خود داری::::ملازمتی تفصیل

زیک

مسافر
جاب کا ایک سوشل aspect بھی ہوتا ہے۔ خوشامد اور خاص طور پر محض خوشامد تو بری جاب کی نشانیاں ہیں مگر کام پر اوپر نیچے کے لوگ اور ساتھ کے peers کے ساتھ سماجی رابطے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

نوٹ: خیال رہے کہ پاکستان میں مراطب کا خوب خیال رکھا جاتا ہے جبکہ یہاں ہر ایک کو نام ہی سے بلایا جاتا ہے اور دیگر بے تکلفی بھی ہوتی ہے۔
 

صائمہ شاہ

محفلین
میں نے پچھلے ہفتے اپنے مینیجر کو اس کے اور اپنے مینجمینٹ سٹائل کے بارے میں فیڈ بیک دیا تھا اور کل موصوف مجھ سے معذرت کر رہے تھے :glasses-cool:
 
جاب کا ایک سوشل aspect بھی ہوتا ہے۔ خوشامد اور خاص طور پر محض خوشامد تو بری جاب کی نشانیاں ہیں مگر کام پر اوپر نیچے کے لوگ اور ساتھ کے peers کے ساتھ سماجی رابطے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

نوٹ: خیال رہے کہ پاکستان میں مراطب کا خوب خیال رکھا جاتا ہے جبکہ یہاں ہر ایک کو نام ہی سے بلایا جاتا ہے اور دیگر بے تکلفی بھی ہوتی ہے۔
پرائیویٹ کمپنیوں جیسا کے میرےدفتر میں 60 سال کے سینیئر موسٹ کو بھی میری عمر کے نام اور اس اس سے بلاتے ہیں. فقیر کا طرز عمل یہ نہیں...
 
دفتر میں ملازم اپنے صاحب سے۔۔۔۔۔
"سر میری ملازمتی تفصیل میں کہیں بھی نہیں لکھا ہوا، میری ملازمانہ ذمہ داریوں میں آپ کی چاپلوسی اور خوشامد کرنا بھی شامل ہے۔ اور نہ ہی مجھے اس کے پیسے ملتے ہیں۔ یہ اگر بہت ضروری ہے تو میری ملازمتی تفصیل پر نظر ثانی فرما کر تدوین کرا دیں،
لیکن سر اس اضافی کام پر تنخواہ میں اضافہ بھی کیا جائے۔۔۔۔۔۔ میں اس کام کے الگ سے پیسے لوں گا۔۔۔۔۔۔":):):)
قبلہ آپ بھی نا۔۔۔۔ پالیسی میں تدوین کرتے ہوئے سفارشات لکھی گئی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے ڈپارٹمنٹ کو متعلقہ پوسٹ کے لیے نئی بھرتی درکار ہے۔۔۔۔;););)
مجھے منٹو کا ایک افسانہ یاد آ گیا۔ غالباً "چغد" نام تھا اس کا۔
ایک صاحب کسی ناکام عاشق کا افسانہ بیان کرتے کرتے اچانک صیغہ واحد متکلم پر اتر آئے تھے۔ :ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO:
جناب کا بھانڈا بھی ہمارا خیال ہے کہ بیچ چوراہے پھوٹ گیا ہے! :laughing::laughing::laughing:
---
جہاں تک اس معاملے پر ہماری رائے کا تعلق ہے، ہم آپ کے تمام تر ارشادات سے دوصد فیصد متفق ہیں۔ قولاً نہیں، فعلاً بھی۔ ثبوت یہ ہے کہ آج کل گھر بیٹھے ہوئے ہیں! :laughing::laughing::laughing:
 

فاخر رضا

محفلین
اگر یہ سچا واقعہ ہے تو اس کے بعد یہ لکھا ہوا ہے
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
یا پھر
افسوس ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
 

محمد وارث

لائبریرین
جاب کا ایک سوشل aspect بھی ہوتا ہے۔ خوشامد اور خاص طور پر محض خوشامد تو بری جاب کی نشانیاں ہیں مگر کام پر اوپر نیچے کے لوگ اور ساتھ کے peers کے ساتھ سماجی رابطے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

نوٹ: خیال رہے کہ پاکستان میں مراطب کا خوب خیال رکھا جاتا ہے جبکہ یہاں ہر ایک کو نام ہی سے بلایا جاتا ہے اور دیگر بے تکلفی بھی ہوتی ہے۔

پاکستان میں حفظِ مراتب کا واقعی بہت خیال رکھا جاتا ہے، میرے تجربے کے مطابق یہ کچھ یوں ہیں۔

سینیئر یا باس - اُس کے سامنے فقط "سر"۔ اس کے پیچھے دوسرے لوگوں میں، فرسٹ نیم یا سر نیم اور ساتھ صاحب جیسے ندیم صاحب یا قریشی صاحب۔ رازدار قسم کے دوستوں میں تضحیک آمیز نام کے طور پر۔

Peer جسے یہاں غلط طور پر "کولیگ" کہا جاتا ہے: اُس کے سامنے نام کے ساتھ صاحب لگا کر جیسے، فیاض صاحب یا مرزا صاحب۔ اُس کی غیر موجودگی میں عموما بغیر صاحب کے جیسے "فیاض" یا "مرزا"۔ راز دار قسم کے دوستوں میں، تضحیک آمیز نام کے طور پر جسمانی یا صفاتی برائیوں کے ساتھ جیسے "گنجا" یا "جھوٹا" یا "کنجوس" وغیرہ۔

ماتحتوں کو: عموما بغیر کسی سابقے لاحقے کے یعنی "شہزاد" یا "آصف"۔ ہاں اگر ماتحت عمر میں بڑا ہو تو اس کے سامنے ساتھ "صاحب" لگا دیا جاتا ہے، جیسے میں لگاتا ہوں۔ غیر موجودگی میں ایسی کوئی تخصیص نہیں ہوتی۔

سماجی روابط بھی پاکستان میں خاصے زوروں پر ہیں، آئے دن پارٹیاں اور "گیٹ ٹو گیدر میٹنگز" کسی نہ کسی بہانے سے ہوتی رہتی ہیں۔ رمضان میں افطار پارٹیاں اور ڈنرز عام ہیں۔ پاکستان میں شادیوں پر بلانے کا خاص رواج ہے سو بہن بھائیوں کی شادیوں پر بھی دفتری احباب کو مدعو کیا جاتا ہے، کوئی نہ کرے تو برا مانتے ہیں۔

ذاتی طور پر میرے سماجی روابط نہ ہونے کے برابر ہیں، میں کسی پارٹی میں شرکت نہیں کرتا چاہے آنجناب باس حضور بھی حکم صادر فرمائیں، میرے پاس کوئی نہ کوئی تیار بہانہ موجود ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کو مدعو کرتا ہوں، اور تو اور میں نے اپنی شادی پر اپنے چیف ایگزیکٹو کو بھی مدعو نہیں کیا تھا جس کا باقاعدہ شکوہ کیا گیا :)
 
پاکستان میں حفظِ مراتب کا واقعی بہت خیال رکھا جاتا ہے، میرے تجربے کے مطابق یہ کچھ یوں ہیں۔

سینیئر یا باس - اُس کے سامنے فقط "سر"۔ اس کے پیچھے دوسرے لوگوں میں، فرسٹ نیم یا سر نیم اور ساتھ صاحب جیسے ندیم صاحب یا قریشی صاحب۔ رازدار قسم کے دوستوں میں تضحیک آمیز نام کے طور پر۔

Peer جسے یہاں غلط طور پر "کولیگ" کہا جاتا ہے: اُس کے سامنے نام کے ساتھ صاحب لگا کر جیسے، فیاض صاحب یا مرزا صاحب۔ اُس کی غیر موجودگی میں عموما بغیر صاحب کے جیسے "فیاض" یا "مرزا"۔ راز دار قسم کے دوستوں میں، تضحیک آمیز نام کے طور پر جسمانی یا صفاتی برائیوں کے ساتھ جیسے "گنجا" یا "جھوٹا" یا "کنجوس" وغیرہ۔

ماتحتوں کو: عموما بغیر کسی سابقے لاحقے کے یعنی "شہزاد" یا "آصف"۔ ہاں اگر ماتحت عمر میں بڑا ہو تو اس کے سامنے ساتھ "صاحب" لگا دیا جاتا ہے، جیسے میں لگاتا ہوں۔ غیر موجودگی میں ایسی کوئی تخصیص نہیں ہوتی۔

سماجی روابط بھی پاکستان میں خاصے زوروں پر ہیں، آئے دن پارٹیاں اور "گیٹ ٹو گیدر میٹنگز" کسی نہ کسی بہانے سے ہوتی رہتی ہیں۔ رمضان میں افطار پارٹیاں اور ڈنرز عام ہیں۔ پاکستان میں شادیوں پر بلانے کا خاص رواج ہے سو بہن بھائیوں کی شادیوں پر بھی دفتری احباب کو مدعو کیا جاتا ہے، کوئی نہ کرے تو برا مانتے ہیں۔

ذاتی طور پر میرے سماجی روابط نہ ہونے کے برابر ہیں، میں کسی پارٹی میں شرکت نہیں کرتا چاہے آنجناب باس حضور بھی حکم صادر فرمائیں، میرے پاس کوئی نہ کوئی تیار بہانہ موجود ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کو مدعو کرتا ہوں، اور تو اور میں نے اپنی شادی پر اپنے چیف ایگزیکٹو کو بھی مدعو نہیں کیا تھا جس کا باقاعدہ شکوہ کیا گیا :)
قبلہ ہمارے ہاں تو صاحب والا تکلف بھی نہیں، نا عمر کا لحاظ نا پوزیشن کا۔ فقط سی ای او اور ایک ڈائیکریکٹر کے ساتھ صاحب کا سابقہ لگتا ہے۔ ورنہ گروپ ہیڈ ايچ آر عمر 60 سال کو بھی ایک نام سے بلایا جاتا ہے۔۔۔۔
 
مجھے منٹو کا ایک افسانہ یاد آ گیا۔ غالباً "چغد" نام تھا اس کا۔
ایک صاحب کسی ناکام عاشق کا افسانہ بیان کرتے کرتے اچانک صیغہ واحد متکلم پر اتر آئے تھے۔ :ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO:
جناب کا بھانڈا بھی ہمارا خیال ہے کہ بیچ چوراہے پھوٹ گیا ہے! :laughing::laughing::laughing:
---
جہاں تک اس معاملے پر ہماری رائے کا تعلق ہے، ہم آپ کے تمام تر ارشادات سے دوصد فیصد متفق ہیں۔ قولاً نہیں، فعلاً بھی۔ ثبوت یہ ہے کہ آج کل گھر بیٹھے ہوئے ہیں! :laughing::laughing::laughing:
فقیر نے کل اپنا استعفی پیش کر دیا ہے۔۔۔۔۔
لیکن میں سمجھتا ہوں اگر شرافت سے نوکری نہیں ہوتی تو میدان چھوڑ کر بھاگنا نہیں چاہیے۔۔۔ بندے کو چاپلوسی پہ اتر آنا چاہیے۔۔ اور اتنی چاپلوسی کرنی چاہیے کہ چہار دانگ عالم میں بندہ چاپلوسی کا واحد استعارہ ہو۔۔۔۔ افق چاپلوسی کا روشن آفتاب ہو، دنیا جب چاپلوسی کا ذکر کرے تو لفظ چاپلوسی کی بجائے بندے کا نام ہو۔۔۔۔ اس قدر شدید چاپلوسی کے خود چاپلوسی شرما جائے، بلکہ اسے بھی پسینہ آجائے، اور مچپلوس اس شدید چاپلوسی سے ہی مر جائے اسے چاپلوسی کا ایک ہی دورہ پڑے اور وہ مر جائے۔۔۔۔۔ پھر دنیا ایک نئے مرض کے علاج کی کھوج میں لگ جائے کہ یہ کیسا مرض ہے۔۔۔۔۔۔ اور بندہ چاپلوسی کا نیر تاباں ہو جائے۔۔۔۔۔
 

فاخر رضا

محفلین
فقیر نے کل اپنا استعفی پیش کر دیا ہے۔۔۔۔۔
لیکن میں سمجھتا ہوں اگر شرافت سے نوکری نہیں ہوتی تو میدان چھوڑ کر بھاگنا نہیں چاہیے۔۔۔ بندے کو چاپلوسی پہ اتر آنا چاہیے۔۔ اور اتنی چاپلوسی کرنی چاہیے کہ چہار دانگ عالم میں بندہ چاپلوسی کا واحد استعارہ ہو۔۔۔۔ افق چاپلوسی کا روشن آفتاب ہو، دنیا جب چاپلوسی کا ذکر کرے تو لفظ چاپلوسی کی بجائے بندے کا نام ہو۔۔۔۔ اس قدر شدید چاپلوسی کے خود چاپلوسی شرما جائے، بلکہ اسے بھی پسینہ آجائے، اور مچپلوس اس شدید چاپلوسی سے ہی مر جائے اسے چاپلوسی کا ایک ہی دورہ پڑے اور وہ مر جائے۔۔۔۔۔ پھر دنیا ایک نئے مرض کے علاج کی کھوج میں لگ جائے کہ یہ کیسا مرض ہے۔۔۔۔۔۔ اور بندہ چاپلوسی کا نیر تاباں ہو جائے۔۔۔۔۔
مچپلوس ، کیا بات ہے بھئی. کیا مفعول استعمال کیا ہے. میرے خیال میں تو مچپلوس یہ تحریر پڑھ کر ہی مر جائے گا
 
Top