملا کریں گے.
شیطان کی یہ چال کامیاب ہوگئی و٥ شخص اپنے گھر واپس چلا گیا اور روزانہ صبح بستر کے نیچے سے چار درہم ملنے لگے کچھ دن تو یہ سلسلہ چلا لیکن پھر وہی حال آہستہ آہستہ دراہم ملنا بند ہوگئے جب اسی طرح کئی دن گزرگئے اور کچھ نہ ملا تو پھر غصہ آیا. اور کلہاڑی اٹھائی اور درخت کاٹنے چل دیا..
راستے میں دوبار٥ شیطان سے ملاقات ہوئی. شیطان پھر پوچھنے لگا.. حضرت کہاں کا اراد٥ ہے؟ ان صاحب نے جواب دیا درخت کاٹنے جارہا ہوں جس کی پوجا ہوتی ہے.
شیطان نے پھر کہا :
آپ کہاں جھگڑے میں پڑتے ہیں چھوڑیئے جو مردود اس کی پوجا کرتے ہیں خود بھگتیں گے
ان صاحب نے انکار کردیا اور کہا اب تو ضرور کاٹوں گا بلکل بھی نہیں چھوڑوں گا.
شیطان نے منع کیا لیکن یہ صاحب اصرار کرتے رہے لہذا دوبار٥ مقابلہ ہوا جس میں ان صاحب کو شکست ہوئی اور شیطان نے ان کو چِت کردیا......
اور پھر شیطان کہنے لگا بس میاں اب یہ کام تمہارے بس کا نہیں کیوں کہ پہلے تم اللہ کی رضا کی خاطر درخت کاٹنے جارہے تھے لیکن اب چار درہم کے لیے جارہے ہو اس لیے اب تم مجھے شکست نہیں دے سکتے ورنہ پہلے اگر میں پورا زور بھی لگا لیتا تو تم سے نہ جیت سکتا لہذا ایک قدم بھی آگے بڑھا تو خیر نہیں! گردن اڑادوں گا...
مجبوراً ان صاحب نے اس ارادے کو ترک کردیا اور گھر واپس چلے گئے.
تلبیس ابلیس، . باب ٣،ابلیس کے مکر و فریب کے متفرق واقعات :65
 
مجھے کچھ گڑ بڑ لگ تو رہی تھی میں نے سوچا دیکھوں تو کون غلطی نکالتا ہے ۔۔۔
محترم بہن، اس کی نشاندہی کرنے کےمتعدد جملے ہو سکتے ہیں
( بالکل کو بلکل لکھنا ) اول تو یہ آپ کی غلطی ہے ہی نہیں، یہ تو کی بورڈ کی غلطی ہے
بالکل اس طرح " بلکل " ہی لکھا جا سکتا ہے اگر آپ کو پوسٹ زیادہ پسند ہو:)
بل کل اس طرح " بلکل " ہی لکھا جا سکتا ہے اگر آپ کو جلدی میں ہوں ( پھر آپ بھی جواب میں بل کل کو ٹھیک کرواسکتے ہیں :) )
آپ نیا کی بورڈ کیوں نہیں لے لیتے ہیں،
کیا آپ کے کی بورڈ کی ِA والی کی خراب ہے کہ کبھی تو کام کرتی ہے اور کبھی مس کر جاتی ہے
لیکن خاله جان آپ نے "بلکل" بالکل بھی ٹھیک نهیں کہا:)
آپ نے جلدی میں لکھا ہے شاید، آپ نے بالکل چیک نہیں کیا
وڈی باجی ، تہاڈی املا ٹھیک نی جے ہے، تسی املا چ غلطیاں کردے جے، تسی بالکال نوں بلکل لکھ دتا جے
:)
 
موجودہ حالات میں انفرادی طور پرآخروی نجات کا ایک ہی راستہ ہے
، اپنا آپ سدھارا جائے اور دوسروں کو بھی سیدھے راستہ کی تلقین کی جائے یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کیا جائے -
اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ دیا اور صرف ،خود غرضی کرتے ہوئے صرف اپنی نجات کی فکر کی ، تو اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے
 
جواد احمد خان کی ایک پرانی تحریر

۔ نیکی کی طرح گناہ کی منازل بھی درجہ بہ درجہ طے کی جاتی ہیں۔ کوئی بھی نوجوان پہلی بار گھر سے سیدھا ریڈ لائٹ ایریا نہیں جکا سکتا اسے کچھ دوستوں کی ضرورت لازماً پڑتی ہے جو وہ اسکی جھجھک کا مذاق بنا کر توڑ دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں میڈیا انہی مہربان دوستوں کا کردار ادا کررہا ہے۔ اور آپ کو مستقل بتا رہا ہے کہ جھجھکنے کی کوئی ضرورت نہیں یہ سب تو صحت مند تفریح اور وقت کی ضرورت ہے۔ سب یہی کچھ تو کر رہے ہیں۔
حضرت کیا آپکے گھر ٹی وی نہیں ہے یا آپ ٹی وی نہیں دیکھتے؟
کیا میں بتائوں کہ میں نے آج ٹی وی پر کیا دیکھا؟
آج جب صبح میں نے ٹی وی کھولا تو دیکھا کہ اے آر وائی کے مارننگ شو میں چند ماڈرن خواتین اداکارائیں چست ترین لباس میں بیٹھی قوم کو یہ بتا رہی تھیں کہ گھر بیٹھی عورت دراصل کس قدر کچلی ، فضول، بورنگ اور اپنے حقوق سے محروم ہے۔ ابھی اس پروگرام کو چلتے ۱۰ منٹ نہیں ہوئے تھے کہ ایک ڈرامہ کا پرومو چلنے لگا۔ ڈرامہ کا نام ہے۔۔۔۔۔ باندی.
ذرا ڈرامہ سیریل باندی کا ٹیزر دیکھیے
اس ڈرامہ کا پیغام یہ ہے کہ بیوی چاہے ورکنگ وومن ہو یا ہائوس وائف ہوتی دراصل باندی ہی ہے۔ اسی دن قریباً چار گھنٹے کے بعد جب میں مارننگ شفٹ سے فارغ ہوکر گھر آیا تو دیسی کڑیاں کی ریہرسل پر مبنی پروگرام چل رہا تھا جس میں دیسی کڑیاں جینز اور شرٹ پہنے ہیجان انگیز رقص کر رہی تھیں۔ جس گانے پر یہ رقص کیا جا رہا تھا اسکے بول کچھ اس طرح سے تھے؛
شرارہ شرارہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شرارہ شرارہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں ہوں ایک شرارہ
لیکن جناب اسی پر بس نہیں ہوا بلکہ منظر تبدیل اور گانا بھی تبدیل ہوگیا ۔ اب گانا انڈین نہیں تھا بلکہ عربی تھا اور اس گانے پر ایک لڑکی بیلی ڈانس کرنا شروع کردیا۔ اس ڈانس کو یار لوگوں خاصی مقبولیت حاصل ہے کیونکہ اس میں ڈانسر کولہوں کو نہایت پر شہوت انداز میں مٹکاتی ہے۔۔۔۔اور یہ سب کچھ محض چند گھنٹوں کے اندر اندر صرف ایک ٹی وی چینل پر چلتے پھرتے دیکھا گیا ہے۔
پمرا کے خلاف سپریم کورٹ میں شکایت آپکو نان اشو کیوں لگتا ہے؟
حضرت مجھے نہیں معلوم کہ آپکے نزدیک فحاشی کی کیا تعریف ہےمگر میرے نزدیک فحاشی وہ چیز ہے جو آپکو اپنے بچوں اور اپنے پیاروں کے حوالے سےخوفزدہ کردے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس پر اجماع کے نا ہونے کا سوال کیونکر پیدا ہوسکتا ہے کہ فحاشی سے دینی اور مذہبی تو کیا ہر سلیم الفطرت گھن کھاتا ہے۔ میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ یہ سب کچھ اسی طرح سے نہیں چل سکتا کسی نا کسی کو اس طوفان کے خلاف اٹھنا ہی ہوگا۔
 
ابوذیّال کہا کرتے تھے: ” جس طرح گفتگو کرنا سیکھتے ہو اسی طرح خاموش رہنا بھی سیکھو کیوں کہ گفتگو اگر ہدایت بخشتی ہے تو خاموشی حفاظت کرتی ہے۔ خاموشی میں دو فائدے اور بھی ہیں، اپنے سے زیادہ عالم سے علم سیکھ سکتے ہو اور اپنے سے زیادہ جاہل کے جہل کو روک سکتے ہو۔

امام اوزاعی ؒ فرمایا کرتے تھے :'' سلامتی اور عافیت کے دس اجزاء ہیں ،جن میں ٩ کے برابر جو خاموشی ہے ، اور اسی کا ایک جز لوگو ں سے بے نیازی ہے ۔
آسانی کیسے میسر آ سکتی ہے؟
ایک بار ایک شاگرد سے فرما یا کہ :'' جو شخص موت کو زیادہ یاد کرتا ہے ، اس کو ہر معاملہ میں آسانی میسر آتی ہےاور جو شخص یہ جان لے کہ گفتگو کا ایک عمل ہے (جس کی باز پرس ہوگی ) تو وہ بات چیت کم کرے گا۔''
ماخوذ
 
Top